محصول لینے، قیمت بڑھانے کی بولی، سود کی ممانعت اور ادھار لی ہوئی چیز کی واپسی

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

محصول لینے کی ممانعت

① سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
لا يدخل الجنة صاحب مكس
”محصول لینے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا“۔
ابوداؤد، كتاب الخخراج والامارة والفئ 2937۔

محض قیمت بڑھانے کے لیے بولی دینے کی ممانعت

① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محض قیمت بڑھانے کے لیے (جبکہ خریدنے کی نیت نہ ہو) بولی دینے سے منع فرمایا ہے۔
بخاری، کتاب البيوع 2142۔ مسلم، كتاب البيوع 1516/13۔

سود کی ممانعت

① سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے اور کھلانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ مغیرہ نے کہا میں نے ابراہیم سے کہا: اس کے لکھنے والے اور اس کے دو گواہوں پر۔ تو انہوں نے کہا: ہم نے جو سنا ہے وہی بیان کرتے ہیں۔
مسلم، كتاب المساقات 1597/105۔
② سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اس کے گواہ اور اس کے لکھنے والے پر لعنت فرمائی۔
ترمذى كتاب البيوع 1206۔ ابوداؤد، كتاب البيوع 3333۔
③ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الذهب بالورق ربا إلا هاء وهاء ، والبر بالبر ربا إلا هاء وهاء ، والشعير بالشعير ربا إلا هاء وهاء ، والثمر بالثمر ربا إلا هاء وهاء
”سونا چاندی کے عوض فروخت کرنا سود ہے الا یہ کہ دست بدست ہو گندم کے عوض گندم فروخت کرنا سود ہے مگر دست بدست ہو تو صحیح ہے جو جو کے عوض فروخت کرنا سود ہے مگر دست بدست ہو تو صحیح ہے اور کھجور کے بدلے کھجور بیچنا سود ہے الا یہ دست بدست ہو“۔
بخاری، کتاب البيوع 2170۔ مسلم، كتاب المساقات 1586/79۔
④ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الربا فى النسيئة ”سود ادھار میں ہے۔“
اور ایک روایت میں ہے:
إنما الربا فى النسيئة
”سود صرف ادھار میں ہوتا ہے۔“
بخاری، کتاب البیوع 2178۔ مسلم، کتاب المساقات 1596/102۔

ادھار لی ہوئی چیز واپس کرنا

① سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑا پیالہ ادھار لیا وہ ضائع ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کا تاوان ادا کیا۔
ترمذی شریف۔