پانچوں نمازوں کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
أرأيتم لو أن نهرا بباب أحدكم يغتسل منه كل يوم خمس مرات، هل يبقى من درنه شيء؟
”مجھے بتاؤ اگر تم میں سے کسی کے دروازے کے سامنے سے نہر گزرتی ہو اور وہ اس سے ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو تو کیا اس پر کوئی میل کچیل باقی رہ جائے گی؟“
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا، اس پر کوئی میل کچیل باقی نہیں رہے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فكذلك مثل الصلوات الخمس يمحو الله بهن الخطايا
”پس پانچ نمازوں کی مثال اسی طرح ہے، اللہ ان کے ذریعے خطائیں معاف کر دیتا ہے“۔
بخاری، کتاب مواقيت الصلوة 528۔ مسلم 667۔ ترمذی، كتاب الامثال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 2868۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الصلوات الخمس، والجمعة إلى الجمعة، ورمضان إلى رمضان، مكفرات لما بينهن إذا اجتنب الكبائر
”پانچوں نمازیں جمعہ (دوسرے) جمعہ تک، رمضان (دوسرے) رمضان تک کے عرصے میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہیں بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے بچا جائے“۔
مسلم، كتاب الطهارة 233۔ ترمذی، كتاب الصلوة 214۔
③ بنو کنانہ کے مخدجی نامی ایک شخص سے روایت ہے، اس نے شام میں ابو محمد نامی شخص کو کہتے ہوئے سنا: وتر واجب ہے۔ مخدجی بیان کرتے ہیں، میں نے عبادہ رضی اللہ عنہ کی طرف کوچ کیا اور ابو محمد نے جیسے کہا تھا ویسے انہیں بتایا۔ تو انہوں نے کہا: ابو محمد نے غلط کہا ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
خمس صلوات كتبهن الله على العباد فمن جاء بهن ولم يضيع منهن شيئا استخفافا بحقهن كان له عند الله عهد أن يدخله الجنة، ومن لم يأت بهن فليس له عند الله عهد، إن شاء عذبه وإن شاء أدخله الجنة
”اللہ نے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، پس جو شخص انہیں اپنے نامہ اعمال میں لے کر آئے گا اور انہیں ہلکا جان کر ان کے حق میں کسی قسم کی کمی نہیں کرے گا تو ایسے شخص کے لیے اللہ کے ہاں عہد ہے کہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ اور جو شخص انہیں لے کر نہیں آئے گا تو اس کے لیے اللہ کے ہاں کوئی عہد نہیں، اگر چاہے تو اسے عذاب میں مبتلا کر دے اور اگر چاہے تو اسے جنت میں داخل کر دے“۔
ابوداؤد، کتاب الصلوة 1407۔ موطا 123/1۔ النسائی 230/1، روایت صحیح ہے۔
نماز صبح اور نماز عصر کے متعلق احکامات
① سیدنا ابوزہیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
لا يلج النار أحد صلى قبل طلوع الشمس وقبل غروبها
”جو شخص طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب سے پہلے (یعنی فجر اور عصر کی) نماز پڑھتا ہے وہ جہنم میں داخل نہیں ہوگا“۔
مسلم، كتاب المساجد و مواضع الصلوة 634۔ ابوداؤد، كتاب الصلوة 427۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يتعاقبون فيكم ملائكة بالليل وملائكة بالنهار ويجتمعون فى صلاة الفجر وصلاة العصر ثم يعرج الذين باتوا فيكم فيسألهم ربهم وهو أعلم بهم كيف تركتم عبادي فيقولون: تركناهم وهم يصلون وأتيناهم وهم يصلون
”کچھ فرشتے رات کو اور کچھ دن کو یکے بعد دیگرے تمہارے پاس آتے ہیں، پس وہ نمازِ فجر اور نمازِ عصر کے وقت جمع ہوتے ہیں، پھر جو فرشتے رات کو تمہارے پاس رہے جب وہ آسمان پر جاتے ہیں تو ان کا رب ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ خود اپنے بندوں سے خوب واقف ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ جواب دیتے ہیں: ہم نے انہیں نماز پڑھتے چھوڑا ہے اور جب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تو بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے“۔
بخاری، كتاب مواقيت الصلوة 555۔ مسلم، كتاب المساجد و مواضع الصلوة 632۔
③ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھا تو فرمایا:
إنكم سترون ربكم كما ترون هذا القمر لا تضامون فى رؤيته، فإن استطعتم أن لا تغلبوا على صلاة قبل طلوع الشمس وقبل غروبها فافعلوا
”یقینا تم اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے جیسے تم اس چاند کو دیکھ رہے ہو، تمہیں اسے دیکھنے میں کوئی دقت نہیں ہوگی، اگر تم استطاعت رکھو کہ تم نمازِ فجر اور نمازِ عصر سے مغلوب نہ ہو جاؤ تو پھر ضرور اس پر عمل کرو“۔
بخاری، كتاب السنة 554۔ مسلم، كتاب المساجد و مواضع الصلوة 633۔ ابوداؤد، کتاب السنة 4729۔
④ سیدنا جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صلى الصبح فهو فى ذمة الله، فانظر يا ابن آدم لا يطلبنك الله من ذمته بشيء
”جو شخص نمازِ صبح ادا کرتا ہے وہ اللہ کے ذمے میں ہے۔ اے ابنِ آدم! غور کرو، اللہ اپنے ذمے کے بارے میں تجھ سے کسی چیز کا مطالبہ نہ کرے“۔
مسلم، کتاب المساجد و مواضع الصلوة 657۔ ترمذی، کتاب الصلوة 222۔
⑤ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من ترك صلاة العصر حبط عمله
”جس شخص نے نمازِ عصر ترک کر دی اس کا عمل برباد ہو گیا“۔
بخاری، کتاب مواقيت الصلوة 553۔ ابن ماجه، كتاب الصلوة 694۔