حدیثِ نبوی کی شرعی حیثیت قرآن و سنت اور اقوالِ سلف کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلۃ الشیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری کی کتاب "حجیت حدیث” سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

کتابت حدیث

عہد نبوی میں حدیث لکھی جاتی تھی، ممانعت کا ثبوت نہیں۔

[1] سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

کہ نبی کریم ﷺ نے مرض الموت میں فرمایا: ائتوني بكتاب أكتب لكم كتابا لا تضلوا بعده. ’’میرے پاس لکھنے کے لیے کچھ لائیں، تاکہ میں تحریر کر دوں کہ جس کے بعد آپ نہیں بھولیں گے۔‘‘ (صحیح البخاری: 114، صحیح مسلم: 1637)

[2] سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

کہ یمنی صحابی ابوشاہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ حجۃ الوداع لکھنے کی فرمائش کی، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اكتبوا لأبي شاه. ’’ابوشاہ کو (حدیث) لکھ دو۔‘‘ (صحیح البخاری: 2434، صحیح مسلم: 1355)

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) لکھتے ہیں:

[في الصحيحين وغيرهما، مما ثبت تواتره بالوقائع المتعددة، أنه بعث كتبه صلى الله عليه وسلم يدعو إلى الله ملوك الآفاق، وطوائف بني آدم من عربهم وعجمهم، كتابيهم وأميهم، امتثالا لأمر الله له بذلك]
’’بخاری و مسلم اور دیگر کتب میں تواتر کے ساتھ متعدد واقعات ثابت ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے خطوط کے ذریعے بادشاہوں، عرب وعجم کے پڑھے لکھے اور ان پڑھ لوگوں کو ’دعوت الی اللہ‘ دی ہے۔‘‘ (تفسير ابن كثير: 26/2، سلامة)

[3] سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

ما من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أحد أكثر حديثا عنه مني، إلا ما كان من عبد الله بن عمرو، فإنه كان يكتب ولا أكتب.
’’مجھ سے زیادہ حدیثیں کسی اور صحابیِ رسول کے پاس نہ تھیں، سوائے سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس کہ وہ احادیث لکھا کرتے تھے، میں لکھتا نہیں تھا۔‘‘ (صحیح البخاری: 113)

[4] سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

کہ میں رسول اللہ ﷺ سے جو بات سنتا تھا، وہ حفظ وضبط کے ارادے سے لکھ لیتا تھا، مجھے اس بات سے ہر قریشی (صحابی) نے منع کیا، انہوں نے کہا کہ آپ نبی اکرم ﷺ کی ہر بات لکھ لیتے ہیں، حالانکہ آپ ﷺ بشر ہیں، غضب و غصہ اور خوشگواری دونوں حالتوں میں بات کرتے ہیں۔ میں حدیث لکھنے سے رک گیا اور اس بات کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا، تو آپ ﷺ نے اپنی انگلی مبارک سے اپنے منہ مبارک کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: اكتب فوالذي نفسي بيده ما يخرج منه إلا حق.
’’آپ حدیث لکھا کریں، مجھے اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس منہ سے صرف حق ہی نکلتا ہے۔‘‘
(مسند الإمام أحمد: 162/2، سنن أبي داود: 3646، سنن الدارمي: 490، المستدرك للحاكم: 105/1-106، وسنده صحيح، وأخرجه أحمد: 207/2، والبزار: 2470، وأبو زرعة الدمشقي في تاريخه: 1516، وأبو القاسم البغوي في الصحابة: 1472، وابن عبد البر في جامع بيان العلم وفضله: 84/1-85، وسنده حسن، والخطيب في التقييد: 80، وسنده حسن)

[5] سیدنا سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

إن عيينة، والأقرع سألا رسول الله صلى الله عليه وسلم شيئا، فأمر معاوية أن يكتب به لهما، ففعل وختمها رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأمر بدفعه إليهما، فأما عيينة فقال: ما فيه؟ قال: فيه الذي أمرت به، فقبله، وعقده في عمامته.
’’عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ مانگا۔ آپ ﷺ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھنے کا حکم دیا کہ ان کا مطالبہ پورا کیا جائے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لکھ دیا، رسول اللہ ﷺ نے اس تحریر پر مہر لگا دی اور فرمایا: انہیں دے دیں۔ عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ نے پوچھا (معاویہ!) خط میں کیا لکھا ہے؟ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہی، جو مجھے حکم ہوا تھا۔ عیینہ رضی اللہ عنہ نے خط چوما اور پگڑی میں باندھ لیا۔‘‘
(مسند الإمام أحمد: 180/4، سنن أبي داود: 1229، وسنده صحيح)
❀ اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2391) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3394) نے ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔

❀ رہا سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لا تكتبوا عني، ومن كتب عني غير القرآن فليمحه، وحدثوا عني، ولا حرج. ’’میری بات نہ لکھو، جس نے قرآن کے علاوہ کوئی بات بھی مجھ سے سن کر لکھی ہو، وہ اسے ختم کر دے، ہاں مجھ سے حدیث بیان کر لیں، کوئی حرج نہیں۔‘‘ (صحیح مسلم: 3004)
❀ تو اس حدیث کے متعلق اہل علم کی مختلف آراء ہیں، بعض نے اسے منسوخ کہا ہے، بعض کا کہنا ہے کہ قرآن اور احادیث کو ایک ساتھ یا ایک جگہ اکٹھا لکھے جانے سے خلط ملط ہونے کا خدشہ تھا، تو اس احتیاط کے پیش نظر قرآن وحدیث کو اکٹھا لکھنے سے منع کر دیا گیا۔

