مضمون کے اہم نکات
جماعتِ اسلامی کے دین کا خلاصہ
بقلم: صوفی نذیر احمد کاشمیری
راقم نے سالِ گزشتہ ”حقیقتِ دین، تجدیدِ دین، اور تفردِ فقهیِ الدین“ کے نام سے ایک کتاب شائع کی تھی اس میں ان تینوں کے فرق کو واضح کیا تھا۔ چونکہ جماعتِ اسلامی کے بانی نے بنیادِ دین سے اس کے شاخ و برگ تک کو موجودہ دور کے کمیونسٹ (TOLITARIAN STATE) کے نمونے پر مرتب کرنے کی کوشش کی ہے جس کے سبب دین کا ہر جزو اپنا مقام و معنویت کھو کر کچھ سے کچھ ہو گیا ہے، لہٰذا اس کتاب میں راقم نے اس ہمہ جہتی تحریفِ دین کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے اس پر ضروری تنقید بھی کی تھی، اور اس جماعت اور اس کے بانی کو دعوت دی تھی کہ وہ اس تنقید کی روشنی میں اپنے دین اور اس کی معکوس ترتیب پر غور کریں۔ امید تھی کہ جماعتِ اسلامی اور اس کے بانی اپنی فکری کجی کا اعتراف کرتے ہوئے اصلِ دین کو سرِ نو بلا تاویل قبول کر لیں گے اور دین کی نئی تعمیر کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ جماعتِ اسلامی کی طرح گزشتہ سودو برسوں میں متعدد فرقے بھی امتِ اسلامیہ کے اندر نکلے ہیں اور انھوں نے امت سے باہر ہو کر اپنا اپنا آزاد مقام بنانے کی کوشش کی تھی۔
اسلام:
اسلام، سابقہ مذاہب کی طرح، پہیلیوں، ضرب الامثالوں، استعارات، واشارات ورموز وکنایات میں چھپا ہوا مذہب نہیں ہے، جسے ہر بدلتے ہوئے ماحول میں نئے نئے شارحین و متکلمین کی ضرورت ہو، جو بدلے ہوئے حالات و ماحول کے مطابق دین کی نئی سے نئی شرح کرتے رہیں، مخالفتِ دین، ماحول کی ترمیم و تنقیح اور کاٹ چھانٹ کر کے اسے دین کے غیر متبدل اور ابدی اصولوں کے مطابق کرتے رہنا ایک بات ہے اور وہ مسلسل جہاد فی سبیل اللہ کا حصہ ہے وہ تجدیدِ دین کا تسلسل ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ خود دین کو بدلتے ہوئے ماحول سے مطابق کئے جانے کی کوشش کی جائے، یہ تحریفِ دین کا سلسلہ ہے۔
اسلام تو دینِ بینات و محکمات ہے جس نے دین کے ایک ایک اصول کو وہ بیّن صورت دی ہے کہ جو تمام عوام و خواص کو یکساں سمجھ آ سکے۔ حضرتِ رسولِ پاک نے اسلام کی اسی حیثیت کو واضح کرنے کے لئے اسلام کو [ملة سهلة سمحة بيضاء](یہ ایک آسان، با مروّت اور روشن ملت ہے) فرمایا ہے۔ یورپ کے ایک شہرہٴ آفاق مصنف (سپینگلر) نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب (DECLINE OF THE WEST) میں اسلام کی قبولیتِ عالمگیر کا سبب اس کے اسی صاف ستھرے پن اور عام فہم ہونے کو بتایا ہے، وہ اسلام کو بزورِ شمشیر پھیلانے کا انکار کرتا ہے۔ پھر رسولِ پاک نے اس دین کا جو عملی اسوۂ حسنہ قائم کیا ہے اور جس کا ایک ایک حرف اس طرح محفوظ کر دیا گیا ہے کہ اب اس دین کے نئے نئے احوال میں نئی تعبیرات و تشریحات کرنے کی کوئی بھی گنجائش نہیں ہے، اب تو صرف اتباع کا راستہ کھلا ہے۔
[لو كان موسى حيا ما وسعه إلا اتباعي]
موسیٰ بھی اگر زندہ ہوتے تو ان کے لئے میرے اتباع کے سوا کوئی گنجائش نہ ہوتی۔ [مسند احمد:15156]
اتباع تو طے شدہ عملی نمونے کا ہوتا ہے۔
وہ غیر متعین الماہیت کے پیچھے نامعلوم دنیاؤں کھانے کا نام نہیں، اتباع طے شدہ راستے پر چلنے کا نام ہے۔
اجتہاد کی ضرورت اور اس کی حدود:
بلا شبہ ہر دور میں معاشرۂ انسانی کے لئے نئے نئے معاشرتی و معاشی سوالات پیدا ہوتے رہیں گے اس لئے جس کائناتِ آب و گل میں ہم اپنا سفرِ حیات طے کر رہے ہیں وہ مبادیاتِ دین کی طرح غیر متبدل اور ابدی و پر رنگ نہیں ہے، وہ دنیائے تغیر و انقلاب ہے، لہٰذا انسانی زندگی کے جس پہلو کا دنیائے تغیر و انقلاب سے تعلق ہے اس پہلو کے سامنے نئے سوالات کا آنا ایک طبعی حقیقت ہے اور ان سوالات کے جوابات مہیا کرنا علمائے ملت کا فرض ہے مگر اس کے یہ معنی نکالنا یا یہ گنجائش پیدا کرنا کہ ان چیزوں اور فروعی نوعیت کے سوالات کے پیشِ نظر ساری غیر متبدل اساساتِ دین و ایمان کی نئی سے نئی تعبیر و تشریح کی جائے جیسا کہ جماعتِ اسلامی کے بانی کا اندازِ فکر ہے، وہ یکسر باطل ہے جو دین کی غیر متبدل و یقین پرور بنیادوں کو ایک سفسطہ بنا ڈالتا ہے اور یقین و ایمان و اذعان کے سوتوں کو بند کر دیتا ہے۔ سابقہ مذاہب کے ساتھ اہلِ ہوا نے یہی کچھ کیا تھا۔ اور دینِ بینات و محکمات کے ساتھ جماعتِ اسلامی اور اس کے بانی بھی کچھ کر رہے ہیں۔ سابقہ مذاہب میں تو اس کی کسی نہ کسی حد تک گنجائش تھی اس لیے کہ اس کا اندازِ بیان، رموز و کنایات، اشارات و استعارات کا تھا مگر جب دینِ حق کو بینات و محکمات کی شکل میں اپنی کامل شکل میں پیش کر دیا اور اس کے عملی اسوۂ حسنہ خاتم الانبیاء نے اپنے عمل سے بھی معین شکل و صورت دیدی اور اس سب ذخیرے کو ساری شیطانی و بد دیانتیوں کے مقابل اللہ پاک نے ہمیشہ کے لئے محفوظ بھی کر دیا اور اس کے ساتھ ہی [لا تزال طائفة من امتي ظاهرين على الحق] سے مستجل کرتے ہوئے بحیثیتِ عملِ متوارث کے بھی اسے محفوظ کر دیا تو اب ہر نئے دور کے لئے پورے دین کی نئی سے نئی تعبیر و تشریح کی گنجائش نکالنا قطعاً اغوائے شیطانی ہے، اخفائے حق ہے اور تحریفِ دین ہے، دینِ حق کو چھپانا ہے۔
جماعتِ اسلامی کا دین:
جماعتِ اسلامی کے بانی نے تمام انبیاء کے متفقہ و متحدہ اور غیر متبدل دین کو موجودہ دور کے کلی سٹیٹ کا مترادف بتا کر اور امتِ اسلامیہ کو ابدی و غیر متبدل دین سے ہٹا کر سابقہ امتوں کی طرح اغوائے شیطانی اور ”سبلِ متفرقہ“ کے راستے ڈالنے کی جو کوشش شروع کر رکھی ہے، وہ بالکل گمراہی ہے۔ پھر اسی دن کو ایک غیر منقسم کلیت قرار دے کر یہ بھی اعلان کر دیا ہے کہ ”اس دین کو یا تو کل کا کل قبول کرنا ہو گا، یا کل کا کل رَد کرنا ہو گا۔ اس کے علاوہ کوئی تیسری راہ موجود نہیں ہے۔“ اور ساتھ ہی امتِ اسلامیہ کو للکار کر کھلے اسٹیج پر یہ بھی کہہ دیا ہے کہ دین کی اس مخصوص تعبیر اور صورت کو رَد کرنے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اسے اللہ پاک مغضوبِ یہود کی طرح اپنے عذابِ ذلت و رسوائی کے سپرد کر دے گا۔ (رودادِ جماعتِ اسلامی: حصہ دوم ص 17/18)
