مضمون کے اہم نکات
قیامت کی نشانی : نزول عیسی علیہ السلام قرآن کی روشنی میں
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ 59 وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ 60 وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ
وہ (عیسی علیہ السلام) بھی صرف بندہ ہی ہے جس پر ہم نے احسان کیا اور اسے بنی اسرائیل کے لیے نشان (قدرت) بنایا اگر ہم چاہتے تو تمہاری جگہ فرشتوں کو زمین کا جانشین کر دیتے اور یقینا وہ (عیسی علیہ السلام) قیامت کی علامت ہے لہذا تم اس (قیامت) کے بارے میں قطعا شک نہ کرو۔
(سورۃ الزخرف : 59 تا 61)
رئیس المفسرین عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ مذکورہ آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
وَأَنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ قال هو خروج عيسى بن مريم عليه السلام قبل يوم القيامة
”بلاشبہ وہ قیامت کی علامت ہے۔ یعنی حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام قیامت سے پہلے ظاہر ہوں گے۔“
احمد (329/4)
وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا 157 بَل رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا 158 وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا
اور ان (یہودیوں) کے اس قول کی وجہ سے کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسی بن مریم کو قتل کر دیا ہے حالانکہ نہ تو انہوں نے اسے قتل کیا نہ سولی چڑھایا بلکہ ان کے لیے ویسی ایک صورت بنا دی گئی تھی بلاشبہ ان کے متعلق اختلاف کرنے والے شک وشبہ میں ہیں انہیں تخمینی باتوں کے سوا کوئی یقینی علم نہیں اور یہ یقینی بات ہے کہ انہوں نے اسے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالی نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا زبردست اور پوری حکمتوں والا ہے۔ اہل کتاب میں سے ایک بھی ایسا نہ بچے گا جو حضرت عیسی علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لے آئے اور روز قیامت آپ ان پر گواہ ہوں گے۔
(سورۃ النساء : 157 تا 159)
نزول مسیح علیہ السلام احادیث کی روشنی میں :
عن أبى هريرة رضى الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : لا تقوم الساعة حتى ينزل فيكم ابن مريم حكما مقسطا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله أحد
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت قائم نہیں ہوگی حتی کہ تمہارے درمیان حضرت عیسیٰ بن مریم حاکم اور عادل بن کر نازل ہوں گے ، وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے ، جزیے (اور جنگ) کا بالآخر خاتمہ کریں گے اور پھر مال بکثرت ہو گا حتی کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔
بخاری (2476) مسلم (155) احمد (310/3 – 358) ترمذی (2233) ابن ماجہ (4129) السنن الكبرى (101/6) مشكل الآثار (99/1) ابو يعلى (6584) شرح السنة (454/7)
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف أنتم إذا نزل ابن مريم فيكم وأمامكم منكم
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے نصیب کیسے اچھے ہوں گے جب تمہارے درمیان عیسی بن مریم نازل ہوں گے اور تمہارا امام اس وقت خود تم میں سے ہوگا۔ (یعنی امام مہدی)
بخاری (3449) مسلم (155)
