مضمون کے اہم نکات
کیا کسی صحابی نے نبی کریم ﷺ کا خون پیا؟
کسی صحابی سے رسول اللہ ﷺ کا خون پینا ثابت نہیں۔ اس پر پیش کیے جانے والے دلائل پر مختصر اور جامع تبصرہ پیشِ خدمت ہے :
دلیل نمبر ①
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جنگِ احد کے دن نبی اکرم ﷺ کی پیشانی مبارک پر زخم آ گیا۔ آپ ﷺ کے پاس سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے والد مالک بن سنان رضی اللہ عنہ آئے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے چہرۂ مبارک سے خون صاف کیا اور پھر اس خون کو نگل لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
[من سره أن ينظر إلى من خالط دمي فلينظر إلى مالك بن سنان]
جو شخص پسند کرتا ہے کہ وہ اس شخص کو دیکھے، جس کے خون کے ساتھ میرا خون مل چکا ہے تو وہ مالک بن سنان کو دیکھ لے۔
[الآحاد والمَثاني لابن أبي عاصم: 2097، المُعجم الكبير للطبراني: 34/6، المُستدرک للحاکم:6527]
روایت ضعیف ہے۔
① موسیٰ بن محمد بن علی حجبی مجہول ہے۔
② ام سعید بنت مسعود بن حمزہ بن ابی سعید کی توثیق نہیں۔
③ ام عبد الرحمن بنت ابی سعید کی توثیق و حالات نہیں ملے۔
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[إسناده مظلم]
اس کی سند اندھیری ہے۔ [تلخیص المُستدرک: 564/3]
❀ حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[فيه مجاهيل لا أعرفهم بعد الكشف عنهم]
اس میں مجہول راوی ہیں، تحقیق کے باوجود میں انہیں نہیں پہچان سکا۔
[البدر المُنير: 481/1]
دلیل نمبر ②
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد مالک بن سنان رضی اللہ عنہ غزوہ احد میں نبی اکرم ﷺ کے زخمِ مبارک کو چاٹنے اور چوسنے لگے، جس سے زخم کی جگہ چمکنے لگی۔ ان سے کہا گیا کہ کیا تم خون پی رہے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں! میں رسول اللہ ﷺ کا خون پی رہا ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
[خالط دمي بدمه، لا تمسه النار]
اس کے خون کے ساتھ میرا خون مل گیا ہے۔ اس کو آگ کبھی نہیں چھوئے گی۔
[المُعجم الأوسط للطبرانی: 47/9، ح: 9098]
سند سخت ضعیف ہے۔
① مسعدة بن سعد عطار ابو القاسم مکی کی معتبر توثیق نہیں مل سکی۔
② مصعب بن الأسبغ مجہول الحال ہے، اسے صرف امام ابن حبان رحمہ اللہ نے’’الثقات: 174/9‘‘ میں ذکر کیا ہے۔
③ عباس بن ابی شملہ ضعیف ہے۔
❀ اسے امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ نے ضعیف کہا ہے۔
[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 228/7]
سنن سعید بن منصور (2573) والی سند بھی ضعیف و منقطع ہے۔
① عمر بن السائب مجہول الحال ہے، اسے صرف ابن حبان رحمہ اللہ نے ’’الثقات: 175/7‘‘ میں ذکر کیا ہے۔
② اس واقعے کی خبر عمر بن السائب کو کس نے دی؟ معلوم نہیں۔ لہذا یہ سند منقطع، بلکہ معضل ہے۔
دلیل نمبر ③
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے سینگی لگوائی۔ مجھے حکم دیا کہ میں اس خون کو ایسی جگہ چھپا دوں جہاں سے درندے، کتے (وغیرہ) یا کوئی انسان نہ پا سکے۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ سے دُور چلا گیا اور دُور جا کر اس خون کو پی لیا۔ پھر میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: آپ نے خون کا کیا کیا؟ میں نے عرض کی: میں نے ویسے ہی کیا ہے، جیسے آپ نے حکم دیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میرے خیال میں آپ نے اسے پی لیا ہے۔ میں نے عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: اب آپ سے میرا کوئی میرا امتی بغض و کینہ سے نہیں ملے گا۔
[الآحاد والمَثاني لابن أبي عاصم: 578، مُسند أبي يعلى [المطالب لابن حجر: 3821]، مُسند البزار: 2210، المُستدرک للحاکم: 6343، السنن الكبرىٰ للبيهقي: 67/7]
سند ضعیف ہے۔ ہنید بن قاسم بن عبد الرحمن مجہول الحال ہے، اسے صرف امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ’’الثقات‘‘ (515/5) میں ذکر کیا ہے۔
❀ حافظ ابن دقیق العید رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[ليس في إسناد البزار من يحتاج إلى الكشف عن حاله إلا هنيد]