مگر مندرجہ صدر تحریفات کے مقابل علمائے سنت و آثار کا متفقہ طریقِ عمل امت کے ظاہر و باطن کی طہارت و پاکیزگی و سادگی کو بحال رکھنے میں ایک مؤثر کام کرتا رہا ہے، اور ان کی وہی روش برابر جاری ہے۔
چند سوالات:
کیا توحیدِ خدا، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، ایمان بالآخرت و ایمان بالرسالت و ایمان بالملائکہ اور تمام اخلاقی اقدار آج بھی اسی طرح مشہور و معروف اور سب کو معلوم نہیں ہیں۔ جس طرح وہ دورِ رسالت و دورِ صحابہ و دورِ تابعین و تبع تابعین میں مشہور و معروف و معلوم تھیں؟ کیا یہ سب کے سب وہ غیر متبدل اصولِ دین نہیں ہے جنہیں ہر دور میں نہ صرف علمائے امت نے بلکہ خود امت نے اجماعی حیثیت سے فرائض مانا ہے اور ان شاء اللہ تا قیامت مانا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ دینِ اسلام بینات و محکمات کا وہ دین ہے جس کے اصول اور ان کو عملی اسوۂ حسنہ بھی خفا میں نہیں رہے گا۔ اگر چہ لا تعداد اہلِ ہوا اور دجالین نے اپنی تشکیک و تذلیل و تحریف سے انہیں چھپانے اور بدل دینے کی انتھک کوششیں بھی ہمیشہ جاری رکھیں۔ آج امت کی اکثریت مطلقہ دین کے نام پر اور دینی حسنِ عقیدت کے ساتھ جن بدعات میں الجھا دی گئی ہے وہ سب کے لئے ایک معلوم حقیقت ہے لیکن وبائے عام کے ہوتے ہوئے بھی نوے فیصد ایسے ہوں گے جنہیں نماز، روزہ، حج و زکوٰۃ و حشر و نشر کی فرضیت کا علم نہ ہو، لہٰذا اس دینِ بینات و محکمات و فطرتِ انسانی کی آبیاری کرنے والے دین میں نئے نئے شارحین کی نہ تو ضرورت ہے نہ گنجائش۔ اس کے لئے صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ اس کے اصول و مبادی کی بداہت و وضاحت میں فرق نہ آنے پائے اور اس پر امت کو عمل پیرا رکھنے کے لئے ایک صاحبِ استقامت گروہ ہر وقت موجود ہے۔ [وَلۡتَکُنۡ مِّنۡکُمۡ اُمَّۃٌ یَّدۡعُوۡنَ اِلَی الۡخَیۡرِ وَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ] [سورۃ آل عمران:104]
مرکزی سوال:
اب مرکزی سوال یہ ہے کہ مندرجہ صدر عالمِ آشکار حقائق کی موجودگی میں وہ کون سا دین ہے جسے بانئ جماعتِ اسلامی نے سرِ نو دریافت کر کے اس پر سنوارا، ایمان کو تازہ کیا تھا اور پھر اس کی تفصیلات معلوم کر کے اور اس پر مطمئن ہونے کے بعد ان کی طرف خود امتِ اسلامیہ کو قبول و رجوع کرنے کی دعوت دی تھی۔ یہ دعوت تو مبادیاتِ دین سے تمسک کی دعوت ہر گز نہ تھی۔ بلکہ اس دعوت نے تمام مبادیات و اصولِ دین کو امت کی قراردادِ مقاصد سے خارج کر کے انھیں حکومتِ قاہرہ کے لئے صرف ذرائع کا مقام دیا ہے اور اعلان کر دیا ہے کہ اگر وہ اصولِ قیامِ حکومت کے واحد نصب العین سے علیحدہ ہو کر کام کرتے ہیں تو عند اللہ ان کا کوئی اجر نہ ہو گا۔
(تجدید و احیائے دین: ص 24)،(رودادِ جماعتِ اسلامی: حصہ سوم ص 34)
ان کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ امت کے روایتی و نسلی دین میں ان کے لئے کوئی رہنمائی موجود نہ تھی، لہٰذا انھیں اس روایتی و نسلی ذخیرے کو نظر انداز کر کے دین کو بطورِ خود دریافت کرنا پڑا۔ اوپر تمام مبادیات و اصولِ دین کے اظہار و بیان اور عالمِ آشکار ہونے کے متعلق جو کچھ عرض کیا گیا ہے اس پر نظر رکھی جائے اور بانئ جماعتِ اسلامی کے اس دعوے کو غلط قرار دیا جائے۔
خاتم الانبیاء کا ایک صاف اعلان:
اسلام صرف اسی حیثیت سے دینِ ظاہر و عالمِ آشکار نہیں ہے کہ اس کی کتاب الاصول اور اس کا عملی اسوۂ حسنہ تاریخِ دین و مذہب کا محفوظ ترین ریکارڈ ہے بلکہ اس کے عملی تسلسل اور عملِ متواتر کے متعلق بھی خاتم الانبیاء نے یہ اعلان کر کے تمام دجالین و مدلسین و محرّفین اور متشککین کا راستہ بند کر دیا ہے، کہ
[لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين على الحق، لا يضرهم من خذلهم]
میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم و ثابت رہے گا۔ (صحیح المسلم:1920)
[لا تجتمع أمتي على الضلالة] میری امت کبھی گمراہی پر جمع نہ ہو گی۔ (جامع الترمذی:2167)
دین کا سب اصولی ریکارڈ اور اس کا سارا عملی اسوۂ حسنہ محفوظ اور اسے لے کر چلنے والا ظاہرین علی الحق گروہ موجود، اس کے تمام اصول و مبادیات سورج چاند کی طرح روشن۔ ان سب حقائق کی موجودگی میں کسی شخص کا اعلان کرنا کہ اسے نسلی و روایتی دین میں حق کا کوئی پتہ نہیں چلا، لہٰذا اس نے بطورِ خود و کتاب و سنت کو سامنے رکھ کر دین کو دریافت کیا اور اسی دین کی طرف دوسروں کو دعوت دینے کا آغاز کیا، سوائے اغوائے ابلیس کے اور کیا ہو سکتا ہے؟
بانئ جماعتِ اسلامی کا کھلا اعلان:
یہاں پر بانئ جماعت کا ایک دوسرا بیان نقل کر دیا جاتا ہے تاکہ ان کے بطلان کے متعلق کسی شک کی کوئی گنجائش نہ رہے۔
"اس موقعہ پر نہایت وضاحت کے ساتھ ایک بات کہہ دینا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ اس قسم کی دعوت کا، جیسے ہماری دعوت ہے، کسی مسلمان قوم میں اٹھنا اس کو ایک بڑی سخت آزمائش میں ڈال دیتا ہے جب تک حق کے بعض منتشر اجزاء باطل کی آمیزش کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ ایک مسلمان قوم کے لئے اسے قبول نہ کرنے اور اس کا ساتھ نہ دینے کا ایک معقول عذر موجود رہتا ہے اور اس کا عذر قبول ہوتا رہتا ہے مگر جب پورا حق بے نقاب ہو کر اپنی خالص صورت میں اس کے سامنے رکھ دیا جائے اور اس کی طرف اسلام کا دعویٰ رکھنے والی قوم کو دعوت دی جائے تو اس کے لئے ناگزیر ہو جاتا ہے کہ یا تو اس کا ساتھ دے اور اس خدمت کو انجام دینے کے لئے کھڑی ہو جائے جو امتِ مسلمہ کی پیدائش کی ایک ہی غرض ہے، یا نہیں تو اسے رَد کر کے وہی پوزیشن اختیار کرے جو اس سے پہلے یہود قوم اختیار کر چکی ہے۔ اس صورت میں ان دو راہوں کے سوائے کسی تیسری راہ کی گنجائش اس کے لئے باقی نہیں رہتی”۔
(رودادِ جماعتِ اسلامی: حصہ دوم ص 17)
ضروری بات:
بانئ جماعتِ اسلامی کے اس بیان میں جس چیز کو واضح کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ آج تک اسلامی دعوتیں چونکہ حق و باطل کی آمیزش کو لیکر چلتی تھیں لہٰذا امتِ مسلمہ انھیں رَد کرنے کے باعث عند اللہ ماخوذ ہونے سے بچ جاتی تھی لیکن بانئ جماعتِ اسلامی نے حق کو اس طرح بے نقاب کر دیا ہے کہ اسے دینِ خالص کے سوائے کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا، لہٰذا اگر اسے امتِ مسلمہ رَد کرتی ہے تو اس کا انجام یہود کی طرح ہو گا۔ اس بیان کے بعد چند سطور ایسی لکھی ہیں کہ جن سے وہ اپنی پیشین گوئی کو جھوٹا ہونے سے بچاتے محسوس ہوتے ہیں مگر پھر پوری تعلی کے ساتھ وہ ذیل کا تو ضیحی اضافہ کرتے ہیں۔
"اب چونکہ یہ دعوت ہندوستان میں اٹھ چکی ہے اس لئے ہندی مسلمانوں کے لئے آزمائش کا وہ خطرناک لمحہ آ ہی گیا ہے، رہے دوسرے ممالک کے مسلمان تو ہم ان تک اپنی دعوت کو پہنچانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اگر ہمیں اس کوشش میں کامیابی ہو گئی تو جہاں جہاں یہ پہنچے گی تو وہاں کے مسلمان بھی اس آزمائش میں پڑ جائیں گے”۔
(رودادِ جماعتِ اسلامی: حصہ دوم ص 18)
یہ حضرت دینِ بینات و محکمات کو، اس کے عالمِ آشکار ا اسوۂ حسنہ کو، اور سارے اصول و مبانی کو نظر انداز کرتے ہوئے انہیں مبہم اور بے معنی قرار دیتے ہوئے اپنے باطل مزعومات کو امتِ مسلمہ کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ وہ یا تو اسے قبول کرے یا مغضوبِ یہود کے کٹہرے میں عذابِ الہی کے انتظار میں کھڑی ہو جائے اس کے لئے ان دو راہوں کے سوائے اور کوئی راستہ کھلا نہیں ہے۔
اب راقم، اس خانہ ساز دین کے بانی اور اس کی امت کے سامنے اس دعوے کا جوابِ دعویٰ پیش کرتا ہے اور وہ یہ ہے۔
[اِنَّ الَّذِیۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ یَتُوۡبُوۡا فَلَہُمۡ عَذَابُ جَہَنَّمَ وَ لَہُمۡ عَذَابُ الۡحَرِیۡقِ]
جن لوگوں نے مومنین ومومنات کو آزمائش میں ڈالا پھر وہ اس سے تائب نہ ہوئے ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے، جلانے والا عذاب ہے۔ [سورۃ البروج:10]
دین و ملّت:
جسے قرآن مجید نے بیان کر دیا ہے جس خدائے واحد نے دینِ حق کے تمام اصول و بینات کو ہمیشہ کے لئے خود محفوظ کر دیا اور تا قیامت اسے عملی طور پر زندہ رکھنے اور چلانے کے لئے ایک "ظاہرین علی الحق” گروہ کو بھی معین کر دیا ہے۔ اس سب سلسلے کو نسلی و روایتی دین قرار دے کر ایک طرف پھینک دینا اور بطورِ خود دین کے نام پر کچھ تخیلات واہیہ جمع کر کے ان کی طرف امت کو اور عالمِ انسانی کو دعوت دینا رسول کی مخالفت اور غیر سبیل المومنین کے اتباع کے علاوہ کیا ہے، جس طرح تو نے اپنے خود ساختہ بطلان کو دینِ خالص کا نام دے کر اور اس کی دعوت دے کر اپنی حجتِ واہہ کو بحال خود پورا کیا تھا، اب تیرے سامنے دینِ بینات ومحکمات کے سارے عالمِ آشکار ا اصولوں کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے اللہ پاک کی حجتِ بالغہ کو پورا کیا جاتا ہے۔ لہٰذا اللہ اور سنتِ آباء کے مطابق [رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ] اور [لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰنَکَ ٭ۖ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ] کہتا ہوا اور خود ساختہ بطلان سے تائب ہوتا ہوا اصلِ دین، ظاہر و با ہر دین، سارے علماء وصلحاء بلکہ کل امت کے نزدیک مسلمہ دین سے تمسک کر، بلا شک و شبہ امت کے عمل میں اس دین سے تمسک کے بارے میں نہایت درجہ ضعف وانحلال پیدا ہوا ہے اور اس کا علاج صرف یہ ہے کہ تمام مسلماتِ دین وملت پر امتِ اسلامیہ کو عمل پیرا کرنے کی صورت کی جائے، نہ یہ کہ دین کے نام پر کچھ نئی قسم کی پہیلیاں، استعارات و رموز و کنایات گھڑی جائیں اور وفقاً فوقفاً ان کی نئی سے نئی تشریحات کی جائیں، اور مغالطات کا ایک اٹوٹ سماں باندھ دیا جائے۔ اور اس کا نام ”اصل حقیقی و بے نقاب“ دین رکھا جائے۔
ایک واقعہ:
کئی سال پہلے کا واقعہ ہے کہ میں نے PLATOSCRITRIM OF LIFE نام کی ایک کتاب پڑھی تھی۔ کتاب کے مصنف کا دعویٰ تھا کہ افلاطون الہی ساری انسانیت کا ہمیشہ کے لئے رہنما ہے مگر ضرورت اس کی ہے کہ ہر دور میں اس کی فکر کی رُوح کو سمجھ کر اس کی نئی تعبیر کر دی جائے، جماعتِ اسلامی کے بانی کا اسلام کے متعلق بھی ایسا ہی خیال معلوم ہوتا ہے۔ ان کا دعویٰ تو یہ ہے کہ اسلام جوں کا توں قائم کرنا چاہتے ہیں مگر ان کا عمل یہ ہے کہ وہ اس کے سارے حقائقِ ثابتہ پر ایک دبیز پردہ ڈال کر اس کی ایسی تشریح کرتے ہیں کہ وہ سب تخیلاتِ فاسدہ کا ایک ذخیرہ محسوس ہوتا ہے۔ پھر جس قدر اس سے کسی کا رابطہ پختہ ہوتا جاتا ہے اسی قدر وہ بینات ومحکماتِ دین سے بے ذوق ہوتا جاتا ہے اور اسے ہونا چاہیے، اس لئے کہ اب یہ بینات و محکمات و نا قابلِ تغییر دینی اصول ان کی کتابِ دین میں قراردادِ مقاصد سے خارج ہو کر ذرائع و وسائل کے خانے میں چت کئے گئے ہیں۔
بود صاحب خانہ با میہمان نامہبش
وہ تھا تو مالکِ مکان مگر میں نے اسے مہمان کی حیثیت دے دی۔
قادیانیت کا خروج:
قادیانی صاحب کا امت و دین سے خروج اس وقت مکمل ہوا جب کہ ان کے خلیفۂ دوم نے 1913ء میں جماعت کا ایک اجلاسِ عام کر کے یہ اعلان کیا کہ جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوے کو بلا تاویل قبول نہیں کرتا وہ دینِ اسلام کے دائرہ سے خارج ہے۔ قادیانی ٹولے کے اس دعوے کے بعد تو ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے صحابہ تو نعوذ باللہ شخصِ مقدمہ انگیز کی حیثیت رکھتے تھے اور مرکزِ رسالت بعد میں قائم ہونے والا تھا اور وہ مرزا غلام احمد قادیانی تھا:
منم مسیحِ خدا و منم کلیمِ خدا // منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد
[ملفوظات مرزا غلام احمد قادیانی]
اس موقعہ پر مجھے اسی 1913ء کا ایک واقعہ یاد آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ڈاکٹر اقبال مرحوم نے ”اسلام کے عمرانی نظام“ پر علی گڑھ محمدن کالج میں لیکچر دیتے ہوئے یہ اظہار کیا تھا کہ اگر آج کوئی فرقہ اسلام کی مؤثر خدمت کر رہا ہے تو وہ قادیانی فرقہ ہے۔ یا پھر جب اس فرقہ کی مضرتیں ظاہر ہوتی گئیں تو پھر یہی ملت پرور شاعر تھا جس نے پورے بیس برس بعد 1933ء میں قادیانیت کو خارج از اسلام قرار دینے کی مہم چلائی اور اللہ پاک نے اسے اس مہم میں کامیاب کیا۔
افادیت:
خارجی افادیت ہر وقت اور ہر ماحول میں بدلتے رہنے والا ایک سایہ ہے جسے وہ کسی صورت دین کے غیر متبدل اور ابدی اصولوں کی طرح بنائے دعوت ہر گز نہیں بنایا جا سکتا اور اگر کسی گروہ نے یہ حرکت کی تو وہ فوراً دین کے دائرے سے باہر ہو کر دجل و تلبیس کے دائرے میں داخل ہو گیا۔ لہٰذا اس افادیت کو بنائے دعوت بنانا حرام ہے۔
بنائے دعوت تو صرف غیر متبدل محکمات و بینات و اصولِ دین ہیں۔ یہی وہ ابدی بنیادیں ہیں جن کی طرف ہر ماحول اور ہر زمانے میں دعوت دیتے رہنا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی کل حقیقت ہے۔ وہ بنیاد و اساس دین کو ہر دم طاقت پہنچاتی ہے، اسے مستحکم و پائیدار رکھتی ہے اور اسی مشن کے لئے ہر فردِ مسلم اپنی اپنی استعداد و صلاحیت کے مطابق مامور من اللہ ہے۔
[کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ تَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ]
تم سب امتوں سے بہتر امت ہو تمہیں کائناتِ انسانی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر تمہارا واحد مشن ہے۔ [سورۃ آل عمران:110]
اب اپنی قوتِ فیصلہ کو بحال کرتے ہوئے تمام علمائے قوم اور صلحائے امت کو فیصلہ کرنا پڑیگا کہ جماعتِ اسلامی اور ان کے بانی مسلماتِ دین اور وحدتِ دین و امت کے داعی ہیں یا وہ ملت کے اندر، رنگ رنگ کے تفرّقے رائج کرنے والا ایک نیا بدعتی ٹولہ ہے جو ہر نئے محاذ پر نیا رنگ و روپ اختیار کرتا ہوا اوہام و شکوک و تفرّقہ فی الدین کی مہم میں مشغول ہے۔
[وَ مَثَلُ کَلِمَۃٍ خَبِیۡثَۃٍ کَشَجَرَۃٍ خَبِیۡثَۃِۣ اجۡتُثَّتۡ مِنۡ فَوۡقِ الۡاَرۡضِ مَا لَہَا مِنۡ قَرَارٍ]،[ یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡقَوۡلِ الثَّابِتِ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰہُ الظّٰلِمِیۡنَ ۟ۙ وَ یَفۡعَلُ اللّٰہُ مَا یَشَآءُ]
کلمہ خبیثہ کی مثال اس شجرِ خبیثہ کی مثال ہے، ہے جو زمین کے اوپر اوپر دکھائی دیتا رہتا ہے جس کی پائیدار بنیاد نہیں ہے، اللہ پاک مومنوں کو پائیدار قول (غیر متبدل اصول و مبادیِ دین) سے دنیا میں اور عاقبت میں ثابت قدم رکھتا ہے اور ظالموں کو گمراہ کرتا ہے، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ [سورۃ ابراہیم:26-27]
[لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين على الحق، لا يضرهم من خذلهم]
میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم و ثابت رہے گا۔ [صحیح المسلم:1920]
منافقانہ روش:
اسلام کی ساری روح خدائے واحد القہار کی حاکمیت ہے۔ (تجدید و احیائے دین: ص 30)
یہ اعتقاد قطعاً موجودہ دور کی کُلّی ریاست کا چربہ ہے جسے دین سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے، بلکہ یہ سارا تصور یورپ کے اپنے سب اجتماعی کاروبار کو لادینیت کی بنیادوں پر چلانے سے ابھرا ہے، یورپ کا یہ لادینی تصور ریاست جو ریاست کی قاہریت پر مبنی ہے۔ دین و مذہب کی کُل نفی پر مبنی ہے۔ وہ آج تک کی تاریخِ انسانی میں لاشریک لادینیت کا کامل ترین مظہر ہے اور موجودہ دور کے اس لادینیت کے مظہرِ کامل یعنی کُلّی ریاست کو جماعتِ اسلامی کے بانی نے دین کا مترادف قرار دیکر اس کے لئے ایک شریعت کا عملہ گھڑی ہے اس میں اس نے کتابِ دین کے پرسنل لاء کے بعض اجزاء کو بھی شامل کر لیا ہے تا کہ دین و مذہب کے ماننے والوں کو وہ باور کرا سکے مگر حقیقت میں وہ ریاست کی قاہریت کا پجاری ہے اس نے موجودہ دور کی ریاستِ قاہرہ کو دین کا مترادف قرار دیکر اور اپنے من گھڑت اسلام کی روح خدائے واحد القہار کی حاکمیت کو اعلان کرنے کے بعد بنی نوع انسان کی تاریخ سے انقطاع کرتے ہوئے موجودہ دور کے ملاحدہ مفکرین کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑ لیا ہے۔ اس نے اپنی کتاب تجدید و احیائے دین میں جس مقام پر موجودہ یورپ کے ملحد مفکرین کا ذکر کیا ہے اور دو درجن ملحدین کے نام لیکر یہ بتایا ہے کہ انھوں نے کس طرح مختلف مکاتبِ فکر کو جنم دے کر دنیا کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔ وہاں وہ یاس و قنوطیت کا مجسمہ بن کر یہ بات کہتا ہے کہ یہ کام مسلم اقوام سے نہ ہو سکا اور وہ ناکامی کے گڑھے میں گر گئے۔ اور اب وہ یہی خدمت انجام دینے کی فکر کر رہا ہے اور اس کی تیاری کرنے کے لئے اس نے سارے کے سارے مبادیات و اصولِ دین کے تمام حقیقی معانی کو بدل دیا ہے، اس لئے کہ جب تک مسلم اقوام یورپ کے ملحدین کی طرح اپنی اساسِ فکر کو نہیں بدلتیں تب تک وہ بھی صورتِ غیر مسلم اقوامِ عالم پر اپنی فوقیت قائم نہیں کر سکتیں۔ اس لئے یہ کہنا حق ہے کہ اس نے طریقِ انبیاء پر کام کرنے کا جو پروپیگنڈہ کیا ہے وہ یکسر فریب ہے۔ حقیقت میں اس کے ماڈل، آزاد و ملحد مفکرین ہیں جنھوں نے مختلف پہلوؤں سے کائنات کو ایک منطقیانہ نظام کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ راقم علمائے امت کو اس گورکھ دھندے میں ہر گز الجھانا نہیں چاہتا ہے یہ بات دینی مقصد کے خلاف ہو گی مگر ہر دینی طالب علم سے یہ درخواست کرتا ہے کہ وہ اس شخص کی دو باتوں کو ازبر کر لے۔ ایک یہ کہ دین کا لفظ اپنے حقیقی معنی میں موجودہ دور کے کُلّی و قاہرانہ ریاست کے ہم معنیٰ ہے۔ دوسری یہ کہ اس کے نزدیک اسلام کی ساری کی ساری روح خدائے واحد القہار کی حاکمیت ہے۔ گویا اس کے واحد القہار خدائے نوعِ انسان کے لئے جو دین مقرر کیا ہے وہ ریاستِ قاہرہ ہے، آگے چل کر جو تہذیب و تمدن اور جو معاشرہ جنم لے گا وہ تہذیب و تمدن اور معاشرے میں قہرِ خداوندی کا مظہر ہو گا، اس نظامِ فکر کے تحت اور کچھ نہیں ہو سکتا۔
سنت و بدعت کا امتیاز:
جس بات نے تیرہ سو برس سے زیادہ عرصے کی روحانی، متکلمّانہ اور سیاسی دھاندلیوں کے باوجود اصول دین اور اسوۂ کاملہ خاتم الانبیاء کی تابانی و سادگی و عام فہمی کو بحال رکھا ہے وہ حضرتِ سرورِ کائنات کا ذیل کا اعلانِ عام ہے جسے آج بھی تمام مساجد و منابر سے ایک اجتماعی عمل کی حیثیت سے دہرایا جاتا ہے۔
[ألا إن خير الحديث كتاب الله وخير الهدي هدي محمد وشر الأمور محدثاتها وكل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة وكل ضلالة في النار]