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : والذي نفسي بيده ليوشكن أن ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله أحد حتى تكون السجدة الواحدة خير من الدنيا وما فيها ثم يقول أبو هريرة رضى الله عنه : واقرءوا إن شئتم وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ضرور اتریں گے تم میں ابن مریم حاکم عادل بن کر پھر وہ صلیب توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیے (اور جنگ) کو موقوف کر دیں گے پھر مال و دولت کی کثرت ہو گی حتی کہ اسے کوئی لینے والا نہیں ہو گا اور حالت یہ ہوگی کہ ایک سجدہ کر لینا دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر ہوگا پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ کر دیکھ لو ”اور اہل کتاب میں سے کوئی بھی ایسا نہ بچے گا جو حضرت عیسی کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لائے۔“
بخاری (3448) مسلم (155) ترمذی (3233)
صفت ومقام نزول عیسیٰ علیہ السلام :
عن النواس بن سمعان رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : إذ بعث الله المسيح ابن مريم ، عليه السلام ، فينزل عند المنارة البيضاء شرقي دمشق بين مهرودتين واضعا كفيه على أجنحة ملكين إذا طأطأ رأسه قطر وإذا رفعه تحدر منه جمان كاللؤلؤ فلا يحل لكافر يجد ريح نفسه إلا مات ونفسه ينتهي حيث ينتهي طرفه فيطلبه حتى يدركه بباب لد فيقتله
حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر اللہ تعالیٰ حضرت عیسی مسیح ابن مریم کو بھیج دیں گے اور وہ دمشق (شام) کے مشرقی حصے میں، سفید مینار کے پاس ، زرد رنگ کے دو کپڑوں میں ملبوس ، دو فرشتوں کے بازوؤں (پروں) پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے۔ جب وہ سر جھکائیں گے تو ایسا محسوس ہوگا کہ قطرے ٹپک رہے ہیں اور جب سر اٹھائیں گے تو موتی کی طرح قطرے ڈھلکتے نظر آئیں گے۔ ان کے سانس کی ہوا جس کافر تک پہنچے گی وہ زندہ نہ بچے گا جب کہ ان کی سانس حد نگاہ تک پہنچے گی پھر ابن مریم دجال کا پیچھا کریں گے اور لد (ایک مقام فلسطین میں) کے دروازے پر اسے جا پکڑیں گے اور قتل کر ڈالیں گے۔
مسلم (2937) احمد (248/4) ابو داؤد (4321) ترمذی (2240) ابن ماجہ (4126) حاکم (537/4) طبری (95/9)
وقت نزول عیسیٰ علیہ السلام :
عن جابر بن عبد الله رضى الله عنه يقول سمعت النبى صلى الله عليه وسلم يقول : لا تزال طائفة من أمتي يقاتلون على الحق ظاهرين إلى يوم القيامة ، قال : فينزل عيسى بن مريم فيقول أميرهم : تعال صل لنا ، فيقول : لا ، إن بعضكم على بعض أمراء تكرمة الله هذه الأمة
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت سے ایک گروہ قیامت تک حق پر غالب رہ کر لڑتا رہے گا پھر عیسی علیہ السلام نازل ہوں گے تو ان مسلمانوں کا امیر (مہدی) کہے گا کہ آئیے نماز پڑھائیے۔ وہ (عیسی علیہ علیہا) انکار کریں گے اور کہیں گے کہ امیر تم میں سے ہی ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اس امت پر نوازش ہے۔
مسلم (156۔395) احمد (438/3)
عن عثمان بن أبى العاص رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وينزل عيسى بن مريم عند صلاة الفجر فيقول له أميرهم : يا روح الله تقدم صل ، فيقول : هذه الأمة أمراء بعضهم على بعض فيتقدم أميرهم فيصلى
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عیسی ابن مریم بوقت فجر اتریں گے تو مسلمانوں کا امیر کہے گا : اے روح اللہ ! آئیے نماز پڑھائیے تو عیسی علیہ السلام کہیں گے اس امت کے افراد ہی ایک دوسرے پر امیر ہیں پھر ان کا امیر (امام مہدی) امامت کرائے گا۔
احمد (295/4) حاکم (524/4) حاکم اور ذہبی نے اسے صحیح کہا ہے۔ ابن ابی شیبہ (650/8) الدر المنثور (243/2)
ایک روایت میں ہے کہ :
فإذا صلى صلاة الصبح خرجوا إليه
”جب وہ (حضرت عیسی علیہ السلام) صبح کی نماز ادا کریں گے تو دجال کی طرف نکلیں گے۔“
احمد (466/3) مجمع الزوائد (659/7)
علامات عیسیٰ علیہ السلام :
