حضرت حجر بن عدی رحمہ اللہ کے قتل کے متعلق انجینئر صاحب کی دھوکے بازیاں
انجینئر محمد علی مرزا صاحب خود کو ایک ایماندار، حق گو، منصف اور علمی کتابی شخص قرار دیتے ہیں، اور آپ یہ دعوی بھی کیا کرتے ہیں کہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر طعن نہیں کرتا بلکہ صرف ان کی غلطی بیان کرتا ہوں۔ لیکن حسبِ عادت اس مقام پر بھی مرزا صاحب نے اپنی منصف مزاجی، ایمانداری اور حق گوئی کا مکمل مظاہرہ کیا ہے، آپ نے اس حوالے سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر نہایت گھٹیا اور جھوٹے الزامات لگائے ہیں، اور ہمیشہ کی طرح کتاب اور حوالے کے نام پر اپنی اندھی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی ہے۔
مرزا صاحب کا ویڈیو لیکچر/ ایران کی فلم کا مرکزی خیال:
صحیح روایات کا ڈھونگ رچانے والے ہمارے محقق صاحب اپنی ایک ویڈیو میں کہتے ہیں:
”حجر ابن عدی شیعیانِ علی میں سے تھے، شروع کے مسلمانوں میں سے تھے، ان کو حضرت معاویہ نے ظلماً شہید کروایا۔ وہ پوری ڈیٹیل آپ کو مستدرک للحاکم میں ایک پورا چیپٹر ہے حجر ابن عدی کا، وہ سرمیری ویڈیوز دیکھ کے امام حاکم نے نہیں، میری پیدائش سے بھی وہ پہلے کا ہے، ایک ہزار سال پہلے۔ وہ تیرہ حدیثیں آپ پڑھیں آپ کے آنسو نہیں رکیں گے، کس ظلم کے ساتھ حجر ابن عدی کو قتل کروایا گیا۔ صرف اس بات پہ کہ یہ جمعہ کی نماز لیٹ کر دیتے تھے، منبروں پہ سب وشتم حضرت علی پہ کرتے تھے، یہ (حجر بن عدی) مخالفت کرتے تھے۔ اور اس شخص کی قبر وہاں پہ کھودی گئی جو علاقہ حضرت عمر کے دور میں حجر ابن عدی نے فتح کیا ہوا تھا، آئے ہائے ہائے ہائے۔ اور آخری وقت میں کہا گیا کہ بچت کی ایک صورت ہے کہ حضرت علی پہ لعنت کر دو چھوڑ دیں گے۔ انہوں نے کہا: پوری زندگی علی سے عشق کیا اب موت کو دیکھ کے تو میں حضرت علی پہ سب وشتم شروع کر دوں؟ اور کہا دو نفل پڑھنے کی اجازت دو، اور نفل تیزی سے پڑھے اور کہا: میں نے اس لیے تیزی سے پڑھے تا کہ تمہیں یہ نہ ہو کہ میں موت کو delay کرنے کے لیے نماز اس طرح پڑھ رہا ہوں، میں نے زندگی میں کبھی اتنی تیز نماز نہیں پڑھی۔ اور پھر کہا، وصیت کی لوگوں کو، – ایران والوں نے حجر ابن عدی کے اوپر جن کو آپ کہتے ہیں صحابہ کو نہیں مانتے، انہوں نے پوری ایک فلم بنائی ہے حجر ابن عدی کے اوپر یوٹیوب پر رکھی ہے اردو dubbing کے ساتھ- تو انہوں نے وہاں پبلک کو وصیت کی کہ: مجھے میری انہی بیڑیوں میں اور انہی خون آلود کپڑوں میں دفن کرنا ہے، قیامت والے دن پلِ صراط پہ میں معاویہ کا گریبان پکڑوں گا۔ ان کے ساتھی بھی قتل کیے گئے صرف ایک ٹسل کے اندر کہ حضرت علی کے سپورٹر ہیں۔“
Hujar Ibne Adi | Final Part, Lecture by Ustaad Engineer Muhammad Ali Mirza
یعنی بنیادی مدعا یہ ہے کہ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ نے حجر بن عدی کو ناحق اور ظلماً قتل کروایا۔ اور اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے گورنر جمعہ کی نماز دیر سے پڑھاتے اور خطبے میں سیدنا جناب علی رضی اللہ عنہ پر گالم گلوچ کرتے، جبکہ جناب حجر ان کی مذمت کرتے۔
تو ہمارے انجینئر صاحب نے اس بیان میں ”مستدرک للحاکم“ کتاب کا حوالہ دیا ہے کہ ان تیرہ روایات میں تفصیلات موجود ہیں۔ اور سکرین پر باقاعدہ ان تیرہ روایات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے، اور بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مرزا انجینئر جیسے محقق اور علمی کتابی بغیر حوالہ دیے ہی کوئی بات کر دیں؟ لیکن یاد رہے ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہوتی! واللہ مرزا صاحب کے دعوے کے مطابق اس دیئے گئے حوالے میں ایک لفظ بھی موجود نہیں، بلکہ یہ سب جھوٹ اور بکواس ہے، جس کا ماخذ ایران کی فلم ہے نہ کہ المستدرک۔
