مضمون کے اہم نکات
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے رفع الیدین کا ثبوت
نماز شروع کرتے، رکوع جاتے، رکوع سے سر اٹھاتے اور دو رکعتوں سے اٹھتے وقت رفع الیدین کرنا نبی کریم ﷺ کا دائمی عمل ہے۔ آپ کے بعد آپ کے صحابہ بھی یہی عمل سر انجام دیتے رہے۔
شیخ الاسلام ثانی، عالم ربانی، علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (691۔751ھ) مذکورہ مواضع پر رفع الیدین کے بارے میں فرماتے ہیں:
[لم يثبت عنه خلاف ذلك البتة، بل كان ذلك هديه دائما إلىٰ أن فارق الدنيا]
آپ ﷺ سے اس کا خلاف قطعاً ثابت نہیں، بلکہ یہ آپ ﷺ کا دائمی عمل تھا حتیٰ کہ آپ دنیا سے کوچ کر گئے۔
[زاد المعاد: 211/1]
شیخ الاسلام، امام، عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ (118۔181ھ) فرماتے ہیں:
[كأني أنظر إلى النبي صلى الله عليه وسلم وهو يرفع يديه في الصلاة لكثرة الأحاديث وجودة الأسانيد]
رفع الیدین کی احادیث اتنی زیادہ اور ان کی سندیں اتنی عمدہ ہیں کہ گویا میں نبی اکرم ﷺ کو رفع الیدین کرتے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔
[السنن الكبرى للبيهقي: 79/2، وسنده حسن]
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (384۔456ھ) لکھتے ہیں:
[هذه آثار متظاهرة متواترة عن ابن عمر، وأبي حميد، وأبي قتادة، ووائل بن حجر ومالك بن الحويرث، وأنس، وسواهم من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وهذا يوجب يقين العلم]
یہ سیدنا ابن عمر، سیدنا ابو حمید، سیدنا ابو قتادہ، سیدنا وائل بن حجر، سیدنا مالک بن حویرث، سیدنا انس اور رسول اکرم ﷺ کے دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے واضح آثار ہیں۔ یہ علمِ یقینی کو واجب کرتے ہیں۔
[المحلّٰى بالآثار: 9/3]
حافظ نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
[الأحاديث الصحيحة في الباب كثيرة غير منحصرة]
اس بارے میں بہت سی صحیح احادیث موجود ہیں، جو کہ شمار میں نہیں ہیں۔
[المجموع شرح المهذب: 401/3]
امامِ خراسان اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ (161۔238ھ) فرماتے ہیں:
[أما رفع اليدين عند الركوع فإن ذلك سنة]
رکوع جاتے وقت رفع الیدین سنت ہے۔
[مسائل الإمام أحمد بن حنبل وإسحاق: 476]
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (311ھ) نبی ﷺ کی سنت کی مخالفت سے تنبیہ کرتے ہیں:
[هذا محرم علىٰ كل عالم أن يخالف سنة النبي صلى الله عليه وسلم برأي نفسه أو برأي من بعد النبي صلى الله عليه وسلم]
ہر عالم پر حرام ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کی سنت کی مخالفت اپنی رائے یا نبی اکرم ﷺ کے بعد والے کسی کی رائے کی وجہ سے کرے۔
[صحيح ابن خزيمة: 130/2]
قوام السنہ، امام اسماعیل بن محمد الاصبہانی رحمہ اللہ (535ھ) فرماتے ہیں:
[رفع اليدين في الصلاة عند افتتاحها، وعند الركوع، وعند رفع الرأس سنة مسنونة وهي من علامات أهل السنة]
نماز کے شروع میں، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرنا سنت ہے اور یہ اہل سنت والجماعت کی علامات میں سے ہے۔
[الحجة في بيان المحجة وشرح عقيدة أهل السنة: 537/2]
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (508۔597ھ) فرماتے ہیں:
[قد روى هذه السنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم جماعة من الصحابة]
اس سنت (رفع الیدین) کو نبی اکرم ﷺ سے صحابہ کرام کی ایک جماعت نے بیان کیا ہے۔
[التحقيق في مسائل الخلاف: 331/1]
امیر المؤمنین فی الحدیث، امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ (256ھ) فرماتے ہیں:
[لم يثبت عند أهل النظر ممن أدركنا من أهل الحجاز، وأهل العراق، منهم عبد الله بن الزبير، وعلي بن عبد الله بن جعفر، ويحيى بن معين، وأحمد بن حنبل، وإسحاق بن راهويه، هؤلاء أهل العلم من أهل زمانهم، فلم يثبت عند أحد منهم علمنا في ترك رفع الأيدي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه لم يرفع يديه]
ہم نے جو فقہائے کرام حجاز اور عراق میں دیکھے ہیں، ان میں سے امام عبداللہ بن زبیر (حمیدی)، امام علی بن عبداللہ بن جعفر (ابن مدینی)، امام یحییٰ بن معین، امام احمد بن حنبل اور امام اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے زمانے کے اہل علم تھے۔ ان میں سے کسی ایک سے بھی یہ بات ثابت نہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے رفع الیدین چھوڑ دیا ہو۔
[جزء رفع اليدين: 38]
نیز فرماتے ہیں:
[لم يثبت من أحد من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أنه لا يرفع يديه]
کسی ایک بھی صحابی سے رفع الیدین نہ کرنا ثابت نہیں۔
[جزء رفع اليدين: 86]
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[لم يثبت عن أحد من الصحابة أنه لم يرفع يديه]
کسی ایک بھی صحابی سے ثابت نہیں کہ انہوں نے رفع الیدین چھوڑا ہو.