اس کے بارے میں اہل علم کی تصریحات ملاحظہ ہوں:

[1] علامہ خطابی رحمہ اللہ (388ھ) لکھتے ہیں:

يشبه أن يكون النهي متقدما وآخر الأمرين الإباحة، وقد قيل: إنه إنما نهي أن يكتب الحديث مع القرآن في صحيفة واحدة لئلا يختلط به ويشتبه على القارئ، فأما أن يكون نفس الكتاب محظورا وتقييد العلم بالخط منهيا عنه فلا.
’’ممکن ہے کہ کتابتِ حدیث پہلے منع ہو، بعد میں اجازت مل گئی ہو، ایک قول یہ بھی ہے کہ دراصل ممانعت اس صورت میں تھی کہ حدیث کو قرآن کے ساتھ ایک ہی صحیفے میں لکھا جائے، تاکہ دونوں آپس میں مل نہ جائیں اور قاری پر اشتباہ ہو جائے، ورنہ لکھنا یا علم کو تحریری طور پر محفوظ کرنا حرام ہے، نہ ممنوع۔‘‘ (معالم السنن: 184/4)

[2] علامہ قاضی عیاض رحمہ اللہ (544ھ) کتابتِ علم میں اختلاف ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

وقع عليه بعد هذا الاتفاق والإجماع من جميع مشايخ العلم وأئمته وناقليه. ’’بعد میں کتابتِ حدیث پر تمام مشائخ اور ائمہ ومحدثین کا اجماع واتفاق ہو گیا۔‘‘
(الإلماع في معرفة أصول الرواية وتقييد السماع، ص 147)

[3] حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) لکھتے ہیں:

فيه جواز كتابة الحديث وغيره من العلوم الشرعية لقول أنس لابنه اكتبه، بل هي مستحبة وجاء في الحديث النهي عن كتب الحديث وجاء الإذن فيه، فقيل: كان النهي لمن خيف اتكاله على الكتاب وتفريطه في الحفظ مع تمكنه منه والإذن لمن لا يتمكن من الحفظ، وقيل: كان النهي أولا لما خيف اختلاطه بالقرآن والإذن بعده لما أمن من ذلك وكان بين السلف من الصحابة والتابعين خلاف في جواز كتابة الحديث ثم أجمعت الأمة على جوازها واستحبابها والله أعلم.
’’اس روایت میں حدیث اور دیگر شرعی علوم کی کتابت کا جواز ہے، کیونکہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے فرمایا: اسے لکھ لیجئے- کتابتِ حدیث مستحب ہے، حدیث میں کتابتِ حدیث کی ممانعت بھی آئی ہے اور اباحت بھی۔ بعض کا کہنا ہے کہ کتابتِ حدیث کی ممانعت اس شخص کے لیے تھی، جو حدیث کو لکھنے پر ہی اکتفا کرتا ہے، لیکن استطاعت کے باوجود حفظِ حدیث میں سستی دکھاتا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ابتدا میں کتابتِ حدیث کی ممانعت اس لیے تھی کہ کہیں وہ قرآن سے مل کر خلط ملط نہ ہو جائے، بعد میں جب یہ خدشہ جاتا رہا، تو حدیث لکھنا جائز ہو گیا۔ کتابتِ حدیث کے متعلق صحابہ کرام اور تابعینِ عظام میں اختلاف رہا ہے، لیکن بعد میں اس کے جواز اور استحباب پر امت کا اجماع ہو گیا، واللہ اعلم!‘‘ (شرح صحیح مسلم: 244/1-245)

[4] حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748ھ) لکھتے ہیں:

الظاهر أن النهي كان أولا لتتوفر هممهم على القرآن وحده، وليمتاز القرآن بالكتابة عما سواه من السنن النبوية، فيؤمن اللبس، فلما زال المحذور واللبس، ووضح أن القرآن لا يشتبه بكلام الناس، أذن في كتابة العلم، والله أعلم.
’’درست یہی معلوم ہوتا ہے کہ کتابتِ حدیث کی یہ ممانعت ابتدا میں تھی، تاکہ صحابہ کی تمام تر کوششیں صرف قرآن سیکھنے پر ہوں اور اس لیے بھی کہ لکھنے میں قرآن دیگر سننِ نبویہ سے ممتاز رہے اور التباس سے بچا جا سکے۔ لہٰذا جب یہ اندیشہ ختم ہو گیا اور یہ ظاہر ہو گیا کہ لوگوں کی گفتگو سے قرآن مشتبہ نہیں ہوتا، تو کتابِ علم کی اجازت دے دی گئی، واللہ اعلم!‘‘ (سير أعلام النبلاء: 81/3)

[5] حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) لکھتے ہیں:

أدوا القرآن قرآنا، والسنة سنة، لم يلبسوا هذا بهذا؛ ولهذا قال عليه الصلاة والسلام: من كتب عني سوى القرآن فليمحه، أي: لئلا يختلط بالقرآن، وليس معناه ألا يحفظوا السنة ويرووها، والله أعلم.
’’صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قرآن کو قرآن کی صورت میں اور سنت کو سنت کی صورت میں پیش کیا، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ جس نے قرآن کے علاوہ مجھ سے سن کر کچھ بھی لکھا ہو، وہ اسے مٹا دے۔ اس ممانعت کا مقصد صرف یہ تھا کہ قرآن (حدیث کے ساتھ) خلط ملط نہ ہو جائے، ممانعت اس لیے ہرگز نہ تھی کہ سنت کو نہ محفوظ کرو اور نہ آگے بیان کرو، واللہ اعلم!‘‘ (تفسير ابن كثير: 27/1، ط سلامة)

[6] حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (804ھ) لکھتے ہیں:

لعل الإذن لمن خيف نسيانه، والنهي لمن أمن وخيف اتكاله، أو نهي حين خيف اختلاطه بالقرآن، وأذن حين أمن، ثم إنه زال ذلك الخلاف وأجمعوا على الجواز، ولولا تدوينه لدرس في الأعصار الأخيرة.
’’ممکن ہے کہ کتابتِ حدیث کی اجازت اس کو ہے کہ جسے بھول جانے کا اندیشہ ہو اور ممانعت اس کے لیے ہو کہ جس کے متعلق بھولنے کا کوئی اندیشہ نہ ہو، لیکن (سستی کرتے ہوئے) لکھنے پر ہی اکتفا کرنے لگے۔ یا ممانعت اس وقت ہوئی جب حدیث کا قرآن سے خلط ملط ہونے کا اندیشہ تھا اور جب یہ خدشہ ختم ہو گیا تو اجازت دے دی گئی۔ بعد میں یہ اختلاف بھی ختم ہو گیا اور اہل علم نے کتابتِ حدیث پر اجماع کر لیا۔ اگر حدیث کی تدوین نہ ہوتی، تو بعد کے زمانوں میں حدیث مٹ جاتی۔‘‘ (التوضيح لشرح الجامع الصحيح: 560/3)

[7] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852 ھ) لکھتے ہیں:

الإجماع انعقد على جواز كتابة العلم بل على استحبابه بل لا يبعد وجوبه على من خشي النسيان ممن يتعين عليه تبليغ العلم.
’’اجماع منعقد ہو چکا ہے کہ کتابت علم جائز ہے، بلکہ مستحب ہے، یہ بعید نہیں کہ علم کے مبلغین میں سے جسے بھولنے کا خدشہ ہو، اس پر تو کتابت واجب ہو۔‘‘ (هدى الساري، ص 204)

[8] علامہ صنعانی رحمہ اللہ (1182ھ) لکھتے ہیں:

أما حديث: لا تكتبوا عني شيئا غير القرآن، عند مسلم، فقد أجيب عن التعارض بأن النهي خاص بوقت نزول القرآن خوف لبسه بغيره أو بكتابة غير القرآن معه في شيء واحد فالنهي متقدم والإذن ناسخ عند أمن اللبس.
’’صحیح مسلم کی حدیث: ’’قرآن کے علاوہ مجھ سے سن کر کچھ نہ لکھو۔‘‘ کا مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ کتابتِ حدیث کی ممانعت نزولِ قرآن کے وقت کے ساتھ خاص ہے، کیونکہ اس وقت قرآن کو کسی اور کلام سے یا غیر قرآن کو قرآن کے ساتھ ایک ہی جگہ لکھنے سے التباس کا اندیشہ تھا۔ لہذا کتابتِ حدیث کی ممانعت پہلے کی گئی تھی اور بعد میں جب التباس کا اندیشہ نہ رہا، تو ممانعت منسوخ ہو گئی اور کتابت کی اجازت مل گئی۔‘‘
(التنوير شرح الجامع الصغير: 98/8)
❀ حدیث کی کتابت عہدِ نبوی میں بھی موجود تھی اور بعد میں بھی۔ لیکن تدوین اس طرح نہ ہوئی، جس طرح بعد میں ہوئی، کیونکہ تدوین اور کتابت میں فرق ہے، کسی تحریر کی وسیع پیمانے پر اشاعت تدوین کہلاتی ہے، جبکہ کتابت محض قلم بند کرنے کو کہتے ہیں۔ جیسے قرآنِ کریم کی پہلے کتابت ہوئی، بعد میں تدوین ہوئی، ایسے ہی حدیث کی بھی پہلے کتابت ہوئی اور بعد میں تدوین۔
دوسرا یہ کہ قرآن وحدیث دونوں وحی ہیں، اللہ تعالیٰ کی حفاظت کے ساتھ محفوظ ہیں۔ تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچے ہیں۔ جس طریقے سے قرآن کی حفاظت کی گئی، اسی طریقے سے حدیث کی بھی حفاظت کی گئی۔ قرآن کی کتابت ہوئی اور مومنین کے سینوں میں بھی محفوظ رہا، اسی طرح حدیث بھی لکھی گئی اور مومنین کے سینوں میں محفوظ بھی رہی۔ قرآن کی طرح حدیث کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی انتہائی اہتمام کیا گیا۔ تین علوم کے ذریعے حدیث کی حفاظت کی گئی؛ [1] علل [2] رجال [3] اصول۔
اس بنا پہ اعتراض وارد کرنا کہ حدیث بعد میں لکھی گئی، قطعاً درست نہیں۔ اولا قرآن کریم نے ایسا کوئی ضابطہ مقرر نہیں کیا کہ جو چیز لکھی ہوئی نہ ہو وہ محفوظ و معتبر نہیں ہوتی۔ لکھنا اصل نہیں، اصل پڑھنا اور حفظ کرنا ہے، نبی کریم ﷺ اور دیگر انبیاء کرام علیہ السلام امی تھے، لکھ نہیں سکتے تھے، تو کیا وہ عالم نہیں تھے؟ ثانیا اگر اس بنا پہ حدیث کو جھٹلا دیا جائے تو کئی انبیا کی تکذیب لازم آتی ہے، جن کو صرف حدیث دی گئی اور وہ بھی لکھی ہوئی نہیں تھی، ان پر کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں کیا گیا۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

[اِنَّاۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ کَمَاۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی نُوۡحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ] ’’ہم نے آپ کی طرف وحی کی، جیسے ہم نے نوح اور ان کے بعد والے نبیوں کی طرف وحی کی تھی۔‘‘ (النساء: 163)
❀ اب سوال یہ ہے کہ نوح علیہ السلام اور بعد والے نبیوں پر کونسی لکھی ہوئی وحی نازل ہوئی؟ ان کی طرف حدیث ہی وحی کی گئی، جو مکتوب نہ تھی۔ جسے لوگوں نے نہیں مانا تو غرق ہو گئے۔ اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کی حدیث نہ ماننے کی وجہ سے فرعون اور اس کا لشکر غرق ہو گیا، تورات کا نزول بعد میں ہوا۔

کفار نے نبی کریم ﷺ کو چودہ مطالبات پیش کیے، ان میں سے ایک یہ تھا:

[ اَوۡ تَرۡقٰی فِی السَّمَآءِ ؕ وَ لَنۡ نُّؤۡمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیۡنَا کِتٰبًا نَّقۡرَؤُہٗ ؕ] ’’یا آپ آسمان پر چڑھ جائیں، آپ کے آسمان پر چڑھ جانے کے سبب ہم ہرگز ہرگز ایمان نہیں لائیں گے، تا آنکہ آپ ہمارے پاس آسمان سے ایک کتاب لے آئیں، جس کی ہم ورق گردانی کریں۔‘‘ (بني إسرائيل: 93)

❀ ستم ظریفی دیکھیں کہ کفار کس قدر ہٹ دھرمی پر تل گئے کہ پیغمبر اسلام نبی ﷺ سے یہ مطالبہ کر بیٹھے کہ آسمان پر چڑھ جائیں۔ ہمارے لیے آپ کا آسمان پر چڑھ جانا بھی باعثِ ایمان نہیں، بلکہ آپ آسمان سے نیچے اتریں، تو آپ کے ہاتھ میں کتاب ہو۔ ہم اس کتاب کو پڑھیں، ہو سکتا ہے کہ آپ پر ایمان لے آئیں۔
اگر یہ مطالبہ پورا ہو جاتا، تو بہت بڑا معجزہ ظاہر ہو جاتا اور بہت سارے لوگوں کو ایمان نصیب ہو جاتا، مگر اللہ تعالیٰ نے کفار کا یہ مطالبہ پورا نہیں کیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا جس طرح کفار نے کتابی شکل میں قرآن کا مطالبہ کیا، اسی طرح حدیث کے حوالہ سے یہ اعتراض ہونے والا ہے کہ حدیث عہد نبوی میں لکھی ہوئی نہیں تھی، بعد میں لکھی گئی۔
قرآن کو کتابی شکل میں کیوں نہ نازل کیا گیا؟ اس اعتراض کا جو جواب ہوگا، وہی ہمارا جواب حدیث کے متعلق سمجھا جائے۔
یہ کہنا کہ حدیث بعد میں لکھی گئی اس لیے اس پر کوئی اعتبار نہیں، محض کٹ حجتی ہے،

جیسا کہ مشرکین کے جواب میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

[وَ لَوۡ نَزَّلۡنَا عَلَیۡکَ کِتٰبًا فِیۡ قِرۡطَاسٍ فَلَمَسُوۡہُ بِاَیۡدِیۡہِمۡ لَقَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ] ’’اگر ہم آپ پر لکھی ہوئی کتاب بھی نازل کر دیں، تو کفار اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے بھی کہیں گے: یہ تو کھلا جادو ہے۔‘‘ (الأنعام: 7)

❀ تو جو لوگ حدیث پر معترض ہیں، اگر ان پر ثابت ہو جائے کہ حدیث عہد نبوی میں لکھی گئی، وہ بھی حدیث کو نہیں مانیں گے۔
در اصل تن تنہا کتاب انسانوں کی ہدایت کا سامان نہیں کر سکتی، کتاب کے مطالب ومفاہیم اور معانی کے بیان کے لیے معلم کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو اس کتاب کی قولی وعملی تعبیر پیش کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کفار کا مطالبہ پورا نہ کرنا بھی بتاتا ہے کہ قرآن کے ساتھ حدیث پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اگر نبی کریم ﷺ کی حدیث دین نہیں، تو آپ کی تعلیم کا کیا فائدہ؟ یوں رسالتِ مآب ﷺ پر قدغن لگتی ہے۔
[بَلۡ ہُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیۡ صُدُوۡرِ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ ؕ وَ مَا یَجۡحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوۡنَ]
’’یہ قرآن کی واضح آیات ہیں، جو اہل علم کے سینے میں محفوظ ہیں۔ ہماری آیات کا انکار ظالم لوگ ہی کرتے ہیں۔‘‘ (العنکبوت: 49)