اس خطبہٴ مسنونہ نے تمام خیر و فلاح کو کتاب اللہ اور اسوۂ محمد رسول اللہ میں اثباتی رنگ میں جمع کرتے ہوئے سب شر و فساد کو دین کے نام پر نئی نئی کی پیدا ہونے والی رسوم میں محدود کر دیا ہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جس وقت بھی علمائے ملتِ اسلامیہ نے حضرتِ خاتم الانبیاء کی ان معین کردہ حدودِ دین کو پوری ذمہ داری سے تسلیم کرتے ہوئے امت عالمگیر کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا، وہ دن وحدتِ ملتِ اسلامیہ سے گزر کر عالمگیر اتحادِ انسانی کا کامیاب آغاز ہو گا۔
جماعتِ اسلامی کا کردار1971ء:
کے پاکستانی الیکشن میں جماعتِ اسلامی کی شکست کے بعد بانئ جماعتِ اسلامی نے اپنی شکست کی یہ توجیہ پیش کی کہ عین الیکشن کے دوران علماء و مشائخ نے جماعت پر یہ اتہام و بہتان باندھا اور اسے عوام کے سامنے پیش کیا کہ دیکھو اگر یہ جماعت کامیاب ہو گئی تو پھر وہ نجد و حجاز کے وہابیوں کی طرح تجھے، عُرس و قوالی ، وشبِ برأت و شبِ معراج کی ساری رسوم کو ختم کر دے گی۔ اونچی قبروں کو اور قُبّوں کو مسمار کر دے گی۔ جماعتِ اسلامی کے بانی کا یہ اعلان تھا کہ یہ سب باتیں جماعت پر ایک بہتان تھا۔ انھوں نے مزید انکشاف یہ بھی کیا کہ ان کی جماعت میں اہلِ بدعت و اہلِ سنت و آثار بھی قسم کے لوگ ہیں اور ان پر یہ شرط لاگو ہے کہ جماعت کے اندر داخل ہونے کے بعد بدعت و سنت قسم کے مسائل میں ایک دوسرے سے کوئی بات نہیں کر سکتے۔ وہ بجائے خود اپنے اپنے مسلک پر عمل کرنے پر آزاد ہوں گے مگر وہ افہام و تفہیم کے ذریعے ایک دوسرے کو ہم خیال کرنے کا حق نہیں رکھتے۔
حقیقت میں یہ پابندی اہلِ سنت و آثار پر تھی کہ دیکھو اب وقت آ گیا ہے کہ سنت و بدعت کے امتیاز کو ایک طرف کرتے ہوئے اقتدارِ حکومت پر قبضہ کیا جائے اس لئے دین کی کُل غرض یہی ہے چونکہ یہ تولیدِ دین کو ریاست کے ہم معنیٰ قرار دے چکا تھا لہٰذا جماعتِ اسلامی کے بانی کا یہ اعلان عین اس کے مطابق تھا۔ ان لوگوں کے دین کو قہارِ ریاست کے ہم معنیٰ قرار دینے میں آپ کذاب کہہ سکتے ہیں اور یہ صحیح بھی ہے اس لئے تمام انبیاء و صدیقین و شہداء و صالحین میں سے کم سے کم سو میں سے نانوے کو ہمہ گیر ریاست تو کیا مطلق ریاست قائم کرنے کا موقعہ بھی نہیں ملا، لہٰذا جامع ریاست کو دین کا ہم معنیٰ بتانا ان تمام انبیاء و صدیقین و شہداء و صالحین کو حقیقی مقصد کے حصول میں ناکام ترین گروہ قرار دینے کے سوائے کوئی چارہ نہیں رہتا لہٰذا جو گروہ دین کی کُل غایت سیاسی اقتدارِ اعلیٰ کا حصول بتاتا ہے اسے کذابوں کا گروہ قرار دینے کے سوائے کوئی چارہ نہیں ہے لیکن اگر آپ انھیں اصل مقصد میں صحیح مان لیں تو پھر وہ اس مقصد کے حصول کے لئے دین کے سارے مسلمہ شعائر کے ساتھ جو سلوک وقتاً فوقتاً ضروری سمجھیں، کر سکتے ہیں۔
ایک مثال:
وہ حقیقت میں موجودہ مادی تہذیب کے سب تغیرات و تضادوں کا مجموعہ ہیں موجودہ مادی تہذیب، جس کا سب سے کامل مظہر موجودہ دور کی ہمہ گیر ریاست ہے اور جسے بانئ جماعتِ اسلامی ”الدین الکامل“ کا مہرِ اتم قرار دے کر ساری کتابِ دین کی تشریح اس مفروضے کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ ماضی کی باطنیت آفریدہ تہذیبوں کا مکمل تاریخی ردّ عمل ہے۔ باطنیہ تہذیبوں کی نمایاں ترین خصوصیت جمود و زمین گیری تھی تو موجودہ مادی تہذیب کی خصوصیت حرکتِ مسلسل اور آسمان پروازی ہے۔
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں اس تہذیب کی کوئی پائیدار اساس نہیں ہے اس کا مذہب تجدّد (MODERNITY) ہے اسے سیاسی زبان میں رنگ بدلی، دل بدلی اور موقع پرستی کہا جاتا ہے اور ہمارے ہاں اس کے ماہرِ خصوصی بانئ جماعتِ اسلامی اور ان کی جماعت ہے اور چونکہ وہ یہ ڈرامہ مذہب کی سرزمین پر اسٹیج کر رہے ہیں اور دین و مذہب کی ساری بنیاد و اخلاقی اور روحانی قدریں ہیں جو پائیدار و ابدی ہیں، لہٰذا پھٹکار، رسوائی، ناکامی ان کا مقدر ہے اور ہو گا۔ اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔
[فَاَقِمۡ وَجۡہَکَ لِلدِّیۡنِ حَنِیۡفًا ؕ فِطۡرَتَ اللّٰہِ الَّتِیۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیۡہَا ؕ لَا تَبۡدِیۡلَ لِخَلۡقِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ ٭ۙ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ]
اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پوری ہستی کو پوری یکسوئی کے ساتھ دین کی طرف متوجہ کر دے یہ وہ فطرتِ انسانی ہے جس پر اللہ پاک نے انسانوں کو پیدا کیا ہے جو نا قابلِ تغییر ہے اور جو تنہا دینِ قیم ہے مگر جسے بہت سے لوگ (سارے منطقی، سارے فلسفی اور سارے وہ آزاد مفکرین اس میں شامل ہیں جن کی گرفت اخلاقی و روحانی غیر متبدل اقدار پر نہیں ہے) نہیں جانتے۔ [سورۃ الروم:30]
فسادِ انسانی کے بانی ائمہ ضلالت ہیں:
بانئ جماعتِ اسلامی نے اپنی کتاب ”تجدید و احیائے دین“ میں ان ملحد مفکرین کا نام لے لے کر جہاں ان کا ذکر کیا ہے وہاں وہ ایک یاس و قنوطیت زدہ انداز میں چِلا اٹھتے ہیں کہ یہی آزاد و مکاتبِ فکر کا بھرنا مغرب کی ساری کامیابیوں کی بنیاد تھی اور افسوس کہ یہی کام مسلمانوں سے نہ ہو سکا۔ انسانی معاشرے کی پائیدار بنیادوں کا انکار کر کے یا انھیں نظر انداز کر کے گزشتہ چند صدیوں میں یورپ میں جو فکری و عملی حرکت پیدا ہوئی ہے موجودہ مغربی تہذیب اسی کا نتیجہ ہے اس کا سر پاؤں سے اور دماغ دل سے ہر وقت ایک تصادم کی حالت میں رہتا ہے یہ بے بنیادی اور یہ تصادم مسلسل اسے کسی وقت بھی پیوندِ زمین کر سکتا ہے۔ جماعتِ اسلامی کے بانی نے اسی بے بنیاد اور ہر وقت ایک مسلسل تغییر میں رہنے والی تہذیب کی دینی تعبیر کی ہے اور سر سے پاؤں تک وہ بدترین نفاق کا مجسمہ بن گئے ہیں۔ بلاشبہ بانئ جماعتِ اسلامی کی تحریرات میں بھی نماز، روزے، زکوٰۃ و حج وغیرہ کا بار بار ذکر آتا ہے مگر ان کے نظامِ فکر میں ان چیزوں کو قراردادِ مقاصد کی فہرست میں نہیں بلکہ ذرائعِ دین کی فہرست میں جگہ دی گئی ہے۔ ان کے ہاں نماز کی صرف یہ حیثیت ہے کہ وہ اس سکونِ یکسوئی کو پیدا کرتی ہے جس سے قیامِ حکومت میں مدد ملتی ہے۔ (اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوئی: ص 36)
