کتاب الزکوٰۃ والصدقات
زکوٰۃ اور صدقہ ادا کرنے کے فضائل
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فَإِذَا انسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾
”پس جب امن کے چار مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو جہاں پاؤ قتل کرو، اور انہیں گرفتار کر لو اور انہیں گھیر لو، اور ہر گھات میں لگنے کی جگہ پر ان کی تاک میں بیٹھے رہو، پس اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو، بے شک اللہ بڑا معاف کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔“
(9-التوبة:5)
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان حدِ فاصل نماز و زکوٰۃ کو قرار دیا ہے، یعنی اگر مشرکین اسلام قبول کر لیں، نماز پڑھنے لگیں اور زکوٰۃ دینے لگیں تو پھر انہیں قتل نہیں کیا جائے گا۔ اس لیے کہ وہ مسلمان ہو گئے ہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مانعینِ زکوٰۃ کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تھا۔
مزید ارشاد فرمایا:
﴿وَمَا آتَيْتُم مِّن رِّبًا لِّيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُو عِندَ اللَّهِ ۖ وَمَا آتَيْتُم مِّن زَكَاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ.﴾
”اور تم لوگ جو سود دیتے ہو، تاکہ لوگوں کے اموال میں اضافہ ہو جائے تو وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا، اور تم لوگ جو زکوٰۃ دیتے ہو اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے، ایسے ہی لوگ اُسے کئی گنا بڑھانے والے ہیں۔“
(30-الروم:39)
اس آیتِ مقدسہ میں اللہ رب العزت نے شاندار انداز سے زکوٰۃ اور سود کی وضاحت کر دی کہ بظاہر تو سود سے مال میں بڑھوتی نظر آتی ہے اور زکوٰۃ سے مال میں کمی ہوتی نظر آتی ہے، لیکن درحقیقت سود آخرت میں انتہائی خسارے کا سبب، اور زکوٰۃ نجات کا پیش خیمہ ثابت ہوگی، کیونکہ اصل حقیقت سے اللہ تعالیٰ ہی واقف ہے کہ کون سی شئے مفید ہے اور کون سی شئے مضر۔
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: بني الإسلام على خمس: شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، وحج البيت، وصوم رمضان .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ ➊ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ ➋ نماز قائم کرنا۔ ➌ زکوٰۃ ادا کرنا۔ ➍ بیت اللہ کا حج کرنا اور ➎ رمضان کے روزے رکھنا۔“
صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب دعاؤکم ایمانکم، رقم: 8۔ صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان ارکان الاسلام، رقم: 16۔
عن أبى هريرة، رضى الله عنه قال: لما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكان أبو بكر رضي الله عنه، وكفر من كفر من العرب، فقال عمر رضي الله عنه: فكيف تقاتل الناس؟ وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله، فمن قالها، فقد عصم مني ماله ونفسه إلا بحقه، وحسابه على الله ؟ فقال أبو بكر: والله! لأقاتلن من فرق بين الصلاة والزكاة، فإن الزكاة حق المال والله لو منعوني عقالا كانوا يؤدونه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم لقاتلتهم على منعه، قال عمر رضي الله عنه: فوالله! ما هو إلا أن رأيت الله قد شرح صدر أبى بكر للقتال، فعرفت أنه الحق.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی، اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے اور عرب کے بعض قبیلے کافر (مرتد) ہو گئے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (ابوبکر رضی اللہ عنہ سے) کہا: آپ کیسے لوگوں سے لڑیں گے؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد کروں یہاں تک کہ وہ اللہ کی توحید کا (اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا) اقرار کر لیں۔ جس نے یہ اقرار کر لیا، اس نے اپنے مال اور اپنی جان کو سوائے حقِ اسلام کے، مجھ سے محفوظ کر لیا، اور اس کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔“
تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں ان لوگوں سے ضرور جہاد کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کریں گے، اس لیے کہ زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم، اگر یہ وہ اونٹ باندھنے والی رسی بھی، جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا کرتے تھے، مجھ سے روکیں گے تو اس کے روکنے پر میں ان سے جہاد کروں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! زیادہ دیر نہیں ہوئی، مگر مجھے یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے جہاد کے لیے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ کھول دیا ہے اور میں نے جان لیا کہ یہی (ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے) حق ہے۔“
صحیح بخاری، کتاب الزکاۃ، باب وجوب الزکاۃ، رقم: 1399، 1400۔ صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب الامر بقتال الناس… رقم: 20۔
عن ابن عباس، رضي الله عنهما أن النبى صلى الله عليه وسلم بعث معاذا إلى اليمن فقال: ادعهم إلى شهادة أن لا إله إلا الله، وأني رسول الله، فإن هم أطاعوا لذلك، فأعلمهم أن الله افترض عليهم خمس صلوات فى كل يوم وليلة، فإن هم أطاعوا لذلك، فأعلمهم أن الله افترض عليهم صدقة تؤخذ من أغنيائهم، وترد على فقرائهم .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا، تو فرمایا: ”انہیں (سب سے پہلے) اس بات کی دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اگر وہ یہ بات مان لیں تو ان کو بتلانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ پھر اگر وہ یہ بھی مان لیں تو ان کو بتلانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان کے مال داروں سے وصول کر کے ان کے فقراء پر تقسیم کی جائے گی۔“
صحیح بخاری، کتاب الزکاۃ، باب وجوب الزکاۃ، رقم: 1395۔ صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب الدعاء الی الشھادتین…، رقم: 121۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من صاحب إبل لا يؤدي زكاتها إلا بطح لها بقاع قرقر، كأوفر ما كانت، فتطؤه بأظلافها وتنطحه بقرونها، ليس فيها عقصاء ولا جلحاء، كلما مضى عليه أخراها ردت عليه أولاها، حتى يحكم الله بين عباده .
”جس شخص کے پاس اونٹ (گائے یا بکریاں) ہوں اور وہ ان کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، تو قیامت کے دن اس کے پاس ان کو لایا جائے گا وہ پہلے سے زیادہ موٹی تازی ہوں گی، وہ اسے اپنے پاؤں کے ساتھ روندیں گی، اور سینگوں کے ساتھ ماریں گی، جب ان میں آخری اس کو مارتے ہوئے گزر جائے گی تو پھر پہلی اسے روندنا شروع کرے گی، سزا کا یہ سلسلہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہونے تک جاری رہے گا۔“
صحیح مسلم، کتاب الزکوٰۃ، باب اثم مانع الزکاۃ، رقم: 987/26۔