❀ یہاں قرآن کی تدوین کی بات نہیں ہو رہی، بلکہ حفظِ قرآن مجید کی بات کی جا رہی ہے، جس طرح قرآن اہل علم کے سینوں میں محفوظ رہا اور آج کتابی شکل میں بھی موجود ہے، اسی طرح حدیث بھی اہل علم کے سینوں میں محفوظ رہی اور آج کتابی شکل میں بھی موجود ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں حدیث لکھنے کا رواج عام تھا، صحابہ کے بعد محدثین کا دور شروع ہو جاتا ہے، محدثین کے پاس بھی اپنی اپنی کتابیں تھیں، جن سے وہ احادیث بیان کرتے تھے، مثال کے طور پر امام بخاری اور امام مسلم کے پاس اپنی کتابیں لکھی ہوئی تھیں، جو انہوں نے اپنے شاگردوں کو روایت کیں، امام بخاری و امام مسلم کو ان کے اساتذہ نے لکھی ہوئی حدیثیں بیان کیں، ان کے شیوخ نے انہیں لکھی ہوئی حدیثیں بیان کیں، یہی سلسلہ اوپر تک چلتا گیا۔ لہٰذا اکثر راویانِ حدیث کے پاس اپنی کتابیں تھیں، کسی کے پاس مسودہ کی صورت میں اور کسی کے پاس مدون صورت میں۔ کسی کے پاس ایک حدیث لکھی ہوئی تھی اور کسی کے بے شمار روایات کا مجموعہ تھا۔
یہ الگ بات ہے کہ بعض محدثین نے اپنے شاگردوں کو روایت حافظہ سے بیان کی اور بعض محدثین نے اپنی کتاب سے۔ جنہوں نے حافظہ سے بیان کیں، کتابیں ان کے پاس بھی موجود تھیں، لیکن انہوں نے اپنے حافظہ پر اعتماد کیا۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا صحیفہ جو ’’صحیفہ ہمام بن منبہ‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ اس کی تمام روایات صحیحین میں موجود ہیں، جنہیں امام بخاری اور امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی سندوں سے ذکر کیا ہے۔ اگر صحیفہ ہمام بن منبہ اور صحیحین کی احادیث کا تقابل کریں، تو ایک حرف تو دور کی بات، ایک شوشے کا فرق بھی نظر نہیں آتا۔ یہ حدیث کی کمالِ حفاظت پر دلیل ہے۔ اسی طرح سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا صحیفہ ’’صحیفہ صادقہ‘‘ کے نام سے معروف ہے، یہ سارے کا سارا عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ عبد اللہ بن عمرو کی سند کے ساتھ مسند احمد میں مندرج ہے، جو امام احمد بن جنبل رحمہ اللہ نے اپنی سندوں سے روایت کیا ہے۔
کتابتِ حدیث کے حوالے سے یہ اشکال واقع کیا جاتا ہے کہ راویوں نے روایت بالمعنی کر کے نبی کریم ﷺ کے الفاظ کو کیوں کر تبدیل کر دیا، اگر حدیثِ رسول وحی ہے، تو اس میں الفاظ کیوں بدلے گئے؟
روایت بالمعنی کے جواز اور عدم جواز کا مسئلہ اہل علم میں مختلف فیہ ہے، راجح یہی ہے کہ روایت بالمعنی جائز ہے، بشرطیکہ معانی و مطالب میں تغیر نہ ہو۔
یاد رہے کہ وحی دو طرح کی ہے، ایک قرآن کی صورت میں اور دوسری حدیث کی صورت میں۔ قرآن کے الفاظ بھی اللہ کی طرف سے ہیں اور معانی و مطالب بھی، جبکہ حدیث میں معانی و مفاہیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، جبکہ الفاظ نبی کریم ﷺ کے اپنے ہیں، دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیے کہ حدیثِ رسول میں جو احکام و سنن بیان ہوئے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تعلیم کردہ ہیں، ان میں تغیر و تبدل کی گنجائش نہیں، جبکہ یہ احکام و سنن جن الفاظ میں بیان کیے گئے، وہ الفاظ اللہ تعالیٰ نے نازل نہیں کیے، بلکہ وہ الفاظ رسول اللہ ﷺ کے ہیں، یوں حدیث کے الفاظ وحیِ الٰہی نہیں، بلکہ معانی و مفاہیم وحیِ الٰہی ہیں۔
اب اگر راویوں نے نبی کریم ﷺ کے بیان کردہ احکام و سنن کو اپنے الفاظ میں بیان کر دیا، تو اس میں کیا غلط ہوا؟ کیا راویوں نے وحی کو تبدیل کیا؟ ہرگز نہیں، انہوں نے صرف الفاظ کو تبدیل کیا، جو کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ نہیں تھے۔ پھر سب سے پہلے روایت بالمعنی نبی کریم ﷺ نے کی ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے اللہ کی مراد کو اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے، اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعینِ عظام رحمہم اللہ و غیرہم نے بھی کیا۔ لہٰذا اگر روایت بالمعنی کی وجہ سے راویوں کو مطعون کیا جائے، تو کیا نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس پر حرف گیری کی جائے گی؟ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اللہ کی مراد کو اپنے الفاظ میں بیان کیا اور راویوں نے نبی کریم ﷺ کی بیان کردہ مراد کو اپنے الفاظ میں بیان کر دیا۔ اگر نبی کریم ﷺ کے لیے احادیث کو اپنے الفاظ میں بیان کرنا جائز نہ ہوتا اور یہ اللہ تعالیٰ یا وحیِ الٰہی میں خیانت ہوتی،