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : بينا أنا نائم أطوف بالكعبة فإذا رجل آدم سبط الشعر ينطف أو يهراق رأسه ماء، قلت : من هذا ، قالوا : ابن مريم
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں سویا ہوا (خواب میں) کعبہ کا طواف کر رہا تھا کہ ایک صاحب جو گندم گوں تھے اور ان کے سر کے بال سیدھے تھے کہ گویا ان سے پانی ٹپک رہا ہے (پر میری نظر پڑی تو) میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا : یہ عیسی ابن مریم علیہ السلام ہیں۔
بخاری (7128) مسلم (273) شرح السنة (443/7) الموطا (920/2)
عن أبى هريرة رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : وأنا أولى الناس بعيسى ابن مريم لأنه لم يكن بيني وبينه نبي وإنه نازل فإذا رأيتموه فاعرفوه رجلا مربوعا إلى الحمرة والبياض عليه ثوبان ممصران كأن رأسه يقطر وإن لم يصبه بلل فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويدعو الناس إلى الإسلام فيهلك الله فى زمانه الملل كلها إلا الإسلام ويهلك الله فى زمانه المسيح الدجال وتقع الأمنة على الأرض
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے اور ان (یعنی عیسی علیہ السلام) کے درمیان کوئی نبی نہیں، اور بے شک وہ نازل ہونے والے ہیں لہذا جب تم انہیں دیکھو تو پہچان کر لینا کہ وہ ایک میانہ قد آدمی ہیں ، رنگ مائل سرخی و سفید ہے، زرد رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوں گے ان کے بال ایسے ہوں گے کہ گویا ان سے پانی ٹپک رہا ہے حالانکہ وہ بھیگے ہوئے نہ ہوں گے۔ وہ دین اسلام پر لوگوں سے جنگ کریں گے اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں اسلام کے سوا تمام ادیان کا خاتمہ فرما دیں گے اور وہ مسیح دجال کو قتل کریں گے پھر زمین پر ہر طرف امن وامان کا دور دورہ ہو گا۔
احمد (535/2 – 576) بخاری (3442) مسلم (2365) ابو داؤد (4324) عبد الرزاق (401/11) موارد الظمآن (1902) الشريعہ للآجری (337) الفتن نعیم بن حماد (351)
عیسی علیہ السلام جہاد کے ذریعے دین اسلام غالب کردیں گے :
عن أبى هريرة رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويعطل الملل حتى يهلك الله فى زمانه الملل كلها غير الإسلام
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر وہ (عیسی علیہ السلام) صلیب توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے ، جزیہ ختم کر دیں گے (یعنی اسلام یا جنگ) تمام ادیان معطل کر دیں گے حتی کہ اللہ تعالی اسلام کے سوا تمام ملتوں (دینوں) کا قلع قمع فرما دیں گے۔
حوالہ سابقہ
عن ثوبان رضى الله عنه مولى رسول الله عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : عصابتان من أمتي أحرزهما الله من النار عصابة تغزو الهند وعصابة تكون مع عيسى ابن مريم عليه السلام
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری امت کے دو لشکر ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی آگ سے محفوظ کر دیا ہے ایک وہ لشکر جو ہندوستان پر حملہ آور ہوگا اور دوسرا وہ جو عیسی ابن مریم علیہ السلام کے ساتھ ہو کر دجال کے خلاف جہاد کرے گا۔
نسائی (3175) احمد (350/5) التاريخ الكبير (72/6) السلسلة الصحيحة (570/4)
حضرت عیسی علیہ السلام حج اور عمرہ کریں گے :
عن أبى هريرة رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : والذي نفسي بيده ليهلن ابن مريم من فج الروحاء بالحج أو العمرة أو ليثنينهما
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے حضرت عیسی علیہ السلام روحا کی گھاٹی سے حج یا عمرہ یا دونوں کے لئے تلبیہ پکاریں گے۔
مسلم (1275) عبد الرزاق (400/11) السنن الكبرى (456/7) ابن حبان (232/15) ابن ابی شیبہ (654/8)
