جہنم کا بیان قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

كتاب صفة جهنم

جہنم کا بیان

گزشتہ صفحات میں قرآن و صحیح احادیث سے ان اعمال کا تذکرہ کیا گیا ہے، جن پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت جنت حاصل ہو گی ، اور جہنم سے آزادی کا پروانہ نصیب ہوگا ۔ جہنم بہت بُری جائے قرار ہے جہاں لمحہ بھر کو بھی چین وسکون حاصل نہ ہو گا۔
لہذا اس کا مختصر تذکرہ کیا جاتا ہے تا کہ جہنم کا خوف دلوں میں جاگزین ہو جائے اور دلوں میں جنت کی طلب پیدا ہو جائے ۔ اہل ایمان جہنم کے عذاب سے پناہ مانگتے رہتے ہیں:
وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا ‎ ﴿٦٤﴾ ‏ وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ ۖ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ‎ ﴿٦٥﴾ ‏
اور جو اپنے رب کے سامنے سجدے اور قیام کرتے ہوئے راتیں گزار دیتے ہیں، اور جو یہ دُعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہم سے دوزخ کا عذاب پرے ہی پرے رکھ کیوں کہ اس کا عذاب چمٹ جانے والا ہے۔“
(25-الفرقان:64،65)
رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ‎ ﴿١٩١﴾ ‏ رَبَّنَا إِنَّكَ مَن تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ ‎ ﴿١٩٢﴾
”اے ہمارے رب ! تو نے اسے باطل پیدا نہیں کیا، تو پاک ہے تو ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے ۔ اے ہمارے رب ! بے شک تو نے جسے جہنم میں داخل کر دیا تو تو نے اسے رسوا کر دیا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوتا۔“
(3-آل عمران:191،192)
﴿فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ﴾
جسے جہنم سے بچالیا گیا، اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو وہ کامیاب ہو گیا، اور دنیا کی زندگی سراسر دھوکے کا سامان ہے۔“
(3-آل عمران:185)
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذا مات أحدكم فإنه يعرض عليه مقعده بالغداة والعشي ، فإن كان من أهل الجنة ، فمن أهل الجنة وإن كان من أهل النار فمن أهل النار
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آدمی فوت ہوتا ہے تو اسے صبح و شام اس کا ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے، اگر جنتی ہے تو جنت میں (اس کا ٹھکانہ اسے دکھایا جاتا ہے ) اگر جہنمی ہے تو جہنم میں ( اس کا ٹھکانہ اسے دکھایا جاتا ہے۔)
صحیح بخاری، کتاب بدء الخلق ، باب ماجاء في صفة الجنة، رقم: 3240.

◈ جہنمیوں کی جسامت:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمْ نَارًا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُم بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمًا﴾ ‎
”بے شک جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا ہم انہیں آگ کا مزہ چکھائیں گے ، جب بھی ان کے چمڑے پک جائیں گے، ہم ان کے چمڑوں کو بدل دیں گے، تاکہ عذاب کا مزہ چکھیں ۔ بے شک اللہ زبردست اور بڑی حکمتوں والا ہے ۔“
(4-النساء:56)
عن أبى هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ضرس الكافر او ناب الكافر مثل أحد ، وغلظ جلده مسيرة ثلاث
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کافر کی داڑھ یا کچلی ( جہنم میں ) اُحد پہاڑ کے برابر ہوگی، اور اس کی کھال کی موٹائی تین دن کی مسافت کے برابر ہوگی۔ “
صحيح مسلم، كتاب الجنة ونعيمها، باب النار يدخلها الجبارون، رقم: 2851.
عن أبى هريرة رضي الله عنه و عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: إن غلظ جلد الكافر اثنان وأربعون ذراعا، وإن ضرسه مثل أحد، وإن مجلسه من جهنم كما بين مكة والمدينة.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جہنم میں) کافر کی کھال کی موٹائی بیالیس ہاتھ ہو گی، ایک دانت اُحد پہاڑ کے برابر ہوگا اور اس کے بیٹھنے کی جگہ مکہ اور مدینہ کے درمیانی فاصلہ کے برابر ہوگی۔
سنن ترمذى كتاب صفة جهنم ، باب ما جاء فى عظم اهل النار، رقم: 2577 ـ سلسلة الصحيحة، رقم: 100 .