تو آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا سامنا کرنا پڑتا:

[وَ لَوۡ تَقَوَّلَ عَلَیۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِیۡلِ]،[لَاَخَذۡنَا مِنۡہُ بِالۡیَمِیۡنِ]،[ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡہُ الۡوَتِیۡنَ] ’’وہ ہماری طرف کچھ جھوٹ منسوب کر دیتے، تو یقیناً ہم انہیں دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور ان کی رگِ جاں کاٹ دیتے۔‘‘ (الحاقة: 44-46)

❀ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو محفوظ رکھا، تو اس کا بھی مطلب ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا روایت بالمعنی کرنا صحیح اور درست ہوا۔ یہی معاملہ راویانِ حدیث کا ہے۔
جب روایت بالمعنی سے اللہ تعالیٰ کی مراد پوری ہو رہی ہے، تو اس سے وحی میں تغیر و تبدل کیسے آ گیا؟ اور راویانِ حدیث اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نافرمان کیسے ہو گئے؟ مثال کے طور پر کوئی شخص اپنے بیٹے سے کہے: ’’جائیے اور ملازم سے کہیے کہ میرے ابو بلا رہے ہیں۔‘‘ اب بچہ جا کر کہے کہ ’’میرے والد یا بابا آپ کو بلا رہے ہیں یا یاد فرما رہے ہیں۔‘‘ تو کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ بچہ اپنے والد کا نافرمان ہے، کیونکہ اس نے والد کے کہے ہوئے الفاظ بدل دیے۔ ہر کوئی یہی کہے گا کہ جب بچے نے والد کا مطلوب و مقصود پورا کر دیا ہے، تو ’’میرے ابو‘‘ کی جگہ ’’میرے والد یا بابا‘‘ کہنے سے نافرمان نہیں ٹھہرا، کیونکہ دونوں کا مطلب ایک ہی ہے۔ بالکل اسی طرح راویانِ حدیث نے جہاں روایت بالمعنی کیا ہے، وہاں اللہ اور اس کے رسول کی مراد کو کما حقہ ادا کیا ہے۔ اگر کسی راوی نے خطا بھی کی ہے، تو عللِ حدیث کے ماہرین نے اس پر نقد کر کے غلطی کو واضح کر دیا۔
قرآن کریم کی سات متواتر قرأتیں بھی روایت بالمعنی کے جواز پر دلیل ہیں، کیونکہ صحابہ کرام کے عربی لہجے مختلف تھے، تو ان کے لیے ایک ہی لہجے میں تلاوت کرنا مشکل تھا، تو اللہ تعالیٰ نے صحابہ کی سہولت کا لحاظ کرتے ہوئے قرآن کریم کو سات مختلف قرأتوں میں نازل کر دیا۔ ان قرأتوں کے بعض الفاظ میں اختلاف ہے، جبکہ ان کا معنی و مراد ایک ہی
ہے، بالکل اسی طرح روایت بالمعنی میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مراد ایک ہوتی ہے، صرف الفاظ مختلف ہوتے ہیں، لہٰذا روایت بالمعنی میں الفاظ کا اختلاف وحی میں تغیر و تبدل نہیں ہے۔
روایت بالمعنی کا تعلق کتابتِ حدیث کے دور تک ہے، تدوینِ حدیث کے بعد روایت بالمعنی جائز نہیں۔
یاد رہے کہ قرآن کریم کلامِ الٰہی ہے اور حدیث مخلوق کا کلام ہے۔ یقیناً دونوں وحی ہے، دونوں دین اور حجت ہیں، دونوں کا انکار کفر ہے، دونوں کی مخالفت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے، انکارِ حدیث انکارِ قرآن کو مستلزم ہے، اس لیے دنیا میں کوئی منکرِ حدیث ایسا نہیں، جو قرآن کو مکمل طور پر حق مانتا ہو، منکرینِ حدیث حدیث پر حملہ آور ہو کر جہاں اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں، وہاں قرآنی تعلیمات سے منحرف ہیں، پورے قرآن کو تاویل اور مجاز کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں، اس لیے کوئی منکرِ حدیث جنت و جہنم کا قائل نہیں، یہ لوگ جنت و جہنم کی اپنی تعبیر پیش کرتے ہیں، یہ اس چیز پر دلیل ہے کہ ان کا آخرت پر حقیقی ایمان نہیں۔
البتہ جو اعجازات اور امتیازات قرآن کریم کو حاصل ہیں، وہ کسی اور کلام کو نہیں، اسی لیے قرآن میں تدبر کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ حدیث میں تدبر نہیں کرنا، بلکہ قرآن میں اس وقت تک صحیح تدبر اور غور و خوض ممکن نہیں، جب تک حدیث کو ساتھ نہ ملایا جائے۔
جس طرح قرآن کریم کی خبریں اور پیشین گوئیاں حق اور سچ ہیں، اسی طرح حدیث کی خبریں اور پیشین گوئیاں بھی حق ہیں، کیونکہ دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔
حدیث کے حجت ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اس کے تمام اوامر و نواہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہیں، ان کے حق ہونے میں ذرہ برابر بھی شبہ نہیں، جیسا کہ قرآن کریم کے حق ہونے میں ذرہ برابر شبہ نہیں۔
چونکہ قرآن کے الفاظ و معانی دونوں من جانب اللہ ہیں، اس لیے کلامِ الٰہی میں ’او کما قال اللہ‘ نہیں کہا جاتا، جبکہ حدیث کے مفاہیم تو من جانب اللہ ہیں، مگر الفاظ نہیں، اس لیے حدیث کے بعد ’او کما قال‘ کہا جا سکتا ہے۔
یہ بھی ذہن نشین کرنا چاہیے کہ نبی کریم ﷺ کے ہر قول و فعل کے وحی ہونے کا یہ مطلب ہے کہ دین کے معاملہ میں آپ کا ہر قول و فعل وحی ہے، اس کا ترک جائز نہیں۔
نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے، تو صحابہ رضی اللہ عنہم کو کھجوروں کی پیوند کاری کرتے دیکھا، آپ نے اس سے منع کر دیا، صحابہ آپ کے حکم کی تکمیل و تعمیل میں اس سے رک گئے، لیکن پھل بہت کم آئے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس کی شکایت کی، تو فرمایا: إنما أنا بشر، إذا أمرتكم بشيء من دينكم فخذوا به، وإذا أمرتكم بشيء من رأيي، فإنما أنا بشر.
’’یقیناً میں بشر ہوں، جب میں آپ کو کوئی دینی حکم دوں، تو اس پر (سختی سے) عمل پیرا ہو جائیں اور جب (دنیاوی امور کا) اپنی رائے سے حکم دوں، تو میں بشر ہوں۔‘‘ (صحیح مسلم:2362)