پیغام محمدی بنام عیسیٰ علیہ السلام :
عن أبى هريرة رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : إني لأرجو إن طال بي عمر أن ألقى عيسى ابن مريم فإن عجل بي موت فمن لقيه منكم فليقرئه مني السلام
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے امید ہے کہ اگر میری عمر لمبی ہوئی تو میں عیسی ابن مریم سے ملاقات کروں گا اور اگر مجھے موت نے آلیا تو تم میں سے جو شخص ان سے ملاقات کرے وہ میری طرف سے انہیں سلام کہے۔
احمد (393/2 – 394) مجمع الزوائد (12/8) ابن ابی شیبہ (654/8) وصححہ احمد شاکر (135/15)
حضرت عیسی علیہ السلام اور امن وامان :
عن أبى هريرة رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : ويهلك الله فى زمانه المسيح الدجال وتقع الأمنة فى الأرض حتى ترتع الإبل مع الأسد جميعا والنمور مع البقر والذئاب مع الغنم ويلعب الصبيان والعلمان بالحيات لا تضرهم
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ان (حضرت عیسی علیہ السلام) کے دور میں جھوٹے مسیح دجال کو ہلاک کریں گے اور زمین پر امن و امان قائم ہو جائے گا حتی کہ اونٹ اور شیر، چیتے اور گائیاں، بھیڑیئے اور بکریاں سب ایک ساتھ چریں گے اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے مگر کوئی کسی کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔
احمد (576/2 – 535)
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ينزل عيسى ابن مريم إماما عادلا وحكما مقسطا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويرجع السلم ويتخذ السيوف مناجل وتذهب حمة كل ذات حمة وتنزل السماء رزقها وتخرج الأرض بركتها حتى يلعب الصبي بالثعبان فلا يضره ويراعي الغنم الذئب فلا يضرها ويراعي الأسد البقر فلا يضرها
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عیسی ابن مریم علیہ السلام حاکم اور عادل بن کر نازل ہوں گے ، صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے صلح لوٹا دیں گے تلواریں درانتیاں بن جائیں گی ، ہر زہر آلود چیز کا زہر ختم ہو جائے گا ، آسمان اپنا رزق اتارے گا زمین اپنی نباتات اگائے گی حتی کہ بچہ اژدہے سے کھیلے گا مگر وہ اژدہا بچے کو نقصان نہیں دے گا۔ بھیڑیا بکریوں کے ساتھ چریں گے مگر انہیں نقصان نہیں دے گا شیر گائے کے ساتھ چریں گے مگر اسے نقصان نہیں پہنچائے گا۔
احمد (638/2) بخاری (2476) مسلم (242) ابن ماجہ (4129) ترمذی (2233) التاريخ الكبير (357/3) شرح السنة (454/7) السنن الكبرى (101/6) ابو يعلى (6584) عبد الرزاق (499/11)
ایک روایت میں ہے کہ :
ولتتركن القلاص فلا يسعى عليها ولتذهبن الشحناء والتباغض والتحاسد وليدعون إلى المال فلا يقبله أحد
”جوان اونٹنی کو چھوڑ دیا جائے گا مگر اسے حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی ، کینہ، حسد اور بغض کا خاتمہ ہو جائے گا اور مال کی دعوت دی جائے گی مگر اسے قبول کرنے والا کوئی نہیں ہو گا۔“
مسلم (2940)
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : فيبعث الله عيسى ابن مريم كأنه عروة بن مسعود فيطلبه فيهلكه ثم يمكث الناس سبع سنين ليس بين اثنتين عداوة
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر اللہ تعالی عیسی ابن مریم کو نازل فرما دیں گے گویا کہ وہ عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں اور وہ دجال کو تلاش کر کے ہلاک کریں گے پھر لوگ سات سال تک زمین پر زندہ رہیں گے اور دو بندوں کے درمیان بھی عداوت نہیں ہوگی۔
احمد (653/2)
