انبیاء کرامؑ کی توبہ کے چند واقعات قرآن وحدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

بے مثال توبہ کے چند واقعات

① آدم علیہ السلام کی توبہ:

اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام سمیت سب کو سکھایا ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرتے رہیں، اور اس سے مغفرت و رحمت کی دعا کرتے رہیں۔ چنانچہ شیطان نے آدم و حوا دونوں کو دھوکہ دے کر بلندی سے پستی میں پہنچا دیا۔ بالفاظ دیگر اس نے انہیں ارتکاب معصیت کی ہمت دلائی، چنانچہ جب انہوں نے اس شجر ممنوعہ کو شیطان کے دھوکے میں آ کر کھا لیا ، تو اس نافرمانی کا انجام فوراً ہی ان کے سامنے آ گیا کہ ان کے لباس ان کے جسموں سے الگ ہو گئے ، اور انہیں اپنی شرمگاہیں نظر آنے لگیں ، تو جنت کے درختوں کے پتے لے لے کر اپنے جسموں پر چپکانے لگے تا کہ اپنی پردہ پوشی کریں:
﴿وَيَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ. فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَا وُورِيَ عَنْهُمَا مِن سَوْآتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَٰذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّا أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ. ‏ وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ .فَدَلَّاهُمَا بِغُرُورٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ ۖ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَن تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِينٌ .﴾
” اور اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں اقامت پذیر ہو جاؤ ، اور جہاں سے چاہو کھاؤ ، اور اس درخت کے قریب نہ جاؤ، ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔ تو شیطان نے ان دونوں کے دل میں وسوسہ پیدا کیا ، تاکہ ان کے بدن کا جو حصہ (یعنی شرمگاہ) ایک دوسرے سے پوشیدہ تھا اسے دونوں کے سامنے ظاہر کر دے ، اور کہا کہ تمہارے رب نے تمہیں اس درخت سے اس لیے روکا ہے کہ کہیں تم دونوں فرشتہ نہ بن جاؤ، یا جنت میں ہمیشہ رہنے والوں میں سے نہ بن جاؤ۔ اور ان دونوں کے سامنے خوب قسمیں کھائیں کہ میں تم دونوں کا بے حد خیر خواہ ہوں ۔ چنانچہ اس نے دونوں کو دھوکہ دے کر اپنے جال میں پھانس لیا ، پس جب دونوں نے اس درخت کو چکھا تو ان کی شرمگاہیں دکھائی دینے لگیں اور دونوں اپنے جسم پر جنت کے پتے چسپاں کرنے لگے۔
(7-الأعراف:19 تا 20)
تب اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا: کیا میں نے تمہیں اس درخت کے کھانے سے نہیں روکا تھا، اور کہا نہیں تھا کہ شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے؟
﴿وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَن تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِينٌ﴾
اور ان دونوں کے رب نے انہیں پکارا کہ کیا میں نے تمہیں اس درخت سے نہیں روکا تھا، اور کہا نہیں تھا کہ بے شک شیطان تم دونوں کا کھلا ہوا دشمن ہے۔“
(7-الأعراف:22)
چنانچہ انہیں احساس ہوا، اور اللہ سے اپنی لغزش کی معافی مانگنا چاہی تو اللہ تعالیٰ سے ہی وہ الفاظ سیکھے جن کے ذریعے انہوں نے اللہ سے مغفرت طلب کی ۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
﴿فَتَلَقَّىٰ آدَمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ﴾
”پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھے تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی ، بے شک وہی توبہ قبول کرنے والا ، بڑا مہربان ہے۔“
(2-البقرة:37)
وہ کلمات جو اللہ نے آدم کو سکھائے تا کہ ان کے ذریعہ اپنی توبہ کا اعلان کریں، یہ دعا تھی:
﴿رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾
”اے ہمارے رب! ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا ، اور اگر تو نے ہمیں معاف نہیں کیا اور ہم پر رحم نہیں کیا ، تو ہم یقیناً خسارہ اُٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔“
(7-الأعراف:23)
بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ آدم علیہ السلام کے اندر پانچ خوبیاں پائی گئیں:
● انہوں نے گناہ کا اعتراف کیا۔
● اس پر نادم ہوئے۔
● اپنے نفس کی ملامت کی ۔
● فورا توبہ کی۔
● اور اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوئے۔
اور ابلیس میں پانچ برائیاں پائی گئیں:
● اپنے گناہ کا اعتراف نہیں کیا۔
● اس پر نادم نہیں ہوا۔
● اپنے نفس کی ملامت نہیں کی ، بلکہ اپنے رب پر اعتراض کیا۔
● توبہ نہیں کی ۔
●اور اللہ کی رحمت سے نا اُمید ہو گیا۔ (تیسیر الرحمن: 459/1)

