حافظِ قرآن کو تاج پہنائے جانے والی روایت کا تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
تحریر: غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ

سوال: کیا روز قیامت حافظ قرآن کو تاج پہنایا جائے گا؟

جواب: اس بارے میں کوئی روایت ثابت نہیں۔

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سےمروی ہے:

كنت جالسا عند النبي صلى الله عليه وسلم، فسمعته يقول: تعلموا سورة البقرة، فإن أخذها بركة، وتركها حسرة، ولا يستطيعها البطلة, قال: ثم سكت ساعة، ثم قال: تعلموا سورة البقرة، وآل عمران، فإنهما الزهراوان يظلان صاحبهما يوم القيامة كأنهما غمامتان، أو غيايتان، أو فرقان من طير صواف. وإن القرآن يلقى صاحبه يوم القيامة حين ينشق عنه قبره كالرجل الشاحب، فيقول له: هل تعرفني؟ فيقول: ما أعرفك، فيقول: أنا صاحبك القرآن الذي أظمأتك في الهواجر، وأسهرت ليلك، وإن كل تاجر من وراء تجارته، وإنك اليوم من وراء كل تجارة، فيعطى الملك بيمينه، والخلد بشماله، ويوضع على رأسه تاج الوقار، ويكسى والداه حلتين لا يقوم لهما أهل الدنيا، فيقولان: بم كسينا هذا؟ فيقال: بأخذ ولدكما القرآن.ثم يقال له: اقرأ، واصعد في درج الجنة وغرفها، فهو في صعود ما دام يقرأ، هذا كان، أو ترتيلا.

میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا تھا، آپ نے فرمایا: سورت بقرہ سیکھیں! اسے سیکھنا باعث برکت اور چھوڑنا باعث حسرت ہے۔ جادوگر کا جادو اس پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ آپ ﷺ لمحہ بھر خاموش رہے، پھر فرمایا: سورۃ بقرہ اور سورۃ آلِ عمران سیکھیں! یہ نور ہیں، روزِ قیامت اپنے پڑھنے والوں پر بادل یا چھتری کی طرح سایہ فگن ہوں گی، یا پھر قطار باندھے پرندوں کی ٹولیوں کی طرح۔ قیامت کے دن قاری قرآن کی قبر شق ہوگی، تو قرآن اس سے نحیف و نزار (یا اداس) آدمی کی شکل میں ملے گا اور پوچھے گا: مجھے پہچانتے ہو؟ قاری جواب دے گا: نہیں۔ قرآن کہے گا: میں قرآن ہوں۔ میں نے گرمی میں تجھے پیاسا رکھا، راتوں کو جگایا، ہر تاجر نفع حاصل کرنے کے لیے تجارت کرتا ہے، آج آپ تمام تجارتوں سے بے نیاز ہو گئے، چنانچہ قاری کے دائیں ہاتھ میں بادشاہت اور بائیں ہاتھ میں ہمیشگی کا پروانہ دیا جائے گا، عزت و وقار کی تاج پوشی ہوگی اور اس کے والدین کو دو قیمتی لباس پہنائے جائیں گے، جن کے سامنے متاعِ دنیا حقیر ہوگی۔ قاری کے والدین عرض کریں گے: یہ لباس ہمیں کیوں پہنایا گیا ہے؟ بتایا جائے گا: آپ کے بیٹے نے قرآن سیکھا ہے اس لیے۔ پھر قاری سے کہا جائے گا: قرآن پڑھتے جائیں اور جنت کے بلند و بالا درجات پر چڑھتے جائیں، چنانچہ جب تک تلاوت کرتا رہے گا، درجات چڑھتا جائے گا، وہ چاہے تیز پڑھے یا آہستہ۔

(مسند الإمام أحمد:22950، سنن الدارمي:3423، سنن ابن ماجه:3781 مختصراً، المستدرک للحاکم :2043 مختصراً)

 

سند ضعیف ہے۔ بشیر بن مہاجر غنوی جمہور کے نزدیک ضعیف ہے، نیز یہ منکر روایات بھی بیان کرتا تھا۔

مذکورہ حدیث ذکر کرنے کے بعد حافظ عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[لا يصح في هذا الباب عن النبي عليه السلام حديث، أسانيدها كلها متقاربة]

اس باب میں نبی کریم ﷺ سے کوئی حدیث ثابت نہیں۔ تمام سندیں (ضعف میں) قریب قریب ہیں۔

(الضعفاء الكبير للعقیلی:143/1 رقم:176)