[التحقيق في مسائل الخلاف: 332/1]
یہ ہمارا دعویٰ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین رکوع کو جاتے، رکوع سے سر اٹھاتے اور دو رکعتوں سے اٹھتے وقت رفع الیدین کرتے تھے۔ کسی صحابی سے اس کا ترک باسندِ صحیح ثابت نہیں۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے رفع الیدین کا ثبوت ملاحظہ فرمائیں۔
① سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
[قلت: لأنظرن إلىٰ صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف يصلي، قال: فنظرت إليه فقام فكبر ورفع يديه ثم لما أراد أن يركع رفع يديه مثلها ثم رفع رأسه فرفع يديه مثلها ثم جئت بعد ذٰلك في زمان فيه برد عليهم جل الثياب تحرك أيديهم من تحت الثياب]
میں نے کہا: میں ضرور رسول اللہ ﷺ کو دیکھوں گا کہ آپ ﷺ کیسے نماز پڑھتے ہیں؟ میں نے آپ ﷺ کو دیکھا۔ آپ نے تکبیرِ تحریمہ کہی اور رفع الیدین کیا۔ پھر آپ ﷺ نے جب رکوع کا ارادہ کیا، تو اسی طرح رفع الیدین کیا، پھر اپنا سر رکوع سے اٹھایا، تو اسی طرح رفع الیدین کیا۔ پھر میں ایک عرصہ کے بعد آیا۔ سردی کا موسم تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر موٹے کپڑے تھے۔ ان کے ہاتھ کپڑے کے نیچے سے حرکت کرتے تھے۔
[جزء رفع اليدين: 30، وسنده صحيح]
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ (417-480ھ)، امام ابن حبان (1860) اور امام ابن الجارود (208) رحمہم اللہ نے ”صحیح“ کہا ہے۔
❀ یہ صحیح حدیث بین ثبوت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نماز میں رفع الیدین آخری دم تک کرتے رہے، کیونکہ اس رفع الیدین کا مشاہدہ کرنے والے صحابی سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے آخری حصہ میں ایمان لائے تھے، لہٰذا رفع الیدین کی منسوخیت کا دعویٰ خطا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ تمام کے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین رفع الیدین کرتے تھے، کیونکہ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے بلا استثنیٰ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا رفع الیدین بیان کیا ہے، جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[لم يستثن وائل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أحدا إذا صلوا مع النبي صلى الله عليه وسلم أنه لم يرفع يديه]
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے کسی صحابی کو مستثنیٰ کر کے یہ نہیں کہا کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ہو اور رفع الیدین نہ کیا ہو۔
[جزء رفع اليدين: 27/1]
نیز فرماتے ہیں:
[هذا وائل بين في حديثه أنه رأى النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه يرفعون أيديهم مرة بعد مرة]
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے اپنی حدیث میں واضح کر دیا ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو کئی بار رفع الیدین کرتے دیکھا ہے۔
[جزء رفع اليدين: 52/1]
کئی محدثینِ کرام رحمہم اللہ نے اس حدیث کو رفع الیدین کے طور پر پیش کیا ہے۔
② امام سعید بن جبیر تابعی رحمہ اللہ کے بارے میں ہے:
[إنه سئل عن رفع اليدين في الصلاة، فقال هو شيء يزين به الرجل صلاته، كان أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يرفعون أيديهم في الافتتاح، وعند الركوع وإذا رفعوا رؤوسهم]
آپ رحمہ اللہ سے نماز میں رفع الیدین کے بارے میں سوال کیا گیا، تو فرمایا: یہ ایسا عمل ہے، جس کے ساتھ آدمی اپنی نماز کو مزین کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نماز کے آغاز، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا کرتے تھے۔
[السنن الكبرى للبيهقي: 75/2، وسنده صحيح]
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔
[المجموع شرح المهذب: 405/3]
سیدنا سعید بن جبیر تابعی رحمہ اللہ رفع الیدین کو نماز کی زینت و زیبائش قرار دے کر اسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا عمل قرار دے رہے ہیں۔ کسی صحابی کا عدمِ رفع الیدین ذکر نہیں کیا۔ یہ غور طلب مقام ہے کہ جو عمل نبی اکرم ﷺ کی وفات کے بعد بلا استثنیٰ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کر رہے ہوں، کیا وہ منسوخ ہوتا ہے؟
اسلامی بھائیو اور بہنو! ہم اس سنت سے محروم کیوں ہیں؟ ہماری نمازیں رفع الیدین جیسے حسن و زینت والے عمل سے خالی کیوں ہیں؟
اب ہم چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے رفع الیدین کا ثبوت پیش کرتے ہیں، ملاحظہ کیجیے!
