دنیاوی زندگی پر آخرت کو ترجیح دینے کا ثواب
اللہ رب العزت نے جن و انس کو اپنی عبادت کے لیے تخلیق فرمایا اور یہی ان کی دنیا میں آمد کا مقصد ہے۔ دنیا امتحان کی تیاری کی جگہ ہے ۔ جس کا پرچہ بیان کر دیا گیا ہے کہ دنیا میں اس کی تیاری کر لو، بعد میں اس کا امتحان ہوگا جہاں پاس ، فیل کا اعلان کیا جائے گا۔
اب جو شخص امتحان گاہ کو ہی اصل بنالے، یا کوئی مسافر کہیں سفر کرتے ہوئے اگر کسی جگہ وقتی طور پر پڑاؤ ڈال لے، اور اپنی اصل منزل مقصود کو بھول کر اسے ہی مسکن سمجھ لے تو ایسے شخص کو کوئی بھی عقلمند نہیں کہتا، بلکہ یہی کہا جاتا ہے کہ اس نے اصل جگہ پر عارضی کو ترجیح دی ہے۔ بعینہ یہی معاملہ دنیا و آخرت کا ہے۔ دنیا عارضی اور ایسی عارضی کہ کسی کو معلوم نہیں کہ اس نے کب یہاں سے کوچ کرنا ہے؟ جبکہ آخرت کو بقاء ودوام ہے لیکن انسان شیطان کے ہتھکنڈوں کا شکار ہو کر اصل پر عارضی کو ترجیح دیتا ہے۔ لہذا یہاں چند اسی موضوع سے متعلق آیات اور پھر احادیث بیان کی جاتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل مقصد ہمیشہ رہنے والی جگہ کون سی ہے؟
﴿وَمَا هَٰذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ ۚ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ﴾
”اس دنیا کی حقیقت کھیل اور تماشہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں اور بے شک آخرت کی زندگی ہی اصل اور حقیقی زندگی ہے۔ کاش کہ لوگ اس حقیقت کو جان لیں۔“
(29-العنكبوت:64)
﴿قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ . وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ. بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا. وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ.﴾
” بے شک ان لوگوں نے فلاح پالی جو پاک ہو گئے ۔ اور جنہوں نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتے رہے لیکن تم تو دنیا کا جینا سامنے رکھتے ہو۔ اور آخرت بہت بہتر اور بہت بقا والی ہے۔“
(87-الأعلى:14 تا 17)
﴿مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ ۖ وَمَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِن نَّصِيبٍ﴾
”جس کا ارادہ آخرت کی کھیتی کا ہو ہم اسے اس کی کھیتی میں اور ترقی دیں گے، اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو ہم اسے اس میں سے ہی کچھ دے دیں گے، اور ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔“
(42-الشورى:20)
﴿إِنَّ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا وَرَضُوا بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاطْمَأَنُّوا بِهَا وَالَّذِينَ هُمْ عَنْ آيَاتِنَا غَافِلُونَ . أُولَٰئِكَ مَأْوَاهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ.﴾
” جن لوگوں کو ہمارے پاس آنے کا یقین نہیں ہے، اور وہ دنیوی زندگی پر راضی ہو گئے ہیں، اور اس میں جی لگا بیٹھے ہیں، اور جو لوگ ہماری آیتوں سے غافل ہیں ایسے لوگوں کا ٹھکانا ان کے اعمال کی وجہ سے دوزخ ہے۔“
(10-يونس:7۔8)
﴿فَأَمَّا مَن طَغَىٰ. وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا. فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ . وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ. فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ.﴾
” تو جس شخص نے سرکشی کی ہوگی ، اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی ہوگی اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے۔ ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہوگا ، تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے۔“
(79-النازعات:37 تا 41)
وعن عائشه رضي الله عنها قالت: توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وما فى بيتي من شيء يأكله ذو كبد إلا شطر شعير فى رف لي، فأكلت منه حتى طال على ، فكلته ففني.
