فہمِ قرآن میں سنتِ نبوی کی ناگزیر حیثیت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلۃ الشیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری کی کتاب "حجیت حدیث” سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

حدیث قرآن کا بیان ہے

ہر فن میں کچھ اصطلاحات ہوتی ہیں، انہیں لغت سے حل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ ان الفاظ کی اصطلاحی تعبیر ہی لی جاتی ہے، قرآن کریم میں جو بھی اصطلاحی لفظ ذکر ہوا ہے، اس کی تفسیر لغت سے نہیں کی جائے گی، بلکہ نبی کریم ﷺ سے تعبیر لی جائے گی، جیسے نماز، روزہ زکوۃ وغیرہ۔ لغت عرب کی بنیاد پر قرآن کریم کو صحابہ کرام بھی نہ سمجھ سکے۔

فرمان باری تعالیٰ ہے:

[وَ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الۡخَیۡطُ الۡاَبۡیَضُ مِنَ الۡخَیۡطِ الۡاَسۡوَدِ مِنَ الۡفَجۡرِ۪]
’’کھاؤ اور پیو، یہاں تک کہ فجر کا سفید دھاگا کالے دھاگے سے واضح ہو جائے۔‘‘ (البقرة:187)

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

لما نزلت: [حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الۡخَیۡطُ الۡاَبۡیَضُ مِنَ الۡخَیۡطِ الۡاَسۡوَدِ] (البقرة:187)عمدت إلى عقال أسود، وإلى عقال أبيض، فجعلتهما تحت وسادتي، فجعلت أنظر في الليل، فلا يستبين لي، فغدوت على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فذكرت له ذلك فقال: إنما ذلك سواد الليل وبياض النهار.
’’جب یہ آیت نازل ہوئی: [حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الۡخَیۡطُ الۡاَبۡیَضُ مِنَ الۡخَیۡطِ الۡاَسۡوَدِ] (البقرة:187) ’’یہاں تک کہ سفید دھاگا کالے دھاگے سے جدا ہو جائے۔‘‘ میں نے ایک سفید اور کالی رسی لے لی اور اسے اپنے سرہانے کے نیچے رکھ لیا، پھر میں رات کو دیکھتا رہا، لیکن یہ ظاہر نہ ہوئیں، تو اگلی صبح میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا، آپ سے اس بات کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: اس سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے۔‘‘ (صحیح البخاری: 1916، صحیح مسلم: 1090)

صحیح مسلم کے الفاظ ہیں:

[إن وسادتك لعريض، إنما هو سواد الليل، وبياض النهار]
’’آپ کا سرہانہ تو لمبا چوڑا ہے، اس سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے۔‘‘ [صحیح مسلم:1090]

قرآن کریم میں ہے:

[وَ یُسَبِّحُ الرَّعۡدُ بِحَمۡدِہٖ] ’’بجلی اللہ کی حمد کرتی ہے۔‘‘ (الرعد:13)
قرآن کریم میں اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ جہاں اجمال ہے، اس کی تفصیل حدیث کے بغیر محال ہے۔

حافظ خطابی رحمہ اللہ (388ھ) فرماتے ہیں:

’’فرمان نبوی: ’قریب ہے کہ ایک کھاتا پیتا شخص اپنے تکیے پر بیٹھا تمہیں کہے کہ اس قرآن کو لازم پکڑو۔‘ آپ ﷺ کے اس فرمان میں سنت کی مخالفت سے ڈرایا گیا ہے، وہ سنتیں، جو رسول اللہ ﷺ نے بیان کی ہیں، مگر قرآن میں نہیں ہیں، جیسا کہ خوارج اور روافض کرتے ہیں، وہ ظاہرِ قرآن کو لیتے ہیں اور سنتوں کو چھوڑ دیتے ہیں، جن میں قرآن کا بیان ہے، تو وہ حیرانی اور ضلالت میں گم ہیں۔‘‘ (معالم السنن: 298/4)

ایک شخص نے امام مطرف بن عبداللہ بن الشخیر رحمہ اللہ (95ھ) سے کہا:

[لا تحدثونا إلا بالقرآن فقال له مطرف: والله ما نريد بالقرآن بدلا ولكن نريد من هو أعلم بالقرآن منا]
’’ہمیں صرف قرآن بیان کریں، تو مطرف رحمہ اللہ نے اس سے فرمایا: اللہ کی قسم! ہم قرآن کا بدل نہیں لاتے، بلکہ ہم اس ہستی کو لاتے ہیں، جو قرآن کو ہم سے بہتر سمجھتی تھی۔‘‘ (کتاب العلم لأبي خيثمة: 97، جامع بيان العلم و فضله لابن عبد البر، ص 563، وسنده صحيح)

امام طبری رحمہ اللہ (310ھ) فرماتے ہیں:

[تأويل القرآن غير مدرك إلا ببيان من جعل الله إليه بيان القرآن]
’’قرآن کی تفسیر صرف اس صورت سمجھ آ سکتی ہے، جب اللہ کے نبی اس کو بیان کر دیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کا بیان سونپا ہے۔‘‘ (تفسير الطبري: 181/2)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:

[قد اتفق الصحابة والتابعون لهم بإحسان وسائر أئمة الدين أن السنة تفسر القرآن وتبينه وتدل عليه وتعبر عن مجمله وأنها تفسر مجمل القرآن من الأمر والخبر]
’’صحابہ، تابعین اور تمام ائمہ دین اس بات پر متفق ہیں کہ سنت قرآن کی تفسیر کرتی ہے، وہ اس کا بیان کرتی ہے، اس کی طرف دلالت کرتی ہے، اس کے مجمل حکم یا خبر کی تعبیر و تفسیر کرتی ہے۔‘‘ (مجموع الفتاویٰ: 432/17)

نیز فرماتے ہیں:

[مما ينبغي أن يعلم أن القرآن والحديث إذا عرف تفسيره من جهة النبي صلى الله عليه وسلم لم يحتج في ذلك إلى أقوال أهل اللغة فإنه قد عرف تفسيره]
’’یہ بات جان لینی چاہئے کہ قرآن و حدیث کی تفسیر جب نبی کریم ﷺ سے مل جائے، تو پھر اہل لغت کے اقوال سے حجت نہیں لی جا سکتی، کیونکہ اس کی تفسیر معلوم ہو چکی ہے۔‘‘ (مجموع الفتاوىٰ: 13/27)

علامہ شاطبی رحمہ اللہ (790ھ) فرماتے ہیں:

[على هذا لا ينبغي في الاستنباط من القرآن الاقتصار عليه دون النظر في شرحه وبيانه وهو السنة؛ لأنه إذا كان كليا وفيه أمور جملية كما في شأن الصلاة والزكاة والحج والصوم ونحوها؛ فلا محيص عن النظر في بيانه، وبعد ذلك ينظر في تفسير السلف الصالح له إن أعوزته السنة؛ فإنهم أعرف به من غيرهم، وإلا؛ فمطلق الفهم العربي لمن حصله يكفي فيما أعوز من ذلك]
’’قرآن سے استنباط کرتے وقت صرف اس کے لفظوں پر رکے رہنا کافی نہیں، بلکہ ضروری ہے کہ اس کی شرح دیکھی جائے اور سنت میں اس کا بیان دیکھا جائے، کیونکہ جب آیت مطلق ایک چیز کو بیان کر رہی ہوگی، تو اس کی تفصیل سنت میں ہوں گی، جیسے نماز، زکوٰۃ، حج اور روزہ وغیرہ۔ تو اس وقت اس کے بیان کو دیکھے بغیر چارہ ہی نہیں، پھر اگر سنت میں کوئی چیز نہ ملے، تو سلف صالحین کی تفسیر دیکھی جائے گی، کیونکہ قرآن کو سلف دوسروں کی نسبت بہتر سمجھتے تھے اور اگر وہاں بھی نہ ملے، تو پھر عربی زبان کا فہم کافی ہو گا۔‘‘ (الموافقات: 369/3)

علامہ ابن الوزير يمنی رحمہ اللہ (840ھ) فرماتے ہیں:

[التفسير النبوي وهو مقبول بالنص والإجماع]
’’قرآنی نص اور اجماع ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بیان کردہ تفسیر قبول ہے۔‘‘ (إيثار الحق على الخلق، ص 152)