قربانی کے جانور کا دو دانتا ہونا حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

قربانی کے جانور کا دو دانتا ہونا

قربانی کے جانوروں کا دو دانتا ہونا شرط ہے اور اگر قربانی کے دو دانتے جانور دستیاب ہوں تو قربانی کے لیے انھی (دو دانتے) جانوروں کا انتخاب لازم ہے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تذبحوا إلا مسنة، إلا أن يعسر عليكم، فتذبحوا جذعة من الضأن
”تم (قربانی میں) محض دو دانتا جانور ہی ذبح کرو، البتہ اگر (دو دانتا کا حصول) تمھارے لیے مشکل ہو جائے تو بھیڑ کا کھیرا ذبیحہ کرو۔“
صحیح مسلم، کتاب الأضاحي، باب سن الأضحية 1963. سنن أبي داود، کتاب الضحايا، باب ما يجوز في الضحايا من السن: 2797. سنن نسائی، کتاب الضحايا، باب المسنة والجذعة: 4383. سنن ابن ماجہ، کتاب الأضاحي، باب ما يجزئ من الأضاحي: 3141. مستخرج أبي عوانہ: 6338.

تحقیق الحدیث:

علامہ البانی رحمہ اللہ نے (سلسلة الضعيفة تحت حديث : 65۔ ارواء الغليل : 1145 اور ہدایتہ الرواۃ وغیرہ) اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے، لیکن ان کا مذکورہ حدیث کو ضعیف قرار دینا درست نہیں ہے۔
① بخاری و مسلم میں مدلس کی تدلیس قادح نہیں، صحیحین میں منقول مدلسین کی معنعن روایات کے بارے میں امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
واعلم أن ما كان فى الصحيحين عن المدلسين بعن ونحوها، محمول على ثبوت السماع من جهة أخرى
”بلاشبہ صحیحین (بخاری و مسلم) میں مدلسین سے عن اور اس جیسے تدلیس کے دیگر الفاظ سے منقول روایت دوسرے طرق سے ثبوتِ سماع پر محمول ہے۔“
(لہذا بخاری و مسلم میں مدلس کا عنعنہ صحت حدیث میں قادح نہیں)
شرح النووی، فصل في التدليس: 153/1
② پھر مستخرج ابی عوانہ میں ابو زبیر رحمہ اللہ کے سماع کی صراحت موجود ہے، لہٰذا تدلیس کا شائبہ بالکل ہی ختم ہو جاتا ہے، سو اس حدیث کے صحیح ہونے کے بارے میں کسی قسم کے شک و شبہ میں مبتلا نہ ہوا جائے۔
مسنه کی تعریف:
① امام نووی رحمہ اللہ مسنه کی توضیح میں بیان کرتے ہیں:
قال العلماء: المسنة هي الثنية من كل شيء من الإبل والبقر والغنم، فما فوقها
”مسنہ اونٹ، گائے اور بھیڑ، بکری میں سے دو دانتا یا اس سے بڑی عمر کا جانور ہے۔“
شرح النووی: 117/13
② شوکانی رحمہ اللہ رقم طراز ہیں کہ علماء بیان کرتے ہیں:
المسنة هى الثنية من كل شيء من الإبل والبقر والغنم فما فوقها، و هذا تصريح بأنه لا يجوز الجذع ولا يجزى إلا إذا عسر على المضحى وجود المسنة
”مسنہ اونٹ، گائے اور بھیڑ، بکری میں سے دو دانتا یا اس سے بڑی عمر کا جانور ہے اور (حدیث الباب میں واضح) صراحت ہے کہ بھیڑ کے کھیرے کی قربانی صرف اس صورت میں جائز اور کافی ہے جب قربانی کرنے والے پر دو دانتے جانور کا حصول مشکل ہو جائے۔“
نیل الأوطار: 120/5
الثني اور المسنه مترادف المعنی الفاظ ہیں اور الثنی اور المسنہ اس جانور کو کہتے ہیں جس کے اگلے دو دانت گر گئے ہوں۔

فوائد:

① دو دانتے، چار دانتے، چھ دانتے وغیرہ جانور کی قربانی جائز ہے، بشرطیکہ وہ ان عیوب سے پاک ہو جن سے پاک ہونا صحتِ قربانی کی شرط ہے۔
② دو دانتا جانور کی باسہولت دستیابی کی صورت میں دو دانتا جانور کی قربانی کرنا لازم ہے۔
③ امیر یمانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
والحديث دليل على أنه لا يجزئ الجذع من الضأن فى حال من الأحوال إلا عند تعسر المسنة
”حدیثِ الباب دلیل ہے کہ بھیڑ کا کھیرا کسی بھی صورت قربانی کے لیے درست نہیں، البتہ دو دانتا جانور ملنا مشکل ہو تو بھیڑ کا کھیرا جائز ہے۔“
سبل السلام 1356/4