عن النواس بن سمعان رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : فيرغب نبي الله عيسى وأصحابه فيرسل الله عليهم النغف فى رقابهم فيصبحون فرسى كموت نفس واحدة ثم يهبط نبي الله عيسى وأصحابه إلى الأرض فلا يجدون فى الأرض موضع شبر إلا ملأه زهمهم ونتنهم فيرغب نبي الله عيسى وأصحابه إلى الله فيرسل الله طيرا كأعناق البخت فتحملهم فتطرحهم حيث شاء الله ثم يرسل الله مطرا لا يكن منه بيت مدر ولا وبر فيغسل الأرض حتى يتركها كالزلفة ثم يقال للأرض : أنبتي ثمرتك وردي بركتك فيومئذ تأكل العصابة من الرمانة ويستظلون بقحفها ويبارك فى الرسل حتى إن اللقحة من الإبل لتكفي الفئام من الناس واللقحة من البقر لتكفي القبيلة من الناس واللقحة من الغنم لتكفي الفخذ من الناس فبينما هم كذلك إذ بعث الله ريحا طيبة
حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر اللہ کے نبی حضرت عیسی اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں کیڑے پیدا کر کے انہیں آن واحد میں ایک نفس کی موت کی طرح ہلاک کردیں گے پھر اللہ کے نبی حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کے ساتھی زمین پر اتریں گے مگر زمین میں ہر جگہ ان کی سرانڈ اور بدبو پھیلی ہوگی پھر حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالی بختی اونٹوں کی گردن برابر پرندے بھیجیں گے جو انہیں وہاں لے جا پھینکیں گے جہاں اللہ کا حکم ہوگا پھر اللہ تعالیٰ بارش برسائیں گے جو ہر مٹی اور خیمے والے گھر میں پہنچے گی اور اس کے ذریعے اللہ تعالی زمین کو اس طرح پاک صاف کردیں گے جس طرح کوئی حوض یا باغ ہو پھر زمین کو حکم ہوگا کہ اپنے پھل اگا، برکتیں نکال، اس دن ایک انار پوری جماعت کھا سکے گی اور اس کے چھلکے سے وہ سایہ حاصل کریں گے۔ ایک برکت والی اونٹنی کا دودھ کئی جماعتوں کے لئے کافی ہوگا، حاملہ گائے کا دودھ ایک قبیلے کو کفایت کرے گا اور بکری کا دودھ ایک خاندان کو کافی ہوگا، لوگ اس حال میں ہوں گے کہ اچانک اللہ تعالی ایک ہوا بھیجے گا جو ان کے بغلوں کے نیچے سے اثر کرتی ہوئی ہر مومن و مسلم کی روح قبض کر لے گی پھر صرف بد ترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو گدھوں کی طرح باہم جھگڑیں گے اور انہی پر قیامت قائم ہوگی۔
مسلم (2937) احمد (248/4) ابو داؤد (4321) ترمذی (2240) ابن ماجہ (4126) حاکم (537/4) طبری (95/9)
حضرت عیسی علیہ السلام کتنی دیر زمین پر قیام فرمائیں گے :
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : فيبعث الله عيسى بن مريم كأنه عروة بن مسعود فيطلبه فيهلكه ثم يمكث الناس سبع سنين ليس بين اثنتين عداوة ثم يرسل الله ريحا باردة من قبل الشام فلا يبقى على وجه الأرض أحد فى قلبه مثقال ذرة من خير أو إيمان إلا قبضته حتى لو أن أحدكم دخل فى كبد جبل لدخلته عليه حتى تقبضه
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر اللہ تعالی عیسی ابن مریم کو نازل فرما دیں گے گویا کہ وہ عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، اور وہ دجال کو ڈھونڈ کر قتل کریں گے پھر لوگ سات سال تک زندہ رہیں گے حتی کہ دو شخصوں کے درمیان بھی عداوت نہیں ہوگی پھر اللہ تعالی شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجیں گے جو ہر اس آدمی کی روح قبض کرلے گی جس کے دل میں رائی برابر بھی خیر یا ایمان ہوگا اور اگر کوئی شخص کسی پہاڑ کی سرنگ میں بھی گھس جائے گا تو یہ ہوا وہاں پہنچ کر اس کی روح قبض کرلے گی۔
مسلم (2940)
عن أبى هريرة رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : … فيمكث أربعين سنة
”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور وہ چالیس (40) سال تک ٹھہریں گے۔“
احمد (535/2) ابو داؤد (4324) عبد الرزاق (401/11)