◈ جہنمیوں کا لباس:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
هَٰذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ ۖ فَالَّذِينَ كَفَرُوا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّن نَّارٍ يُصَبُّ مِن فَوْقِ رُءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ ‎ ﴿١٩﴾ ‏ يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ ‎ ﴿٢٠﴾
یہ دونوں گروہ ایک دوسرے کے دشمن ہیں، انہوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا، پس جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی، ان کے لئے قیامت کے دن آگ کے کپڑے بنائے جائیں گے، ان کے سروں کے اوپر سے کھولتا ہوا گرم پانی انڈیلا جائے گا، جس کی گرمی سے ان کے پیٹ کی ہر چیز اور ان کے چمڑے گل کر الگ ہو جائیں گے۔
(22-الحج:19,20)
دوسرے مقام پر فرمایا:
‏ وَتَرَى الْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ ‎ ﴿٤٩﴾ ‏ سَرَابِيلُهُم مِّن قَطِرَانٍ وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُمُ النَّارُ ‎ ﴿٥٠﴾
”اور اس دن آپ مجرموں کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے دیکھیں گے۔ ان کے پیرہن گندھک کے ہوں گے، اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانکے ہوگی۔“
(14-إبراهيم:49,50)

◈ جہنم میں عذاب کی شدت:

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يؤتى بانعم اهل الدنيا، من اهل النار يوم القيامة، فيصبغ فى النار سبغة: ثم يقال: يا ابن آدم! هل رأيت خيرا قط؟ هل مر بك نعيم قط؟ فيقول: لا والله يارب ويؤتى بأشد الناس بؤسا فى الدنيا من أهل الجنة، فيصبغ صبغة فى الجنة، فيقال له، يا ابن آدم هل رأيت بوسا قط؟ هل مر بك شدة قط؟ فيقول: لا والله يارب ما مر بي بؤس قط، ولا رأيت شدة قط.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے روز ایسے شخص کو لایا جائے گا، جس کا جہنم میں جانا طے ہو چکا ہوگا، دنیا میں اس نے بہت زیادہ عیش وعشرت کی ہوگی اسے دوزخ میں ایک غوطہ دیا جائے گا، اور اس سے پوچھا جائے گا: اے ابن آدم! کیا دنیا میں تو نے کوئی نعمت دیکھی، کبھی دنیا میں تمہارا ناز و نعم سے واسطہ پڑا؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! تیری قسم! کبھی نہیں۔ پھر ایک ایسے آدمی کو لایا جائے گا جو جنتی ہوگا لیکن دنیا میں بڑی تکلیف دہ زندگی بسر کی ہوگی، اسے جنت میں ایک غوطہ دیا جائے گا اور اس سے پوچھا جائے گا، اے ابن آدم! کبھی دنیا میں تو نے کوئی تکلیف دیکھی یا رنج و غم سے کبھی تمہارا واسطہ پڑا؟“ وہ کہے گا: اے میرے رب! تیری قسم! کبھی نہیں۔ مجھے تو نہ کبھی رنج و غم سے واسطہ پڑا نہ کوئی دکھ یا تکلیف دیکھی۔“
صحیح مسلم کتاب صفات المنافقين، باب صبغ انعم اهل الدنيا في النار، رقم: 2807 .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنمیوں میں سے سب سے ہلکا عذاب ابو طالب کو ہو گا، اسے جہنم کی آگ کے دو جوتے پہنائے جائیں گے، جس سے اس کا دماغ کھولے گا۔
صحیح مسلم، كتاب الإيمان، باب اهون اهل النار عذاباً ، رقم: 212.

◈ جہنمیوں کی خوراک:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ ‎ ﴿٥﴾ ‏ لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍ ‎ ﴿٦﴾ ‏ لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ ‎ ﴿٧﴾ ‏
”انہیں کھولتے ہوئے چشمے کا پانی پلایا جائے گا۔ اُن کا کھانا سوائے خشک کانٹے کے کچھ نہ ہوگا۔ وہ نہ انہیں موٹا کرے گا اور نہ ان کی بھوک ہی دُور کرے گا۔“
(88-الغاشية:5 تا 7)
دوسرے مقام پر فرمایا:
مِّن وَرَائِهِ جَهَنَّمُ وَيُسْقَىٰ مِن مَّاءٍ صَدِيدٍ ‎ ﴿١٦﴾ ‏ يَتَجَرَّعُهُ وَلَا يَكَادُ يُسِيغُهُ وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِن كُلِّ مَكَانٍ وَمَا هُوَ بِمَيِّتٍ ۖ وَمِن وَرَائِهِ عَذَابٌ غَلِيظٌ ‎ ﴿١٧﴾ ‏
اور جہنم تو اس کے پیچھے جہاں اسے (جہنمیوں کے) پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔ اسے وہ بہ مشکل گھونٹ پیئے گا، اور اسے حلق سے نیچے اتار نہیں جا سکے گا، اور موت اسے ہر چہار جانب سے گھیر لے گی لیکن وہ مر نہ سکے گا، اور سخت عذاب اس کے پیچھے لگا ہو گا۔
(14-إبراهيم:16،17)
مزید فرمایا:
إِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّومِ ‎ ﴿٤٣﴾ ‏ طَعَامُ الْأَثِيمِ ‎ ﴿٤٤﴾ ‏ كَالْمُهْلِ يَغْلِي فِي الْبُطُونِ ‎ ﴿٤٥﴾ ‏ كَغَلْيِ الْحَمِيمِ ‎ ﴿٤٦﴾
بے شک زقوم کا درخت گناہ گاروں کا کھانا ہے۔ وہ تانبے کی طرح ہو گا، پیٹوں میں کھولے گا۔ شدید گرم پانی کے کھولنے کی طرح۔“
(44-الدخان:43 تا 46)

