طاغوت کا انکار اور ایمان باللہ کا تعلق قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔

عقائد اہل السنۃ والجماعۃ

سوال: انبیاء علیہم السلام نے قوم کو کیا دعوت دی؟

جواب: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [وَ لَقَدۡ بَعَثۡنَا فِیۡ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوۡلًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ اجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ] اور بے شک ہم نے ہر امت میں رسول بھیجے کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔ (النحل:36)

معلوم ہوا کہ ابنِ آدم پر جو چیز سب سے پہلے فرض کی گئی ہے وہ طاغوت سے کفر اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا ہے۔

سوال: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا طاغوت سے کفر کرنے سے کیا تعلق ہے؟

جواب: اللہ تعالیٰ پر ایمان اس وقت تک ممکن ہی نہیں جب تک طاغوت سے کفر نہ کیا جائے۔ فرمایا: [فَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالطَّاغُوۡتِ وَ یُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ فَقَدِ اسۡتَمۡسَکَ بِالۡعُرۡوَۃِ الۡوُثۡقٰی لَا انۡفِصَامَ لَہَا] جو کوئی طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے ایسا مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔ (البقرة:256)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو شخص ،،لا الہ الا اللہ،، کہے اور اللہ کے سوا جن جن کی پوجا کی جاتی ہے ان کا انکار کرے اس کا مال اور خون مسلمانوں پر حرام ہو گیا اور اس کے دل کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ [مسلم، كتاب الإيمان، باب الأمر بقتال الناس… الخ: 23]

غور فرمائیے کہ صرف زبان سے کلمہ پڑھ لینے سے مال و جان محفوظ نہیں بلکہ مسلمانوں کی تلوار سے جان و مال اس وقت محفوظ ہو گی جب ان معبودوں کا انکار کرے جن کو اس کے زمانے کے لوگ پوجتے تھے۔ اس حدیث میں ان لوگوں پر واضح دلیل اور صریح حجت ہے جوصرف توحید کی بات کرنا چاہتے ہیں۔مگر آج کلمہ گو اللہ کو چھوڑ کر جن جن کی بندگی کر رہے ہیں ان کی تردید نہیں کرناچاہتے۔کیونکہ ان کی نظر میں امت میں جوڑ پیدا نہیں ہوتا۔

سوال: طاغوت کسے کہتے ہیں؟

جواب: طاغوت ہر وہ چیز ہے جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے اور وہ اپنی عبادت کیے جانے اور کروائے جانے پر راضی ہو۔ (یعنی) طاغوت خدائی کے جھوٹے دعویدار کو کہتے ہیں۔ انبیاء علیہم السلام اور اولیاءاللہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلاتے تھے اور وہ غیراللہ کی عبادت کرنے والوں کے سب سے بڑے دشمن تھے، اس لیے وہ طاغوت نہیں ہیں، چاہے لوگ ان کی بندگی کریں۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ایک بندے کے تین درجے ہیں:

پہلا درجہ: یہ ہے کہ بندہ اصولاً اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہی کو حق سمجھے، مگر اس کے احکام کی خلاف ورزی کرے، تو یہ فسق ہے اور وہ گناہ گار ہو گا۔

دوسرا درجہ: یہ ہے کہ وہ اس کی فرماں برداری سے اصولاً منحرف ہو کر یا تو خود مختار بن جائے یا کسی اور کی بندگی کرنے لگے، یہ شرک و کفر ہے۔

تیسرا درجہ: یہ ہے کہ اللہ کی بغاوت کر کے اس کی مخلوق پر خود اپنا حکم چلائے۔ جو شخص اس درجے پر پہنچ جائے تو وہ طاغوت ہے اور کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک طاغوت کا منکر نہ ہو۔

سوال: سب سے بڑا طاغوت کون ہے؟

جواب: شیطان سب سے بڑا طاغوت ہے جو غیراللہ کی عبادت کی طرف بلاتا ہے۔ فرمایا: [اَلَمۡ اَعۡہَدۡ اِلَیۡکُمۡ یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّیۡطٰنَ ۚ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ] اے اولادِ آدم! کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا، وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔ (یس:60)

اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شیطان کی اطاعت ہی شیطان کی عبادت ہے۔ لہذا غیراللہ کی غیر مشروط اطاعت اس کی عبادت ہے۔