اگر ان مرکزی شعائرِ دین کا (جو جماعت کے دین میں صرف ذرائع کی فہرست میں دیئے گئے ہیں) قیامِ حکومت کی کشمکش سے شعوری تعلق نہیں ہے تو عند اللہ ان کا کوئی اجر نہیں ہے۔ (رودادِ جماعتِ اسلامی: حصہ سوم ص 32)
بنیادی کجی:
جماعتِ اسلامی کے بانی کی بنیادی کجیِ فکری و الحادیہ ہے کہ انہوں نے دین کو کُلّی ریاست کا مترادف قرار دیکر باقی سب اصول و مبادیات و شعائرِ دین کی قدر و قیمت اسی دین کی روشنی میں مقرر کی ہے اور تمام حقیقی مقاصد کو ذرائع کا اور ذرائعِ بعیدہ کو مقصد کا درجہ دیکر ساری کتابِ دین کے شیرازے کو ادھیڑ کر اس کے اوراق کو منتشر کر دیا ہے۔
ریاست:
ریاست کو کتابِ دین میں اگر کوئی حیثیت حاصل ہے تو وہ صرف اس قدر ہے کہ وہ دینی معاشرے کے لئے ایک خارجی شہر پناہ یا فصیل ہے۔ تاریخ میں ہزاروں بلکہ لاکھوں انبیاء و صدیقین، شہداء و صالحین ایسے گزرے ہیں جنھیں یہ شہر پناہ بنانے کا موقع ہی نہیں آیا، اس کے باوجود وہ انسانی معاشرے کے لاریب مصلحین قرار پائے ہیں۔ دنیا میں لاکھوں جبارین و قہارین ایسے گزرے ہیں کہ انہوں نے بڑی بڑی قہار و منظم ریاستوں کو قائم کیا ہے مگر انھیں کسی صورت مصلحینِ انسانیت میں شمار کرنے کا کوئی امکان نہیں، لہٰذا اگر ریاست دین کا مرکزی جزو ہوتی تو نعوذ باللہ انبیاء و صدیقین کو تو تاریخ کے ناکام افراد، اور جبارین تاریخ کو کامیاب گروہ قرار دیا جاتا، لہٰذا فی الجملہ قسم کی ریاست کو دین کے ذرائعِ بعیدہ میں شمار کرنے کی تو گنجائش ہے مگر اسے مرکزِ دین یا کُل دین قرار دینا جیسا کہ جماعتِ اسلامی کے بانی نے کیا ہے اور جیسا کہ ان کے اس ذاتی دریافت کردہ دین کو تسلیم کرنے والی جماعت کر رہی ہے قطعاً بے دینی ہے۔ اور اسے طریقِ انبیاء بتانا ایک فریب ہے۔ وہ دین اور حیاتِ طیبہ کے نام پر امت کو اور انسانیت کو ایک ہلاکت انگیز سراب میں لے جا رہے ہیں وہ سہل و سادہ و روشن اور تمام عام و خاص کو سمجھ آ جانے والے دین کو ایک چیستاں خیال بنا کر تاریخِ دین کے ساتھ ایک عظیم خیانت و غداری کر رہے ہیں۔ وہ صحابۂ تابعین و تبع تابعین و تمام مسلماتِ صالحین کو نظر انداز کرتے ہوئے دین کو لفظی کج بحثیوں کے ذریعے پھر سے جہلائے عرب سے مربوط کر رہے ہیں اور دوسری طرف سنت و بدعت کے امتیاز کو ختم کر کے تاریخ کی سب مشرکانہ رسوم و بدعات کو زندہ کر رہے ہیں۔ وہ یہ اعلان کر کے کہ دین ایک ناقابلِ تقسیم کُل ہے جسے یا تو سب کا سب لینا ہو گا یا سب کا سب رَد کرنا ہو گا، مبلغینِ حق کی راہزنی کر رہے ہیں اور [بلغوا عني ولو آية]کی تکذیب کر رہے ہیں۔
اب اس موقعہ پر بانئ جماعتِ اسلامی کے ابتدائی دعوے کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک وقت تھا کہ وہ خود بھی نسلی اور روایتی دین پر عمل پیرا تھے۔ پھر جب ہوش آیا تو انہیں محسوس ہوا کہ یہ تو آبا و اجداد کی رسوم کی نقالی ہے، اس کے بعد انھوں نے بطورِ خود کتاب و سنت پر غور شروع کیا اور دین کی حقیقت کو دریافت کیا۔ اس پر خود ایمان لائے اور پھر دین کے تفصیلی نظام کو سمجھا اور جب وہ اس حیثیت سے بھی مطمئن ہو گئے تو پھر انھوں نے اپنے خود دریافت کردہ دینی نظام کی طرف دوسروں کو بھی دعوت دینے کا آغاز کیا۔
محض جھوٹ اور افتراء:
محض جھوٹ اور افتراء ہے کہ روایتی و نسلی دین میں رسومِ آباء کی بھیڑ چال کے سوائے کچھ نہ تھا۔ ایمان باللہ، ایمان بالآخرت، ایمان بالرسالت، ایمان بالملائکہ و ایمان بالکتب اور نماز، روزہ، زکوٰۃ و حج اور تمام اخلاقی اصول و اقدار اس وقت میں دیسی ہی جانی پہچانی ہوئی حقیقتیں تھیں جس طرح وہ زمانۂ رسالت و زمانۂ صحابہ و تابعین و تبع تابعین میں تھیں اور اس کا ایک ایک حروف محفوظ تھا۔ رہا عملی تسلسلِ دین، تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ وہ تا قیامت صالحینِ امت کے ذریعہ جاری رہے گا۔ اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اور پورے تواتر کے ساتھ وہ محفوظ ہے کہ [لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين على الحق، لا يضرهم من خذلهم] میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر پورے ظہور کے ساتھ ثابت قدم رہے گا، ان سے کنارہ کشی کرنے والا کوئی شخص اور گروہ انھیں ضرر نہیں پہنچا سکے گا۔
اس روایتی حفاظت اور اس عملی تسلسل کے ہوتے ہوئے کسی کا یہ دعویٰ کے روایتی و نسلی دین میں اسے کچھ بھی نہیں ملا۔ کتابِ دین و تسلسلِ دین پر ایک جھوٹی تہمت ہے، جس سے ہزاروں سے گزر کر لاکھوں کے ایمان متزلزل ہو سکتے ہیں۔ جسے دین کی طرف اپنی ہدایت جوئی کے لئے توجہ کرنا ہے۔ اس کے لئے تو یہ دینِ بینات و محکمات کا ایک لاریب مجموعہ ہے۔ اور جس کے سامنے ایمان و عملی استواری ہی نہ ہو بلکہ دین کو ایک منطقیانہ نظام کی صورت میں دیکھنا اور دکھانا ہو وہ بلا شبہ سنتِ انبیاء کا دشمن ہے اگر چہ وہ اتباعِ انبیاء کے سلوگن کو رات دن دہراتا رہے، بلکہ وہ اس طرح سچ مچ اتباع کرنے والوں سے لوگوں کی توجہ ہٹا کر اپنے اوہام و خرافات کو ان سے منوانا چاہتا ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰ کی عدم موجودگی میں سامری نے کیا تھا۔ بانئ جماعتِ اسلامی ایمانِ کامل فی الجملہ اور ایمانِ ضعیف میں، اسلامِ کامل فی الجملہ اسلام اور کم سے کم اسلام کی حدود کو مسمار کرتا ہوا دین، ایک منطقیانہ کلیت کی حیثیت سے پیش کرتا ہے اور جو لوگ اسے اس باطل معیار پر صحیح اترتے دکھائی نہیں دیتے، انھیں بدترین منافق کا لقب دیتا ہے اور انہیں اپنے تخیلات سے ہم آہنگ ہونے کی دعوت دیتا ہے اور بصورتِ عدمِ انہیں مغضوبِ یہود کا مقام دے کر دائرۂ دین و امت سے یکسر باہر کر دیتا ہے۔ تا کہ وہ خدا کی حجت کی حیثیت سے بنی نوعِ انسانی کے سامنے شہداء علی الناس رہیں۔
[بَلٰی مَنۡ کَسَبَ سَیِّئَۃً وَّ اَحَاطَتۡ بِہٖ خَطِیۡٓــَٔتُہٗ فَاُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ]
