مضمون کے اہم نکات
کتاب التوبۃ
توبہ واستغفار کرنے کے فضائل
انسان خطا کا پتلا ہے، اور یہ دانستگی و نادانستگی میں اللہ تعالیٰ کی معصیت کا ارتکاب کر لیتا ہے، اور اگر اپنی معصیت پر اصرار کرے تو یہ اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے، لیکن اگر اپنے گناہوں، خطاؤں پر نادم ہو کر بارگاہ الہی میں دست دعا دراز کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے رجوع کرنے ، اور اس سے مغفرت کے طلب کرنے کو انتہائی محبوب رکھتا ہے۔ نتیجے میں وہ نہ صرف گناہوں کو معاف کر کے درجات بلند کرتا ہے، بلکہ رزق کی فراوانی، عطا اولاد، بارش کا نزول، عذاب سے چھٹکارے، جیسی عظیم دنیاوی و اخروی نعمتوں سے بہرہ ور فرماتا ہے۔ جیسا کہ قرآنِ مقدس کی بے شمار آیات اس پر دال ہیں۔
چند ایک ملاحظہ ہوں:
①توبہ قوت میں زیادتی کا سبب ہے:
﴿وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَىٰ قُوَّتِكُمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِينَ﴾
”اور اے میری قوم کے لوگو! تم اپنے رب سے مغفرت طلب کرو، پھر اسی کی طرف توبہ کرو، وہ تمہارے لیے خوب بارش برسائے گا ، اور تمہیں مزید قوت دے گا، اور اللہ کی نگاہ میں مجرم بن کر اس کے دین سے روگردانی نہ کرو۔“
(11-هود:52)
②توبہ گناہوں کو مٹا دیتی ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ ۖ نُورُهُمْ يَسْعَىٰ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾
”اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو۔ ممکن ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناہ دور کر دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں پہنچائے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ جس دن اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اور ایمان داروں کو جو ان کے ساتھ ہیں رسوا نہ کرے گا۔ ان کا نور ان کے سامنے ، ان کے دائیں دوڑ رہا ہوگا ۔ یہ دعائیں کرتے ہوں گے اے ہمارے رب! ہمیں ضیا عطا فرما اور ہمیں بخش دے، یقینا تو ہر چیز پر قادر ہے۔“
(66-التحريم:8)
③توبہ کامیابی کا زینہ ہے:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾
”اے مومنو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تا کہ تم نجات پاؤ۔“
(24-النور:31)
④توبہ سے رزق اور اولاد مل جاتی ہے:
اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کی زبان پر ارشاد فرمایا:
﴿فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا . يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا . وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا﴾ .
”پس میں (نوح) نے کہا: تم سب اپنے رب سے معافی مانگ لو، بلاشبہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا ، مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا، اور تمہارے لیے باغات پیدا کرے گا اور نہریں جاری کر دے گا۔“
(71-نوح:10 تا 12)
”استغفار کا دنیا میں بھی یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اس سے تنگدستی اور کئی دوسری پریشانیاں دُور ہو جاتی ہیں، چنانچہ حسن بصری رحمہ اللہ سے ایک شخص نے قحط کا شکوہ کیا، دوسرے نے محتاجی کا اور تیسرے نے اولاد نہ ہونے کا تو آپ نے ان تینوں کو استغفار کا حکم دیا۔ کسی نے کہا کہ ان کے شکوے تو الگ الگ ہیں، لیکن آپ ہر ایک کو استغفار کا ہی حکم دے رہے ہیں؟ اس کے جواب میں آپ نے یہی آیات (نمبر 10 تا 12) پڑھ کر اسے مطمئن کر دیا ۔
بلکہ بعض علماء تو کہتے ہیں کہ ہر مقصد کے حصول کے لیے اللہ کے حضور استغفار کرنا چاہیے ۔ چنانچہ ایک دفعہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بارش کی دعا کرنے کے لیے باہر نکلے اور صرف استغفار پر اکتفا فرمایا۔ کسی نے عرض کیا: امیر المؤمنین! آپ نے بارش کے لیے دعا تو کی ہی نہیں؟ فرمایا: میں نے آسمان کے ان دروازوں کو کھٹکھٹا دیا ہے، جہاں سے بارش نازل ہوتی ہے۔ پھر آپ نے سورہ نوح کی یہی آیات لوگوں کو پڑھ کر سنا دیں۔“ (تيسير الرحمن : 526/4 )
⑤توبہ سے عذاب ٹل جاتے ہیں :
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾
”اور اللہ تعالیٰ انہیں اس حال میں عذاب نہیں دیتا کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔“
(8-الأنفال:33)
﴿وَأَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُم مَّتَاعًا حَسَنًا إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ ۖ وَإِن تَوَلَّوْا فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيرٍ﴾
”اور یہ کہ تم لوگ اپنے گناہ اپنے رب سے معاف کراؤ، پھر اسی کی طرف متوجہ رہو ، وہ تم کو وقت مقرر تک عمدہ عیش و آرام کا فائدہ اُٹھانے دے گا، اور ہر زیادہ عمل کرنے والے کو زیادہ ثواب دے گا۔ اگر تم لوگ اعراض کرتے رہے تو مجھ کو تمہارے لیے ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔“
(11-هود:3)
⑥پیغام مغفرت :
عن أبى موسى عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: إن الله يبسط يده بالليل ، ليتوب مسيء النهار، ويبسط يده بالنهار ، ليتوب مسيء الليل ، حتى تطلع الشمس من مغربها
سیدنا ابو موسیٰ عبد اللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تا کہ دن کو برائی کرنے والا (رات کو) توبہ کر لے، اور دن کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تا کہ رات کو گناہ کا ارتکاب کرنے والا (دن کو) توبہ کر لے۔ جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو ۔“
صحیح مسلم، کتاب التوبة، باب قبول التوبة من الذنوب ….. رقم: 2759.