① خلیفۂ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ:
صحابیِ رسول سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
[صليت خلف أبي بكر الصديق رضي الله عنه فكان يرفع يديه إذا افتتح الصلاة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع]
میں نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ آپ رضی اللہ عنہ نماز شروع کرتے، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے تھے۔
[السنن الكبرى للبيهقي: 107/2، وسنده صحيح]
امام بیہقی رحمہ اللہ نے اس کے تمام راویوں کو ’’ثقہ‘‘ قرار دیا ہے۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ:
مشہور تابعی، امام عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[صليت مع أبي هريرة فكان يرفع إذا كبر وإذا ركع، وإذا رفع رأسه]
میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ آپ رضی اللہ عنہ تکبیرِ تحریمہ کہتے، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے تھے۔
[جزء رفع اليدين للبخاري: 21/1، وسنده صحيح]
③ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما:
ابو حمزہ عمران بن ابی عطاء اسدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[رأيت ابن عباس، يرفع يديه إذا افتتح الصلاة، وإذا ركع، وإذا رفع رأسه من الركوع]
میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا۔ آپ نماز شروع کرتے، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے تھے۔
[مصنف ابن أبي شيبة: 212/1، وسنده حسن]
④ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما:
نافع مولیٰ ابن عمر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[إن ابن عمر، كان إذا دخل في الصلاة كبر ورفع يديه، وإذا ركع رفع يديه، وإذا قال سمع الله لمن حمده، رفع يديه، وإذا قام من الركعتين رفع يديه، ورفع ذٰلك ابن عمر إلى نبي الله صلى الله عليه وسلم]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز میں داخل ہوتے، تو اللہ اکبر کہتے اور رفع الیدین کرتے۔ جب رکوع جاتے، تو رفع الیدین کرتے۔ جب سمع اللہ لمن حمدہ کہتے، تو رفع الیدین کرتے اور جب دو رکعت کے بعد (تیسری رکعت کے لیے) اٹھتے، تو رفع الیدین کرتے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس عمل کو نبی اکرم ﷺ سے مرفوع بیان کیا ہے۔
[صحيح البخاري: 739]
تنبیہ:
❀ امام مجاہد بن جبر تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[صليت خلف ابن عمر رضي الله عنهما فلم يكن يرفع يديه إلا في التكبيرة الأولىٰ من الصلاة]
میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ آپ نماز کی صرف پہلی تکبیر میں رفع الیدین کرتے تھے۔
[شرح معاني الآثار: 225/1]
یہ روایت ابوبکر بن عیاش (ثقہ عند الجمهور) کا وہم اور خطا ہے۔
① امام احمد بن محمد بن ہانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[سئل (الإمام أحمد بن حنبل) عن حديث ابن عمر في الرفع؟ قال: رواه أبو بكر بن عياش، عن حصين، عن مجاهد، عن ابن عمر، وهو باطل]
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی رفع الیدین کے متعلق حدیث کے بارے میں سوال ہوا، تو فرمایا: اسے ابوبکر بن عیاش نے حصین عن مجاہد عن ابن عمر کی سند سے بیان کیا ہے اور یہ روایت باطل ہے۔
[موسوعة أقوال الإمام أحمد بن حنبل: 330/4]
② امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[حديث أبي بكر عن حصين، إنما هو توهم منه لا أصل له]
ابوبکر بن عیاش کی حصین سے بیان کردہ حدیث ان کا وہم ہے۔ اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔
[جزء رفع اليدين للبخاري: 17/1]
③ امام بخاری رحمہ اللہ اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں:
[كان صاحبه (أبو بكر بن عياش) قد تغير بأخرة]
اسے بیان کرنے والے (ابوبکر بن عیاش) کا آخری عمر میں حافظہ بگڑ گیا تھا۔
[جزء رفع اليدين: 71/1]
امام بخاری رحمہ اللہ کی تحقیق کے مطابق ابوبکر بن عیاش نے یہ حدیث حافظہ کی خرابی کے بعد بیان کی ہے۔
④ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[..من طعن الحفاظ في تلك الرواية]
محدثین نے اس روایت پر جرح کی ہے۔
[معرفة السنن والآثار: 435/2]
مزید فرماتے ہیں:
[ثم اختلط عليه حين ساء حفظه، فروىٰ ما قد خولف فيه، فكيف يجوز دعوى النسخ في حديث ابن عمر بمثل هٰذا الحديث الضعيف؟]
پھر جب ابوبکر بن عیاش کا حافظہ خراب ہوا، تو اس نے ایسی روایات بیان کیں، جن میں ثقہ راویوں کی طرف سے اس کی مخالفت کی گئی، لہٰذا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں نسخ کا دعویٰ اس جیسی ضعیف حدیث کی وجہ سے کیسے کیا جا سکتا ہے؟
[معرفة السنن والآثار: 428/2]
⑤ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[لا يصح ما حكوا لا عن عمر ولا عن علي ولا عن ابن عمر]
سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا علی، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے منسوب جو (عدمِ رفع الیدین) بیان کیا جاتا ہے، یہ ثابت نہیں۔
[التحقيق في مسائل الخلاف: 336/1]
❀ ابوبکر بن عیاش کے متعلق بہترین رائے امام ابن حبان رحمہ اللہ کی ہے، ملاحظہ فرمائیں:
[الصواب في أمره مجانبة ما علم أنه أخطأ فيه والاحتجاج بما يرويه سواء وافق الثقات أو خالفهم لأنه داخل في جملة أهل العدالة، ومن صحت عدالته لم يستحق القدح ولا الجرح إلا بعد زوال العدالة عنه بأحد أسباب الجرح، وهٰكذا حكم كل محدث ثقة صحت عدالته وتبين خطاؤه]
ابوبکر بن عیاش کے معاملے میں درست بات یہ ہے کہ ان کی جن روایات میں غلطی معلوم ہو جائے، ان سے اجتناب کیا جائے اور ان کی باقی روایات خواہ وہ ثقات کے موافق ہوں یا مخالف، ان سے حجت لی جائے، کیونکہ وہ بھی اہل عدالت میں شامل ہیں۔ جس راوی کی عدالت ثابت ہو جائے، وہ جرح و قدح کا مستحق نہیں ہے، مگر جب اس سے کسی سببِ جرح کے ساتھ عدالت زائل ہو جائے۔ یہی حکم ہر اس محدث کا ہے، جس کی عدالت ثابت ہو اور اس کی خطا واضح ہو جائے۔
[الثقات: 670/7]
محدثینِ کرام اور ائمۂ دین نے ابوبکر بن عیاش کی اس روایت کو خطا اور وہم قرار دیا ہے، لہٰذا اس روایت سے اجتناب کیا جائے گا۔
❀ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[لو تحقق حديث مجاهد أنه لم ير ابن عمر يرفع يديه لكان حديث طاوس، وسالم، ونافع، ومحارب بن دثار، وابن الزبير حين رأوه أولىٰ لأن ابن عمر رواه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يكن يخالف الرسول صلى الله عليه وسلم مع ما رواه أهل العلم من أهل مكة، والمدينة، واليمن، والعراق أنه كان يرفع يديه]
اگر مجاہد کی روایت ثابت بھی ہو جائے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو رفع الیدین کرتے نہیں دیکھا، تب بھی طاؤس، سالم، نافع، محارب بن دثار رحمہم اللہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی روایت ہی راجح ہو گی، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو رفع الیدین کرتے دیکھا ہے، کیونکہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے رفع الیدین رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا ہے، اس لیے آپ رضی اللہ عنہ رفع الیدین چھوڑ کر رسول اللہ ﷺ کی مخالفت نہیں کر سکتے۔ اس کے ساتھ ساتھ مکہ، مدینہ، یمن اور عراق کے اہل علم نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے رفع الیدین کرنا بیان کیا ہے۔
[جزء رفع اليدين، تحت الحديث: 27]
فائدہ جلیلہ:
نافع مولیٰ ابن عمر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[إن ابن عمر كان إذا رأىٰ رجلا لا يرفع يديه إذا ركع، وإذا رفع ، رماه بالحصىٰ]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب کسی آدمی کو دیکھتے کہ وہ رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین نہیں کرتا تو اسے کنکریوں کے ساتھ مارتے۔
[جزء رفع اليدين: 17/1، وسنده صحيح]
اس کی سند کو حافظ نووی رحمہ اللہ (المجموع: 405/3) اور حافظ ابن الملقن رحمہ اللہ (البدر المنير: 478/3) نے ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے۔
⑤ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ:
عاصم الاحول رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[رأيت أنس بن مالك رضي الله عنه إذا افتتح الصلاة كبر ورفع يديه ويرفع كلما ركع ورفع رأسه من الركوع]
میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ جب نماز شروع کرتے، تو اللہ اکبر کہہ کر رفع الیدین کرتے۔ اسی طرح جب بھی رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع الیدین کرتے تھے۔
[جزء رفع اليدين: 20/1]
⑥ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ:
ابوقلابہ تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[إنه رأىٰ مالك بن الحويرث إذا صلىٰ كبر ورفع يديه، وإذا أراد أن يركع رفع يديه، وإذا رفع رأسه من الركوع رفع يديه، وحدث أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صنع هٰكذا]
انہوں نے سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کو دیکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ جب نماز پڑھتے، تو اللہ اکبر کہتے اور رفع الیدین کرتے، جب رکوع کا ارادہ کرتے، تو رفع الیدین کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے، تو رفع الیدین کرتے اور بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
[صحيح البخاري: 737، صحيح مسلم: 391]
❀ علامہ سندھی حنفی رحمہ اللہ (1138ھ) اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
[ثم مالك بن الحويرث ووائل بن حجر ممن صلىٰ مع النبي صلى الله تعالىٰ عليه وسلم آخر عمره فروايتهما الرفع عند الركوع والرفع منه دليل علىٰ بقائه وبطلان دعوىٰ نسخه كيف وقد روىٰ مالك هٰذا جلسة الإستراحة، فحملوها علىٰ أنها كانت في آخر عمره في سن الكبر، فهي ليس مما فعلها النبي صلى الله تعالىٰ عليه وسلم قصدا، فلا يكون سنة، وهذا يقتضي أن يكون الرفع الذي رواه ثابتا لا منسوخا، لكونه في آخر عمره عندهم، فالقول بأنه منسوخ قريب من التناقض، وقد قال صلى الله تعالىٰ عليه وسلم لمالك هذا وأصحابه: ((صلوا كما رأيتموني أصلي))]
