كتاب فى اللقطة
زمین پر گری ہوئی چیز کے متعلق احکامات
① منبعث کے آزاد کردہ غلام یزید سے روایت ہے کہ انہوں نے زید بن خالد کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زمین پر پڑے ہوئے سونے یا چاندی کو اٹھانے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اعرف وكاءها وعقاصها ثم عرفها سنة فإن لم تعرف فاستنفقها ولتكن عندك وديعة فإن جاء طالبها يوما من الدهر فأدها إليه
اس کی تھیلی اور رسی کو خوب پہچانو پھر سال بھر اس کا اعلان کرو۔ اگر پتہ نہ چلے تو اس کو خرچ کر لو لیکن تمہارے پاس امانت ہونی چاہیے کہ کسی بھی وقت اس کا مالک آ جائے تو تم اسے اس کو ادا کر سکو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما لك ولها دعها فإن معها حذاءها وسقاءها ترد الماء وتأكل الشجر حتى يجدها ربها
میرا اس سے کیا تعلق، اس کو چھوڑ دو کیونکہ اس کی رفتار اور اس کا پانی اس کے پاس ہوتا ہے، وہ پانی پر آ سکتا ہے، درخت سے پتے وغیرہ کھا سکتا ہے، اتنے میں اس کا مالک آ ہی جاتا ہے۔ پھر آپ سے بکری کے متعلق پوچھا گیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خذها فإنما هي لك أو لأخيك أو للذئب
وہ تمہارے لیے ہے یا تمہارے بھائی کے لیے یا پھر بھیڑیے کے لیے، لہذا اسے پکڑ کر پاس رکھ لو۔
بخاری، کتاب المساقاة 91، 2372، 2427، مسلم، کتاب اللقطة 1722، ابو داؤد، کتاب اللقطة 1988، ترمذی، کتاب الاحکام 1387۔
لوگوں کی اجازت کے بغیر ان کے جانوروں کا دودھ دوہنے کی ممانعت
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يحلبن أحد ماشية أحد إلا بإذنه أيحب أحدكم أن تؤتى مشربته فتكسر خزانته فينتقل طعامه فإنما تخزن لهم ضروع مواشيهم أطعماتهم فلا يحلبن أحد ماشية أحد إلا بإذنه
کوئی شخص کسی کے جانور کا اس کی اجازت کے بغیر دودھ نہ دوہے، کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اس کے مشرب پر قبضہ کر لیا جائے اور اس کے گودام کو توڑ کر اس کا اناج نکال لیا جائے؟ پس اس کے جانوروں کا کمزور ہو جانا اس کے لیے پریشانی کا باعث بنے گا۔ پس کوئی شخص کسی کے جانور کا اس کی اجازت کے بغیر دودھ نہ دوہے۔
بخاری، کتاب فی اللقطة 2435، مسلم، کتاب اللقطة 1726/13۔