② سیدنا نوح علیہ السلام کی توبہ:

اللہ تعالیٰ نے سیدنا نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کو دعوت اسلام کے لیے نبی بنا کر بھیجا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے کفر و شرک اور شر و فساد سے زمین بھر گئی تھی ۔ سیدنا نوح علیہ السلام نے ان سے کہا کہ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے کے لیے بھیجا گیا ہوں ۔ لوگو! اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت نہ کرو، ورنہ مجھے ڈر ہے کہ اللہ کا درد ناک عذاب تمہیں اپنی گرفت میں لے لے گا۔
نوح علیہ السلام کی قوم کے سرداروں نے ان کی دعوت کو رد کر دیا ، اور ان کے نبی ہونے میں تین قسم کے شبہات کا اظہار کیا۔ پہلا شبہ یہ ظاہر کیا کہ تم ہماری ہی طرح انسان ہو ، تو ہمارے بجائے تم نبوت کے کیسے حق دار بن گئے ؟ ان کا دوسرا شبہ یہ تھا کہ قوموں کے سرداروں میں سے ایک نے بھی تمہاری اتباع نہیں کی ہے ، صرف گھٹیا قسم کے لوگوں نے تمہاری پیروی کی ہے، جو کم عقل اور بے وقوف ہیں، اور اچھی اور گہری سوچ سمجھ نہیں رکھتے ہیں۔ اگر تم نبی ہوتے تو سردارانِ قوم تم پر ایمان لاتے ۔ اور تیسرا شبہ یہ تھا کہ تم میں اور تمہارے پیروکاروں میں کوئی ایسی خوبی نظر نہیں آتی جو ہم میں نہ ہو، تو پھر تم نبی کیسے ہو گئے؟
﴿فَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَوْمِهِ مَا نَرَاكَ إِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ وَمَا نَرَىٰ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍ بَلْ نَظُنُّكُمْ كَاذِبِينَ﴾
”تو ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا کہ ہم تو تمہیں اپنے جیسا ہی ایک انسان دیکھ رہے ہیں، اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ تمہاری پیروی ہم میں سے صرف گھٹیا لوگوں نے کی ہے جو ہلکی سمجھ بوجھ والے ہیں، اور ہم اپنے اوپر تمہارے لیے کوئی برتری نہیں پاتے ہیں، بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا ہی سمجھتے ہیں۔“
(11-هود:27)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ان شبہات کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ باتیں قوم نوح کی جہالت اور کم عقلی کی دلیل تھیں ۔ اس لیے کہ حق حق ہوتا ہے ، چاہے اس کی اتباع شرفائے قوم کریں یا غریب لوگ کریں۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ حق کو ماننے والے ہمیشہ زیادہ کمزور لوگ ہوئے ہیں۔ ہرقل شاہ روم نے ابوسفیان سے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات کے بارے میں سوالات کیے ، تو اس کا ایک سوال یہ تھا کہ اس کے ماننے والے سردارانِ قوم ہیں یا کمزور لوگ؟ ابو سفیان نے کہا: کمزور لوگ ۔ تو ہرقل نے کہا کہ ہمیشہ انبیاء کی پیروی کرنے والے ایسے ہی لوگ ہوا کرتے ہیں۔ اور یہ جو انہوں نے کہا کہ تمہارے ماننے والے زیادہ گہری فکر والے نہیں ہیں، تو یہ بھی کوئی قابل توجہ بات نہیں ہے ، اس لیے کہ اگر حق واضح ہو ، اور دل کا آئینہ روشن ہو ، تو آدمی ایک لمحہ کے لیے بھی شک وشبہ میں نہیں پڑتا اور حق کو فوراً قبول کر لیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اپنی رسالت کا اعلان کیا تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بغیر کسی توقف کے آپ کی آواز پر لبیک کہا اور اسلام میں داخل ہو گئے ۔ (تفسیر ابن كثير، تحت هذه الآية)
