حدیث 40: فرعون کا ایمان لانا
پرویز صاحب نے ترمذی کی ایک حدیث کا معنی بیان کر کے اعتراضات کیے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل کہتے ہیں کہ فرعون غرق ہونے لگا تو وہ اس وقت ایمان لانا چاہتا تھا۔ اے محمد! کاش، اس وقت تم مجھے دیکھتے کہ میں سمندر کی مٹی لیے ہوئے اس کے منہ میں ٹھونس رہا تھا کہ کلمہ نہ پڑھے اور اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت نہ آ جائے۔“
جامع الترمذي، تفسير القرآن باب ومن سورة يونس، حديث : 3107 ، و ( ترجمہ پرویز) مقام حدیث، ص : 170
اعتراضات:
➊ جبریل کا یہ کام نہیں کہ جو ایمان لانا چاہے اس کے منہ میں مٹی ٹھونسنے لگے اور خدا کی رحمت کو بند کر دے۔
➋ فرشتے چونکہ خدا کے حکم کے پابند ہوتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جبریل نے یہ کام خدا کے حکم کے مطابق کیا تھا۔
➌ خدا کے حکم اور جبریل کی کارروائی کے باوجود فرعون نے کلمہ پڑھ لیا اور کہا:
آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ
”میں ایمان لاتا ہوں کہ اس معبود حقیقی کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے۔ اور میں اطاعت گزاروں میں سے ہوں۔“
(10-يونس:90)
اور یوں معاذ اللہ خدا کی تدبیر ناکام ہو گئی آپ تصور بھی کر سکتے ہیں کہ یہ تفسیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان فرمودہ ہوگی۔
مقام حدیث بالاختصار، ص: 171,170
جواب :
پرویز صاحب کا طریقہ تلبیس ہی یہ ہے کہ وہ اپنی طرف سے کچھ معنی اور کچھ تغیر بنا کر اس پر غلط نتائج مرتب کرتے ہیں اور حدیث سے انکار کرنے کے لیے راستہ ہموار کرتے ہیں۔ وہ اس شعر کا مصداق ہے:
خشت اول چون نهد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج
یہاں پرویز صاحب نے حدیث کا جو معنی بیان کیا ہے اس میں تحریف کی ہے۔ اصل حدیث درج ذیل ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لما أغرق الله فرعون قال آمنت أنه لا إله إلا الذى آمنت به بنو إسرائيل فقال جبريل يا محمد لو رأيتني وأنا آخذ من حال البحر وأدسه فى فيه مخافة أن تدركه الرحمة
”جب اللہ نے فرعون کو غرق کیا تو اس نے کہا: میں ایمان لاتا ہوں کہ اس معبود حقیقی کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے تو جبریل نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! کاش کہ آپ مجھے دیکھتے کہ میں سمندر سے کیچڑ پکڑ کر اس کے منہ میں ٹھونس رہا تھا کہ کہیں رحمت الہی اسے ڈھانپ نہ لے۔“
جامع الترمذي، تفسير القرآن، باب ومن سورة يونس، حديث : 3107
پرویزی معنی کے مطابق جبریل علیہ السلام کا فرعون کے منہ میں مٹی ٹھونسنے کا عمل کلمہ پڑھنے سے پہلے کا ہے جب کہ حدیث میں واضح ہے کہ فرعون نے کلمہ کا اقرار کر لیا تھا، بعد میں جبریل علیہ السلام نے اس کے منہ میں مٹی ٹھونسی تھی۔ فرعون کا یہ ایمان لانا قانون الہی کے مطابق قابل اعتبار نہیں تھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِن قَبْلُ
”جس روز تیرے رب کی بعض نشانیاں آ جائیں گی تو کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان لانا مفید نہیں ہوگا جو پہلے سے ایمان نہیں رکھتا۔“
(6-الأنعام:158)
نیز فرمایا:
فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا
”پس ان کے ایمان نے انہیں نفع نہ دیا جب انہوں نے ہمارے عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔“
(40-المؤمن:85)
ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان پر نزع کا عالم طاری ہو جائے تو اس وقت ایمان لانا قبول نہیں، لہذا جبریل علیہ السلام نے یہ کام اللہ تعالیٰ کے اذن سے کیا۔ جب فرعون نے کلمہ پڑھا تو اسے یوں جواب دیا گیا:
آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ
”اب (ایمان لاتا ہے؟) اور اس سے قبل تو نافرمانی کرتا رہا اور تو فسادیوں میں سے تھا۔“
(10-يونس:91)
یعنی اللہ تعالیٰ نے جبریل علیہ السلام کے کام کی تائید کر دی، لہذا اس سے ثابت ہوا کہ یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کی وحی سے کہے گئے۔
یہاں تک ان چالیس احادیث کے جواب بیان کیے گئے ہیں جنہیں طلوع اسلام والوں نے اور دیگر منکرین حدیث نے اپنی ناسمجھی کی وجہ سے محل اعتراض ٹھہرایا، حالانکہ ان کے علاوہ دوسری ایسی احادیث ہیں جن کو ماننے کے لیے یہ لوگ تیار نہیں۔ خصوصاً وہ احادیث جو علامات قیامت کے متعلق ہیں، مثلاً: دجال، امام مہدی، دابۃ الارض، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور نزول عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ لیکن اس وقت منکرین حدیث نزول عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق بحث و تلبیس سے کام لے کر مسلمانوں کا عقیدہ خراب کر رہے ہیں۔ اس لیے یہ مسئلہ ایک مستقل عنوان کے تحت تفصیل سے بیان کرنا چاہتا ہوں۔