مضمون کے اہم نکات
غیر اللہ کو پکارنا شرک ہے ( قرآنی فیصلے ):
[النساء:117،116]،[الأنعام:41،40، 63تا66]،[الأعراف: 189تا198]،[یونس:66]،[الرعد:14تا21]،[النحل:86،54،53]،[القصص:62 تا 64]،[الكهف:52]،[الروم:11تا40]،[سبا: 22]،[فاطر:1تا26، 33تا41]،[الزمر:8 تا 16]،[المؤمن:12تا14، 73تا76]
قرآنی فیصلے کے مطابق غیر اللہ کو پکارنا شرک ہے۔ اور احمد رضا خاں صاحب نے لکھا کہ شرک سے مسلمان مرتد ہو جاتا ہے۔ [دیکھیے: ان کا ترجمہ مع تفسیر البقرۃ:52، ف:88]
غیر اللہ کو پکارنا کفر ہے (قرآنی فیصلے):
[الأعراف:37تا41]،[الرعد:14تا21]،[بني إسرائيل:67تا69]،[المؤمنون:117،116]،[فاطر:33تا41]،[الزمر:8تا16]،[المؤمن:12تا14، 73تا76]
قرآنی فیصلے کے مطابق غیر اللہ کو پکارنے والا کافر ہے۔ اور مراد آبادی صاحب نے لکھا کہ کفار کا جنت سے محروم رہنا قطعی ہے۔ دیکھیے: [ترجمہ احمد رضا خان صاحب مع تفسير الأعراف:37تا41مع فوائد]
غیر اللہ کو پکارنا ان کی عبادت ہے (قرانی فیصلے):
[الانعام:56]،[یونس:104تا107]،[هود:101]،[النحل:1تا23]،[الكهف:15،14]،[مریم:48تا50]،[المؤمنون:117،116]،[الشعراء:213]،[النمل:62]
اللہ کو پکارو (قرآنی فیصلے ):
[البقرة:186]،[الأعراف:180،56،55]،[الرعد:14تا21]،[الحج:61تا77]،[لقمان:28تا32]،[فاطر:1تا41]،[الزمر:39،38]،[المؤمن:20]
غیر اللہ کو پکارنا بے کار، کیونکہ وہ تصرف کا اختیار نہیں رکھتے (قرآنی فیصلے):
[الأنعام:71]،[یونس:104تا107،[هود:101]،[الحج:13،12]،[سبا:22]،[فاطر:1تا26]، [الزمر:39،38]،[الزخرف:84تا86]
خالص (یعنی صرف اور صرف) اللہ کو پکارو (قرآنی فیصلے):
[الأعراف:29،28]،[المؤمن:12تا14، 60تا68]،[یونس:18تا23]،[العنکبوت:61تا66]،[لقمان:25تا32]
یہاں ہم احمد رضا خاں صاحب کی ایک اور دورخی قارئین کے مطالعہ کے لیے بیان کرنا چاہتے ہیں:
[1] [الأعراف:29] میں وارد ہوا:[وَّادۡعُوۡہُ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ]
اور اس کی عبادت کرو نرے اس کے بندے ہو کر۔
[2][المؤمن:14]میں وارد ہوا: [فَادۡعُوا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡکٰفِرُوۡنَ] تو اللہ کی بندگی کرو، نرے اس کے بندے ہو کر (ف30) پڑے برا مانیں کافر (ف30) (شرک سے کنارہ کش ہو کر)
[3] [المؤمن:65] میں وارد ہوا: [ہُوَ الۡحَیُّ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ فَادۡعُوۡہُ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ]
وہی زندہ ہے (ف136) اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں تو اسے پوجو، نرے اس کے بندے ہو کر، سب خوبیاں اللہ کو جو سارے جہان کا رب۔
[4] [قُلۡ اِنِّیۡ نُہِیۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ لَمَّا جَآءَنِیَ الۡبَیِّنٰتُ مِنۡ رَّبِّیۡ ۫ وَ اُمِرۡتُ اَنۡ اُسۡلِمَ لِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ]
تم فرماؤ میں منع کیا گیا ہوں کہ انھیں پوجوں جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو۔ جبکہ میرے پاس روشن دلیلیں میرے رب کی طرف سے آئیں، اور مجھے حکم ہوا ہے کہ رب العالمین کے حضور گردن رکھوں۔ [المؤمن:66]
