اللہ تعالیٰ پر، جھوٹی، غیر اللہ اور دوسرے مذہب کی قسم کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھانے کی ممانعت

① سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث بیان کی کہ:
أن رجلا قال: والله لا يغفر الله لفلان، فقال الله تعالى من ذا الذى يتألى على أن لا أغفر لفلان، فإني قد غفرت له وأحبطت عملك
ایک آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ فلاں شخص کو معاف نہیں کرے گا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کون ہے جو مجھ پر قسم اٹھاتا ہے کہ میں فلاں شخص کو نہیں بخشوں گا۔ (سن لو!) میں نے اسے تو معاف کر دیا لیکن تیرے اعمال ضائع کر دیے ہیں۔
مسلم، کتاب البر والصلة والادب 2621/137۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
كان فى بني إسرائيل رجلان متاخيان أحدهما مذنب والآخر فى العبادة مجتهد فكان لا يزال يرى الآخر على ذنب فيقول: أقصر، فوجده يوما على ذنب فقال: أقصر، فقال: خلني وربي، أبعثت على رقيبا. فقال له: والله لا يغفر الله لك، أو قال: لا يدخلك الله الجنة فقبض الله أرواحهما فاجتمعا عند رب العالمين فقال الرب تعالى للمجتهد: أكنت بما فى يدي قادرا، وقال للمذنب: ادخل الجنة برحمتي، وقال للآخر: اذهبوا به إلى النار
بنی اسرائیل میں دو آدمی آپس میں بھائی تھے ان میں سے ایک گناہ گار تھا جبکہ دوسرا بہت عبادت گزار تھا۔ جب نیک آدمی دوسرے کو گناہ کرتا دیکھتا تو کہتا، باز آ جاؤ۔ پس ایک دن اس نے اسے گناہ کرتے دیکھا تو کہا باز آ جاؤ۔ اس نے کہا: میرے رب کی قسم! مجھے میرے حال پر چھوڑ دو کیا تجھے مجھ پر نگران بنا کر بھیجا گیا ہے۔ تو اس نے اسے کہا: اللہ کی قسم! اللہ تجھے معاف نہیں کرے گا۔ یا کہا: اللہ تجھے جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ پس اللہ نے ان دونوں کی روحیں قبض کر لیں۔ اور وہ دونوں رب العالمین کے پاس اکٹھے ہوئے تو رب تعالیٰ نے عبادت گزار سے کہا: کیا تو میرے اختیارات پر قادر تھا اور گناہ گار سے کہا: تم میری رحمت سے جنت میں داخل ہو جاؤ۔ اور دوسرے کے متعلق فرمایا: اسے جہنم میں لے جاؤ۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اس نے ایک بات کہی جس نے اس کی دنیا و آخرت تباہ کر دی۔
ابوداؤد، کتاب الادب 4901۔ مسند احمد، باقی مسند المکثرین 432/2، حدیث 8312۔

جھوٹی قسم اٹھانے کی ممانعت

① سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من حلف على مال امرئ مسلم بغير حقه لقي الله وهو عليه غضبان
جس نے کسی مسلمان آدمی کے مال پر ناحق قسم اٹھائی تو وہ اللہ سے ملاقات کرے گا تو وہ اس پر ناراض ہو گا۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ عزوجل کی کتاب سے ہمیں یہ آیت سنائی:
﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾
بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی سی قیمت وصول کرتے ہیں۔
بخاری، کتاب تفسیر القرآن 4549، 4550۔ مسلم، کتاب الایمان 138/222۔
② سیدنا عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبیرہ گناہوں کا تذکرہ کیا تو فرمایا:
وما حلف حالف بالله يمين صبر فأدخل فيها مثل جناح بعوضة إلا جعلت نكتة فى قلبه إلى يوم القيامة
جو حلف اٹھانے والا مجبوری سے قسم کھائے اور وہ اس میں مچھر کے پر کے برابر کوئی چیز داخل کر دے تو روز قیامت اس کے دل پر نکتہ لگا دیا جاتا ہے۔
ترمذی، کتاب تفسیر القرآن 3020۔ مسند احمد، مسند المکیین 600/3، حدیث 16049۔
③ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من حلف على يمين مصبورة كاذبا فليتبوأ بوجهه مقعده من النار
جو شخص قسم کھانے پر مجبور کیا جائے اور وہ جھوٹی قسم کھائے تو وہ اپنی مرضی سے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔
ابوداؤد، الایمان والنذور، حدیث 3242۔

اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی قسم اٹھانے کی ممانعت

① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر کو اپنے باپ کی قسم اٹھاتے ہوئے سنا تو فرمایا:
إن الله ينهاكم أن تحلفوا بآبائكم فمن كان حالفا فليحلف بالله أو ليصمت
اللہ نے تمہیں اپنے آباء کی قسم اٹھانے سے منع کیا ہے پس جو شخص قسم اٹھانے لگے تو وہ اللہ کی قسم اٹھائے یا پھر خاموش رہے۔
بخاری، کتاب الادب 6108۔ مسلم ، کتاب الایمان 1646/3۔
② سیدنا نافع سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے ایک آدمی کو کعبہ کی قسم اٹھاتے ہوئے سنا تو انہوں نے اسے فرمایا: اللہ کے سوا کسی کی قسم نہ اٹھاؤ اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من حلف بغير الله فقد كفر وأشرك
جس شخص نے اللہ کے سوا کسی کی قسم اٹھائی تو اس نے کفر و شرک کیا۔
ابوداؤد، کتاب الایمان والنذور 3251۔ ترمذی، کتاب النذور والایمان 1535۔ یہ حدیث حسن ہے۔
③ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من حلف بالأمانة فليس منا
جس نے امانت کی قسم اٹھائی وہ ہم میں سے نہیں۔
ابوداؤد، کتاب الایمان والنذور 3253۔ ترمذی، کتاب النذور والایمان 1535۔ یہ حدیث حسن ہے۔

دین اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب کی قسم اٹھانے کی ممانعت

① سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من حلف بملة غير ملة الإسلام كاذبا فهو كما قال
جو شخص دین اسلام کے علاوہ کسی مذہب کی جھوٹی قسم اٹھائے تو وہ ویسا ہی ہوگا جیسا اس نے کہا ہے۔
ابوداؤد، کتاب الایمان والنذور 3257۔ بخاری، کتاب الایمان والنذور 6047۔ مسلم، کتاب الایمان 110/176۔
② سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من حلف فقال: إني بريء من الإسلام، فإن كان كاذبا فهو كما قال، وإن كان صادقا فلن يرجع إلى الإسلام سالما
جس نے قسم اٹھائی اور کہا: میں اسلام سے بیزار ہوں، اگر تو وہ جھوٹا ہے تو پھر وہ ویسے ہی ہے جیسے اس نے کہا ہے اور اگر وہ سچا ہے تو پھر بھی وہ صحیح سلامت اسلام کی طرف واپس نہیں آتا۔
ابوداؤد 3258۔ النسائی فی الایمان والنذور 67۔ ابن ماجه، کتاب الکفارات 2100۔