مضمون کے اہم نکات
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے فضائل
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو زریں پہنے ہوئے تھے۔ آپ نے ایک چٹان پر چڑھنے کی کوشش کی مگر اس کی طاقت نہ پائی، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ آپ کے نیچے بیٹھ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کندھے پر قدم رکھا اور چٹان پر چڑھ گئے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: آپ نے فرمایا: ”طلحہ نے (اپنے لیے جنت) واجب کر لی ہے۔“
سنن الترمذي ، كتاب المناقب، باب مناقب ابی محمد طلحہ بن عبیدالله رضی الله عنه، رقم: 3738 – البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے۔
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: ”جسے یہ بات اچھی لگتی ہے کہ وہ کسی شہید کو زمین پر چلتا پھرتا دیکھے، تو وہ طلحہ بن عبید اللہ کو دیکھ لے۔“
سنن الترمذي ، أيضاً، رقم: 3739 – البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے ۔
قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں: ”میں نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ دیکھا ہے جس سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی تھی کہ وہ شل ہو چکا تھا۔“
صحيح البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، باب ذكر طلحة بن عبيد الله ، رقم: 3724.
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے فضائل
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریظہ کے دن مجھے فرمایا: ”میرے والدین تجھ پر فدا ہوں۔“
البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبي ﷺ، باب مناقب الزبير بن العوام، رقم: 3720.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے لیے مخلص مددگار تھے، اور میرا مخلص مددگار زبیر بن عوام ہے۔“
البخاري ، ايضاً، رقم : 3719.
◈ صدقہ و خیرات:
اگرچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سخت تنگدست تھے تاہم ان کو تھوڑا بہت جو کچھ ملتا تھا اس کو صدقہ و خیرات کر دیتے تھے۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے ہزار غلام تھے، وہ کمالاتے تھے تو کل رقم صدقہ کر دیتے تھے۔ گھر میں ایک حبّہ بھی نہ آنے پاتا تھا۔
الإصابة ، تذكر زبير بن عوام.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے فضائل
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! سعد جب بھی دعا کرے تو تو اس کی دعا قبول فرما۔“
سنن الترمذي ، کتاب المناقب، باب مناقب سعد بن ابی وقاص رضی الله عنه، رقم: 3751 – البانی رحمہ اللہ نے اسے "صحیح” کہا ہے۔
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن فرمایا: ”تجھ پر میرے والدین قربان ہوں۔“
صحیح مسلم ، کتاب فضائل الصحابة ، باب فی فضل سعد بن ابی وقاص ، رقم: 2411 .
◈ استقامت :
مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے حق میں کئی آیات نازل ہوئیں (اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں) کہ جب سعد مسلمان ہو گئے تو ان کی والدہ نے قسم اٹھا لی کہ میں تجھ سے اس وقت تک نہ بولوں گی جب تک تو اسلام سے نہیں پھر جائے گا، اور نہ ہی میں کھاؤں گی اور نہ پیوں گی۔
اور اس نے یہ بھی کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، اور میں تیری ماں ہوں تجھے حکم دیتی ہوں کہ اس دین سے باز آ جا۔ تین دن تک نہ کھایا نہ پیا، حتی کہ تکلیف بڑھ گئی اور وہ بے ہوش ہو کر گر پڑی، تو اس کا بیٹا عمار آ گیا، اس نے اسے پانی پلایا اور کھڑا کیا، ہوش آنے پر اس نے سعد رضی اللہ عنہ کو بددعائیں دینا شروع کر دیں، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
﴿وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا ۖ﴾
”اور ہم نے انسان کو والدین سے نیکی کرنے کی وصیت کی ہے۔“
(29-العنكبوت:8)
﴿وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۖ وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا ۖ﴾
(31-لقمان:5)
”لیکن اگر وہ میرے ساتھ اس چیز کو شریک کرنے پر مجبور کریں جس کا تجھے علم نہیں ہے تو پھر ان کی اطاعت نہ کرنا۔ ہاں! دنیاوی معاملات میں ان کا اچھا ساتھی بن جا۔“
صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابة ، رقم: 6238.
◈ دارالہجرت مدینہ سے محبت:
ثواب آخرت کی تمنا نے دارالہجرت یعنی مدینہ کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نگاہوں میں اس قدر محبوب بنا دیا تھا کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ مکہ میں سخت بیمار ہو کر اپنی زندگی سے مایوس ہو گئے تو ان کو صرف یہ افسوس ہوا کہ وہ دارالہجرت سے دور ایسی سرزمین میں فوت ہو رہے ہیں جس سے انہوں نے ہجرت کر لی ہے۔
صحیح مسلم، کتاب الوصايا، باب الوصية بالثلث لا يتجاوز، 4215 .