نر کو مادہ کے ساتھ جفتی کرانے کی اجرت لینے کی ممانعت
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جفتی کرانے کا معاوضہ لینے سے منع فرمایا ہے۔
بخاری، کتاب الامارة 2284 ابوداؤد، كتاب البيوع 3429۔
② سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نر کو مادہ کے ساتھ جفتی کرانے کی اجرت لینے سے منع فرمایا ہے۔
النسائي، البيوع 274/7۔
مال کو جوڑ کر رکھنے کی ممانعت
① احنف بن قیس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں قریش کے چند افراد کے ساتھ تھا کہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے گزرے: مال جمع کر رکھنے والوں کو ان کی پشتوں پر داغ دینے کی بشارت دو جو ان کے پہلوؤں سے نکل آئے گا اور انہیں ان کی گدیوں پر داغنے کی بشارت دو جو ان کی پیشانیوں سے نکل آئے گا۔ راوی بیان کرتے ہیں، پھر وہ کچھ دور ہو کر بیٹھ گئے راوی کہتے ہیں، میں نے کہا یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں، میں چل کر ان کے پاس گیا اور کہا: میں تھوڑی دیر پہلے آپ سے کیا سن رہا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے تو وہی کچھ کہا ہے جو میں نے ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ وہ کہتے ہیں، میں نے کہا: آپ اس عطا کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اسے لے لو کیونکہ اس میں آج معونت و گزران ہے اور جب یہ تمہارے دین کی قیمت بن جائے تو پھر اسے چھوڑ دینا۔
مسلم كتاب الزكاة 992/35۔ مسند احمد، مسند الانصار 201/5، حدیث 21541۔
مال کو ضائع کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله يرضى لكم ثلاثا ويكره لكم ثلاثا ، فيرضى لكم أن تعبدوه ولا تشركوا به شيئا ، وأن تعتصموا بحبل الله جميعا ولا تفرقوا ، ويكره لكم قيل وقال ، وكثرة السؤال ، وإضاعة المال
”اللہ تمہارے لیے تین چیزیں پسند فرماتا ہے اور تین نا پسند کرتا ہے وہ یہ پسند کرتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ اور یہ کہ تم سب مل کر اللہ کی رسی کو تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ اور وہ یہ نا پسند کرتا ہے کہ تم سنی سنائی باتیں بیان کرتے پھرؤ وہ کثرت سوال کو نا پسند کرتا ہے اور مال ضائع کرنے کو نا پسند کرتا ہے۔“
بخاری کتاب الادب 5975۔ مسلم، كتاب الاقضية 1715۔ موطا 2/ 990، حديث 20۔
مسلمانوں کے سکے کو توڑنے کی ممانعت
① سیدنا علقمہ بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے رائج سکے کو بلا وجہ توڑنے سے منع فرمایا ہے۔
ابوداؤد، كتاب البيوع 3449۔ ابن ماجه , کتاب التجارات 2263۔ مسند احمد، مسند المكيين 512/3، حدیث 15493۔