تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ مَنْ يَّخْرُجْ مِنْۢ بَيْتِهٖ …:} اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو خلوص نیت سے ہجرت کرتے ہیں مگر راستے میں ان کا وقت آخر آجاتا ہے تو ان کا اجر اللہ پر ثابت ہو جاتا ہے، کیونکہ اصل مدار نیت پر ہے، جیسا کہ مشہور حدیث ہے: [إِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ] [بخاری، بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی …: ۱] ”تمام اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے۔“ چنانچہ خالد بن حزام رضی اللہ عنہ حبشہ کی طرف ہجرت کر کے نکلے، انھیں ایک سانپ نے ڈس لیا تو ان کے بارے میں یہ آیت اتری: «{ وَ مَنْ يَّخْرُجْ مِنْۢ بَيْتِهٖ }» [ابن أبی حاتم: 328/4، ح: ۵۸۸۸، حسن] سو آدمیوں کو قتل کر کے ہجرت کرنے والے شخص کا قصہ بھی اس کی دلیل ہے۔
➌ ہجرت کے معنی ہیں دارالحرب سے دار السلام کی طرف منتقل ہونا، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں فرض تھی اور اس کی فرضیت تا قیامت باقی ہے۔ جس ہجرت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے [لاَ هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ] (فتح کے بعد ہجرت نہیں) فرما کر منسوخ فرمایا ہے، وہ مکہ یا کسی بھی جگہ سے مدینہ کی طرف ہجرت تھی۔ اسی طرح اہل بدعت کی آبادی سے بھی ہجرت کرنی چاہیے، امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”کسی شخص کے لیے ایسے مقام پر رہنا جائز نہیں جہاں سلف کو گالیاں دی جاتی ہوں۔“ علی ہذا القیاس جس علاقے میں حلال روزی نہ ملتی ہو، یا دین میں فتنے کا خوف ہو وہاں سے بھی ہجرت کرنی چاہیے۔ (قرطبی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَنَا بَرِيْءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ يُقِيْمُ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِيْنَ] ”میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے درمیان مقیم ہو۔“ [أبو داوٗد، الجہاد، باب النھی عن قتل من اعتصم بالسجود: ۲۶۴۵]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[بخاری، کتاب الانبیاء باب ماذکر عن بنی اسرائیل]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مجاہد فرماتے ہیں وہ اپنے دکھ سے بچاؤ کی بہت سی صورتیں پالے گا، امن کے بہت سے اسباب اسے مل جائیں گے، دشمنوں کے شر سے بچ جائے گا اور وہ روزی بھی پائے گا گمراہی کی جگہ ہدایت اسے ملے گی اس کی فقیری تونگری سے بدل جائے۔
ارشاد ہوتا ہے جو شخص بہ نیت ہجرت اپنے گھر سے نکلا پھر ہجرت گاہ پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں اسے موت آ گئی اسے بھی ہجرت کا کامل ثواب مل گیا { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر عمل کا دارومدار نیت پر ہے اور ہرشخص کے لیے وہ ہے جو اس نے نیت کی پس جس کی ہجرت اللہ کی طرف اور اس کے رسول کی طرف ہو اس کی ہجرت اللہ کی رضا مندی اور رسول کی خوشنودی کا باعث ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہو تو اسے اصل ہجرت کا ثواب نہ ملے گا بلکہ اس کی ہجرت اسی طرف سمجھی جائے گی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:54] یہ حدیث عام ہے ہجرت وغیرہ تمام اعمال پر مشتمل ہے۔
رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں اس کے بارے میں اختلاف ہوا بحث یہ تھی کہ یہ شخص توبہ کر کے ہجرت کر کے مگر چلا تو سہی یہ وہاں پہنچا تو نہیں پھر انہیں حکم کیا گیا کہ وہ اس طرف کی اور اس طرف کی زمین ناپیں جس بستی سے یہ شخص قریب ہو اس کے رہنے والوں میں اسے ملا دیا جائے پھر زمین کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ بری بستی کی جانب سے دور ہو جا اور نیک بستی والوں کی طرف قریب ہو جا، جب زمین ناپی گئی تو توحید والوں کی بستی سے ایک بالشت برابر قریب نکلی اور اسے رحمت کے فرشتے لے گئے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3470]
ایک روایت میں ہے کہ { موت کے وقت یہ اپنے سینے کے بل نیک لوگوں کی بستی کی طرف گھسیٹتا ہوا گیا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2766]
سیدنا خالد بن خرام رضی اللہ عنہ ہجرت کر کے حبشہ کی طرف چلے لیکن راہ میں ہی انہیں ایک سانپ نے ڈس لیا اور اسی میں ان کی روح قبض ہو گئی ان کے بارے میں یہ آیت اتری۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں چونکہ ہجرت کر کے حبشہ پہنچ گیا اور مجھے ان کی خبر مل گئی تھی کہ یہ بھی ہجرت کر کے آ رہے ہیں اور میں جانتا تھا کہ قبیلہ بنو اسد سے ان کے سوا اور کوئی ہجرت کر کے آنے کا نہیں اور کم و بیش جتنے مہاجر تھے ان کے ساتھ رشتے کنبے کے لوگ تھے لیکن میرے ساتھ کوئی نہ تھا میں ان کا یعنی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا جو مجھے ان کی اس طرح کی اچانک شہادت کی خبر ملی تو مجھے بہت ہی رنج ہوا۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:5888/3:حسن]
