نماز میں بال و کپڑے سمیٹنے، جوڑا باندھنے، سترہ رکھنے اور نمازی کے سامنے سے گزرنے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

نماز میں بال اور کپڑے سمیٹنے کی ممانعت

① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم سات اعضاء پر سجدہ کریں: پیشانی ناک سمیت، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، دونوں پاؤں اور یہ کہ ہم بال اور کپڑے نہ سمیٹیں۔
بخاری، کتاب الاذان 809 مسلم، كتاب الصلوة 490/228۔
وضاحت: کپڑے اور بال سمیٹنے سے اس لیے منع فرمایا کہ ہم انہیں مٹی لگنے سے نہ بچائیں۔ جب ہم نماز پڑھیں تو انہیں چھوڑ دیں، اگر زمین پر لگتے ہیں تو انہیں لگنے دیں اور سات اعضاء پر سجدہ کریں۔

بالوں کا جوڑا باندھ کر نماز پڑھنے کی ممانعت

① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کو سر پر جوڑا باندھے ہوئے دیکھا تو وہ کھڑے ہو کر اسے کھولنے لگے۔ پس جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: آپ کو میرے سر سے کیا سروکار؟ انہوں نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إنما مثل هذا مثل الذى يصلي وهو مكتوف
”اس کی مثال تو اس شخص جیسی ہے جو نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے دونوں ہاتھ بندھے ہوئے ہوں“۔
مسلم، کتاب الصلوة 492/232۔ ابوداؤد، كتاب الصلوة 647۔ مسند احمد، من مسند بنی هاشم 395/1۔

نمازی کے سامنے سے گزرنے کی ممانعت

① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا كان أحدكم يصلي فلا يدع أحدا يمر بين يديه ، وليدراه ما استطاع ، فإن أبى فليقاتله فإنما هو شيطان
”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو وہ کسی کو اپنے سامنے سے گزرنے نہ دے، مقدور بھر کوشش کر کے اسے روکے، اگر وہ انکار کرے تو پھر اس سے جھگڑا کرے کیونکہ وہ تو شیطان ہے۔“
مسلم، کتاب الصلوة 505/258۔
② سیدنا ابو جہم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه لكان أن يقف أربعين خير له من أن يمر بين يديه
”نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کو پتہ چل جائے کہ اسے کتنا گناہ ہوگا تو اس کے لیے چالیس تک کھڑے رہنا اس کے سامنے سے گزرنے سے بہتر ہے“۔
بخارى كتاب الصلوة 510۔ مسلم 507/261۔ ابوداؤد، کتاب الصلوة 701۔
سیدنا ابو نصر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ وہ چالیس یوم ہیں یا چالیس ماہ ہیں یا چالیس سال۔

نماز میں سترہ رکھنا

① سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا وضع أحدكم بين يديه مثل مؤخرة الرحل، فليصل ولا يبالي من مر وراء ذلك
”جب تم میں سے کوئی اپنے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی رکھے اور کوئی اس سترے کے پیچھے سے گزرے تو اس کی اسے فکر نہیں کرنی چاہیے۔“
مسلم، كتاب الصلوة 499۔ ابوداؤد، كتاب الصلوة 685۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا صلى أحدكم فليجعل تلقاء وجهه شيئا فإن لم يجد فلينصب عصاه، فإن لم يجد فليخط خطا ثم لا يضره ما مر أمامه
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو وہ اپنے سامنے کوئی چیز رکھ لے، اگر اسے کوئی چیز نہ ملے تو وہ اپنی لاٹھی نصب کر لے اور اگر وہ نہ پائے تو پھر ایک لکیر کھینچ لے، پھر اس کے سامنے سے گزرنے والی چیز اس کے لیے مضر نہیں ہوگی۔“
مسند احمد 249/2 ۔ ابوداؤد، كتاب الصلوة 689 ۔