نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام اور صحابہ کرام کا طرز عمل

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص صلاۃ وسلام

نماز کے اندر مسجد میں داخل اور مسجد سے نکلتے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام کہنا آپ کی خصوصیت ہے۔ یہ ایسا عمل ہے جس کا قرآن کریم میں حکم ہے اور جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کہتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر 10 مرتبہ رحمت بھیجتا ہے۔ یہ ایسا عمل ہے جو افضل و انفع اور اکمل ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں فتنہ و فساد کا خدشہ نہیں۔ درود و سلام کہنا ایسا عمل ہے جو قبر مکرم کے ساتھ خاص نہیں اور نہ ہی اس عمل کے لیے سفر کرنے کی اجازت ہے۔ بلکہ اس مقصد کے لیے نیت کرنا بھی قبر مکرم کو میلہ بنانے کے مترادف ہوگا۔ جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”میرے گھر کو میلہ نہ بنا لینا“
(سنن ابی داؤد كتاب المناسك : باب زيارة القبور حديث : 2042)
پس صحابہ، خلفائے راشدین اور مہاجر و انصار سابقین الاولین کے دور میں معمول یہ تھا کہ وہ مسجد نبوی میں تشریف لاتے۔ اللہ تعالیٰ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے مطابق آپ پر درود و سلام کہتے تھے۔ اور دوران نماز اپنے لیے ہر وہ دعاء کرتے جو انہیں زیادہ پسندیدہ ہوتی تھی۔ جیسے صحیحین میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو تشہد سکھلایا تو فرمایا کہ تشہد کے بعد جو چاہو دعا مانگو۔
(صحيح بخاري كتاب الاذان : باب مايتخير من الدعاء بعد التشهد حديث : 835 ، صحيح مسلم كتاب الصلاة : باب التشهد في الصلاة حديث : 402)

صحابہ کرام کا طرز عمل

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم درود و سلام یا کسی بھی مسنون عمل کی بجا آوری کے لیے حجرہ مبارک کے قریب یا اس کے اندر قبر مکرم کے پاس نہیں جاتے تھے۔ جیسے کہ مشرک اور بدعتی لوگ کرتے ہیں۔ اس قسم کے مشرکانہ افعال کا وجود قرون ثلاثہ میں ناپید تھا۔ ان بدعات سے صحابہ، تابعین، تبع تابعین کا دور بالکل خالی، صاف ستھرا اور نکھرا ہوا ہے۔
صاحب علم و ایمان انسان اگر مذکورہ الصدر دلائل پر غور کرے تو اس پر دین حق اور صحیح موقف واضح ہو جائے گا اور پھر وہ شخص اہل توحید، اہل سنت، اہل ایمان اور اہل جہل و بدعت میں فرق کر سکے گا۔
مندرجہ دلائل و براہین کی روشنی میں یہ بات اظہر من الشمس ہو گئی کہ خلفاء راشدین اور جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم مسجد نبوی میں داخل ہو کر نمازیں ادا کرتے اور پھر نماز کے اندر مسجد میں داخل اور مسجد سے نکلتے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کہتے لیکن قبر مکرم کے قریب جانے کی ضرورت محسوس نہ کرتے تھے۔