مسلمان عورت کا لباس، مرد و عورت کی مشابہت اور تکبر کے لباس کا حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

مسلمان خاتون کا لباس :

اسلام نے عورت کے لیے ایسے کپڑے پہننا حرام کر دیا ہے جن کے اندر سے بدن نظر آئے یا جھلکے۔ اسی طرح وہ کپڑا بھی حرام ہے جس سے بدن کے خدو خال اور خاص طور سے وہ اعضا نمایاں ہوں جن سے فتنہ کا اندیشہ ہوسکتا ہے، مثلاً چھاتی، کمر، سرین وغیرہ۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
صنفان من أهل النار لم أرهما، قوم معهم سياط كأذناب البقر يضربون بها الناس، ونساء كاسيات عاريات مميلات مائلات، رؤوسهن كأسنمة البخت المائلة، لا يدخلن الجنة ولا يجدن ريحها، وإن ريحها ليوجد من مسيرة كذا وكذا
”دو گروہ دوزخی ہیں جنہیں میں نے دیکھا نہیں ہے۔ ایک وہ جن کے ساتھ گائے کی دُم کی طرح کوڑے ہوں گے، جن کو وہ لوگوں پر برسائیں گے یعنی ظالم حکمران۔ اور دوسرے وہ عورتیں جو کپڑے پہن کر بھی برہنہ رہیں گی۔ وہ اپنی طرف مردوں کو مائل کریں گی اور خود مردوں کی طرف مائل ہوں گی۔ ان کے سر اُونٹ کے جھکتے ہوئے کوہان کی طرح ہوں گے۔ وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور نہ اس کی خوشبو پاسکیں گی حالانکہ اس کی خوشبو دور دور تک پھیلی ہوئی ہوگی۔“
مسلم كتاب اللباس والزينة : باب النساء الكاسيات العاريات المميلات ح : 2128
وہ کاسیات یعنی کپڑے پہنے ہوئے ہوں گی۔ اس کے باوجود عاریات یعنی برہنہ ہوں گی، کیونکہ ان کے کپڑے اس قدر باریک اور شفاف ہوں گے کہ بدن اندر سے ظاہر ہو رہا ہوگا اور وہ ستر پوشی کا کام نہیں دے سکیں گے۔ موجودہ زمانہ کی عورتیں زیادہ تر ایسا ہی لباس پہنتی ہیں۔
اور اُن کے سر کو اونٹ کے کوہان سے اس لیے تشبیہ دی ہے کہ وہ اپنے بالوں کا جوڑا سر کے درمیانی حصہ میں اونچا کر کے باندھیں گی۔ جس میں عورتوں کے بال سنوارنے اور ان کو فیشن ایبل (Fashionable) بنانے کے لیے خاص مراکز قائم ہو گئے ہیں۔ ان مراکز کو بیوٹی پارلر کہا جاتا ہے اور ان کی نگرانی زیادہ تر مرد کرتے ہیں اور اپنی اس خدمت کی خوب خوب اُجرت طلب کرتے ہیں۔ اس پر بس نہیں بلکہ عورتوں کا عام طور سے جمال یہ ہوتا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ قدرتی بالوں کو نا کافی خیال کرتے ہوئے مصنوعی بال خرید کر اپنے بالوں میں لگا لیتی ہیں۔
ایک طرف مرد ہیں جو ملائمت و نزاکت اور حسن و جمال میں عورتوں سے بڑھ جانے کے خواہشمند ہیں اور دوسری طرف عورتیں ہیں جو زیادہ سے زیادہ پرکشش بن کر مردوں کو اپنی طرف راغب کرنا چاہتی ہیں۔
مذکورہ حدیث میں ایک عجیب نکتہ یہ ہے کہ سیاسی استبداد اور اخلاقی گراوٹ کے درمیان ایک قسم کا ربط ہے جس کی تصدیق حالات حاضرہ نے کردی ہے۔ استبداد کرنے والے ہمیشہ قوم کو شہوت انگیز کاموں میں مصروف رکھ کر اور لوگوں کو ذاتی دلچسپی کے کاموں میں اُلجھا کر ان کی توجہ اہم مسائل کی طرف سے ہٹاتے رہتے ہیں۔