چنانچہ سیدنا نوح علیہ السلام نے ان کی کافرانہ بات سن کر کہا: اے میری قوم کے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تو مجھے اپنے نبی ہونے کا برہان قاطع عطا فرمایا ہے ، صفت بشریت میں میرا تمہارے ساتھ برابر ہونا اس بات سے ہرگز مانع نہیں ہے کہ وہ مجھے مقامِ نبوت سے نہ نوازے۔ اسی طرح میرے ماننے والوں کا مالی اعتبار سے کمزور ہونا بھی نبوت سے مانع نہیں ہے ، اس لیے کہ بشریت اور عقل و فہم میں وہ تمہاری طرح ہیں ۔ اور یہ نبوت تو اللہ کی رحمت اور اس کا فضل ہے جو اس نے مجھے دیا ہے۔ اگر تمہاری بصیرت ختم ہو گئی ہے ، اور تم حق کو نہیں دیکھ پا رہے ہو تو میں تمہیں اسے قبول کرنے پر مجبور تو نہیں کر سکتا ہوں ۔ میرا کام تو صرف دعوت دینا ہے۔
سیدنا نوح علیہ السلام نے ان سے یہ بھی کہا کہ میں دعوت و تبلیغ کے کام پر تم سے کوئی معاوضہ بھی تو نہیں مانگتا ہوں کہ تمہیں شبہ ہو کہ میں دنیا طلبی کے لیے ایسا کر رہا ہوں ۔
الغرض جب قوم نوح کے پاس کفر و عناد پر قائم رہنے کی کوئی دلیل نہیں رہی، اور نوح علیہ السلام کے دلائل و براہین کے آگے انہوں نے اپنے آپ کو یکسر عاجز پایا، تو کہنے لگے کہ اے نوح! ہم تمہارے مناظروں سے تنگ آگئے ہیں۔ اگر تم سچے ہو تو جس عذاب کا وعدہ کرتے آئے ہو اسے لا کر دکھا دو، تو نوح علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ میرے اختیار میں نہیں ہے ، جب اللہ چاہے گا عذاب آئے گا، اور اس وقت تم اسے عاجز نہ بنا سکو گے ۔
بالآخر اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو خبر دے دی کہ جو لوگ اب تک ایمان لا چکے ہیں، ان کے علاوہ اب کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ تو وہ ان کے ایمان لانے سے نا اُمید ہو گئے اور ان کے حق میں بددعا کر دی کہ اے اللہ ! اب کسی کافر کو زمین پر نہ رہنے دے ۔
جب عذاب کا آنا یقینی ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا حکم دیا اور اس کی تعلیم دی ، تاکہ وہ اور ان کے ماننے والے مسلمان طوفان سے بچ سکیں ، اور کافروں کی نجات کے لیے شفاعت کرنے سے منع فرما دیا ، اس لیے کہ ان کے بارے میں اللہ کا فیصلہ صادر ہو چکا تھا کہ انہیں طوفان کی نذر ہو جانا ہے۔
سیدنا نوح علیہ السلام کو کشتی بناتے دیکھ کر کفار کہنے لگے کہ نبی ہونے کے بعد اب بڑھئی ہو گئے ۔ وہ ہنسے اور مذاق اُڑانے لگے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج تم میرا مذاق اُڑا رہے ہو تو اُڑالو، کل طوفان میں تمہارے ڈوبنے کا نظارہ ہم سب مسلمان کریں گے۔
جب قوم نوح کی ہلاکت کا حکم آ گیا، اور پانی پوری شدت کے ساتھ اُبلنے لگا تو اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ زمین پر پائے جانے والے تمام جانوروں اور چڑیوں وغیرہ کے جوڑے کشتی میں رکھ لیں، اور دیگر مسلمانوں کے ساتھ اپنے صرف ان رشتہ داروں کو سوار کر لیں جو ان پر ایمان لائے ہیں۔