حضرت حجر بن عدی کی صحبت میں محدثین کا اختلاف:
اگرچہ بعض اہل علم نے حجر بن عدی کو صحابی قرار دیا ہے، لیکن یاد رہے اس سلسلے میں محدثین کا اختلاف رہا ہے، اور بعض ائمہ کرام نے ان کے صحابی ہونے کو درست قرار نہیں دیا بلکہ ان کا شمار تابعین میں کیا ہے، انہی میں امام بخاری رحمہ اللہ بھی شامل ہیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
أما البخاريّ وابن أبي حاتم عن أبيه وخليفة بن خياط وابن حبان فذكروه في التابعين۔
”امام بخاری، امام ابو حاتم الرازی، امام خلیفہ بن خیاط اور امام ابن حبان رحمہم اللہ نے انہیں تابعین میں شمار کیا ہے۔“ (الاصابة فی تمیز الصحابة:33/2)
امام ابن الجوزی رحمہ اللہ نے واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ حجر بن عدی کا صحابی ہونا ثابت نہیں ہے۔ (تلقیح فهوم اهل الأثر:ص 129)
لہٰذا جب ان کی صحبت میں ہی اختلاف ہے، تو انہیں بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہوئے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی توہین کرنا، ان کا نام لے کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی شخصیت کو داغ دار کرنا اور ان پر طعن کرنا صحیح نہیں ہے، کہ جن کی صحبت مسلمہ ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تو عرصۂ طویل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث سنی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبِ خاص رہے، اور آپ کے حکم سے آپ پر نازل ہونے والی وحی کو لکھا کرتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر جہاد کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں تھیں، اس طرح آپ رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رشتہ داری کا شرف بھی حاصل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے لیے کئی دعائیں فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ رضی اللہ عنہ اور آپ کے جہادی لشکر کو خواب میں دیکھ کر بہت ہی خوش ہوئے اور جنت کی بشارت سنائی۔ اور آپ رضی اللہ عنہ کی حکومت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رحمت والی بادشاہت قرار دیا۔ جیسا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل اور ذکرِ خیر والے باب میں دیکھا جا سکتا ہے۔
لہٰذا اگر جناب حجر بن عدی کو صحابی بھی تسلیم کیا جائے تو آپ کا شمار صغار صحابہ کرام میں ہو گا، اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بلا شبہ آپ سے افضل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ قریبی ہوں گے۔ لیکن یہ شیعہ حضرات اور ان کی ہمنوائی میں مرزا انجینئر صاحب حضرت حجر بن عدی کو تو صحابہ والا پورا پروٹوکول دیتے ہیں اور بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں۔ لیکن جناب معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن وتشنیع کرتے ہیں، جس سے یہ سمجھ جانا چاہیے کہ جو یہ حجر بن عدی کے نام پر آئے ہائے ہائے کرتے ہیں اس کی وجہ صحابہ سے محبت نہیں بلکہ یہ ان کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف سازشوں کا سامان ہے، کہ ان کا نام لے کر آپ رضی اللہ عنہ پر جھوٹے الزامات لگاتے ہیں۔ ورنہ اس سے قبل خلیفہ راشد سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بھی ناحق شہید ہوئے ہیں، تو ان کی شہادت پر تو آپ ہائے ہائے نہیں کرتے، بلکہ الٹا آپ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کیے جاتے ہیں اور الزام تراشی کی جاتی ہے اور پوری بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ تو اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے شہید کر دیے گئے۔
اب مستدرک حاکم کی وہ تیرہ روایات ملاحظہ فرمائیں کہ جن کا حوالہ دے کر مرزا صاحب نے اپنا مدعا بیان کیا ہے۔