نماز کے بعد مسنون اذکار
نمازی کے لیے سلام پھیرنے کے بعد اونچی آواز سے الله أكبر کہنا چاہیے ، پھر وہ تین مرتبہ، أستغفر الله کہے ۔ اور پھر یہ دعائیں پڑھنا مسنون ہیں ۔
صحیح بخارى، كتاب الأذان، باب الذكر بعد الصلاة، رقم : 841، 842۔ صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب الذكر بعد الدعاء، رقم: 583 .
➊اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ
”اے اللہ ! تو سلامتی والا ہے اور تجھ سے ہی سلامتی حاصل ہوتی ہے، تو بڑا ہی بابرکت ہے اے عظمت و بزرگی والے ۔“
صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب استحباب الذكر بعد الصلاة، رقم: 1334 .
➋ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ
”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اس کے لیے سب تعریفیں ہیں اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ ! جو کچھ تو دے اس کا کوئی روکنے والا نہیں ، اور جو تو روک لے اس کا کوئی دینے والا نہیں اور کسی دولت مند کو اس کی دولت تیرے عذاب سے فائدہ نہ دے گی۔“
صحيح مسلم، کتاب المساجد، رقم: 13384.
➌ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: اے معاذ! اللہ کی قسم ! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( جب تو مجھ سے محبت رکھتا ہے تو میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ ) ہر ( فرض ) نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا نہ چھوڑنا:
رَبِّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
”اے میرے رب ! ذکر کرنے ، شکر کرنے اور اچھی عبادت کرنے میں میری مدد کر۔“
سنن النسائي الكبرى، كتاب الصلاة ، رقم: 1226 – مستدرك حاكم: 273/1 و 273/3، 274 ۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے، اور ذہبی نے اس کی موافقت کی ہے۔
➍ پھر تینتیس (33) مرتبہ سبحان الله ، تینتیس (33) مرتبہ الحمد لله اور تینتیس (33) مرتبہ الله أكبر کہے اور سو (100) کی گنتی اس دعا سے پوری کرے :
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، اس کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔“
صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب استحباب الذكر بعد الصلاة، رقم: 597 .
➎ ہر نماز کے بعد آیت الکرسی قل هو الله أحد قل أعوذ برب الفلق اور قل أعوذ برب الناس پڑھے، فجر اور مغرب کی نماز کے بعد ان تینوں سورتوں کا تین تین بار پڑھنا مستحب ہے۔
سنن ابو داؤد، ابواب الوتر، باب في الإستغفار، رقم: 1523 – مستدرك حاكم: 1/ 253 ـ صحيح ابن حبان، رقم: 2347 ، حاکم اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔
➏ اس طرح مغرب اور فجر کی نماز کے بعد مذکورہ اذکار کے بعد درج ذیل تسبیحات کا دس مرتبہ پڑھنا مستحب ہے:
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ یحی ویمیت وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کی بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، وہی زندہ کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔“
➐ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر سے سلام پھیرتے تو کہتے :
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا
”اے اللہ ! میں تجھ سے علم نافع ، پاکیزہ رزق اور شرف قبولیت حاصل کرنے والے عمل کا سوال کرتا ہوں۔“
سنن ابن ماجة، كتاب اقامة الصلوات والسنة فيها ، رقم: 925 – البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کیا ہے۔
واضح رہے کہ مذکورہ اذکار و تسبیحات کا پڑھنا مستحب ہے، اور ان کے علاوہ بھی مسنون اذکار ہیں۔