⑦رحمت الہی کی وسعتیں:
عن أبى هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : والذي نفسي بيده لو لم تدنبوا لذهب الله بكم، ولجاء بقوم يذنبون فيستغفرون الله فيغفر لهم
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم گناہ نہ کرو، تو اللہ تعالیٰ تمہیں ختم کر کے ، ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جو گناہ کریں گے، اور پھر اللہ سے استغفار کریں گے، پس اللہ ان کو معاف فرمائے گا۔“
صحيح مسلم، کتاب التوبه ، باب سقوط الذنوب بالاستغفار والتوبة ، رقم: 6965 .
عن أبى هريرة رضي الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم ، فيما يحكي عن ربه عز وجل قال: أذنب عبد ذنبا ، فقال: اللهم اغفر لي ذنبي ، فقال تبارك وتعالى: أذنب عبدي ذنبا ، علم أن له ربا يغفر الذنب، ويأخذ بالذنب ، ثم عاد فأذنب، فقال: أى رب! اغفر لي ذنبي ، فقال تبارك وتعالى: أذنب عبدي ذنبا ، فعلم أن له ربا يغفر الذنب ويأخذ بالذنب ، اعمل ما شئت فقد غفرت لك .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کا قول نقل فرماتے ہیں کہ : ” کوئی بندہ گناہ کر کے پھر کہے: اے اللہ ! میرے گناہ بخش دے، تو اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے گناہ کیا اور وہ جانتا ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ کی پاداش میں مواخذہ بھی کرتا ہے۔ پھر وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور کہتا ہے : اے میرے رب ! میرا گناہ معاف فرما دے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے گناہ کیا ہے اور اسے علم ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ معاف کرتا ہے اور گناہ کی وجہ سے گرفت بھی فرماتا ہے۔ (اے میرے بندے) میں نے تجھے بخش دیا ، جو چاہے کر ۔“
صـحـيـح بـخـاري، كتاب التوحيد، باب قول الله تعالى : ﴿يريدون أن يبدلوا كلام الله﴾ ، رقم: 7507 – صحیح مسلم، کتاب التوبة، باب قبول التوبة من الذنوب ، رقم : 2758 .
⑧پروانہ مغفرت:
عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فإن العبد إذا اعترف ثم تاب تاب الله عليه . .
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” بندہ جب اعتراف گناہ کے ساتھ توبہ کرتا ہے، تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔“
صحیح بخارى، كتاب التفسير تفسیر سوره نور ، باب لولا إذ سمعتموه ، رقم: 4750 – صحیح مسلم، كتاب التوبة ، باب في حديث الافك ، رقم: 2770.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”ابلیس نے (اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہو کر) کہا تھا کہ تیری عزت کی قسم ! میں ہمیشہ تیرے بندوں کو گمراہ کرتا رہوں گا جب تک ان کی روحیں ان کے جسموں میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا: مجھے میری عزت اور میرے جلال کی قسم ! میں ہمیشہ انہیں بخشتا رہوں گا جب تک وہ مجھ سے بخشش طلب کرتے رہیں گے۔“
مسند احمد: 3/ 29 ـ مستدرك حاكم: 261/4۔ حاکم نے اسے ”صحیح“ کہا ہے، اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔
سید البشر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
من استغفر للمؤمنين وللمؤمنات كتب الله له بكل مؤمن ومؤمنة حسنة . .
” جو شخص مومن مردوں اور عورتوں کے لیے اللہ سے بخشش کا طلب گار ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر مومن مرد و عورت کے عوض ایک نیکی لکھ دیتا ہے۔“
مجمع الزوائد : 210/10 ـ صحيح الجامع الصغير، رقم: 6026 .
کثرت سے استغفار کو اپنی زندگی کا معمول بنا لیا جائے جو کہ آخرت میں نجات کا ذریعہ بنے گا۔ لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
من أحب أن تسره صحيفته، فليكثر فيها من الاستغفار .
” جو شخص یہ چاہتا ہے کہ روز قیامت اس کا اعمال نامہ اس کو سرخرو کر دے تو اسے چاہیے کہ وہ کثرت سے استغفار کرے۔“
صحيح الجامع الصغير، رقم: 5955.
عبد الله بن بسر رضى الله عنه يقول: قال النبى : طوبى لمن وجد فى صحيفته استغفارا كثيرا .
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مبارک ہو ، اس شخص کو جو اپنے نامہ اعمال میں کثرت سے استغفار پائے ۔“
سـنـن ابـن مـاجـه، كتاب الأدب، باب الاستغفار، رقم: 3818.علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ التعليق الرغيب : 2 / 268 .