كتاب الصلاة
جوانی میں عبادت کرنے کی فضیلت
اللہ رب العزت نے چند نوجوانوں کا واقعہ قرآن مقدس کی سورۃ الکہف میں بیان کیا ہے کہ ان جوانوں نے معبودان باطلہ کی پرستش سے انکار کرتے ہوئے ایک معبود برحق کی عبادت کا نعرہ بلند کیا۔ جب قوم نے ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا، اور زمین باوجود اپنی وسعتوں کے ان چند ایمان والوں پر سکڑ گئی تو ان اللہ والوں نے ایک غار میں پناہ لی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر کچھ اس انداز سے بیان فرمایا ہے:
﴿نَّحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَأَهُم بِالْحَقِّ ۚ إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى . وَرَبَطْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ إِذْ قَامُوا فَقَالُوا رَبُّنَا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَن نَّدْعُوَ مِن دُونِهِ إِلَٰهًا ۖ لَّقَدْ قُلْنَا إِذًا شَطَطًا. هَٰؤُلَاءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ آلِهَةً ۖ لَّوْلَا يَأْتُونَ عَلَيْهِم بِسُلْطَانٍ بَيِّنٍ ۖ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا۔﴾
”ہم آپ کو ان کا صحیح واقعہ سناتے ہیں۔ بے شک وہ کچھ نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے، اور ہم نے انہیں راہ راست کی طرف زیادہ ہدایت دی تھی۔ اور ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کر رکھا جب وہ (دعوت حق کے لیے) کھڑے ہوئے، اور کہا کہ ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے، ہم اس کے سوا کسی دوسرے معبود کی ہرگز عبادت نہیں کریں گے، ورنہ ہم حقیقت سے دور کی بات کہیں گے۔ ہماری قوم نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنائے ہیں، تو ان کے معبود ہونے کی کوئی صریح دلیل کیوں نہیں پیش کرتے ہیں؟ پس اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ کے بارے میں جھوٹ بولتا ہے۔“
(18-الكهف:13 تا 15)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے (إنهم فتية) سے استنباط کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”بوڑھوں کے مقابلے میں نوجوان حق کو جلد قبول کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قریش کے اکثر بوڑھے اپنے کفر پر جمع رہے، ان میں سے بہت کم لوگوں نے اسلام قبول کیا۔“[ بحواله تيسير الرحمن: 835/1]
یعنی نوجوانوں کا کام توحید کی دعوت دینا اور شرک سے منع کرنا ہے۔ اور اس کے فضائل بہت زیادہ ہیں۔ اور ایسے نوجوانوں کی قرآن و حدیث میں کافی مدح کی گئی ہے۔
عن أبى هريرة رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: ”سبعة يظلهم الله فى ظله يوم لا ظل إلا ظله: إمام عادل، وشاب نشأ فى عبادة الله، ورجل قلبه معلق فى المساجد، ورجلان تحابا فى الله اجتمعا عليه وتفرقا عليه، ورجل دعته امرأة ذات منصب وجمال فقال: إني أخاف الله، ورجل تصدق بصدقة فأخفاها حتى لا تعلم شماله ما تنفق يمينه، ورجل ذكر الله خاليا ففاضت عيناه“.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات آدمی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہوگا: ➊ انصاف کرنے والا حکمران، ➋ وہ نوجوان، جو اللہ کی عبادت میں پل کر پروان چڑھا ہو، ➌ وہ آدمی، جس کا دل مسجدوں میں اٹکا ہوا ہو، ➍ وہ دو آدمی، جو اللہ کی رضا کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، اس کی وجہ سے باہم جمع ہوتے اور اسی پر ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں، ➎ وہ آدمی، جس کو منصب و جمال والی عورت دعوت گناہ دے اور وہ اس کے جواب میں کہہ دے، میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں، ➏ وہ آدمی، جس نے اس طرح خفیہ صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی یہ علم نہیں ہوا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا اور ➐ وہ آدمی جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے (اس کے خوف سے) آنسو رواں ہو گئے۔“
صحیح بخاری ، کتاب الزكوة ، باب الصدقة باليمين، رقم: 1423 – صحيح مسلم، کتاب الزكاة، باب فضل اخفاء الصدقة، رقم: 1031.
جوانی میں عبادت کرنے والے کو اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے سائے تلے جگہ عطا فرمائے گا۔ یہی نہیں بلکہ جوانی میں امور عبادات بجالانے والا اگر بیمار ہو جائے ، یا بوڑھا ہو جائے اور وہ نیکی کا کام نہ کر سکے تو اللہ تعالیٰ اس کے جوانی و گذشتہ اعمال صالحہ کی بناء پر اس کے ایامِ مرض میں بھی نیکیوں کا ثواب عطا فرماتا ہے ۔ جیسا کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا مرض العبد أو سافر كتب له مثل ما كان يعمل مقيما صحيحا
” جب اللہ تعالیٰ کا بندہ بیمار ہو جائے ، یا حالت سفر میں ہو تو ( بیماری یا سفر میں عمل نہ کر سکنے کے باوجود ) اس کے حالت اقامت وصحت کے اعتبار سے ثواب لکھا جاتا ہے۔“
صحيح البخاري، كتاب الجهاد، باب يكتب للمسافر مثل ماكان يعمل في الاقامة، رقم: 2669 .
اسی طرح جو عبادت و اعمال صالحہ حالت جوانی میں ادا کیے جا سکتے ہیں۔ وہ بڑھاپے میں نہیں ، کیونکہ بڑھاپا خود ایک بڑی بیماری ہے، کیونکہ اس میں جوانی والی قوت و طاقت نہیں ہوتی لہذا اس سے بہت سے اعمال رہ جاتے ہیں، اسی لیے جوانی کو غنیمت سمجھنے پر مسلمانوں کو اکسایا گیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”اغتنم خمسا قبل خمس: شبابك قبل هرمك، وصحتك قبل سقمك، وغناك قبل فقرك، وفراغك قبل شغلك، وحياتك قبل موتك“.
یعنی پانچ چیزوں کو پانچ سے پہلے غنیمت جانو : ➊ جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، ➋ صحت کو بیماری سے قبل ، ➌ توانگری کو فقیری سے قبل، ➍ فراغت کو مشغولیت سے قبل اور ( 5 ) زندگی کو موت سے قبل ۔
مستدرك حاكم : 306/4 ـ صحيح الجامع الصغير رقم: 1077.
چونکہ جوانی ایک سرپٹ وسرکش گھوڑے کی مانند ہے۔ اسے قابو کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس میں عبادات کی طرف توجہ بہت کم ہوتی ہے، تو جو نوجوان منہ زور جوانی کو کنٹرول کرتا ہے اور اپنی خواہش نفس کو روند ڈالتا ہے ۔ تو اسے درج ذیل فضائل کا حصول ہوتا ہے ۔ ارکان اسلام میں توحید کے بعد دوسرا نمبر نماز کا ہے، اور اس کی اہمیت قرآن وحدیث میں لا تعداد مقامات پر بیان کی گئی ہے۔ اور نماز کی ادائیگی کا اصل سرور جوانی کی حالت میں ہی آتا ہے۔ اس لیے مختصراً یہاں اس کا ذکر کیا گیا ہے اور بعد میں نماز اور دیگر عبادات کے فضائل۔