طلاق طلب کرنے، عورت کا اپنے خاوند سے خلع لینے اور ظہار کرنے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

كتاب الطلاق

طلاق طلب کرنے کی ممانعت

① سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أيما امرأة سألت زوجها الطلاق من غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة
”جو عورت بلاوجہ اپنے خاوند سے طلاق کا مطالبہ کرے تو اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہے“۔
ابوداؤد، کتاب الطلاق 2226۔ ترمذی، کتاب الطلاق 1187۔ ابن ماجه 2055۔

عورت کا اپنے خاوند سے خلع لینے کی ممانعت

① سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أيما امرأة اختلعت من زوجها من غير بأس لم ترح رائحة الجنة
”جس عورت نے بلاوجہ اپنے خاوند سے خلع لیا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گی“۔
ترمذی، کتاب الطلاق واللعان الخ 1186۔
اور انہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن المختلعات هن المنافقات
”جو خلع لینے والی ہیں وہ نفاق والی ہیں“۔
ترمذی، کتاب الطلاق واللعان الخ 1186۔

ظہار کرنے کی ممانعت

① سیدنا ابو تمیمہ جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنی بیوی سے ”میری پیاری بہن“ کہتے ہوئے سنا تو آپ نے اسے ناپسند کیا اور اس سے منع فرمایا۔
ابوداؤد، کتاب الطلاق 2211۔