[5] [سورہ یونس:22] میں وارد ہوا: [دَعَوُا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ] اس وقت اللہ کو پکارتے ہیں، نرے اس کے بندے ہو کر۔
[6] [العنكبوت:65] میں وارد ہوا: [دَعَوُا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ] اللہ کو پکارتے ہیں ایک اسی پر عقیدہ لاکر۔
[7] [الروم:33تا35] میں وارد ہوا: [دَعَوۡا رَبَّہُمۡ مُّنِیۡبِیۡنَ اِلَیۡہِ] تو اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی طرف رجوع لاتے ہوئے۔
[8] [لقمان:32] میں وارد ہوا: [دَعَوُا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ] تو اللہ کو پکارتے ہیں نرے اس پر عقیدہ رکھتے ہوئے۔ (ف60) (اور اس سے دعا و التجاء اس وقت ماسوا کو بھول جاتے ہیں)
آپ نے مندرجہ بالا تحریر میں دو رخی ملاحظہ فرمائی، 1 تا 4 میں (دعو) کا ترجمہ عبادت، بندگی اور پوجا کیا گیا۔ جبکہ اسی لفظ کا 5 تا 8 میں ،،پکارنا،، ترجمہ کیا گیا۔ کیونکہ اپنا عقیدہ درست ثابت کرنا تھا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اوپر والی تمام کی تمام 8 آیات میں فرما رہا ہے کہ خالص اللہ کو پکارو (یعنی) صرف اور صرف اللہ کو پکار اور کسی کو نہ پکارو۔
اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو ( قرآنی فیصلے ):
[الأعراف:56،55]،[الجن:18]،[ المؤمنون:117،91]،[النمل:60تا65]،[القصص:88]،[المؤمن:60]، [الأنعام:19]،[الحجر:96]،[بني إسرائيل:42،39،22]،[ق:26]
مخلوق کو نہ پکارو (قرآنی فیصلے):
[الأعراف:190،191]،[ يونس:104تا107 مع فوائد]،[الرعد:14تا21]۔[فاطر:33تا41]،[الأحقاف:4تا6]،[النحل:1تا23]
عیسائی اور یہودی غیر اللہ کو پکارتے ہیں:
عیسائی اور یہودی غیر اللہ کو پکارتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان کو مشرک اور کافر فرمایا۔
دیکھیے: [مراد آبادی تفسیر الجن:20،18 ف:38]،[الأعراف:37 تا 41مع فوائد]،[ بنی إسرائیل:56،57، ف:118]
غیر اللہ کو پکارنے والے اور قیامت کا دن :
[الكهف:52]،[النحل:86]،[القصص:62تا64]،[فاطر:1تا26]،[المؤمن:73تا76]،[حم السجدة:48،47]، [الأحقاف:4تا6]،
شریک پکارنے سے بے خبر ہیں: [الاحقاف:4تا6]
قبروں والے پکارنے سے بے خبر ہیں: [فاطر:19تا22]
دعا و مناجات: احکام دعا:
[1]دعا کے آداب و شرائط۔ (الأعراف:29،55،56)
[2]دعا کی اہمیت۔ (الفرقان:77)
[3]دعا عین عبادت ہے اور عبادت سے اعراض جہنمیوں کا کام ہے۔ (الفرقان:60)
[4]اللہ سے فضل کی طلب کے لیے دعا کرتے رہو۔ (النساء:32)
[5]اللہ سے دعا کے لیے کسی وسیلہ کی ضرورت نہیں۔ (البقرۃ:186)
[6]اللہ بندے کے قریب ہے اور اس کی دعا قبول کرتا ہے۔ (ھود:61)
[7]اللہ تعالیٰ کو ناپسند دعا نبی بھی کرے تو رد ہو جاتی ہے۔ (ھود:46)
[8]ناجائز کام کے لیے دعا سراسر جہالت ہے۔ (ھود:46)
[9]غیر اللہ سے مدد مانگنا شرک ہے۔ (بنی إسرائیل:56)
[10]مشرک کا انجام برا ہے۔ (الحج: 12،13)
[11]غیر اللہ سے دعا کرنا دھوکا اور فریب ہے۔ (فاطر:14)
[12]مشرکین کے معبود نہ دعا سنتے ہیں اور نہ جواب دے سکتے ہیں۔ (فاطر:14)
[13]جن کو اللہ کے سوا پکارتے ہیں سراسر عاجز ہیں۔ (المؤمن:20)