سیدنا نوح علیہ السلام نے جب طوفان امڈتے دیکھا تو اپنے مسلمان ساتھیوں سے کہا کہ کشتی میں سوار ہو جاؤ ، یہ اللہ کے نام سے چلے گی اور اسی کے نام سے اس کی مرضی کے مطابق رُکے گی، بے شک میرا رب مغفرت طلب کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے ، وہ ہمیں ضرور اس طوفان سے نجات دے گا۔
﴿وَقَالَ ارْكَبُوا فِيهَا بِسْمِ اللَّهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا ۚ إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ ‎
(11-هود:41)
جب نوح اور ان کے مسلمان ساتھی ، بسم اللہ ، کہہ کر سوار ہو گئے ، تو کشتی پہاڑوں کے مانند اونچی موجوں کے درمیان چلنے لگی ، اس وقت نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو پکارا جو کافر ہونے کی وجہ سے کشتی میں سوار نہیں ہوا تھا، کہ اے میرے بیٹے ! اب بھی موقع ہے کہ ہمارے دین میں داخل ہو جاؤ ، اور ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہو جاؤ ، اور کافروں کا ساتھ چھوڑ دو:
﴿يَا بُنَيَّ ارْكَب مَّعَنَا وَلَا تَكُن مَّعَ الْكَافِرِينَ﴾
(11-هود:42)
اس نے جواب دیا کہ میں پہاڑ پر جا کر پناہ لے لوں گا اور ڈوبنے سے بچ جاؤں گا ، تو نوح علیہ السلام نے کہا کہ آج اللہ کے عذاب سے صرف وہی بچ سکے گا جس پر اللہ اپنا رحم و کرم فرمائے گا، اور اس کا رحم آج صرف مومنوں کے ساتھ خاص ہے۔ باپ بیٹے کے درمیان اس گفتگو کے بعد ایک بڑی ہیبت ناک موج اُٹھی جس نے کنعان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور وہ ڈوب کر ہلاک ہو گیا ۔ سیدنا نوح علیہ السلام نے شفقت پدری سے متاثر ہو کر اپنے رب سے دُعا کی ، اور کہا:
﴿رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ﴾
”اے میرے رب ! میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے ، اور تیرا وعدہ برحق ہے ، اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔“
(11-هود:45)
اللہ تعالیٰ نے پھر نوح علیہ السلام کو اپنا حتمی فیصلہ بتا دیا کہ اے نوح! وہ ایمان نہیں لائے گا، اس لیے کہ وہ آپ کے گھر والوں سے نہیں ہے ، آپ کے گھر والے تو دین و شریعت کے پابند اور اہل اصلاح ہیں اور وہ صالح نہیں اس لیے وہ طوفان سے نہیں بچے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے سیدنا نوح علیہ السلام کو تنبیہ کی کہ جس مقصد کے پورے طور پر صائب ہونے کا آپ کو علم نہ ہو اس کا اللہ سے سوال نہ کیجیے، اس لیے کہ ایسا کرنا نادانوں کا شیوہ ہوتا ہے۔
جب سیدنا نوح علیہ السلام کو اس بات کا علم ہو گیا کہ اللہ سے ان کا سوال شرع کے مطابق نہیں تھا، تو اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور اللہ سے مغفرت و رحمت طلب کی :
﴿رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ ۖ وَإِلَّا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُن مِّنَ الْخَاسِرِينَ﴾
”میرے رب! میں تیرے ذریعہ اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ تجھ سے ایسا سوال کروں جس کا مجھے علم نہیں ۔ اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا، اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں گھاٹا اُٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا۔“
(11-هود:47)

