حدیث 11: حالت حیض میں مباشرت
صحيح البخاري ، الحيض ، باب مباشرة الحائض ، حدیث : 301,300,299
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے تھے جبکہ ہم حالت جنابت میں ہوتے تھے اور حالت حیض میں آپ مجھے حکم دیتے تو میں ازار پہن لیتی اور آپ مجھ سے اختلاط کرتے تھے۔ اور بحالت اعتکاف آپ اپنا سر مسجد سے میری طرف نکال دیتے تھے اور میں اس کو دھو دیتی، حالانکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔
مقام حدیث ص : 220
اس حدیث پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ حالت حیض میں مباشرت قرآن کی رو سے منع ہے جبکہ حدیث میں اس کا اثبات ہو رہا ہے۔
جواب :
یہ حدیث صحیح ہے لیکن اس بات میں کوئی قباحت نہیں کہ میاں بیوی اپنے گھر میں اکٹھے غسل کریں۔ حالت حیض میں ازار کے اوپر مباشرت کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں لیکن مباشرت کا معنی اختلاط (جماع فی الفرج) کرنا نہیں ہے۔ مباشرت کا معنی ہے: بدن کے ساتھ بدن ملانا یہ معنی احادیث میں اکثر استعمال ہوتا ہے۔ قرآن میں مباشرت کا معنی مجامعت ہے لیکن ہر آیت میں یہی معنی مراد لینے کا کوئی قرینہ ہوتا ہے۔ یہاں بھی ازار باندھنا اس بات کی صریح دلیل ہے کہ اس سے مجامعت مراد نہیں۔ معتکف کا مسجد سے سر نکالنا اور حائضہ کا اسے دھو دینا جائز ہے کیونکہ حائضہ کے ہاتھ اور پاؤں وغیرہ پاک ہوتے ہیں۔