[14]یہ معبود ان کی دعا سے بالکل بے خبر ہیں۔ (الأحقاف:5)
[15]ان کو پکارنا لا حاصل ہے۔ (المؤمن:43)
[16]یہ معبود اس قدر عاجز ہیں کہ ایک مکھی کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتے۔ (الحج:73)
[17]اللہ تعالیٰ پریشان حال کی دعا قبول کرتا ہے۔ (النمل:62)
[18]مشرک کے لیے دعائے مغفرت نہیں ہو سکتی۔ (التوبہ:114)
[19]مشرک اور منافق پر نماز جنازہ منع ہے۔ (التوبہ:84)
[20]ابراہیم (علیہ السلام) ابتدا میں اپنے مشرک باپ کے لیے دعا کرتے رہے۔ (الشعراء:86)
[21]جب اس کے انجام سے باخبر ہوئے لا تعلقی کا اعلان کردیا۔ (التوبہ:114)
[22]د عا صرف اللہ ہی سے برحق ہے۔ (التوبہ:114)
[23]اور اس کے سوا دوسروں سے دعا مانگنا باطل ہے۔ (الدھر:14)،( الأعراف:197،194)
قرآنی دعائیں:
[1]مصیبت اور صدمہ کے وقت کی دعا۔ (البقرۃ:156)
[2]دنیا و آخرت کی بھلائیوں کے لیے دعا۔ (البقرۃ:201)
[3] عفو و مغفرت کے لیے دعا۔ (البقرۃ:286)
[4]دعا جو رسول اللہ ﷺ شب بیداری کے وقت پڑھا کرتے۔ (آل عمران: 191،194)
[5]میدان جنگ میں مجاہدین کی دعا۔ (آل عمران:147)
[6]دشمنوں کے شر سے محفوظ رہنے کی دعا۔ (آل عمران:174)
[7]زکریا (علیہ السلام) کی دعا نیک اولاد کے لیے۔ (آل عمران:38)
[8]راسخ فی العلم لوگوں کی دعا۔ (آل عمران:8،9)
[9]متقین کی دعا۔ (آل عمران:16)
[10]عباد الرحمن کی دعا۔ (الفرقان:65،66)
[11]اولاد اور بیوی کی اصلاح کے لیے دعا۔ (الفرقان:74)
[12]طالوت اور اس کے ساتھیوں کی دعا۔ (البقرۃ:250)
[13]مریم کی والدہ کی دعا۔ (آل عمران:36)
[14]اصحاب کہف کی دعا۔ (کہف:10)
[15]اصحاب اعراف کی دعا۔ (الأعراف:47)
[16]حق کی فتح و نصرت کے لیے دعا۔ (الأعراف:89)
[17]استقامت کے لیے دعا۔ (الأعراف:126)
[18]موسیٰ (علیہ السلام) کی اپنے بھائی کے لیے دعا۔ (الأعراف:151)
[19]اپنی قوم کے لیے دعا۔ (الأعراف:155،156)
[20] اہل جنت کا وظیفہ – (یونس:88)
[21]فرعون کے حق میں موسی نالی نام کی بد دعا۔ (یونس:88)
[22]نوح علیہ السلام کی کشتی پر سوار ہونے کے وقت دعا۔ (هود:41)
[23]شرح صدر اور فصاحت بیانی کے لیے موسی علی سلام کی دعا ۔ (طه:25تا28)
[24]رسول اللہ ﷺ کو اضافہ علم کے لیے دعا کی تلقین۔ (طه:114)
[25]کفار کی سرکشی کے مقابلہ میں رسول اللہ صل الم کی دعا ۔ (الانبیاء:112)
[26]مومنین کی دعا۔ (الانفال:40)
[27]سواری کے وقت دعا۔ (المومنون:29)
[28]کفار کے مقابلہ میں نوح علیم کی دعا۔ (المومنون:39)
[29]ظالموں سے دور رہنے کی دعا۔ (المومنون:94)
[30]شیطانی وسوسوں سے پناہ کی دعا۔ (المومنون:98،97)
[31]مومنین کی دعا۔ (المومنون:109)
[32]رسول اللہ ﷺ کو استغفار کی تلقین۔ (المومنون:118)
[33]ابراہیم علیہ السلام کی دعا۔ (المومنون:83)
[34]داؤد اور سلیمان علیہما السلام کی دعا۔ (النمل:15)
[35]ملکہ سبا کی دعا۔ (النمل:44)
[36]اہل جنت کی دعا۔ (فاطر:35،34)
[37]ایوب علیہ السلام کی دعا بیماری کی حالت میں۔ (الأنبیاء:83)
[38]یونس علیہ السلام کی دعا مچھلی کے پیٹ میں۔ (الأنبياء:87)
[39]زکریا علیہ السلام کی دعا۔ (الأنبياء:89)
[40]ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہجرت کے وقت۔ (الصافات:100)