③ سیدنا یونس علیہ السلام کی توبہ:

سیدنا یونس بن قیس علیہ السلام کو موصل کے علاقے نینویٰ والوں کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا تھا ، تاکہ لوگوں کو توحید باری تعالیٰ ، عدل و انصاف اور اخلاق حسنہ کی دعوت دیں۔ لیکن انہوں نے ان کی دعوت کو قبول نہیں کیا، بلکہ دن بدن ان کی شر انگیزی بڑھتی ہی گئی ۔ آخر کار ان کے کفر سے تنگ آ کر انہیں دھمکی دی کہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے تو ان پر اللہ کا عذاب آ کر رہے گا ، اور خود وہاں سے نکل کر بیت المقدس آ گئے ۔ اور پھر وہاں سے ‘یافا’ کی طرف روانہ ہو گئے ۔ اور ‘ترشیش’ کی طرف جانے والی ایک کشتی میں سوار ہو گئے ۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ تیز آندھی چلنے لگی اور کشتی کو خطرہ لاحق ہو گیا تو لوگوں نے کشتی کا بوجھ کم کرنے کے لیے اپنا سامان سمندر میں پھینک دیا، اس کے بعد بھی خطرہ نہ ٹلا تو انہوں نے سوچا کہ کشتی میں ضرور کوئی ایسا آدمی موجود ہے جس کی وجہ سے خطرہ لاحق ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی تو سیدنا یونس علیہ السلام کے نام قرعہ نکلا ، اس لیے لوگوں نے انہیں سمندر میں پھینک دیا۔ تو طوفان رُک گیا۔ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو بھیجا جس نے انہیں نگل لیا۔ تین دن یا اس سے زیادہ (باختلاف روایات) مچھلی کے پیٹ میں رہے ، پھر دعا کی ، اپنے آپ کو ظالم کہا تو اللہ رب العزت نے ان کی دعا قبول کر لی ، اور مچھلی نے ساحل پر آ کر اپنے پیٹ سے انہیں باہر پھینک دیا:
﴿لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾
”تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو تمام عیوب سے پاک ہے، میں بے شک ظالم تھا۔“
(21-الأنبياء:87)

◈دُعا کی فضیلت:

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” یونس کی دعا جب وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے: ﴿لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ تھی۔ جب بھی کوئی مسلمان اپنے رب سے کسی حاجت کے لیے یہ دُعا کرے گا، قبول کی جائے گی ۔“
سنن ترمذی ، کتاب الدعوات، رقم: 3505 – محدث البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح “ کہا ہے۔

④ سو آدمیوں کے قاتل کی توبہ:

سیدنا ابوسعید بن مالک بن سنان الخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم سے پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا، جس نے ننانوے (99) قتل کیے تھے، اس نے روئے ارضی کے سب سے بڑے عالم کے بارے میں دریافت کیا، تو اسے ایک راہب کا پتہ بتایا گیا۔ وہ راہب کے پاس حاضر ہوا، اور کہا: میں نے ننانوے (99) قتل کیے ہیں ، کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ راہب نے کہا: نہیں ۔ اس پر اس نے راہب کو بھی قتل کر کے سو کا عدد پورا کر دیا، اس نے پھر زمین کے سب سے بڑے عالم کے بارے میں دریافت کیا، تو اسے ایک عالم دین کا پتہ بتایا گیا، اس نے عالم سے کہا: میں نے سو قتل کیے ہیں، کیا میری توبہ قبول ہونے کی کوئی صورت ہے؟ عالم دین نے کہا: ہاں! توبہ اور اس کے درمیان کون حائل ہو سکتا ہے؟ فلاں علاقے میں چلے جاؤ، وہاں کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں، تم بھی ان کے ساتھ مل کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اور اپنی اس زمین کی طرف واپس مت آنا یہ برائی کی زمین ہے ۔
وہ آدمی وہاں سے چل پڑا۔ جب ٹھیک درمیان راستے میں پہنچا تو اس کی موت کا وقت آ گیا۔ اس کے بارے میں رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے آپس میں جھگڑ پڑے ، رحمت کے فرشتوں نے کہا ، یہ توبہ کر کے چلا تھا، اور اپنے دل کو اللہ کی طرف موڑ چکا تھا۔ عذاب کے فرشتوں نے کہا: اس نے قطعاً کوئی نیک کام نہیں کیا، اب ایک فرشتہ آدمی کی صورت میں ان کے پاس آیا، فرشتوں نے اس آدمی نما فرشتے کو اپنا فیصل بنا لیا، اس فیصلہ دینے والے فرشتے نے کہا:
قيسوا ما بين الأرضين فإلى أيتهما كان أدنى فهو له ، فقاسوا فوجدوه أدنى إلى الأرض التى أراد فقبضته ملائكة الرحمة .
” دونوں مقامات کے درمیان کا فاصلہ ناپ لو جس مقام سے وہ قریب ہے اس میں اس کا شمار کر لو، فرشتوں نے پورے فاصلے کو ناپا تو جس علاقے کی طرف اس کا رخ تھا ، وہ قریب تر نکلا! لہذا رحمت کے فرشتوں نے اس کی روح قبض کی۔“
صحيح مسلم، کتاب الدعوات والأذكار، باب قبول توبة القاتل ، رقم : 7008 .
ایک دوسری روایت کے الفاظ ہیں کہ :
فكان إلى القرية الصالحة أقرب منها بشبر فجعل من أهلها .
” وہ آدمی نیک لوگوں کی بستی کے ایک بالشت قریب تھا چنانچہ اسے نیک لوگوں میں شمار کیا گیا۔“
صحیح مسلم، أيضًا : رقم، 7009 .
ایک اور روایت میں ہے:
فأوحى الله تعالى إلى هذه أن تباعدي ، وإلى هذه أن تقربي وقال: قيسوا ما بينهما فوجد إلى هذه أقرب بشبر فغفر له .
” اللہ تعالیٰ نے برے علاقے کی زمین کو حکم دیا کہ تو دور ہو جا (لمبی ہو جا) اور نیک علاقے کی زمین کو حکم دیا تو قریب ہو جا۔ نیز اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان دونوں علاقوں کا رقبہ ناپ لو۔ چنانچہ اسے نیک علاقے کی طرف ایک بالشت قریب پایا گیا (نتیجہ) اس کی بخشش ہو گئی۔“
صحیح بخاری، کتاب الانبياء رقم : 3470.

⑤ سیدنا ماعز اسلمی رضی اللہ عنہ کی توبہ:

ہم اس اُمت کے ابتدائی اور درخشاں دور یعنی دور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی توبہ کا ایک نمونہ پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ سیدنا بریدہ الاسلمی بیان کرتے ہیں: ماعز بن مالک الاسلمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور عرض کیا: یا رسول اللہ ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، اور زنا کر بیٹھا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ آپ مجھے پاک کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس بھیج دیا، اگلے دن وہ پھر آ گیا، اور کہنے لگا: یا رسول اللہ ! میں نے زنا کیا ہے ۔ آپ نے اسے دوبارہ واپس لوٹا دیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی قوم کو پیغام بھیج کر دریافت کیا کہ تمہارے علم کے مطابق ماعز کی عقل میں کوئی فتور تو نہیں، یا تم اسے بدلا سا تو نہیں پاتے ہو؟ قوم والوں نے جواب دیا: ہماری معلومات کے مطابق وہ کامل عقل کا مالک ہے، اور ہمارے خیال کے مطابق وہ نیک آدمی ہے، ماعز تیسرے دن پھر آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں دوبارہ دریافت فرمایا، تو قوم والوں نے کہا: نہ تو اس کا کردار بدلا ہے، اور نہ ہی اس کی عقل میں کوئی کوتاہی واقع ہوئی ہے۔ چنانچہ چوتھے روز ان کی خاطر ایک گڑھا کھودا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے انہیں سنگسار کر دیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماعز نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اسے ایک قوم پر تقسیم کر دیا جائے، تو انہیں وافر ٹھہرے۔
صحیح مسلم کتاب الحدود، باب من اعترف على نفسه بالزني ، رقم: 4431 .