نیز فرمایا:

أنتم أعلم بأمر دنياكم. ’’دنیاوی امور کو آپ بہتر جانتے ہیں۔‘‘ (صحیح مسلم:2363)

مزید فرمایا:

إني إنما ظننت ظنا، فلا تؤاخذوني بالظن، ولكن إذا حدثتكم عن الله شيئا، فخذوا به، فإني لن أكذب على الله عز وجل.
’’یہ میرا گمان تھا، اس کی بنا پر میرا مواخذہ نہ کیجیئے، لیکن جب اللہ کی طرف سے کوئی چیز بیان کروں، تو اسے مضبوطی سے پکڑ لینا، کیوں کہ میں اللہ پر ہرگز جھوٹ نہیں بولتا۔‘‘ (صحیح مسلم:2361)

❀ اس سے نبی کریم ﷺ کی دو حیثیتیں واضح ہوئیں، کہ آپ بحیثیت پیغمبر کے اور بحیثیت بشر ہونے کے گفتگو فرماتے تھے، بتقاضائے بشریت غلطی کا امکان ہوتا تھا، ان معاملات میں آپ ﷺ صحابہ سے مشاورت بھی کرتے تھے، اگر غلطی ہو جاتی، تو اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے اس غلطی کی اصلاح فرما دیتے تھے، وہ بھی وحی بن جاتی تھی۔
جس طرح قرآن میں تضاد نہیں، اسی طرح حدیث میں تضاد نہیں۔ جس طرح قرآن میں ظاہری طور پر تعارض موجود ہے، اسی طرح احادیث میں ظاہری طور پر تعارض موجود ہے، جس طرح حقیقت میں قرآن میں تعارض نہیں، اسی طرح قرآن اور حدیث میں تعارض نہیں۔ کوئی حدیث قرآن کے مخالف نہیں۔

امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (311ھ) فرماتے ہیں:

من ادعى من الجهلة أن شيئا من سنن النبي صلى الله عليه وسلم إذا ثبت من جهة النقل مخالف لشيء من كتاب الله، فأنا الضامن بتثبيت صحة مذهبنا على ما أبوح به منذ أكثر من أربعين سنة.
’’جو جاہل دعویٰ کرے کہ نبی کریم ﷺ سے ثابت حدیث قرآن کے مخالف ہے، تو میرا چالیس سال سے چیلنج ہے کہ اس حوالے سے ہمارا محدثین کا مذہب حق ہے (کہ کوئی صحیح حدیث قرآن کے مخالف نہیں)۔‘‘ (کتاب التوحيد: 110/1)

❀ قرآن کریم میں سینکڑوں آیات ظاہری طور پر باہم معارض ہیں، قرآن کریم میں ایک جگہ میراث میں بھائیوں کا چھٹا حصہ اور دوسری جگہ نصف بیان ہوا ہے۔ یہاں جمع و توفیق یوں ہے کہ ایک جگہ اخیافی بہن بھائیوں کا تذکرہ ہے اور دوسری آیت میں عیانی اور علاتی بہن بھائیوں کا بیان ہے۔ اسی طرح حدیث کا باہم تعارض یا قرآن و حدیث کا باہم تعارض دور ہو سکتا ہے۔ قرآن اور حدیث دونوں وحی ہیں، ان میں کسی قسم کا کوئی حقیقی تعارض نہیں۔