مسند بزار کی سند میں صرف ہنید کے حالات ہی محتاجِ تحقیق ہیں۔
[الإمام في معرفة أحاديث الأحكام: 385/3]
❀ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ نے ’’مجہول‘‘ کہا ہے۔
[مجمع الزوائد: 28/1]
❀ حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[هنيد لا يعلم له حال]
ہنید کی حالت معلوم نہیں۔ [البدر المنير: 476/1]
ایک روایت میں ہے:
[لعلك شربته؟ قال: نعم، قال: ولم شربت الدم؟ ويل للناس منك، وويل لك من الناس]
آپ ﷺ نے فرمایا: شاید آپ نے پی لیا ہے۔ صحابی نے عرض کیا: جی ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: آپ نے خون کیوں پیا؟ نیز فرمایا: لوگ آپ سے محفوظ ہو گئے اور آپ لوگوں سے محفوظ رہیں گے۔
اس کی سند میں بھی ہنید بن قاسم مجہول ہے۔
ایک روایت میں ہے:
[لا تمسك النار إلا قسم اليمين]
آپ کو آگ صرف قسم پوری کرنے کے لیے چھوئے گی۔
[حلية الأولياء لأبي نعيم: 330/1، جزء ابن الغطريف: 65، تاريخ ابن عساكر: 233/20، 162/28، الإصابة لابن حجر: 93/4]
سند سخت ضعیف ہے۔
① سعد بن زیاد ابو عاصم مولیٰ سلیمان بن علی ضعیف ہے۔
❀ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[يكتب حديثه، وليس بالمتين]
اس کی حدیث لکھی جائے گی، یہ مضبوط راوی نہیں ہے۔
[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 83/4]
❀ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[ليس بالمتين عندهم]
محدثین کے نزدیک مضبوط راوی نہ تھا۔
[الاستغناء: 827/2]
② کیسان مولیٰ عبد اللہ بن زبیر کے حالات نہیں ملے۔
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے:
[لا تمسك النار، ومسح علىٰ رأسه]
نبی کریم ﷺ نے سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا کہ آپ کو آگ ہرگز نہ چھوئے گی۔
[سنن الدَّارقطني: 228/1]
روایت جھوٹی ہے۔
① محمد بن حمید رازی ضعیف و کذاب ہے۔
② علی بن مجاہد ضعیف و متروک ہے۔
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اسے ”کذاب“ قرار دیا ہے۔
[المغني في الضعفاء: 905/2]
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[متروك، وليس في شيوخ أحمد أضعف منه]
یہ متروک ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ کے اساتذہ میں اس سے بڑھ کر ضعیف کوئی نہیں۔
[تقريب التهذيب: 4790]
❀ امام یحییٰ بن ضریس رحمہ اللہ نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے۔
[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 205/6، وسنده حسنٌ]
❀ ابو غسان محمد بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[تركته] میں نے اسے چھوڑ دیا۔
[الضعفاء للعقيلي: 252/3، وسنده صحيح]
③ رباح نوبی غیر معتبر ہے۔
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[لينه بعضهم، ولا يدرى من هو]
اسے بعض محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے، معلوم نہیں یہ کون ہے؟
[میزان الاعتدال: 38/2]
❀ اس روایت کو علامہ عبد الحق اشبیلی رحمہ اللہ نے ’’غیر ثابت‘‘ قرار دیا ہے۔
[الأحکام الوسطیٰ: 232/1]
دلیل نمبر ④
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سینگی لگوائی اور مجھے حکم دیا کہ یہ خون لے جائیے اور اسے ایسی جگہ دفن کر دیجیے، جہاں پرندے، چوپائے اور انسان نہ پہنچ سکیں۔ کہتے ہیں کہ میں ایک جگہ چھپ گیا اور اسے پی لیا۔ پھر آپ ﷺ نے مجھے پوچھا یا آپ کو بتایا گیا کہ میں نے اسے پی لیا ہے۔ آپ ﷺ مسکرا دیے۔
[التاريخ الكبير للبخاري: 209/4، السنن الكبرىٰ للبيهقي: 67/7، المُعجم الكبير للطبراني: 81/7، ح: 6434، التاريخ الكبير لابن أبي خيثمة: 3088]
سند ضعیف ہے۔ بریہ بن عمر بن سفینہ ضعیف ہے۔
❀ امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[لا يتابع علىٰ حديثه]
اس کی حدیث پر متابعت نہیں کی گئی۔
[الضعفاء الكبير: 167/1]
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ’’لین‘‘ کہا ہے۔
[الكاشف: 99/1]
❀ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[يخالف الثقات في الروايات، فلا يحل الإحتجاج بخبره بحال]
