نماز کے تشہد میں رسول اللہ ﷺ پر سلام کا مسنون طریقہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

رسول اللہ پر نماز میں سلام کہنے کا طریقہ

رہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کرنے کا مسئلہ تو یہ ہر مسلمان پر ضروری ہے کہ وہ نماز کے اندر اور مسجد میں داخل ہوتے اور مسجد سے نکلتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام کہے۔ نماز میں سلام کے الفاظ یہ ہیں:
السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَىٰ عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ
”اے اللہ کے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے تمام صالح بندوں پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم یہ کہو گے تو زمین و آسمان میں جتنے اللہ کے صالح بندے ہیں سب پر اللہ کی رحمت ہو گی۔ پس ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر نماز میں بطور خاص رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور عمومی طور پر صالحین، ملائکہ، انسانوں اور جنوں پر سلام کہے۔
صحیحین میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ جب رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو کہتے کہ فلاں فلاں شخص پر سلام ہو۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ:
إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ فَإِذَا قَعَدَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَقُلْ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَىٰ عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
”بے شک اللہ ہی سلام ہے، اور جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں تشہد میں بیٹھے تو یہ دعا پڑھے: تمام تحیات، ہمہ قسم کی عبادات اور تمام اچھی باتیں اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں آپ پر نازل ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے تمام صالح بندوں پر سلام ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں۔“
(صحيح البخارى كتاب الأذان: باب التشهد فى الآخرة، حديث: 831، صحيح مسلم كتاب الصلاة: باب التشهد فى الصلاة، حديث: 402)
صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث کے مطابق ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے تشہد کے الفاظ مندرجہ بالا الفاظ کے علاوہ بھی مروی ہیں۔ نیز ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی لوگوں کو تشہد سکھلایا کرتے تھے۔
(صحيح مسلم كتاب الصلاة: باب التشهد فى الصلاة، حديث: 403)
امام بخاری رحمہ اللہ نے صرف ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی تشہد ہی نقل کیا ہے، تشہد کے جتنے الفاظ مروی ہیں سب جائز ہیں کیونکہ قرآن کریم سات قرات میں نازل ہوا ہے، اگر تشہد کے الفاظ مختلف ہو گئے ہیں تو کوئی مضائقہ نہیں یہ تو بدرجہ اولیٰ جائز ہوں گے۔ ہماری گفتگو کا مقصد یہ ہے کہ جب نماز ادا کرنے والا مسلمان کہتا ہے کہ ”السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ“ تو اس کا اجر ہر صالح انسان تک پہنچتا ہے خواہ وہ آسمان میں ہو یا زمین پر، جیسے ملائکہ، صالح انسان اور جن۔ ان ہی جنات کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَأَنَّا مِنَّا الصَّالِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَٰلِكَ ۖ كُنَّا طَرَائِقَ قِدَدًا
”اور یہ کہ ہم میں بعض تو صالح ہیں اور بعض اس کے سوا بھی ہیں، ہم مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے تھے۔“
(72-الجن:11)
اور ہم میں سے کچھ لوگ صالح ہیں اور کچھ اس سے فروتر ہیں، ہم مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے تھے۔“