◈ جہنم میں آگ کی شدت:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى ‎ ﴿١١﴾ ‏ الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَىٰ ‎ ﴿١٢﴾ ‏ ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ ‎ ﴿١٣﴾
اور اس سے بد بخت انسان دُور رہے گا، جو بڑی آگ میں داخل ہو گا، پھر اس میں نہ وہ مرے گا اور نہ زندہ رہے گا۔
(87-الأعلى:11 تا 13)
وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ ‎ ﴿٨﴾ ‏ فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ ‎ ﴿٩﴾ ‏ وَمَا أَدْرَاكَ مَا هِيَهْ ‎ ﴿١٠﴾ ‏ نَارٌ حَامِيَةٌ ‎ ﴿١١﴾ ‏
”اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے۔ اس کا ٹھکانا ہاویہ ہوگا۔ اور آپ کو کیا معلوم، وہ کیا ہے۔ وہ دہکتی ہوئی آگ ہے۔
(101-القارعة:8 تا 11)
عن أبى هريرة رضي الله عنه أن النبى صلى الله عليه وسلم قال: ناركم هذه التى يوقد ابن آدم جزء من سبعين جزءا من حر جهنم قالوا: والله! إن كانت لكافية، يارسول الله قال: فإنها فصلت عليها بتسعة وستين جزءا، كلها مثل حرها.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری یہ (دنیا کی) آگ جسے ابن آدم جلاتا ہے، جہنم کی آگ کی گرمی کا سترواں حصہ ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: واللہ یا رسول اللہ! (انسانوں کو جلانے کے لیے تو یہی دنیا کی) آگ کافی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن وہ تو دنیا کی آگ سے انہتر (69) درجے زیادہ گرم ہے، اور اس کا ہر حصہ اس دنیا کی آگ کے برابر گرم ہے۔“
صحيح مسلم، كتاب الجنة ونعيمها، باب جهنم أعاذنا الله منها ، رقم: 2843 .

◈ دوزخیوں کے درجات:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ ‎ ﴿٨﴾ ‏ فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ ‎ ﴿٩﴾ ‏ وَمَا أَدْرَاكَ مَا هِيَهْ ‎ ﴿١٠﴾ ‏ نَارٌ حَامِيَةٌ ‎ ﴿١١﴾ ‏
اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے۔ اس کا ٹھکانا ہاویہ ہو گا۔ اور آپ کو کیا معلوم، وہ کیا ہے؟ وہ دہکتی ہوئی آگ ہے۔“
(101-القارعة:8 تا 11)
كَلَّا ۖ إِنَّهَا لَظَىٰ ‎ ﴿١٥﴾ ‏ نَزَّاعَةً لِّلشَّوَىٰ ‎ ﴿١٦﴾ ‏ تَدْعُو مَنْ أَدْبَرَ وَتَوَلَّىٰ ‎ ﴿١٧﴾ ‏ وَجَمَعَ فَأَوْعَىٰ ‎ ﴿١٨﴾ ‏
ہرگز نہیں، بے شک وہ آگ کا شعلہ ہوگا۔ وہ تو سر کے چمڑے اُدھیڑ ڈالے گا۔ وہ ہر اس شخص کو پکارے گا جس نے حق سے منہ موڑا تھا، اور پیٹھ پھیر لی تھی۔ اور مال جمع کیا تھا اور اسے سنبھال رکھا تھا۔“
(70-المعارج:15 تا 18)
عن العباس بن عبد المطلب رضي الله عنه أنه قال: يا رسول الله! هل نفعت أبا طالب بشيء، فإنه كان يحوطك ويغضب لك؟ قال نعم، هو فى ضحضاح من نار: ولولا أنا لكان فى الدرك الأسفل من النار.
سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ابو طالب آپ کی حفاظت کرتے تھے اور آپ کے لیے (دوسرے لوگوں سے) ناراض ہوتے تھے، کیا یہ چیز ان کے کسی کام آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اب وہ جہنم کے اوپر کے درجہ میں ہیں، اگر میں اُن کی سفارش نہ کرتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے درجہ میں ہوتے۔
صحیح مسلم، كتاب الإيمان، باب شفاعة النبي صلى الله عليه وسلم لأبي طالب ، رقم: 209