بعض روایات میں 7 سال جبکہ بعض میں چالیس (40) سال کا ذکر ہے تعارض کے حل کے لئے فوائد ملاحظہ فرمائیں۔
عیسی علیہ السلام کی وفات اور تجہیز وتکفین :
عن أبى هريرة رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : فيمكث ما شاء الله أن يمكث ثم يتوفى فيصلي عليه المسلمون ويدفنونه
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر وہ (عیسی علیہ السلام) زمین پر جتنی دیر اللہ تعالیٰ کی مرضی ہو گی ٹھہریں گے پھر فوت ہو جائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ ادا کر کے انہیں دفن کر دیں گے۔
احمد (576/2) ابو داؤد (4324) السلسلة الصحيحة (2182)
عن أبى هريرة رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : فيمكث أربعين سنة ثم يتوفى ويصلي عليه المسلمون
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھر وہ چالیس (40) سال تک اقامت کریں گے اور فوت ہو جائیں گے تو مسلمان ان کی نماز جنازہ ادا کریں گے۔
احمد (535/2) ابو داؤد (4324)
فوائد :
➊ نزول عیسی علیہ السلام قیامت کی آخری چند ایک بڑی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے جس کا وقوع تا حال ظاہر نہیں ہوا۔
➋ حضرت عیسی علیہ السلام کو ”روح مع الجسم“ زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا اور قیامت سے پہلے اسی طرح زندہ دوبارہ اتارے جائیں گے۔
➌ قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ ان کا آسمان پر اٹھا لیا جانا مذکور ہے اسی طرح انہیں قیامت کی نشانی کہا گیا ہے۔
وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ
”وہ قیامت کی نشانی ہیں۔“
(الزخرف : 61)
کیونکہ عیسی علیہ السلام قیامت سے پہلے دجال کے مقابلے کے لیے نازل کیے جائیں گے۔
(تفسیر طبری 204/11، ابن کثیر 4/201)
➍ حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کے وقت تمام عیسائی ان پر ایمان لا کر اسلام قبول کر لیں گے اور جو اسلام قبول نہیں کریں گے وہ ہلاکت سے دو چار ہوں گے۔
➎ نزول عیسی علیہ السلام متواتر احادیث سے ثابت ہے اس لیے اس حقیقت پر بلا چون و چرا ایمان لانا ضروری ہے۔
(مجموع الفتاوی 3/291)
➏ صعود عیسی علیہ السلام و نزول عیسی علیہ السلام عقل کے خلاف تو ہو سکتا ہے مگر قدرت الہی سے کچھ بعید نہیں کہ وہ کسی بندے کو زندہ زمین سے اٹھا لے پھر اسے ہزاروں سال کہیں زندہ رکھنے کے بعد اسی حالت میں دوبارہ زمین پر نازل فرما دیں لہذا وحی الہی کے مقابلے میں عقل کو چھوڑ دینا ہی مسلمانی ہے۔
➐ حضرت عیسی علیہ السلام جب آسمان پر اٹھائے گئے تھے تو نبی تھے لیکن قیامت سے پہلے خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی اور صحابی بن کر تشریف لائیں گے مستقل نبی کی حیثیت سے نہیں، اس لیے حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے انہیں صحابہ کرام کی فہرست میں شامل کیا ہے۔
➑ حضرت عیسی علیہ السلام خروج دجال اور ظہور مہدی کے بعد نازل ہوں گے۔
➒ حضرت عیسی علیہ السلام کسی نماز کے وقت اتریں گے اور اغلب گمان یہی ہے کہ وہ نماز فجر ہوگی کیونکہ کچھ احادیث میں اس کا اشارہ موجود ہے گوان کی سند میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔
➓ حضرت عیسی علیہ السلام دو فرشتوں کے پروں پر اپنے بازو رکھے دمشق کی مشرقی جانب سفید منارے کے پاس اتریں گے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جامع اموی مسجد کا سفید پتھروں سے تیار کردہ وہ مینارہ ہے جسے 741ھ میں عیسائیوں کے مال سے تیار کروایا گیا کیونکہ انہوں نے اسے شہید کیا تھا اور یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر واضح دلیل ہے۔
النھایہ 98/1