سیدنا مالک بن حویرث اور سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہما، جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ عمر کے آخری حصہ میں نماز ادا کی، ان دونوں کی رکوع جاتے ہوئے رفع الیدین کرنے والی روایات رفع الیدین کے باقی رہنے کی دلیل ہیں اور اس کے منسوخ ہونے کے دعویٰ کو باطل قرار دیتی ہیں۔ اسی صحابی سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے جلسۂ استراحت (دونوں سجدوں کے بعد دوسری یا چوتھی رکعت کے لیے اٹھنے سے پہلے رسول اکرم ﷺ کا تھوڑا سا بیٹھنا) بیان کیا، تو احناف نے اسے آپ کے بڑھاپے اور آخری عمر پر محمول کیا اور کہا کہ یہ کام نبی ﷺ نے قصداً نہیں کیا (بڑھاپے کی کمزوری کی بنا پر کیا ہے)، لہٰذا یہ سنت نہیں ہو سکتا۔ یہ بات تو تقاضا کرتی ہے کہ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے دوسری بار جو رفع الیدین بیان کیا ہے، وہ ثابت ہے، منسوخ نہیں، کیونکہ وہ احناف کے ہاں بھی آپ ﷺ کی عمرِ مبارک کے آخری حصہ میں تھا۔ اسے منسوخ کہنا، تو تناقض ہے۔ پھر یہ بات بھی مدِ نظر رہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسی صحابی سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے فرمایا تھا کہ نماز اس طرح پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے ہوئے تم نے دیکھا ہے۔
[حاشية السندي على النسائي: 123/2]
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ 9ھ میں نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور چند دن قیام کیا، نماز کا طریقہ سیکھا اور واپس چلے گئے۔ یہ نبی کریم ﷺ کی عمر کے آخری ایام ہیں۔ صحابیِ رسول کا رفع الیدین بیان کرنا آخری عمل ہونے کی دلیل ہے۔ جیسا کہ علامہ سندھی کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے۔
⑦ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما:
ابوالزبیر، محمد بن مسلم بن تدرس مکی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[إن جابر بن عبد الله، كان إذا افتتح الصلاة رفع يديه، وإذا ركع، وإذا رفع رأسه من الركوع فعل مثل ذٰلك، ويقول رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فعل مثل ذٰلك]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما جب نماز شروع کرتے تو رفع الیدین کرتے، جب رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو اسی طرح رفع الیدین کرتے اور کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
[سنن ابن ماجه: 868، وسنده صحيح]
❀ ابوالزبیر محمد بن مسلم بن تدرس تابعی رحمہ اللہ اگرچہ ’مدلس‘ ہیں، لیکن انہوں نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔
[مسند السراج: 92]
اب غور فرمائیں کہ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد ایک تابعی سیدنا جابر صحابیِ رسول کو رفع الیدین کرتے دیکھ رہے ہیں اور صحابیِ رسول اسے نبی اکرم ﷺ کا عملِ مبارک بتا رہے ہیں، اگر نبی کریم ﷺ نے اسے چھوڑ دیا تھا، تو صحابہ کرام آپ کی وفات کے بعد اس پر کاربند کیوں؟
⑧ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ:
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
[هل أريكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فكبر ورفع يديه، ثم كبر ورفع يديه للركوع، ثم قال: سمع الله لمن حمده، ثم رفع يديه، ثم قال: هكذا فاصنعوا، ولا يرفع بين السجدتين]
کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہا اور رفع الیدین کیا، پھر اللہ اکبر کہا اور رکوع کے لیے رفع الیدین کیا، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہا اور رفع الیدین کیا، پھر فرمایا: آپ بھی ایسا ہی کریں! سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ دو سجدوں کے درمیان رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔
[سنن الدارقطني: 47/2، ح: 1124، وسنده صحيح]
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[رجاله ثقات]
اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں۔
[التلخيص الحبير: 219/1]
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد رفع الیدین کر رہے ہیں، رفع الیدین والی نماز کو رسول اللہ ﷺ کی نماز قرار دے رہے ہیں، ہمیں بھی رفع الیدین کرنے کا حکم دے رہے ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جہاں آپ ﷺ کو رفع الیدین کرتے دیکھا، وہاں کیا، جہاں نہیں دیکھا، وہاں نہیں کیا۔
⑨ سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ:
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں نماز پڑھ کر دکھائی، نماز شروع کرتے وقت، رکوع جاتے، رکوع سے سر اٹھاتے اور دور کعتوں سے اٹھتے وقت رفع الیدین کیا، تو دس صحابہ کرام نے کہا:
[صدقت، هٰكذا صلى النبي صلى الله عليه وسلم]
آپ نے سچ فرمایا، نبی کریم ﷺ اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔
[سنن أبي داؤد: 730، سنن الترمذي: 305، وسنده صحيح]
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ’’حسن صحیح‘‘ کہا ہے، امام ابو حاتم رازی (علل الحديث لابن أبي حاتم: 390/2)، امام ابن خزیمہ (587)، امام ابن الجارود (192)، امام ابن حبان (1865) اور حافظ خطابی رحمہ اللہ (معالم السنن: 194/1) نے اس حدیث کو ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے۔ حافظ نووی رحمہ اللہ (خلاصة الأحكام: 353/1) نے بھی اس کو ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
[حديث أبي حميد هٰذا حديث صحيح متلقىٰ بالقبول لا علة له وقد أعله قوم بما برآه الله وأئمة الحديث منه ونحن نذكر ما عللوه به ثم نبين فساد تعليلهم وبطلانه بعون الله]