◈ جہنم کی گہرائی:

عن أبى هريرة رضي الله عنه أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن العبد ليتكلم بالكلمة، ينزل بها فى النار، أبعد ما بين المشرق والمغرب.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بندہ کوئی ایسی بات زبان سے کہہ دیتا ہے جس کی وجہ سے وہ جہنم میں زمین و آسمان کے درمیانی فاصلے سے بھی نیچے چلا جاتا ہے۔“
صحیح مسلم، کتاب الزهد، باب حفظ اللسان، رقم: 2988
عن أبى هريرة رضي الله عنه قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ سمع وجبة، فقال النبى صلى الله عليه وسلم أتدرون ما هذا؟ قال: قلنا: الله ورسوله أعلم، قال: هذا حجر رمي به فى النار منذ سبعين خريفا، فهو يهوي فى النار الآن حتى انتهى إلى قعرها.
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک دفعہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ اچانک دھماکے کی آواز سنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”جانتے ہو یہ آواز کیسی ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک پتھر تھا جو آج سے ستر سال پہلے جہنم میں پھینکا گیا تھا، اور وہ آگ میں گرتا چلا جارہا تھا اور اب وہ جہنم کی تہہ تک پہنچا ہے۔“
صحيح مسلم، كتاب الجنة ونعيمها ، باب جهنم أعاذنا الله فيها ، رقم : 2844 .