عورت اور مرد کا ایک دوسرے کی مشابہت کرنا :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور سے بیان فرمایا ہے کہ عورت کے لیے مرد کا لباس پہننا اور مرد کے لیے عورت کا لباس پہننا ممنوع ہے۔
مسند احمد 325/2 – ابو داود، كتاب اللباس : باب لبسة النساء، ح: 4098 – مستدرك حاكم 194/4
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی مشابہت کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔
صحيح البخاري كتاب اللباس باب المتشبهين بالنساء والمتشبهات بالرجال رقم الحديث ح : 5885 مجمع الزوائد للهيثمي 102/7 رقم الحديث : 13179 ، المعجم الكبير للطبراني 201/11، رقم الحديث : 11646، مسند احمد بن حنبل 200/2 ، رقم الحديث : 6875 ، سنن ابی داود كتاب اللباس : باب في لباس النساء، رقم الحديث: 4097، جامع ترمذی كتاب الأدب : باب ما جاء في المتشبهات بالرجال من النساء رقم الحديث : 2784
مشابہت کے مفہوم میں بات چیت، حرکت، چال، لباس اور رویہ شامل ہیں۔
انسانی زندگی میں شر کے پیدا ہونے اور معاشرہ کے بگاڑ میں مبتلا ہونے کی اصل وجہ یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت سے انحراف اور طبعی امور کے خلاف رویہ اختیار کرتا ہے۔ مرد ایک مخصوص مزاج کا حامل ہوتا ہے اور عورت بھی ایک مخصوص مزاج کی حامل ہوتی ہے۔ یعنی ہر ایک کی خصوصیات الگ الگ ہیں۔ لیکن جب مرد مخنث بننے کی کوشش کرنے لگتا ہے اور عورت، مرد بن جانے کی خواہش تو اس کا نتیجہ بگاڑ اور اخلاقی گراوٹ کی شکل میں ظاہر ہونے لگتا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کو ملعون قرار دیا ہے جس نے اپنے کو مؤنث بنا لیا اور عورتوں کی مشابہت کرنے لگا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اسے مرد بنایا تھا۔ اور اس عورت کو بھی جسے اللہ نے مؤنث بنایا تھا لیکن وہ مذکر بن کر مردوں کی مشابہت کرنے لگی۔
طبرانی فی الکبیر 241/8 وإسناده ضعيف قال الهيثمي في المجمع 103/8 : فيه علي بن يزيد الألهاني وهو متروك
اسی بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو زرد رنگ کے کپڑے پہننے سے منع فرمایا ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم عن التختم بالذهب، وعن لباس القسي، وعن لباس المعصفر
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی پہننے، اور قسی ایک قسم کا ریشم کا لباس پہننے، اور زرد رنگ کے کپڑے پہننے سے منع فرمایا ہے۔“
مسلم كتاب اللباس والزينة : باب النهي عن لبس الرجل الثوب المعصفر ح : 2078/31
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم على ثوبين معصفرين فقال: إن هذه من ثياب الكفار فلا تلبسها
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے جسم پر زرد رنگ کے دو کپڑے دیکھے تو فرمایا : یہ کفار کا لباس ہے اسے نہ پہنو۔“
مسلم كتاب اللباس والزينة : باب النهي عن لبس الرجل الثوب المعصفر ح : 2077

شہرت اور تکبر کا لباس :

پاکیزہ چیزوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے خواہ وہ کھانے پینے کی ہوں یا پہننے کی، عام شرط یہ ہے کہ اس معاملہ میں اسراف اور تکبر نہ کیا جائے۔ اسراف یہ ہے کہ حلال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حد سے تجاوز کیا جائے۔ اور تکبر کا تعلق ظاہر کی بہ نسبت دل اور نیت سے زیادہ ہے۔ اور تکبر اختیار یہ ہے کہ آدمی اپنے کو دوسروں سے بڑا سمجھتے ہوئے غرور میں مبتلا ہو جائے اور لوگوں کے مقابلہ میں فخر کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ
”اللہ کو ایسے لوگ پسند نہیں ہیں جو اترانے والے اور فخر کرنے والے ہوں۔“
سورة الحديد : 23
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
من جر ثوبه خيلاء لم ينظر الله إليه يوم القيامة
”جو اپنے کپڑے تکبر سے گھسیٹتے ہوئے چلے گا تو اللہ قیامت کے دن اُس کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھے گا۔“
بخاری كتاب اللباس : باب قول الله تعالى قل من حرم زينة الله ح : 5783، 5874 – مسلم، كتاب اللباس والزينة: باب تحريم جر الثوب خيلاء، ح: 2085
چونکہ مسلمان کو ایسی چیز سے جس میں تکبر کا اندیشہ ہو اجتناب کرنا چاہیے۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہرت کے کپڑے پہننے سے منع فرمایا ہے۔ جن سے فخر، ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی خواہش اور مقابلہ کے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں۔ حدیث میں ہے :
من لبس ثوب شهرة ألبسه الله ثوب مذلة يوم القيامة
”جو شخص شہرت کا لباس پہنے گا، اللہ تعالی اسے قیامت کے دن ذلت کا لباس پہنائے گا۔“
مسند احمد 139/2، 93 – ابوداود كتاب اللباس : باب في لبس الشهرة ح : 4029، 4030 – ابن ماجه، كتاب اللباس: باب من لبس شهرة من الثياب ح : 3606، 3607
ایک شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ میں کس قسم کے کپڑے پہنوں؟ آپ نے کہا : جس کے پہننے سے نادان لوگ تمہیں بے وقعت خیال نہ کریں یعنی گھٹیا قسم کے اور بدنما نہ ہوں اور اہل دانش اس میں عیب نہ نکالیں یعنی حد اعتدال سے متجاوز نہ ہوں۔
مجمع الزوائد 135/5، وقال الهيثمي: رواه الطبراني في الكبير، 203/12 ح : 13051 ورجاله رجال الصحيح