یہ حدیث صحیح ہے، اسے امت نے صحت و عمل کے لحاظ سے قبول کیا ہے، اس میں کوئی علت نہیں، ہاں! اسے ایک قوم (احناف) نے ایسی علت کے ساتھ معلول کہا ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے اسے اور ائمہ حدیث کو بری کر دیا ہے، ہم ان کی بیان کردہ علتوں کو ذکر کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ کی توفیق اور مدد سے ان کا فاسد و باطل ہونا بیان کریں گے۔
[عون المعبود وحاشية ابن القيم: 295/2]
امام ابو عبداللہ، محمد بن یحییٰ ذہلی رحمہ اللہ (258ھ) فرماتے ہیں:
جو آدمی یہ حدیث سن لے اور پھر رکوع سے پہلے اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد رفع الیدین نہ کرے، اس کی نماز ناقص ہے۔
[صحيح ابن خزيمة: 298/1، وسنده صحيح]
⑩ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما:
امام ابو اسماعیل محمد بن اسماعیل سلمی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
میں نے ابو النعمان محمد بن فضل رحمہ اللہ کی اقتدا میں نماز پڑھی، انہوں نے نماز شروع کرتے وقت، رکوع جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا، میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا، میں نے امام حماد بن زید رحمہ اللہ کی اقتدا میں نماز پڑھی، انہوں نے نماز شروع کرتے وقت، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا، میں نے ان سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا، میں نے امام ایوب سختیانی رحمہ اللہ کی اقتدا میں نماز پڑھی، وہ نماز شروع کرتے، رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے تھے، میں نے پوچھا تو آپ نے فرمایا، میں نے امام عطاء بن ابی رباح کی اقتدا میں نماز پڑھی، وہ نماز شروع کرتے، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے تھے، میں نے جب آپ سے اس بارے میں سوال کیا تو امام عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ نے فرمایا، میں نے (صحابیِ رسول) سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی اقتدا میں نماز پڑھی، آپ رضی اللہ عنہ نماز شروع کرتے، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے تھے، امام عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں، میں نے رفع الیدین کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے (اپنے نانا) سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز ادا کی، آپ رضی اللہ عنہ نماز شروع کرتے، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے تھے اور (خلیفۂ اول) سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے رسولِ کریم ﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھی، آپ ﷺ نماز شروع کرتے، رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین فرماتے تھے۔
[السنن الكبرى للبيهقي: 73/2، وسنده صحيح]
خود امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[رواته ثقات]
اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ (المهذب في اختصار السنن الكبير: 49/2) اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (التلخيص الحبير: 219/1) نے اس حدیث کے راویوں کو ’’ثقہ‘‘ قرار دیا ہے۔
قارئینِ کرام! اس سنہری کڑی پر غور کریں، تو ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور تابعین عظام نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد رفع الیدین کرتے تھے، اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی اس سنت کو اپنانے کی توفیق سے نوازے، آمین!
تنبیہ:
ایک روایت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ الفاظ ہیں:
[إن عليا كان يرفع يديه إذا افتتح الصلاة، ثم لا يعود]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نماز شروع کرتے رفع الیدین کرتے تھے، پھر دوبارہ نہ کرتے۔
[مصنف ابن أبي شيبة: 236/1، شرح معاني الآثار للطحاوي: 225/1]
تبصرہ:
محدثین اور ائمۂ دین نے اس روایت کو غیر ثابت اور ’’ضعیف‘‘ قرار دیا ہے، جیسا کہ:
① امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[لا يثبت]
یہ حدیث ثابت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي: 81/2]
② امام دارمی رحمہ اللہ
نے اس روایت کو ’’الواہی‘‘ (کمزور) قرار دیا ہے۔
[السنن الكبرى للبيهقي: 80/2]
③ حافظ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[تضعيفه ممن ضعفه البخاري]
یہ ضعیف ہے۔ اس کو ضعیف کہنے والوں میں امام بخاری رحمہ اللہ بھی ہیں۔
[المجموع شرح المهذب: 401/3]
④ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
[لا يصح(یہ ثابت نہیں)]
[التحقيق في مسائل الخلاف: 332/1]
⑤ حافظ ابن الملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[ضعيف، لا يصح]
یہ روایت ضعیف ہے، ثابت نہیں۔ [البدر المنير: 478/3]
متقدمین ائمہ میں سے کسی نے اسے صحیح قرار نہیں دیا۔ بعض متاخرین کا اس کو ”حسن“ یا ”صحیح“ قرار دینا درست نہیں، کیونکہ حدیث کی علتوں سے ائمہ حدیث ہی واقف تھے۔
❀امام طحاوی حنفی رحمہ اللہ نے اس روایت کی بنا پر رفع الیدین کی منسوخیت کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے ردو جواب میں علامہ عبدالحی لکھنوی حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