بلا شک جس نے بدی کا کاروبار کیا یہاں تک کہ بدی نے اس کا احاطہ کر لیا، یہ لوگ اصحابِ النار ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ [سورۃ البقرۃ:81]
یہ لوگ ریاست کی قاہریت کے خیمے کے اندر بیٹھ کر بالکل اس اجتماعی منافقت کا کاروبار کرتے ہیں جسے میکیاولی ازم کے سوائے اور کوئی لفظ پوری طرح ظاہر نہیں کر سکتا۔ اس قاہریت اور اجتماعی منافقت میں مقامِ فنا حاصل کر لینے کے بعد یہ گروہ رحمتِ خداوندی سے اتنا ہی دور ہو گیا جس حد تک بنی نوعِ انسان کو پہنچانے کا ابلیسِ لعین نے خدا کے سامنے دعویٰ کیا تھا اور جس کے جواب میں اللہ پاک نے اسے جواب دیا تھا کہ ”میرے بندوں پر تجھے کوئی غلبہ حاصل نہ ہو گا۔“
بانئ جماعتِ اسلامی نے ”اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے“ کے عنوان پر 1941ء میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ایک لیکچر دیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مسلم لیگ نے کانگریس کے قومیتِ متحدہ کے اصول کو رَد کرتے ہوئے تمام مسلمانانِ ہند خاص کر ان کے تعلیم یافتہ گروہ کو اپنے جھنڈے تلے جمع کر لیا تھا۔ اس سال مسلم لیگ نے قیامِ پاکستان کو مسلمانانِ ہند کا واحد نصب العین قرار دیا اور بانئ جماعتِ اسلامی مسلمانوں کی اس اجتماعیت سے پریشان تھے۔ وہ نہ معلوم کب سے اسلام کے نام پر مسلمانوں میں اپنے افکارِ باطلہ کو رواج دینے کی آس لگائے بیٹھے تھے اور جب انہوں نے یہ دیکھا کہ اسلام کے نام پر مسلمانوں کی ایک مضبوط تنظیم بن گئی ہے تو وہ اسے ختم کرنے پر تیار ہو گئے۔ ان کا کھلا اعلان تھا کہ اگر ایسا کوئی ملک بن گیا تو وہ اسلام کے لئے کفار کی حکومت سے زیادہ مضر ہو گا۔ [اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے: ص 25-26]
اس لیکچر میں انھوں نے اعلان کر دیا کہ اسلامی حکومت صرف طریقِ انبیاء پر قائم ہوتی ہے اور ساتھ ہی حضرت خاتم الانبیاء کی مکی زندگی کا خلاصہ دیتے ہوئے مدنی زندگی کو بطورِ منطقی نتیجے کے پیش کر دیا اور کہا کہ یہ ہے حکومتِ اسلامی کے قیام کی واحد راہ۔
نِرالی منطق:
اس نے اس بات کی طرف اشارہ تک نہیں کیا کہ ایک نبی ایک فلاسفر کی طرح کوئی طے شدہ منصوبہ نہیں رکھتا بلکہ اللہ پاک بلا اس کی تمنا اور کوشش کے، اسے بطورِ خود دنیا کے سامنے اپنا پیغام پہنچانے کے لئے منتخب کرتا ہے اور اس کے مخاطبین کو حکم ہوتا ہے کہ وہ اس کی شخصی سماعت و اطاعت کریں۔ اس شخصی سماعت و اطاعت سے ایک امت وجود میں آتی ہے۔ لیکن امتوں کے دوسرے درجے کے مصلحین و مجددین کے لئے تاسیسِ امت کا یہ حصہ ہرگز جائز نہیں۔ وہ اپنی سماعت و اطاعت کی دعوت دینے کے ہرگز مجاز نہیں ہوتے۔ وہ امت سازی کرنے کے ہرگز مجاز نہیں ہوتے۔ وہ زیادہ سے زیادہ تجدید و امامت کرنے کے مجاز ہیں۔
امتِ اسلامی کے مجدّدِ اوّل حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے یہی کیا کہ صالحینِ امت کے مشورے سے معاشرۂ اسلامی کو پھر وہ صورت دینے کی کامیاب کوشش کی جو صورت خلافتِ راشدہ کے زمانے سے حاصل تھی۔ اس میں وہ جس قدر کامیاب ہوئے اس کی مثال مشکل ہی سے تاریخ میں ملے گی۔
لیکن بانئ جماعتِ اسلامی نے اسی لیکچر میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کو ایک ”خطاکار“ فرد قرار دیکر انہیں ایک ناکام انسان بتایا۔ ”خطاکار“ کا لفظ استعمال کرنے سے اس نے اجتناب کیا۔ صرف انہیں ایک ”ناکام انسان“ بتایا، حالانکہ بحیثیتِ ایک حکمران کے اڑھائی برس کے عرصے میں انھوں نے جو کامیابی حاصل کی اس کی کوئی مثال تاریخ کے اوراق میں موجود نہیں ہے لہٰذا انہیں ناکام کہنا تو محض ایک غلط بیانی ہے لیکن بانئ جماعتِ اسلامی یہ کہنا چاہتے تھے کہ عمر بن عبدالعزیز ”غلط کار“ آدمی تھے اس لئے کہ انھوں نے تاسیسِ امت کے حصے میں حضرت خاتم الانبیاء کی مکی زندگی کا اتباع نہیں کیا۔
یہ صاحبِ افراط و تفریط و تحاسد میں تاریخ کی مسلمہ صداقتوں کا انکار کر رہے تھے اور اس طرح وہ غیر نبی افراد کے لئے شخصی سماعت و اطاعت کو اختیار کرتے ہوئے تفرّقۂ امت و دین کی راہ کھول رہے تھے، اس لئے کہ آگے چل کر وہ خود اپنے شخصی مزعومات کو لوگوں کے سامنے ”الدین الکامل“ کا نام دیکر دنیا کو اس کی سماعت و اطاعت کی دعوت دینے والے تھے اور اپنی زندگی بھر کے بطلانوں کے لئے ایک بنائے باطل تیار کر رہے تھے۔
چونکہ 1941ء (جب کہ انھوں نے یہ لیکچر دیا تھا) سے 45ء کے عرصے میں پاکستان محض نصب العین کے درجے سے گزر کر ایک مادی حقیقت بننے کے قریب ہو چکا تھا لہٰذا ان حضرت نے اپنی جماعت کا ہندوستان میں آخری اجلاس کیا۔ یہ اجلاس تین دن تک جاری رہا۔ اس کی ساری غرض یہ تھی کہ اپنے سابقہ تاسیسی موقف کو جماعت کے ذہنوں سے دھو کر انہیں کوئی نیا اور ممکن الحصول نصب العین دیں۔
تین دن کی دماغ سوئی کے آخر پر انھوں نے ”تحریکِ اسلامی کی اخلاقی بنیادیں“ کے عنوان سے ایک مفصل لیکچر دیا۔
نام سے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ سچ مچ دینی اخلاقیات کی بنیادوں کا کوئی واضح خاکہ جماعت کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں تاکہ جماعت بے بنیاد ہو کر کہیں کی کہیں نہ نکل جائے مگر حقیقت میں وہ دینی کتاب الاخلاق کو ایک طرف پھینک کر میکیاولی کی اجتماعی منافقت کا راستہ کھول رہے تھے، وہ آنے والے حالات میں دینی اخلاقیات کی پابندی کرتے ہوئے اپنے کسی منصوبے کو پورا کرنا تو درکنار زندہ بھی نہ رکھ سکتے ہیں لہٰذا وہ اسی گمراہ کن عنوان کے ماتحت دینی اخلاق کو میکیاولی ازم سے بدلنے کی راہ صاف کر رہے تھے۔ لہٰذا انہوں نے تین دن کی دماغ شوئی کے بعد آخری اجلاس میں یہ اعلان کر دیا کہ ان کا اور ان کی جماعت کا ابتدا سے ایک ہی مقصد رہا ہے، اور وہ ہے امت میں قیادتِ صالحہ کا قیام، بتاسیسِ امت و مکی زندگی کے طریقِ انبیاء کے سابقہ سب دعوویٰ کی اس لیکچر میں بھنک تک محسوس نہیں ہوتی۔ نا حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی قیادتِ صالحہ کے ماڈل کو اختیار کرنے کا اس میں پوری طرح پتہ چلتا ہے، بلکہ بلا اعترافِ گناہ سابقہ وہ اس موقف کو اختیار کر رہے تھے، ان کی یہ اخلاقیت میکیاولی ازم کا کھلا جلا آغاز تھا اور دینی اخلاقیات سے گریز کر کے مصلحت پرستی کی طرف قدمِ اول تھا۔