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اس حالت میں ہوئی کہ میرے گھر میں کوئی چیز ایسی نہیں تھی جو کوئی جاندار کھائے ،سوائے اس تھوڑے سے جو کے جو میرے طاق میں رکھے ہوئے تھے۔ پس میں ایک مدت دراز تک اسی میں سے (لے لے کر ) کھاتی رہی ( بالآخر ایک دن ) میں نے اسے ناپا تو وہ ختم ہو گیا ۔“
سنن ترمذی ، کتاب الزهد، رقم : 2377 – البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
جو لوگ آخرت کی زندگی پر دنیا کو ترجیح دیتے ہیں، اور دنیا بنانے میں محو ہو جاتے ہیں نتیجتا دنیا ہاتھ نہیں آتی ہے، اور آخرت کو تو پہلے ہی خیر باد کہہ دیتے ہیں، اور اُن کی زندگیاں مصائب سے بھر جاتی ہیں، ساتھ ہی گھرانوں کے گھرانے جہنم کے کنارے پر لا کھڑا کرتے ہیں ۔ مگر جو لوگ اُخروی زندگی کو دنیاوی زندگی پر ترجیح دیتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے دنیا اور آخرت دونوں کو آسان بنا دیتا ہے۔
؎ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوند
بتان وہم و گماں لا الہ الا الله !
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی پر سوئے ہوئے تھے ، جب سو کر اُٹھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر پر چٹائی کے نشان تھے ، تو ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ! (اگر آپ ہمیں حکم دیں تو ) ہم آپ کے لیے آرام دہ بستر تیار کر دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” مالي وللدنيا ، ما أنا فى الدنيا إلا كراكب استظل تحت شجرة ثم راح وتركها“.
” مجھے دنیا سے کیا مطلب ، میری اور دنیا کی مثال ایسی ہے جیسا کہ کوئی سوار کسی درخت کے نیچے کھڑا ہو کر سایہ سے فائدہ اُٹھائے، اور پھر چل دے اور درخت کو اپنی جگہ چھوڑ جائے ۔“
سنن ابن ماجة، رقم : 4109 ـ سلسلة الصحيحة، رقم : 438 .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر مجلس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ کلمات لکھاتے :
”اللهم اقسم لنا من خشيتك ما يحول بيننا وبين معاصيك ومن طاعتك ما تبلغنا به جنتك ، ومن اليقين ما تهون به علينا مصيبات الدنيا ، ومتعنا بأسماعنا وأبصارنا وقوتنا ما أحييتنا ، واجعله الوارث منا ، واجعل ثأرنا على من ظلمنا ، وانصرنا على من عادانا ، ولا تجعل مصيبتنا فى ديننا ، ولا تجعل الدنيا أكبر همنا ولا مبلغ علمنا ، ولا تسلط علينا من لا يرحمنا“ .
”اے اللہ ! ہمیں اپنا ڈر نصیب فرما جو ہمارے اور تیری نافرمانی کے کاموں میں رکاوٹ بن جائے ، اور اپنی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرما جو ہمیں تیری جنت میں پہنچا دے، اور ایسا یقین نصیب فرما جو ہم پر دنیا کی مصیبتیں آسان کر دے۔ (اے اللہ ! ) جب تک تو ہمیں زندہ رکھے ہمیں ہماری سماعت ، بصارت اور طاقت سے فائدہ عطا فرما، اور اسی ( بہرہ مندی ) کو ہمارا وارث بنا۔ جو کوئی ہم پر ظلم کرے اس سے ہمارا انتقام لے، جو کوئی ہم سے دشمنی رکھے اس پر ہماری مدد فرما۔ اور دین میں مصیبتیں نہ ڈالنا، اور نہ ہی دنیا کو ہمارا مقصود اور نہ ( دنیا کو) ہمارے علم کی انتہا بنا، اور ہم پر کسی ایسے شخص کو مسلط نہ کرنا جو ہم پر رحم نہ کرے۔“
سنن ترمذی ، کتاب الدعوات، باب دعاء اللهم اقسم لنا الخ ، رقم : 3502۔ علامہ البانی رحمہ الله نے اسے حسن کہا ہے۔
