بیمہ، انشورنس اور اسلامی تکافل کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

بیمہ کمپنیاں

کاروبار کی ایک جدید صورت بیمہ کمپنیاں ہیں۔ بیمہ کی مختلف شکلیں ہیں۔ مثلاً لائف انشورنس (بیمہ زندگی)، حادثات کا بیمہ وغیرہ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ اور کیا اسلام اس کو برقرار رکھنا چاہتا ہے؟
اس کا جواب دینے سے پہلے مناسب ہوگا کہ ہم ان کمپنیوں کی نوعیت معلوم کر لیں۔ اور یہ جان لیں کہ بیمہ کرانے والے کا بیمہ کمپنی سے کس قسم کا تعلق ہوتا ہے۔ بالفاظ دیگر کیا بیمہ کرانے والے کی حیثیت بیمہ کے ادارہ کے نزدیک ایک شریک کی ہوتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو ہر بیمہ کرانے والے شخص کو جیسا کہ اسلام کی تعلیم ہے نفع و نقصان میں شریک ہو جانا چاہیے۔ حوادث کے بیمہ میں، بیمہ کرانے والا ایک مقررہ رقم سالانہ ادا کرتا ہے اور جس کاروبار کا بیمہ کرایا گیا ہوتا ہے اگر کسی حادثہ کی زد میں نہ آئے تو اس پوری رقم پر کمپنی قابض ہو جاتی اور اس میں سے کچھ بھی واپس نہیں کرتی۔ البتہ حادثہ کی زد میں آنے کی صورت میں طے شدہ رقم معاوضہ کے طور پر ادا کرتی ہے۔ یہ صورت کاروبار اور اشتراک کے مزاج سے کوئی مناسبت نہیں رکھتی۔
بیمہ زندگی کی صورت یہ ہے کہ اگر دو ہزار پونڈ کا بیمہ کرا لیا جائے اور پہلی قسط ادا کرنے پر موت واقع ہو جائے تو بیمہ کرانے والا پورے دو ہزار پونڈ کا مستحق ہو جاتا ہے۔ اگر اس کی حیثیت کاروباری شریک کی ہوتی تو صرف اپنی قسط کی رقم اور اس کی نسبت سے منافع کا مستحق ہوتا۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگر بیمہ کرانے والا کمپنی کے قواعد کی پابندی نہ کرے اور اقساط کی ادائیگی سے قاصر رہے تو ادا شدہ رقم یا اس کے بعض حصہ سے اسے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ شرط بالکل فاسد ہے۔
رہا یہ کہنا کہ دونوں فریق اپنی رضا مندی سے یہ معاملہ کرتے ہیں اور وہ خود اپنے مفاد کو اچھی طرح جانتے ہیں، تو اس بات میں کوئی وزن نہیں ہے کیونکہ اسی طرح سود کھانے اور کھلانے والے فریق بھی تو باہم رضامندی سے معاملہ طے کرتے ہیں۔ اور دو جوا کھیلنے والے بھی تو آپس کی رضا مندی سے جوا کھیلتے ہیں۔ ایسی رضامندی کا کوئی اعتبار نہیں جب تک کہ وہ اپنا معاملہ واضح طور سے عدل کی بنیاد پر قائم نہیں کرتے کہ جس میں دھوکہ اور ظلم و زیادتی کا شائبہ تک نہ ہو۔ اور یہ نہ ہو کہ ایک فریق کو نفع کی ضمانت حاصل ہو اور دوسرے فریق کا نفع غیر یقینی ہو۔ اصل بنیادی چیز عدل ہے جس کو تمام معاملات میں اس طرح ملحوظ رکھنا چاہیے کہ نہ اپنے کو نقصان پہنچے اور نہ دوسروں کو۔