❀ یاد رہے کہ حدیث میں عموم و خصوص، ناسخ و منسوخ وغیرہ کے مسائل ہوتے ہیں۔
جس طرح قرآن معجزہ ہے، اسی طرح حدیث بھی معجزہ ہے۔ قرآن و حدیث کی کوئی مثل نہیں۔ جب حدیث ضعیف یا موضوع ہو گی، تو وحی نہیں۔ یہ حدیث کے حق ہونے پر دلیل ہے کہ اس کے ضعیف یا موضوع ہونے کا علم دیا گیا۔ دنیا میں ایک بھی ضعیف حدیث نہیں ہے، جسے مسلمان دین سمجھتے ہوں، البتہ احادیث کی تحکیم کا تعلق اجتہاد سے ہے، اہل علم کے اجتہادات مختلف ہو سکتے ہیں، اس سے حجیتِ حدیث پر کوئی حرف نہیں آتا۔ حدیث کا معاملہ تو اپنی جگہ پر ہے، ایک واضح ضعیف راوی کو دو ائمہ نے ثقہ نہیں کہا، ایک واضح ثقہ راوی کو دو ائمہ نے ضعیف نہیں کہا، یہ حدیث کی کمالِ حفاظت پر بین دلیل ہے۔
کفار و معاندین جس طرح قرآن کے مخالف تھے، اس طرح نبی کریم ﷺ کے اوامر ونواہی کے بھی مخالف تھے، نیز رسول اللہ ﷺ کی مخالفت پر اللہ تعالیٰ نے شدید وعید سنائی ہے۔

فرمان باری تعالیٰ ہے:

[فَلۡیَحۡذَرِ الَّذِیۡنَ یُخَالِفُوۡنَ عَنۡ اَمۡرِہٖۤ اَنۡ تُصِیۡبَہُمۡ فِتۡنَۃٌ اَوۡ یُصِیۡبَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ] ”حکمِ رسول کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈر جانا چاہیے کہ ان پر کوئی بڑا فتنہ یا دردناک عذاب آ جائے۔‘‘ (النور: 63)

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (م: 774ھ) لکھتے ہیں:

قوله: فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أي عن أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهو سبيله ومنهاجه وطريقته وسنته وشريعته، فتوزن الأقوال والأعمال بأقواله وأعماله، فما وافق ذلك قبل، وما خالفه فهو مردود على قائله وفاعله، كائنا ما كان.
’’فرمانِ باری تعالیٰ ہے: فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ (النور: 63) ’’حکمِ رسول کی مخالفت کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے۔‘‘ یہاں مراد رسول اللہ ﷺ ہیں اور آپ کے امر سے مراد آپ کا راستہ، منہج، طریقہ اور شریعت ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ کے اقوال وافعال ہی میزان ہیں، جو قول وفعل آپ کے موافق ہو، قبول کیا جائے گا اور جو خلاف ہو، وہ اس کے قائل وفاعل پر لوٹا دیا جائے گا، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔‘‘ (تفسير ابن كثير: 90/6)

فرمان باری تعالیٰ ہے:

[وَ مَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ ٭ وَ مَا نَہٰىکُمۡ عَنۡہُ فَانۡتَہُوۡا ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ]
’’تمہیں جو چیز رسول دیں، اسے لے لو اور جس چیز سے منع کریں، اس سے رک جاؤ، اللہ سے ڈر جاؤ، یقیناً اللہ دردناک عذاب دینے والا ہے۔‘‘ (الحشر: 7)
حدیث میں زندگی ہے، حدیث کے بغیر کوئی بھی زندہ نہیں رہ سکتا، حتیٰ کہ کافر، جو رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہیں لاتے، وہ بھی کسی نہ کسی حوالے سے حدیث پر عمل کرتے ہیں۔

سیدنا ابو سعید بن معلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

كنت أصلي في المسجد، فدعاني رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم أجبه، فقلت: يا رسول الله، إني كنت أصلي، فقال: ألم يقل الله: [اسۡتَجِیۡبُوۡا لِلّٰہِ وَ لِلرَّسُوۡلِ اِذَا دَعَاکُمۡ لِمَا یُحۡیِیۡکُمۡ] (الأنفال: 24)
’’میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا کہ نبی کریم ﷺ نے آواز دی، میں جواب نہ دے سکا، نماز کے بعد عرض کیا: اللہ کے رسول! نماز پڑھ رہا تھا۔ فرمایا: کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کا فرمان نہیں سنا؟ ’’جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول تمہیں اس کام کی طرف بلائیں، جس میں تمہارے لیے زندگی ہے تو ان کی آواز پر لبیک کہیں۔‘‘ (صحیح البخاری: 4474)

مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

ألا إني أوتيت الكتاب، ومثله معه.
’’خبردار! مجھے کتاب (قرآن) دی گئی اور ساتھ اس کی مثل (حدیث) بھی دی گئی۔‘‘ (سنن أبي داود: 4604، وسنده حسن)

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں:

أما الرسول الخاتم للرسالة محمد صلى الله عليه وسلم فإنما كان معظم ما آتاه الله وحيا منه إليه منقولا إلى الناس بالتواتر، ففي كل حين هو كما أنزل.
’’خاتم المرسلین سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے سب سے بڑی نعمت وحی کی صورت میں عطا کی، جو لوگوں تک تواتر کے ساتھ پہنچی اور تمام زمانوں میں اسی طرح موجود ہے، جس طرح نازل ہوئی تھی۔‘‘
(تفسير ابن كثير: 20/1، سلامة)