یہ روایات میں ثقہ راویوں کی مخالفت کرتا ہے۔ کسی حال میں بھی اس کی روایت سے حجت لینا جائز نہیں۔
[کتاب المجروحین: 111/1]
❀ اس روایت کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[في إسناده نظر] اس کی سند محلِ نظر ہے۔
نیز فرماتے ہیں:
[إسناده مجهول] اس کی سند مجہول ہے۔
[التاریخ الکبیر: 160/6]
دلیل نمبر ⑤
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک قریشی لڑکے نے نبی کریم ﷺ کو سینگی لگائی۔ جب وہ اس سے فارغ ہوا تو آپ ﷺ کا خون لے کر دیوار کے پیچھے چلا گیا۔ پھر اس نے اپنے دائیں بائیں دیکھا۔ جب اسے کوئی نظر نہ آیا تو اس نے وہ خون پی لیا۔ جب واپس لوٹا تو نبی اکرم ﷺ نے اس کے چہرے کی طرف دیکھ کر پوچھا: اللہ کے بندے! آپ نے اس خون کا کیا کیا؟ اس نے عرض کیا: میں نے دیوار کے پیچھے اسے چھپا دیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کہاں چھپایا ہے؟ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے زمین پر آپ کا خون گرانا مناسب نہیں سمجھا، تو وہ میرے پیٹ میں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جائیے، آپ نے خود کو جہنم سے بچا لیا۔
[کتاب المجروحین لابن حبان: 59/3، التلخیص الحبیر لابن حجر: 111/1]
جھوٹ ہے۔
❀ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اس کے راوی نافع سلمی ابو ہرمز بصری نے عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کی طرف منسوب ایک جھوٹا نسخہ روایت کیا تھا۔
یہ حدیث بھی اسی نسخے میں سے ہے۔
❀ نافع سلمی کے بارے میں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[ليس بثقة، كذاب]
یہ ثقہ نہیں، پرلے درجے کا جھوٹا ہے۔
[الكامل لابن عدي: 49/7، وسنده حسن]
❀ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ’’غیر ثابت‘‘ قرار دیا ہے۔
[العلل المتناهية: 181/1]
❀ حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ نے اس روایت کو ’’سخت ضعیف‘‘ کہا ہے۔
[البدر المنير: 474/1]
دلیل نمبر ⑥
سالم ابو ہند حجام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو سینگی لگائی اور اس سے بہنے والا خون پی لیا اور عرض کی: اللہ کے رسول! میں نے یہ خون پی لیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا:
[ويحك يا سالم! أما علمت أن الدم حرام، لا تعد]
سالم! آپ کی خیر ہو، کیا آپ کو علم نہیں کہ خون حرام ہے؟ آئندہ ایسا مت کیجیے گا۔
[معرفة الصحابة لابن منده، ص 717، معرفة الصحابة لأبي نعيم: 3044]
سند سخت ضعیف ہے۔
① محمد بن مغیرہ سکری کی توثیق نہیں ملی۔
② موسیٰ بن عبد الرحمن صباغ کی توثیق ثابت نہیں۔
③ ابو الحجاف داؤد بن ابی عوف کا سالم رضی اللہ عنہ سے سماع و لقا ثابت نہیں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے طبقہ سادسہ (چھٹے طبقے) میں ذکر کیا ہے۔ اس طبقے کے راوی کا کسی صحابی سے ملنا ممکن نہیں۔
دلیل نمبر ⑦
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا خون پیا۔
یہ بے سند قول ہے۔
❀ حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[لا أعلم من خرجه بعد البحث عنه]
باوجود بسیار کوشش کے، معلوم نہیں ہو سکا کہ اس روایت کو کس نے نقل کیا ہے۔
[البدر المُنير: 479/1]
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[لم أجده]
یہ روایت مجھے (کسی کتاب میں) نہیں ملی۔
[التَّلخيص الحَبير: 170/1]
الحاصل:
کسی صحابی سے نبی کریم ﷺ کا خون پینا ثابت نہیں۔
فائدہ:
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کی زوجہ سیدہ سلمیٰ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے غسل کا بچا ہوا پانی پیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
[اذهبي، فقد حرمك اللٰه بذٰلك على النار]
جائیے، اللہ تعالیٰ نے اس عمل کی وجہ سے آپ کو جہنم پر حرام کر دیا ہے۔
[المُعجم الأوسط للطبراني: 9221]
روایت سخت ضعیف ہے۔
① محمد بن عبید اللہ بن رافع ضعیف ہے۔
② معمر بن محمد بن عبید اللہ ضعیف و منکر الحدیث ہے۔
③نصر بن علی بن عبد الملک سنجاری مجہول الحال ہے۔