ان کے دین کی کُل حقیقت:
ان کے دین کا اوپر کا ڈھانچہ اگر جبار و قہار کُلّی ریاست ہے جسے وہ دین کا مترادف قرار دے چکے ہیں تو ان کے دین کی روح (جسے نعوذ باللہ وہ اسلام کی روح قرار دیتے ہیں) خدائے واحد القہار کی حاکمیت ہے، (تجدید و احیائے دین: ص 30) و ہ غضبِ قہرِ خداوندی کے ان دو کھمبوں کے درمیان بندھی ہوئی رسی پر کب تک ناچ کر سکتے ہیں۔
الامام المہدی:
اس آخری مجدّدِ امت کی جو تصویر بانئ جماعتِ اسلامی نے کھینچی ہے۔
(تجدید و احیائے دین: ص 54-55-56) وہ یہ ہے کہ وہ اپنے زمانے کے سب علوم و فنون اور سائنس پر مجتہدانہ دسترس رکھتا ہو گا اور وہ نہایت درجہ جدید الوضع انسان ہو گا یہاں تک کہ اس کا صاف امکان ہے کہ اس کے وقت کے تمام علماء و صوفیاء اس کے مخالف ہو جائیں، وہ اپنی تنظیمی مہارت اور سب اسبابِ ظاہری کو ہمہ جہتی طور پر استعمال کرتا ہوا فاتحِ عالم ہو گا، کشف و کرامات اور کھلی ہوئی آسمانی برہان و تائیدات کا اس کے معاملے میں کوئی اثر نہ ہو گا۔
اب اس مقام پر آپ خاتم الانبیاء اور ان کے رفقاء کا حلیہ بھی سامنے رکھ کر دیکھئے، قرآن مجید میں اس حلیے کو دو لفظوں میں بیان کیا گیا ہے۔ ”نبی امی“ اور ”امۃ امتیون“۔ گویا بانئ جماعتِ اسلامی کے تخیل کا گھڑا ہوا یہ امام حضرتِ خاتم الانبیاء اور ان کی امت کی پوری پوری ضد ہو گا اور اس کا سارا تمسک اسباب کی تنظیم سے ہو گا نہ کہ دعا و مناجات و قنوتِ نازلہ پر۔
اس کی نمایاں ترین خصوصیت یہ ہو گی کہ وہ ایک نئے مکتبِ فکر کا بانی ہو گا گیا قرآن و اسوۂ خاتم الانبیاء و اسوۂ صحابۂ نبوی کوئی قابلِ ذکر مکتبِ فکر نہیں ہے کہ جماعتِ اسلامی اس سے تمسک اور اس پر عمل پیرا ہونے کو فلاحِ انسانی کے لئے کافی جانیں۔ اس شخص کو دین، نام کی کسی چیز پر کوئی یقین نہیں ہے، وہ یورپ کے جدید ملاحدہ کی طرح تازہ بہ تازہ اور نو بہ نو نظاماتِ فکر گڑھنے اور ان کے نو بہ نو تجربے کرنے کا قائل ہے، یہی اس کے دینِ کامل کا تصور ہے وہ:
[وَ مَثَلُ کَلِمَۃٍ خَبِیۡثَۃٍ کَشَجَرَۃٍ خَبِیۡثَۃِۣ اجۡتُثَّتۡ مِنۡ فَوۡقِ الۡاَرۡضِ مَا لَہَا مِنۡ قَرَارٍ]
دینِ خبیث کی مثال ایک ایسے خبیث درخت کی سی ہے جو زمین کے اوپر اوپر دکھائی دیتا ہے جسے کوئی پائیداری نہیں حاصل ہے۔ [سورۃ ابراہیم:26]
کا مصداق ہے۔ شیطانی وساوس کی جتنی ممکنہ شکلیں ہیں وہ ابوزید سروجی کی طرح ان سب کی کامیاب ایکٹنگ کرتا ہے اور ہر موقعہ پر عوام سے داد لیتا ہوا اگلے اسٹیج کی طرف روانہ ہو جاتا ہے۔
اسلام بحیثیت ایک نظامِ فکر و عمل:
جو لوگ مذہبی طریقِ ایمان و صالح کے بجائے دین کو ایک فکری نظام کی حیثیت سے سمجھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ ان شاء اللہ اس مختصر بیان میں انہیں مطمئن کرنے اور حدودِ الہی میں اپنے آپ کو رضا کارانہ طور پر محبوس رکھنے کا کافی سامان موجود ہے اور جن لوگوں کی غرض ذہنی عیاشی و راز جوئی ہے ان کے لئے قرآن مجید کا اعلان ہے کہ:
[وَ مَا تُغۡنِی الۡاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنۡ قَوۡمٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ]
جس قوم کے پاس ایمان کی دولت نہیں ہے انھیں آیاتِ ارض و سماوی اور انبیاء کا انذار و تنبیہ کوئی نفع نہیں دیتا۔ [سورۃ یونس:101]
جنھیں دولتِ ایمان حاصل ہے نا قابلِ ادراک وسعتوں پر پھیلی ہوئی یہ کائنات انہیں رحمت و عدلِ خداوندی کا ایک کارخانۂ حکمت و تدبیر محسوس ہوتا ہے اور جو لوگ دولتِ ایمان سے محروم ہیں انھیں یہی کائنات مرگ و یاس کا ایک جلتا ہوا صحرا محسوس ہوتا ہے وہ اس کی ہم آہنگی کے بجائے اس میں ایک ابدی جنگِ اضداد کا سلسلہ محسوس کرتے ہیں۔
موجودہ لادینی مغربی فکر نے مذہبی روایت سے آزاد ہو کر جو تہذیب تعمیر کی ہے وہ کائنات کے اسی جنگِ اضداد کے تصور پر تعمیر ہوئی ہے۔ اس میں امن و سلامتی تعاون و باہمی خیر اندیشی کا نام و نشان نہیں ملتا۔ اس لادینی فکر اور اس لادینی تہذیب کا جو اثر مسلم معاشرے پر پڑا ہے اس کا ایک واضح نمونہ مودودی کا نظریہ ہے وہ سیاسی اقتدار پر قابض ہونے یا یاس میں حصہ رسدی کرنے کے لئے تمام اخلاقی معیارات کو توڑ پھوڑ کر کچھ کا کچھ کرنے کو نہ صرف جائز بلکہ وقت پڑنے پر ضروری جانتے ہیں اور ظاہر و باطن کو ایک رکھنے والے جس خشک ملا کو دل بدلی، رنگ بدلی اور موقع پرستی کا فن نہ آتا ہو اس کی گنجائش اس تحریک میں مطلق نہیں ہے۔
تلخیص:
اس گروہ کے دین کا خلاصہ یہ ہے کہ ان کے خدا کا بنیادی تعارف حاکمیتِ واحد القہار ہے، ان کے دین کا مرکزی مفہوم یہ ہے کہ وہ حکومتِ قاہرہ ہے۔ اس حکومت کی نس نس میں جو روحِ خونِ حیات بن کر جاری و ساری رہتی ہے وہ خدائے واحد القہار کی حاکمیت کی روح ہے اور اس کا مظہرِ کامل ریاستِ قاہرہ ہے۔ کائنات اور اس کے خالق کے اس تصور کو تسلیم کر لینے کے بعد کتابِ دین کے تمام وہ اصول و محکمات کہ جو کتابِ دین میں قراردادِ مقاصد میں، مرکزی و کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، مثلاً نماز، روزہ، زکوٰۃ و حج اور تمام غیر متبدل اخلاقی و روحانی قدریں، قراردادِ مقاصد سے خارج ہو کر ذرائع کی فہرست میں آ جاتے ہیں۔ ذرائع کار کا درجہ بھی انھیں محض رکھ رکھاؤ کی حیثیت میں دیا گیا ہے۔ یہ مذہبی دنیا کی اشک شوئی کا معاملہ ہے، ورنہ ان لوگوں کے دین (قاہرانہ ریاست) میں ان کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس لئے کہ قاہرانہ ریاست کی اقامت کا ذریعہ محض تنظیم و انقلاب ہے۔ وہاں نماز، روزے، زکوٰۃ و حج جیسی ملکوتی الاصل چیزوں کو گھسیٹنا محض نمو و نمائش و نفاق ہے، اس کے لٹریچر میں آپ کو تحریک، نظام، انقلاب، کے الفاظ کی بے حد تکرار ملے گی، لیکن سارے دینی ذرائع مثلاً انذار و تبشیر، ترہیب و ترغیب، تبلیغ و تذکیر، نصیحت و صدق و اخلاص کا شاذ و نادر پتہ چلے گا۔ حالانکہ انسان کی اخلاقی فطرت کو بیدار کرنے، اس کی تربیت کرنے اور اسے کمالِ مقدّر تک پہنچانے کے ذرائع صرف یہی ہیں۔ جبر و قہر و اکراہ سے اس اخلاقی فطرت کو دبایا تو جا سکتا ہے، اسے پروان نہیں۔