کیا بیمہ کمپنیاں امداد باہمی کے ادارے ہیں؟

بیمہ کرانے والے اور بیمہ کمپنی کے درمیان جب تعلق کی نوعیت شرکت کی نہیں ہے تو پھر اس کی نوعیت کیا ہے؟ اور کیا یہ ادارے امداد باہمی کے ادارے ہیں جنہیں عطیہ دہندگان کے اشتراک سے چلایا جاتا ہو اور وہ ایک دوسرے کی مدد کی غرض سے مالی اشتراک کرتے ہوں؟
لیکن اس مقصد کے پیش نظر کہ تعاون کی صحیح صورت اختیار کی جائے اور مصیبت زدگان کی مدد کی جائے جو مال بھی جمع کیا جائے اس کے سلسلہ میں درج ذیل امور کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے :
◈ فرد مقررہ چندہ بھائی چارگی کی خاطر عطیہ کے طور پر ادا کرے اور اس فنڈ میں سے حسب ضرورت حاجت مندوں کی مدد کی جائے۔
◈ فنڈ سے استفادہ کے صرف جائز ذرائع اختیار کیے جائیں۔
◈ کسی شخص کا اس بنا پر عطیہ دینا جائز نہیں کہ حادثہ کی صورت میں اسے ایک معین رقم بطور معاوضہ ملے گی بلکہ ادارہ کے فنڈ میں سے اسے حسب گنجائش اتنا دیا جائے کہ نقصان کی مکمل یا کسی حد تک تلافی ہو سکے۔
◈ عطیہ، بخشش ہے اور اس کو واپس لینا حرام ہے۔ لہذا جب کوئی حادثہ پیش آجائے تو اس معاملہ میں شرعی احکام کو ملحوظ رکھا جائے۔
ان شرائط کا انطباق صرف چند انجمنوں اور اداروں پر ہوتا ہے جو اس غرض سے قائم ہوئے ہیں، جن کو افراد عطیہ کے طور پر اپنا ماہانہ اشتراک پیش کرتے ہیں جس کو واپس لینے کا انہیں کوئی بھی اختیار نہیں ہوتا اور نہ یہ شرط ہوتی ہے کہ حادثہ کی صورت میں انہیں معین رقم مل جانی چاہیے۔
رہ گئیں کاروباری بیمہ کمپنیاں اور خاص طور سے بیمہ زندگی کے ادارے تو ان پر ان شرائط کا کسی طرح انطباق نہیں ہوتا :
➊ بیمہ کرانے والے عطیہ کی نیت سے اقساط ادا نہیں کرتے بلکہ اس بات کا شاید خیال بھی ان کے دل میں نہیں آتا۔
➋ بیمہ کمپنیاں اپنا سرمایہ حرام سودی کاموں میں لگا کر نفع کماتی ہیں۔ اور ایک مسلمان کے لیے سودی کام میں اشتراک جائز نہیں ہے۔ اس بات پر رخصت پسند اور تشدد پسند، سب ہی متفق ہیں۔
➌ بیمہ کرانے والا معاہدہ کی مدت ختم ہو جانے پر تمام اقساط کی رقم واپس لے لیتا ہے اور اسے مزید رقم بھی ملتی ہے وہ کس لیے جو سود نہیں تو اور کیا ہے؟ اسی طرح یہ بات بھی تعاون کی اسپرٹ کے خلاف ہے کہ کسی مالدار شخص کو جو قدرت رکھتا ہو عاجز محتاج کے مقابلہ میں زیادہ رقم دی جائے۔ یہ بات ضرور ہے کہ صاحب حیثیت آدمی بڑی رقم کا بیمہ کراتا ہے اس لیے وفات یا حادثہ کی صورت میں اسے زیادہ حصہ ملتا ہے۔ لیکن تعاون کی اسپرٹ اس بات کی متقاضی ہے کہ محتاج کو دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ دیا جائے۔
➍ جو شخص بیمہ کا معاہدہ ختم کرنا چاہے اسے ادا شدہ رقم کے بڑے حصہ کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس نقصان کے لیے شرعاً کوئی جواز کی وجہ نہیں ہے۔