عن بن عمر رضي الله عنهما ، قال: أخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بمنكبي، فقال: ” كن فى الدنيا كأنك غريب ، أو عابر سبيل“. وكان ابن عمر يقول : إذا أمسيت فلا تنتظر الصباح، وإذا أصبحت فلا تنتظر المساء . وخذ من صحتك لمرضك، ومن حياتك لموتك.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا کندھا پکڑ کر فرمایا: ” تم دنیا میں ایسے رہو گویا تم ایک اجنبی یا راہ گیر ہو ۔“ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار مت کرو، اور جب صبح کرو تو شام کا انتظار مت کرو، اور اپنی صحت میں بیماری کے لیے اور اپنی زندگی میں موت کے لیے ( کچھ ) حاصل کر لو۔“
صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب قول النبي صلى الله عليه وسلم كن في الدنيا كانك غريب رقم: 6416 .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صحت سے نوازا ہے تو اسے غنیمت جانتے ہوئے ، اس سے فائدہ اُٹھاؤ، اور نیکی کے کام زیادہ سے زیادہ کرلو۔ مبادا کہیں ایسا نہ ہو کہ بیماری آلے اور اعمالِ صالحہ نہ کر پاؤ، اسی طرح اپنی زندگی کو بھی غنیمت جانو کیونکہ کوئی معلوم نہیں کہ کب موت آ جائے اور مہلت نہ ملے ۔
اگر نظر آخرت پر ہو تو ہر حال میں انسان خوش رہتا ہے ۔ جیسے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
” أنظروا إلى من هو أسفل منكم ، ولا تنظروا إلى من هو فوقكم ، فإنه أجدر أن لا تزدروا نعمة الله“.
تم اس شخص کی طرف دیکھو جو ( دنیاوی اعتبار سے ) تم سے کم تر ہو، اور اس شخص کی طرف مت دیکھو جو ( دنیاوی اعتبار سے ) تم سے بڑا ہو ، کیونکہ اس طرح تم اللہ کی نعمتوں کو حقیر نہیں سمجھو گے۔“
صحیح مسلم، کتاب الزهد والرقائق ، رقم : 2963
مزید فرمایا:
” من أصبح منكم آمنا فى سربه معافى فى جسده، عنده قوت يومه ، فكأنما حيزت له الدنيا“.
” جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ وہ بنفسہ پر امن اور تندرست ہو، اور اس کے پاس ایک دن کی غذا موجود ہو تو گویا اس کے لیے پوری دنیا کو جمع کر دیا گیا۔“
سنن ترمذى كتاب الزهد، رقم : 2346 – علامہ البانی نے اسے حسن کہا ہے۔
عن ثوبان رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ” يوشك الأمم أن تداعى عليكم كما تداعى الأكلة إلى قصعتها“. فقال قائل: ومن قلة نحن يومئذ؟ قال: ” بل أنتم يومئذ كثير ، ولكنكم غثاء كغثاء السيل، ولينزعن الله من صدور عدوكم المهابة منكم، وليقذفن الله فى قلوبكم الوهن“. فقال قائل: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم : وما الوهن؟ قال: ” حب الدنيا وكراهية الموت“.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عنقریب (کافر) امتیں تمہارے اوپر چڑھ دوڑنے کے لیے ایک دوسرے کو اس طرح بلائیں گی جس طرح کھانے والے ایک دوسرے کو دستر خوان کی طرف بلاتے ہیں۔“ ایک آدمی نے عرض کیا: شاید اس وقت ہم تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: نہیں ! بلکہ تم کثرت میں ہو گے، لیکن تمہاری حیثیت پانی کے اوپر بہنے والے جھاگ کی مانند ہوگی، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے دلوں سے تمہارا رُعب ختم کر دے گا اور تمہارے دلوں میں وہن پیدا فرمادے گا۔“ ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! وہن کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دنیا کی محبت اور موت سے نفرت ۔“
سنن ابو داؤد، کتاب الملاحم، باب في تداعى الرحم على الاسلام، رقم : 4297 ـ سلسلة الصحيحة، رقم: 956 .
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مؤمن دنیا کے مقابلے میں اپنے اصلی مقام آخرت کو ترجیح دیتا ہے۔ اور اس کے لیے سعی کرتا ہے۔ جس کا ثواب اسے جنت کی ابدی نعمتوں کی صورت میں ملے گا۔