[فيه نظر، فقد يجوز أن يكون ترك علي وكذا ترك ابن مسعود، وترك غيرهما من الصحابة إن ثبت عنهم، لأنهم لم يروا الرفع سنة مؤكدة يلزم الأخذ بها ولا ينحصر ذٰلك في النسخ، بل لا يعتبر بنسخ أمر ثابت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم بمجرد حسن الظن بالصحابي مع إمكان الجمع بين فعل الرسول وفعله]
یہ بات محلِ نظر ہے۔ اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ و غیرہما سے رفع الیدین چھوڑنا ثابت بھی ہو، تو ممکن ہے کہ وہ اس لیے ہو کہ وہ رفع الیدین کو سنتِ مؤکدہ نہ سمجھتے ہوں جسے کرنا ضروری ہو۔ اس سے نسخ ثابت نہیں ہوتا، بلکہ رسول اکرم ﷺ سے ثابت امر کو صرف صحابی کے ساتھ حسنِ ظن کرتے ہوئے منسوخ نہیں سمجھا جا سکتا، خصوصاً جب رسول اللہ ﷺ اور صحابی کے فعل میں تطبیق بھی ہو سکتی ہو۔
[التعليق الممجد: 389/1]
جناب لکھنوی کی مراد یہ ہے کہ بالفرض بعض صحابہ سے رفع الیدین چھوڑنا ثابت بھی ہو، تو اس سے رفع الیدین کی منسوخیت کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ صحابہ کرام نے اسے یہ سمجھتے ہوئے چھوڑا ہو کہ ہر نماز میں ایسا کرنا فرض نہیں۔ وہ اسے مستحب سمجھتے ہوں اور مستحب امر کو کبھی چھوڑا بھی جا سکتا ہے۔ اس سے رفع الیدین کا منسوخ ہونا ثابت نہیں ہوتا۔
ہم کہتے ہیں کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہما سے ترکِ رفع الیدین ثابت ہی نہیں، تو دعویٰ نسخ بالکل دوسری بات ہے۔ بعض حضرات اس روایت کا مرفوع ہونا بھی بیان کرتے ہیں۔
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[اختلف عن أبي بكر النهشلي، فرواه عبد الرحيم بن سليمان عنه، عن عاصم بن كليب، عن أبيه، عن علي، عن النبي صلى الله عليه وسلم ووهم في رفعه وخالفه جماعة من الثقات]
ابوبکر نہشلی سے اس روایت کو بیان کرنے میں (راویوں کی طرف سے) اختلاف واقع ہوا ہے۔ عبدالرحیم بن سلیمان نے اس روایت کو ابوبکر سے عاصم بن کلیب عن ابیہ عن علی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے بیان کیا ہے۔ اس روایت کو مرفوع بیان کرنے میں اسے وہم ہوا ہے اور ثقہ راویوں کی ایک جماعت نے اس روایت میں اس کی مخالفت کی ہے۔
[العلل: 106/4]
مزید یہ روایت ”معضل“ بھی ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ اور عبدالرحیم بن سلیمان کے درمیان دو یا تین واسطے گرے ہوئے ہیں۔ اس کے خلاف مرفوع حدیث بھی ثابت ہے۔
تنبیہ:
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[كان عبد الله لا يرفع يديه في شيء من الصلاة إلا في الافتتاح]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ صرف نماز کے آغاز (تکبیرِ تحریمہ) میں رفع الیدین کرتے تھے۔
[مصنف ابن أبي شيبة: 236/1، شرح معاني الآثار: 227/1]
تبصرہ:
اس کی سند ”ضعیف“ ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ اس اثر کے بارے میں فرماتے ہیں:
[لا يثبت]
یہ ثابت نہیں ہے۔
[السنن الكبرى للبيهقي: 81/2]
امام نخعی ”مدلس“ ہیں۔ (طبقات المدلسین : 28)، سماع کی صراحت نہیں کی۔ نیز یہ سند سخت ”منقطع“ ہے، کیونکہ امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی وفات 32 یا 33 ہجری کو ہوئی، جبکہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ 46 ہجری کو پیدا ہوئے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[أصل قوله إن إبراهيم لو روى عن علي وعبد الله لم يقبل منه، لأنه لم يلق واحدا منهما]
ہماری دلیل یہ ہے کہ ابراہیم اگر سیدنا علی وسیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے بیان کریں، تو قبول نہیں ہے، کیونکہ ان کی دونوں صحابہ میں سے کسی سے بھی ملاقات نہیں ہے۔
[إختلاف الحديث: 635/8]
حافظ ابن الملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[إبراهيم النخعي لم ير ابن مسعود ، والحديث منقطع]
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھا، یہ حدیث منقطع ہے۔
[البدر المنير: 478/3]
حافظ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[رواية إبراهيم عن عبد الله منقطعة، لا شك فيها]
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت منقطع ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔
[السنن الكبرى: 76/8]
بلکہ امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے کسی بھی صحابی سے سماع نہیں کیا، جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ان کو طبقہ خامسہ میں ذکر کیا ہے۔
[تقريب التهذيب: 270]
اس طبقہ کے راویوں کا کسی بھی صحابی سے سماع ثابت نہیں ہوتا۔
فائدہ:
اعمش رحمہ اللہ کہتے ہیں:
[قلت لإبراهيم: إذا حدثت فأسند، قال: إذا قلت لك: قال عبد الله، فلم أقل ذٰلك حتىٰ حدثنيه عن عبد الله غير واحد، وإذا قلت: حدثني فلان، عن عبد الله، فهو الذي حدثني]
میں نے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے کہا: جب آپ (مجھے) حدیث بیان کریں، تو سند بھی ذکر کر دیا کریں، تو ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: جب میں بیان کروں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو یہ میں اس وقت کہتا ہوں، جب کئی ایک راویوں نے مجھے عبداللہ بن مسعود سے بیان کیا ہو۔ اور جب میں کہوں کہ مجھے فلاں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے، تو مجھے اسی نے بیان کیا ہوتا ہے۔
