حالت نماز میں مسلمانوں کا حسین عورت کو دیکھنا حدیث کی حقیقت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔

حدیث 39: حالت نماز میں مسلمانوں کا حسین عورت کو دیکھنا

امام ترمذی رحمہ اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ ایک حسین عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھنے آیا کرتی تھی۔ کچھ لوگ تو اگلی صف میں بڑھ جاتے تا کہ اسے نہ دیکھیں اور کچھ لوگ پچھلی صف میں شریک ہوتے تھے اور رکوع کی حالت میں بغل کے نیچے سے اسے جھانکتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
جامع الترمذي، تفسير القرآن، باب ومن سورة الحجر، حديث: 3122
وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ
”اور جو لوگ تم سے پہلے ہو گزرے ہم انہیں بھی جانتے ہیں اور جو تم سے بعد میں آنے والے ہیں ہم انہیں بھی جانتے ہیں۔“
(15-الحجر:24)
پرویز صاحب نے اس روایت پر بہت سخت تبصرہ کیا ہے، لکھتے ہیں:
➊ آخر میں ہم جامع ترمذی کی ایک روایت نقل کر کے یہ سلسلہ ختم کرتے ہیں۔ آپ سوچیے کہ اس روایت کو دیکھ کر آپ کی نگاہیں اوپر اٹھ سکتی ہیں؟
➋ اس قسم کی روایات پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ یہ بھی صحیح نہیں ہو سکتیں، انہیں اسلام کے دشمنوں نے وضع کیا ہے اور ان کی نسبت صحابہ کرام رضي اللہ عنہم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کی طرف کر دی۔
➌ لیکن ہمارے مذہب پرست طبقہ کا یہ اصرار ہے کہ انہیں نہ صرف صحیح ماننا ہوگا بلکہ یہ بھی ماننا ہوگا کہ انہیں جبریل امین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے کر نازل ہوئے تھے۔
مقام حدیث، ص : 192

جواب :

➊ اس بارے میں علماء کی تحقیقات درج ذیل ہیں، بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ حدیث نہیں ہے بلکہ ابو الجوزاء تابعی کا قول ہے یا یہ حدیث مرسل ہے ۔ امام ترمذی نے اس بات کو ترجیح دی ہے اور مرسل حدیث ضعیف ہوتی ہے جس سے حجت نہیں پکڑی جا سکتی، لہذا اس حدیث کو مذہب پرستوں نے اس مقام تک نہیں پہنچایا کہ پرویز صاحب اس حدیث پر تین اعتراض کر دیں۔
پس ایسی روایات جو محدثین کے نزدیک صحیح یا حسن مرفوع نہیں ہوتیں، ان پر اعتراض کر کے یہ بہانا بنانا کہ ساری احادیث قابل حجت نہیں، یہ صریح تلبیس ابلیس ہے۔ اور اگر حدیث صحیح ہو جیسا کہ بعض نے اسے صحیح کہا ہے تو پھر اس کا جواب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے با جماعت نماز پڑھنے والوں میں صرف صحابہ کرام رضي اللہ عنہم نہیں ہوتے تھے بلکہ منافقین بھی آیا کرتے تھے اور یہ کوئی بعید نہیں کہ منافقین ایسا کرتے ہوں۔