اصلاحات

ان تمام باتوں کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ حادثات کے بیمہ میں اصلاح کر کے اسے اسلامی معاملات سے قریب لایا جاسکتا ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ عطیہ، معاوضہ کی شرط پر دینے کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ بیمہ کرانے والا کمپنی کو مالی عطیہ اس شرط پر دے کہ حادثہ کی صورت میں کمپنی اس کو معاوضہ دے گی جس سے اس کی اعانت ہو اور اس کی مصیبت میں تخفیف ہو سکے۔ معاملہ کی یہ صورت بعض مسالک میں جائز ہے۔
اگر بیمہ کے معاملہ میں یہ اصلاح کرلی جائے اور بیمہ کمپنی کے معاملات سود سے پاک ہوں تو میرا رجحان جواز کی طرف ہے۔ رہا بیمہ زندگی تو میری رائے میں اس کی صورت شرعی معاملات سے بہت زیادہ بعد رکھتی ہے۔

اسلام کا انشورنس سسٹم

ہم نے دیکھ لیا کہ اسلام موجودہ صورت میں بیمہ کمپنیوں کا مخالف ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام نفس بیمہ ہی کا مخالف ہے۔ نہیں بلکہ اسلام اس موجودہ بیمہ کے طریقہ اور ذریعہ کا مخالف ہے۔ اگر بیمہ کے لیے دوسرے طریقے اختیار کیے جائیں جو اسلامی معاملات کے منافی نہ ہوں، تو اسلام اس کا خیر مقدم کرے گا۔
بہر حال یہ حقیقت ہے کہ اسلامی نظام نے اسلام کے فرزندوں اور اس کی حکومت کے زیر سایہ رہنے والوں کو اجتماعی تکافل کے ذریعہ یا حکومت اور بیت المال کے ذریعہ بیمہ کی ضمانت دے دی ہے۔ اسلام کا بیت المال عوامی بیمہ کمپنی کی حیثیت رکھتا ہے اور وہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو اس کے اقتدار کے زیر سایہ رہنا چاہتا ہو۔
اسلامی شریعت حادثات اور مصائب میں افراد کی معاونت کرنے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ جب کوئی شخص مصیبت میں مبتلا ہو جائے تو وہ صاحب امر کے سامنے اپنا مسئلہ پیش کر سکتا ہے تاکہ وہ اس کی تلافی کا سامان کر سکے۔ اسی طرح مرنے کے بعد وارثوں کے لیے بھی ضمانت دی گئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
أنا أولى بكل مسلم من نفسه من ترك مالا فلورثته ومن ترك دينا أو ضياعا فإلى وعلى
”میں ہر مسلمان سے اس کے نفس سے زیادہ قریبی تعلق رکھتا ہوں، جو مسلمان مال چھوڑے وہ اس کے وارثوں کے لیے ہے۔ اور جو قرض یا چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑے تو قرض کی ادائیگی اور بچوں کی کفالت کی ذمہ داری مجھ پر ہے۔“
بخاری کتاب التفسیر سورۃ الاحزاب باب النبی اولی بالمؤمنین من انفسہم ح : 4786 ، مسلم کتاب الفرائض باب من ترک مالا فلورثتہ ح : 1619 باختلاف یسیر، ابو داود کتاب الخراج باب فی ارزاق الذریۃ ح : 2954 ، ابن ماجہ 2416 نحوہ من حدیث جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ
مزید برآں اسلام نے اپنے فرزندوں کی بیمہ کاری کے لیے جو سب سے بڑی چیز مشروع کی وہ زکوۃ کے مصارف میں غارمین مقروضوں کا حصہ ہے۔ اس کی تفسیر میں بعض مفسرین سلف سے یہ بھی منقول ہے کہ غارم وہ شخص ہے جس کا گھر جل گیا ہو یا جس کے مال یا کاروبار کو سیلاب بہا لے گیا ہو وغیرہ۔ اور بعض فقہاء اس بات کو جائز قرار دیتے ہیں کہ زکوۃ کی آمدنی سے ایسے شخص کو اتنا مال دیا جائے کہ اس کی سابقہ مالی پوزیشن بحال ہو جائے خواہ اسے ہزاروں کی رقم دینا پڑے۔