[شرح مشكل الآثار للطحاوي: 519/14]
سند ضعیف ہے۔ امام طحاوی رحمہ اللہ نے اس سند میں شک کا اظہار کیا ہے۔
اس قول کو صحیح بھی مان لیا جائے، تب بھی اس سے مراسیلِ ابراہیم نخعی کا صحیح ہونا ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب میں (قال عبداللہ) کہوں، تو مجھے کئی ایک راویوں نے بیان کیا ہوتا ہے۔ اب یہ ”کئی ایک راوی“ نامعلوم ہیں۔ جب تک ان کی صراحت نہ ہو جائے، صحیح کا حکم نہیں لگایا جا سکتا۔
تنبیہ:
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ﴿خَاشِعُونَ﴾ (المؤمنون: 2) کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
[مخبتون متواضعون، لا يلتفتون يمينا ولا شمالا، ولا يرفعون أيديهم في الصلاة]
عاجزی اور تواضع کرنے والے، نہ دائیں بائیں التفات کرتے ہیں اور نہ نماز میں اپنے ہاتھ اٹھاتے ہیں۔
[تفسیر ابن عباس: 284/1]
تبصرہ:
موضوع روایت ہے۔
یہ تفسیر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف جھوٹی منسوب ہے۔ اس کا راوی محمد بن سائب کلبی باتفاقِ محدثین ”متروک“ اور ”کذاب“ ہے۔
اسود تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[رأيت عمر بن الخطاب رضي الله عنه يرفع يديه في أول تكبيرة ثم لا يعود]
میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا، آپ رضی اللہ عنہ نے پہلی تکبیر کے وقت رفع الیدین کیا، دوبارہ نہ کیا۔
[مصنف ابن أبي شيبة: 237/1، شرح معاني الآثار للطحاوي: 227/1]
تبصرہ:
یہ روایت ”ضعیف“ ہے۔ اس میں ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کی ”تدلیس“ موجود ہے۔ سماع کی تصریح ثابت نہیں، لہذا نا قابلِ قبول ہے۔ بعض الناس کو یہ روایت مفید بھی نہیں، کیونکہ وہ قنوتِ وتر اور عیدین کی تکبیرات میں رفع الیدین کر کے خود اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ تضاد کیوں ہے؟
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[هٰذه رواية شاذة لا تقوم بها الحجة]
یہ روایت شاذ ہے، اس سے دلیل نہیں لی جا سکتی۔
[الخلافيات للبيهقي، تحت الحديث: 1748]
خوب یاد رہے کہ کسی صحابی سے رفع الیدین چھوڑنا ثابت نہیں، بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اس کے قائل و فاعل تھے۔
آخر میں امام بخاری رحمہ اللہ کا پیغام ملاحظہ ہو، آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[من زعم أن رفع الأيدي بدعة فقد طعن في أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والسلف، ومن بعدهم، وأهل الحجاز، وأهل المدينة، وأهل مكة، وعدة من أهل العراق، وأهل الشام، وأهل اليمن، وعلماء أهل خراسان منهم ابن المبارك حتىٰ شيوخنا عيسى بن موسى أبو أحمد، وكعب بن سعيد، والحسن بن جعفر، ومحمد بن سلام إلا أهل الرأي منهم وعلي بن الحسن، وعبد الله بن عثمان، ويحيىٰ بن يحيىٰ، وصدقة، وإسحاق، وعامة أصحاب ابن المبارك، وكان الثوري، ووكيع، وبعض الكوفيين لا يرفعون أيديهم، وقد رووا في ذٰلك أحاديث كثيرة، ولم يعنفوا علىٰ من رفع يديه، ولولا أنها حق ما رووا تلك الأحاديث لأنه ليس لأحد أن يقول علىٰ رسول الله صلى الله عليه وسلم ما لم يقل، وما لم يفعل]
جس شخص نے رفع الیدین کو بدعت کہا، اس نے صحابہ کرام، سلف صالحین اور ان کے بعد والے اہل حجاز، اہل مدینہ، اہل مکہ، اہل عراق میں سے بہت سے لوگوں، اہل شام، اہل یمن اور اہل رائے کے علاوہ علمائے خراسان کو جن میں امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ ہیں حتیٰ کہ ہمارے شیوخ عیسیٰ بن موسیٰ ابو احمد، کعب بن سعید، حسن بن جعفر، محمد بن سلام، علی بن حسن، عبداللہ بن عثمان، یحییٰ، صدقہ، اسحاق اور امام ابن مبارک کے اکثر شاگردوں سب پر طعن کی ہے۔ امام سفیان ثوری اور امام وکیع بن جراح اور بعض کوفی لوگ رفع الیدین نہیں کرتے تھے، لیکن انہوں نے بھی رفع الیدین کرنے کے بارے میں بہت سی روایات بیان کی ہیں اور رفع الیدین کرنے والوں پر کوئی طعن نہیں کی۔ اگر رفع الیدین والی احادیث ثابت نہ ہوتیں تو وہ انہیں بیان نہ کرتے، کیونکہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ ایسی بات رسول اللہ ﷺ سے منسوب کرے جو آپ ﷺ کے قول وفعل سے ثابت نہیں۔ [جزء رفع اليدين: 54/1]
خوب یاد رہے کہ امام سفیان ثوری اور امام وکیع بن جراح سے بھی باسندِ صحیح رفع الیدین کا چھوڑنا ثابت نہیں۔
عطیہ عوفی کہتا ہے:
[إن أبا سعيد الخدري وابن عمر كانا يرفعان أيديهما أول ما يكبران ثم لا يعودان]
سیدنا ابو سعید خدری اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم پہلی تکبیر کے وقت رفع الیدین کرتے تھے، دوبارہ نہ کرتے۔
[الخلافيات للبيهقي: 1750]
تبصرہ:
سند سخت ”ضعیف“ ہے۔ سوار بن مصعب اور عطیہ عوفی سخت ترین ”ضعیف“ ہیں۔
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[هٰذا خبر لا يستحل الاحتجاج به من يرجع إلىٰ أدنىٰ معرفة بالرجال]
علمِ رجال کی ادنیٰ معرفت رکھنے والے کے لیے اس روایت سے حجت پکڑنا جائز نہیں۔
[الخلافيات للبيهقي، تحت الحديث: 1750]
الحاصل:
کسی صحابی سے باسندِ صحیح رفع الیدین کا ترک ثابت نہیں، والحمد للّٰہ!