مضمون کے اہم نکات
باغِ فدک
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے:
لما نزلت هذه الآية: [وَ اٰتِ ذَاالۡقُرۡبٰی حَقَّہٗ] (بنی إسرائيل:26) دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطمة فأعطاها فدك۔
جب آیت (بنی اسرائیل:26) نازل ہوئی کہ اپنے عزیز و اقارب کو ان کا حق دیجیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلا کر باغِ فدک دے دیا۔
[مسند البزار [کشف الأستار]: 2223]
روایت باطل ہے۔
❀ عطیہ عوفی کو جمہور نے ”ضعیف“ قرار دیا ہے۔
[تهذيب الأسماء واللغات للنووي:48/1]،[طرح التثريب لابن العراقي:42/3]،[مجمع الزوائد للهيثمي:412/1]،[البدر المنير لابن الملقن:463/7]،[عمدة القاري للعيني:250/6]
اسے امام یحییٰ بن سعید قطان، امام احمد بن حنبل، امام یحییٰ بن معین، امام ابو حاتم رازی، امام ابو زرعہ رازی، امام نسائی، امام ابن عدی، امام دارقطنی، امام ابن حبان اور علامہ جوزجانی وغیرہ رحمہم اللہ نے ”ضعیف“ قرار دیا ہے۔
اس کے ضعیف ہونے پر اجماع ہو گیا تھا۔
❀ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[أما عطية، فأجمعوا على تضعيفه]
عطیہ عوفی کے ضعیف ہونے پر محدثینِ کرام نے اتفاق کر لیا ہے۔ [الموضوعات:386/1]
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[مجمع على ضعفه]
اس کے ضعف پر محدثین کا اجماع ہے۔ [المغني في الضعفاء:62/2]
❀ حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[هو ضعيف بإجماعهم]
یہ بالاتفاقِ محدثین ضعیف ہے۔ [البدر المنير:313/5]
یہ تدلیس کی بری قسم میں ملوث تھا۔
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[ضعيف الحفظ، مشهور بالتدليس القبيح]
یہ کمزور حافظے والا تھا اور بری تدلیس کے ساتھ مشہور تھا۔ [طبقات المدلّسين: ص50]
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ زیرِ بحث روایت کے بارے میں فرماتے ہیں:
[هذا باطل، ولو كان وقع ذلك لما جاءت فاطمة رضي الله عنها تطلب شيئا، هو في حوزها وملكها]
یہ روایت باطل ہے، اگر واقعی ایسا ہوتا، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اس کا مطالبہ کرنے نہ آتیں، جو پہلے ہی ان کی ملکیت اور قبضے میں تھی۔ [میزان الاعتدال:135/3]
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[هذا الحديث مشكل لو صح إسناده، لأن الآية مكية، وفدك إنما فتحت مع خيبر سنة سبع من الهجرة، فكيف يلتئم هذا مع هذا؟]
اگر اس کی سند صحیح ہو، تو بھی اس میں اشکال ہے، کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور فدک تو سات ہجری میں خیبر کے ساتھ فتح ہوا۔ بھلا اس آیت کو واقعۂ فدک کے ساتھ کیسے ملایا جا سکتا ہے؟ [تفسير ابن كثير:69/5، بتحقيق الدكتور سلامة]