یہ اثر بہت ہی غریب ہے، یہ بھی وجہ ہے کہ یہ قصہ مکے کا ہے اور آیت مدینے میں اتری ہے۔ لیکن بہت ممکن ہے کہ راوی کا مقصود یہ ہو کہ آیت کا حکم عام ہے گو شان نزول یہ نہ ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اور روایت میں ہے کہ سیدنا سعد بن ابی ضمرہ رضی اللہ عنہ جن کو آنکھوں سے دکھائی نہ دیتا تھا جب وہ آیت «إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ» ۱؎ [4-النساء:98] سنتے ہیں تو کہتے ہیں میں مالدار ہوں اور چارہ کار بھی رکھتا ہوں مجھے ہجرت کرنی چاہیئے چنانچہ سامان سفر تیار کر لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل کھڑے ہوئے لیکن ابھی تنعیم میں ہی تھے جو موت آ گئی ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:5890/3:ضعیف]
طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخض میری راہ میں غزوہ کرنے کے لیے نکلا صرف میرے وعدوں کو سچا جان کر اور میرے رسولوں پر ایمان رکھ کر بس وہ اللہ کی ضمانت میں ہے یا تو وہ لشکر کے ساتھ فوت ہو کر جنت میں پہنچے گا یا اللہ کی ضمانت میں واپس لوٹے گا اجر و غنیمت اور فضل رب لے کر۔ اگر وہ اپنی موت مر جائے یا مار ڈالا جائے یا گھوڑے سے گر جائے یا اونٹ پر سے گر پڑے یا کوئی زہریلا جانور کاٹ لے یا اپنے بستر پر کسی طرح فوت ہو جائے وہ شہید ہے۔ ‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:3418:ضعیف]
ابوداؤد میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ وہ جنتی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2499،قال الشيخ الألباني:ضعیف] بعض الفاظ ابوداؤد میں نہیں ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا في بيان الحثِّ على الهجرة والترغيب وبيان ما فيها من المصالح، فوعد الصادق في وعده أنَّ من هاجر في سبيله ابتغاء مرضاتِهِ أنه يَجِدُ مراغَماً في الأرض وسعة؛ فالمراغَم مشتملٌ على مصالح الدين، والسعة على مصالح الدنيا، وذلك أنَّ كثيراً من الناس يتوهَّم أنَّ في الهجرة شتاتاً بعد الألفة وفقراً بعد الغنى وذلاًّ بعد العزِّ وشدَّة بعد الرخاء، والأمر ليس كذلك؛ فإنَّ المؤمن ما دام بين أظهر المشركين؛ فدينُهُ في غاية النقص؛ لا في العبادات القاصرة عليه كالصلاة ونحوها، ولا في العبادات المتعدِّية كالجهاد بالقول والفعل وتوابع ذلك؛ لعدم تمكُّنه من ذلك، وهو بصدد أن يُفْتَنَ عن دينِهِ، خصوصاً إن كان مستضعفاً؛ فإذا هاجر في سبيل الله؛ تمكَّن من إقامة دين الله وجهاد أعداء الله ومراغمتهم؛ فإنَّ المراغمة اسم جامعٌ لكلِّ ما يحصُلُ به إغاظةٌ لأعداء الله من قول وفعل وكذلك يحصل له سعة في رزقه، وقد وقع كما أخبر الله تعالى.
واعْتَبِرْ ذلك بالصحابة رضي الله عنهم؛ فإنهم لما هاجروا في سبيل الله وتركوا ديارهم وأولادهم وأموالهم لله؛ كمل بذلك إيمانهم، وحصل لهم من الإيمان التامِّ والجهاد العظيم والنصرِ لدين الله ما كانوا به أئمة لمن بعدهم، وكذلك حصل لهم مما يترتب على ذلك من الفتوحات والغنائم ما كانوا به أغنى الناس، وهكذا كلُّ مَن فَعَلَ فعلَهم؛ حَصَلَ له ما حَصَلَ لهم إلى يوم القيامة.
ثم قال: {ومن يخرج من بيتِهِ مهاجراً إلى الله ورسولِهِ}؛ أي: قاصداً ربَّه ورضاه ومحبَّته لرسوله ونصراً لدين الله لا لغير ذلك من المقاصد. {ثم يدرِكْه الموتُ}: بقتل أو غيره، {فقد وَقَعَ أجرُهُ على الله}؛ أي: فقد حَصَلَ له أجرُ المهاجر الذي أدرك مقصودَه بضمان الله تعالى، وذلك لأنَّه نوى وجَزَمَ وحصل منه ابتداءٌ وشروعٌ في العمل؛ فمن رحمة الله به وبأمثاله أنْ أعطاهم أجْرَهم كاملاً، ولو لم يُكْمِلوا العمل، وَغَفَرَ لهم ما حصل منهم من التقصير في الهجرة وغيرها، ولهذا ختم هذه الآية بهذين الاسمين الكريمين، فقال: {وكان الله غفوراً رحيماً}: يغفر للمؤمنين ما اقترفوه من الخطيئاتِ، خصوصاً التائبين المنيبين إلى ربهم، رحيماً بجميع الخلق رحمةً أوجدتهم وعافتْهم ورزقتْهم من المال والبنين والقوَّة وغير ذلك، رحيماً بالمؤمنين؛ حيث وفَّقهم للإيمان، وعلَّمهم من العلم ما يحصُلُ به الإيقان، ويَسَّرَ لهم أسبابَ السعادة والفلاح، وما به يدركونَ غايةَ الأرباح، وسيرون من رحمته وكرمِهِ ما لا عينٌ رأت ولا أذنٌ سمعت ولا خطر على قلب بشر. فنسأل الله أن لا يحرِمَنا خيره بشرِّ ما عندنا.