◈جہنم اپنے کرتوتوں کی کمائی:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿أَفَمَن يَتَّقِي بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ وَقِيلَ لِلظَّالِمِينَ ذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ﴾
کیا جو شخص قیامت کے دن بدترین عذاب سے اپنے چہرے کے ذریعہ بچے گا، (اس کے برابر ہو گا جو جنت میں عیش کرے گا) اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ تم جو کچھ کیا کرتے تھے، اس کا مزہ چکھو۔“
(39-الزمر:24)
﴿وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِينَ كَفَرُوا عَلَى النَّارِ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُم بِهَا فَالْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَفْسُقُونَ﴾
”اور جس دن اہل کفر آگ کے سامنے لائے جائیں گے، اُن سے کہا جائے گا کہ تم نے دنیا کی زندگی میں ہی اپنی نعمتیں ختم کر لیں، اور اُن سے لذت اندوز ہو چکے، پس آج تمہیں زمین میں تمہارے ناحق تکبر اور تمہاری نافرمانیوں کی وجہ سے ذلت کا عذاب دیا جائے گا۔“
(46-الأحقاف:20)
وَيَوْمَ يُحْشَرُ أَعْدَاءُ اللَّهِ إِلَى النَّارِ فَهُمْ يُوزَعُونَ ‎ ﴿١٩﴾ ‏ حَتَّىٰ إِذَا مَا جَاءُوهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَأَبْصَارُهُمْ وَجُلُودُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ‎ ﴿٢٠﴾ ‏وَقَالُوا لِجُلُودِهِمْ لِمَ شَهِدتُّمْ عَلَيْنَا ۖ قَالُوا أَنطَقَنَا اللَّهُ الَّذِي أَنطَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ خَلَقَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ‎ ﴿٢١﴾ ‏
”اور جس دن اللہ کے دشمن جہنم کی طرف ہانک کر لے جائے جائیں گے، تو وہ سب وہاں جمع کر دیے جائیں گے۔ یہاں تک کہ جب وہ اُس کے پاس آ جائیں گے، تو اُن کے کان، اُن کی آنکھیں اور اُن کے چمڑے اُن کے بُرے کرتوتوں کی گواہی دیں گے۔اور وہ اپنے چمڑوں سے کہیں گے۔ تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی ہے، وہ کہیں گے: ہمیں اُس اللہ نے قوت گویائی دی ہے، جس نے ہر چیز کو قوت گویائی دی ہے، اور اُسی نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا ہے، اور اُسی کے پاس تمہیں لوٹ کر جانا ہے۔“
(41-فصلت:19 تا 21)
﴿وَهُمْ يَصْطَرِخُونَ فِيهَا رَبَّنَا أَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ ۚ أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُم مَّا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَن تَذَكَّرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ ۖ فَذُوقُوا فَمَا لِلظَّالِمِينَ مِن نَّصِيرٍ﴾
”اور وہ لوگ اس میں چینیں ماریں گے اور کہیں گے، اے ہمارے رب! ہمیں یہاں سے نکال دے، ہم نیک عمل کریں گے، اس کے سوا جو ہم کرتے رہے تھے،( تو اللہ کہے گا) کیا ہم نے تمہیں اتنی لمبی عمر نہیں دی تھی، جس میں نصیحت حاصل کرنے والا نصیحت حاصل کرتا، اور تمہارے پاس تو ہماری طرف سے ڈرانے والا رسول بھی آیا تھا، تو اب اپنے کئے کا مزا چکھو، ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے۔“
(35-فاطر:37)
عن أبى أمامة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من اقتطع حق امرء مسلم بيمينه، فقد أوجب الله له النار، وحرم عليه الجنة فقال له رجل: وإن كان شيئا يسيرا يارسول الله؟ قال وإن قضيب من أراك.
سیدنا ابوامامہ حارثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قسم کھا کر کسی مسلمان آدمی کا حق مارلیا، اللہ تعالیٰ اس پر جہنم واجب کر دیتا ہے۔ ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! خواہ معمولی ساحق ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خواہ پیلو کی ایک ٹہنی ہی کیوں نہ ہو۔“
صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب وعيد من اقتطع حق مسلم، رقم: 137
عن ابن عباس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: رأيت النار فلم أر كاليوم منظرا قط، ورأيت أكثر أهلها النساء قالوا: بم يا رسول الله قال: بكفرهن قيل: أيكفرن بالله؟ قال: يكفرن العشير، ويكفرن الإحسان، لو أحسنت إلى إحداهن الدهر، ثم رأت منك شيئا قالت ما رأيت منك خيرا قط.
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”آج میں نے جہنم دیکھی ہے، اور اس جیسا کر یہ منظر (اس سے پہلے) کبھی نہیں دیکھا، میں نے جہنم میں عورتوں کی اکثریت دیکھی۔“ صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ان کی ناشکری کی وجہ سے ۔عرض کیا گیا: کیا وہ اللہ کی ناشکری کرتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے شوہر کی ناشکری کرتی ہیں، اور احسان نہیں مانتیں، اگر تم کسی عورت پر زمانے بھر کے احسان بھی کردو، لیکن جب کبھی اس (عورت) کی مرضی کے خلاف (کوئی بات) ہو جائے،تو کہے گی: میں نے تو تجھ سے کبھی بھلائی دیکھی ہی نہیں۔“
صحیح مسلم، كتاب الكسوف ، رقم: 207 – صحیح البخاری، کتاب الایمان ، رقم: 29 .
عن عياض بن حمار المجاشعي رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ذات يوم فى خطبته …… وأهل النار خمسة: الضعيف الذى لا زبر له، الذين هم فيكم تبعا لا يتبعون أهلا ولا مالا، والخائن الذى لا يخفى له طمع وإن دق إلا خانه، ورجل لا يصبح ولا يمسي إلا وهو يخادعك عن أهلك ومالك وذكر البخل او الكذب والشنظير الفحاس.
سیدنا عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز اپنے خطبہ میں فرمایا: ”آگ میں جانے والے پانچ قسم کے لوگ ہیں: پہلے وہ جاہل لوگ جنھیں (حلال وحرام میں) کوئی تمیز نہیں، دوسرے کے پیچھے (آنکھیں بند کر کے) چلنے والے اہل وعیال اور مال و منال تک سے بے فکر ہیں۔ دوسرا وہ خائن شخص جسے معمولی سی چیز کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو خیانت کرنے لگتا ہے۔ تیسرا وہ شخص جو تیرے اہل اور مال میں تجھے دھوکہ دینے والا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخیل یا جھوٹے آدمی کا ذکر فرمایا، اور پانچواں وہ شخص جو فحش گو اور گالیاں بکنے والا ہے۔“
صحيح مسلم، کتاب الجنة وصفة نعيهما و أهلها، رقم: 2865/63.