[41]مومنین کے لیے حاملین عرش کی دعا۔ (المومن:7)
[42]چالیس سال کی عمر کے بعد مومن کی دعا۔ (الأحقاف:15)
[43]مومن کی دعا ۔ (الحشر:10)
[44]حالت نزع میں کافر کی دعا۔ (المنافقون:9)
[45]آسیہ زوجہ فرعون کی دعا ۔ (تحریم:11)
[46]سواری کے وقت مومن کی دعا ۔ (الزخرف:14،13)
[47]آدم اور حوّا علیہما السلام کی دعا۔ (الأعراف:23)
[48]نوح علیہ السلام کی دعا ۔ (القمر:23)
[49]نوح علیہ السلام کی کفار کے لیے بددعا۔ (نوح:26تا28)
[50]یوسف علیہ السلام کی آخری دعا۔ (یوسف:101)
[51]سلیمان علیہ السلام کی دعا۔ (النمل:19)،(ص:35)
[52]لوط علیہ السلام کی دعا ۔ (الشعراء:169)
[53]یوسف علیہ السلام کی عورتوں کے فتنہ سے حفاظت کے لیے دعا۔ (یوسف:33)
[54]موسی علیہ السلام کی دعا۔ (القصص:16)
[55]شعیب علیہ السلام کی دعا۔ (الأعراف:89)،(هود:88)
[56]عیسی علیہ السلام کی دعا۔ (المائدة:144)
[57]ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی دعا۔ (البقرة:127تا129)
[58]رسول اللہ ﷺ کی دعا جو ہجرت کے قریب کرتے رہے۔ (بنی اسرائیل:80)
[59]ابراہیم علیہ السلام کی دعا۔ (ابراهیم:35تا48)
[60]موسی علیہ السلام کی دعا۔ (المائدة:25)
[61]ماں باپ کے لیے دعا۔ (بنی اسرائیل:24)
[62]قوم موسی علیہ السلام کی دعا۔ (یونس:86،85)
[63]موسیٰ علیہ السلام کی دعا مصر سے جاتے وقت۔ (القصص:21)
[64]مدین پہنچ کر موسی علیہ السلام کی دعا۔ (القصص:24)
[65]قوم کو دعوت توحید دینے کے بعد ابراہیم علیہ السلام کی دعا۔ (الشعراء:83تا89)
[66]ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی دعا۔ (الممتحنہ:5،4)
[67]مومنین کی دعا۔ (الحشر:10)
[68]قیامت کے دن مومنین کی دعا۔ (التحریم:8)
[69]مومنین اہل کتاب کی دعا۔ (المائدة:83)
قرآن و حدیث میں زندگی کے ہر موقع کے لیے دعا ئیں مذکور ہیں۔ لیکن وسیلہ یا بحق فلاں یا فلاں کے طفیل کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ مثلاً وضو، اذان کے بعد، نماز کے دوران، نماز کے بعد، سوتے وقت، جاگتے وقت، تہجد کے وقت، صبح و شام کے اذکار، حج کے وقت مختلف مواقع پر دعا ئیں، روزہ افطار کرتے وقت، مرغ کی اذان سنتے وقت، گدھے کی آواز سن کر ، سفر، کھانا، پینا، مباشرت، بیت الخلاء جاتے اور نکلتے وقت، جنگ اور امن کے وقت ،گھبراہٹ کے وقت، دین ، دنیا، مال، اولاد، کلمہ گو بھائیوں کی بھلائی کے لیے، زندگی، موت یعنی جنازہ کے وقت، قربانی کے وقت، گھر سے نکلتے وقت، گھر میں داخل ہوتے وقت، وغیرہ وغیرہ۔
عموماً دعاؤں میں بحرمت یا بطفیل فلاں بزرگ یا خود رسول ﷺ کی ذات گرامی کے الفاظ رواج پا گئے ہیں۔ مگر قرآن اور صحیح احادیث سے اس کا ثبوت نہیں ملتا۔ ہاں صرف حدیث پاک میں درود شریف کو قبولیت دعا کے اسباب میں سے قرار دیا گیا ہے۔ حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: دعاؤں میں اس قسم کے الفاظ صحابہ، تابعین و سلف سے ثابت نہیں ہیں، لہذا یہ دعا بالتوسل بدعت ہے۔ ان سب دعاؤں سے ثابت ہوا کہ سب ، بزرگان دین نے اللہ تعالیٰ سے براه راست دعائیں مانگیں، کوئی وسیلہ نہیں پکڑا۔




