تنگ دست کے لیے آسانی پیدا کرنے کا ثواب
تنگ دست شخص کے لیے آسانی کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں۔ مثلاً اس کو مہلت دے دی جائے یا پھر اسے معاف کر دیا جائے، جس صورت میں کوئی آسانی پیدا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے مطابق اسے اس کا اجر و ثواب عطا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ ۚ وَأَن تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾
” اور اگر ( قرض لینے والا ) تنگ دست ہو تو اسے کشائش کے حاصل ہونے تک مہلت دو، اور اگر ( زرِ قرض ) بخش ہی دو تو تمہارے لیے زیادہ اچھا ہے، اگر تم سمجھ بوجھ رکھتے ہو۔“
(2-البقرة:280)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” جو شخص کسی مسلمان کے لیے دنیاوی مشکلات میں سے کوئی مشکل حل کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی مشکل حل کرے گا، اور جو شخص دنیا میں کسی تنگ دست کے لیے آسانی پیدا کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت دونوں میں اس کے لیے آسانی پیدا کرے گا، اور جو شخص دنیا میں کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت دونوں میں اس کی پردہ پوشی کرے گا۔ جب تک آدمی اپنے (مومن) بھائی کی مدد کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا رہتا ہے۔“
صحیح مسلم، كتاب الذكر والدعاء، باب فضل الاجتماع تلاوة القرآن، رقم: 2699 ۔
مزید برآں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
من أحب أن يظله الله فى ظله، فلينظر معسرا، أو ليضع عنه
” جو شخص پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے سائے تلے جگہ عطا فرمائے، اسے چاہیے کہ وہ تنگ دست کو مہلت دے، یا پھر اسے معاف کر دے۔“
سنن ابن ماجه، کتاب الصدقات، رقم: 2419 ۔ صحيح الترغيب والترهيب رقم: 901 ۔