⑥غامدیہ خاتون کی توبہ:

پھر غامدیہ خاتون بھی آگئی اس نے درخواست کی کہ یا رسول اللہ ! میں زنا کر بیٹھی ہوں، مجھے پاک کر دیں ۔ آپ نے اسے بھی واپس لوٹا دیا ۔ اگلے دن اس نے پھر آ کر کہا کہ یا رسول اللہ ! آپ مجھے کیوں واپس لوٹاتے ہیں ، شاید آپ مجھے بھی اس طرح واپس لوٹانا چاہتے ہیں جس طرح ماعز کو واپس لوٹایا تھا۔ اللہ کی قسم ! میں تو حاملہ ہو چکی ہوں ! آپ نے یہ بیان سننے کے بعد فرمایا: تب تو سزا نافذ نہیں ہو سکتی، جاؤ اور ولادت کے بعد آنا۔ جب غامدیہ نے بچے کو جنم دے لیا، تو اسے ایک کپڑے میں لپیٹ کر لے آئی ، اور کہا، میں بچے کو جنم دے چکی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے جاؤ اور دودھ پلاؤ ، یہاں تک کہ تم اس کا دودھ چھڑا دو ، جب اس نے دودھ چھڑوایا ، تو بچے کو لے آئی اور اس کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا۔ کہنے لگی یا رسول اللہ ! اس کا دودھ میں نے چھڑوا دیا ہے، اور اب یہ کھانا کھاتا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچہ ایک مسلمان کے حوالے کر دیا۔ پھر آپ کے حکم سے اس کے لیے سینہ تک گڑھا کھودا گیا ، اور آپ کے حکم سے لوگوں نے اسے سنگسار کر دیا۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ایک پتھر غامدیہ کے سر پر مارا، تو خون کے چھینٹے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے چہرے پر آ پڑے ، اس پر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو بُرا کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برا کہنا سنا ، تو ارشاد فرمایا:
مهلا يا خالد! فو الذى نفسي بيده! لقد تابت توبة لو تابها صاحب مكس لغفر له .
”خالد ذرا رک کر ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر لوگوں سے غنڈہ ٹیکس لینے والا بھی ایسی توبہ کرتا تو اس کی بخشش ہو جاتی۔“
صحيح مسلم، کتاب الحدود، باب من اعترف على نفسه بالزني، رقم: 4432.
پھر آپ کے حکم سے اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی ، اور اسے دفن کر دیا گیا۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: یا رسول اللہ ! آپ نے اسے رجم کیا ہے اور اس کی نماز جنازہ بھی ادا کرتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا:
لقد تابت توبة لو قسمت بين سبعين من أهل المدينة لوسعتهم ، وهل وجدت شيئا أفضل من أن جادت بنفسها لله عز وجل
”یقیناً اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اہل مدینہ کے ستر آدمیوں پر تقسیم کر دی جائے تو سب کی بخشش ہو جائے ۔ کیا تم نے اس سے بھی افضل کوئی کام دیکھا ہے کہ اس نے اپنی جان اللہ کو راضی کرنے کی خاطر قربان کر دی ۔“
صحیح مسلم، کتاب وباب أيضًا، رقم: 4433 .