⓫ حضرت عیسی علیہ السلام امام مہدی کی اقتدا میں نماز ادا کریں گے۔
⓬ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کی راہنمائی کے لیے حضرت عیسی علیہ السلام کی کچھ علامات بیان فرمائی ہیں جنہیں دیکھ کر ہر مسلمان بلکہ ہر عیسائی بھی ان پر ایمان لے آئے گا چند علامات یہ ہیں :
◈ فرشتوں کے سہارے آسمان سے نزول کریں گے۔
◈ دو زرد چادروں میں ملبوس ہوں گے۔
◈ سر کے بالوں سے قطرے ٹپکتے معلوم ہوں گے حالانکہ وہ خشک ہوں گے۔
◈ رنگ سرخ و سفید کے مابین گندمی سا ہوگا۔
◈ قد میانہ ہوگا۔
◈ دجال کے دو ٹکڑے کر کے ہلاک کریں گے۔
◈ روئے زمین پر امن و امان اور عدل و انصاف جاری کریں گے۔
◈ خنزیر کو قتل کریں گے جسے عیسائی حلال سمجھتے ہیں۔
◈ صلیب توڑ ڈالیں گے یعنی عیسائیت کا خاتمہ کر دیں گے کیونکہ نزول عیسی علیہ السلام دراصل عیسائی نظریات کا بطلان ہے۔
◈ جہاں تک سانس جائے گا کافر ہلاک ہو جائے گا اور سانس وہاں تک پہنچے گا جہاں تک ان کی نظر جاتی ہوگی۔
⓭ حضرت عیسی علیہ السلام مسلمانوں کے ساتھ مل کر کفار اور دجال کے خلاف جہاد کریں گے اور دجال اکبر سمیت تمام کفار کا قلع قمع کر دیں گے کیونکہ وہ جزیے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق ختم کر دیں گے اور کفار کے لئے دو ہی راستے ہوں گے کہ اسلام یا جنگ اور جو میدان جنگ میں آئے گا وہ مارا جائے گا۔
⓮ حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کے بعد کفار کا یکسر خاتمہ ہو جائے گا، ہر طرف امن وامان ہوگا ، صرف ایک دین (دین اسلام) کی حکومت ہوگی۔ مال ودولت کی فراوانی اور رحمت و برکت کا نزول ہوگا۔
⓯ شیر، گائے، بھیڑ، بھیڑیا، چیتے ، بکریاں سب ایک گھاٹ سے پانی پینے والے اور ایک ہی جگہ چارہ کھانے والے بن جائیں گے اور ان کے خواص بدل جائیں گے اس لیے یہ ایک دوسرے کو نقصان نہیں پہنچائیں گے حتی کہ سانپ اور اژدہا بھی بچوں کو اپنے ساتھ کھیلنے سے مضر نہیں ہوگا۔
⓰ دجال اور کفار کے خاتمے کے بعد صرف مسلمان ہی روئے زمین کے وارث ہوں گے اور وہ ایسے راسخ العقیدہ اور اخلاق و آداب سے متصف ہوں گے کہ دو مسلمانوں کے مابین بھی کوئی حسد و کینہ اور بغض وعداوت کا نام ونشان نہ ہوگا۔
⓱ حضرت عیسی علیہ السلام حج اور عمرے کی سعادت حاصل کریں گے اور یہ پیش گوئی حضرت عیسی علیہ السلام کی پہلی زندگی میں پوری نہیں ہوئی لہذا عیسی علیہ السلام دوبارہ نزول کے بعد حج و عمرے سے شرف یاب ہوں گے۔
⓲ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسی علیہ السلام کے نام ہر اس مسلمان کے ذریعے سلام بھیجا ہے جو ان سے شرف ملاقات حاصل کرے۔
⓳ بعض روایات کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام چالیس (40) سال اور بعض کے مطابق 7 سال زمین پر قیام کریں گے۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ ان کا تعارض رفع کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام پیدائش سے لے کر موت تک کل چالیس (40) سال تک زمین پر اقامت کریں گے جن میں سے تینتیس (33) سال وہ گزار کر آسمان پر اٹھائے جا چکے ہیں اور باقی سات (7) سال وہ قبل از قیامت نزول کے بعد پورے کریں گے۔
(20) حضرت عیسی علیہ السلام نزول ثانی کے بعد وفات پائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ ادا کر کے انہیں دفن کریں گے۔
تفصیل کے لیے دیکھئے : النهاية فى الفتن والملاحم (99/1)
حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر مبارک :
حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عیسی علیہ السلام کی تورات میں یہ صفت مرقوم ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے ساتھ مدفون ہوں گے۔
ترمذی (3617)