تنگ دست کے صدقے کا ثواب
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ۚ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾
” اور وہ انہیں اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہیں، خواہ انہیں خود احتیاج اور ضرورت ہی ہو۔ جو شخص حرصِ نفس سے بچا لیا گیا ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔“
(59-الحشر:9)
بخاری و مسلم کی روایت ہے کہ ﴿ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة﴾ ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے پر ایک بھوکے مسافر کی اپنے گھر میں دعوت کی ، اپنے بچوں کو بھوکا سلا دیا، اور چراغ بجھا کر اپنا اور اپنے بال بچوں کا کھانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس بھوکے مہمان کو کھلا دیا تھا۔ (بحوالہ تيسر الرحمن: 2/ 1566)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک درہم لاکھ درہم سے سبقت لے گیا۔ ایک آدمی نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! وہ کیسے؟ آپ نے فرمایا: ایک آدمی کے پاس بے بہا دولت ہوتی ہے ، وہ اس میں سے لاکھ درہم لے کر صدقہ کر دیتا ہے۔ اور ایک دوسرا آدمی جس کے پاس صرف دو درہم ہیں، وہ ان میں سے ایک کا صدقہ کر دیتا ہے۔“
سنن نسائی، کتاب الزكاة، رقم: 2527-2528 ۔ صحیح ابن خزیمه : 4/ 99 ۔ صحیح ابن حبان (الاحسان): 5/ 144 ۔ مستدرك حاكم: 1/ 416 ۔ ابن خزیمہ، ابن حبان، حاکم، ذہبی اور البانی نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