شکوک و شبہات والے عمل سے بچنے کا ثواب
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿قُلْ أَنَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَىٰ أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا اللَّهُ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيَاطِينُ فِي الْأَرْضِ حَيْرَانَ لَهُ أَصْحَابٌ يَدْعُونَهُ إِلَى الْهُدَى ائْتِنَا ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَىٰ ۖ وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴾
”آپ کہئے ، کیا ہم اللہ کے سوا ان کو پکاریں جو ہمیں نہ نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان ، اور کیا اللہ کی ہدایت ہمارے پاس آجانے کے بعد الٹے پاؤں پھر جائیں ، اس آدمی کے مانند جسے شیطان نے بھٹکا دیا ہو اور زمین میں حیران و پریشان پھر رہا ہو، اس کے کچھ دوست بھی ہوں ، جو اُسے سیدھی راہ کی طرف بلا رہے ہوں کہ ہمارے پاس آجاؤ، آپ کہئے کہ اصل ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے ، اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ رب العالمین کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں ۔“
(6-الأنعام:71)
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک مثال کے ذریعے بات سمجھائی ہے کہ ایسا جو دین کو قبول کر لینے کے بعد شیطان کی وساوس و تلبیسات کا شکار ہو جائے ۔ تو ایسے شخص کی مثال ایسے ہی ہے گویا کہ وہ ثمرات سے بھرے نخلستان کو چھوڑ کر بے سائبان پتے ریگستان میں آ گیا ہو اور جب اس کے ساتھی دوست غمخوار اس وساوس کی عمیق کھائیوں سے نکلنے کی دعوت دیتے ہیں ، تو اس کے پاس شکوک و شبہات کے تار عنکبوت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اور نتیجتاً وہ گمراہیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔
چونکہ دین اسلام یقین کی پختہ بنیادوں پر قائم ہے ۔ اور اس کی ہر بات دلیل و برہان کے غیر متزلزل عمود کے سہارے قائم ہے۔ اس لیے ایک مؤمن و مسلم کی یہ شان ہے کہ وہ ایمان ویقین کو ایک دفعہ قبول کر کے اس بارے میں شیطانی وساوس کا شکار نہیں ہوتا۔
وعن النعمان بن بشير رضي الله عنهما قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ”إن الحلال بين وإن الحرام بين، وبينهما مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس ، فمن اتقى الشبهات استبرأ لدينه وعرضه، ومن وقع فى الشبهات وقع فى الحرام ، كالراعي يرعى حول الحمى يوشك أن يرتع فيه ، ألا وإن لكل ملك حمى ، ألا وإن حمى الله محارمه ، ألا وإن فى الجسد مضغة ، إذا صلحت صلح الجسد كله وإذا فسدت فسد الجسد كله ، ألا وهى القلب“.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: یقیناً حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ، اور ان کے درمیان( بہت سی چیزیں) شبہے والی ہیں جن کی حقیقت سے اکثر لوگ بے علم ہوتے ہیں ۔ جو شخص شبہے والی چیزوں سے بچ گیا، اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو شبہات میں پھنس گیا وہ حرام میں مبتلا ہو گیا ۔ جیسے وہ چرواہا جو( کسی کی مخصوص) چراگاہ کے اردگرد( اپنے جانوروں) کو چراتا ہے۔ قریب ہے کہ اس کے جانور اس چراگاہ کے اندر داخل ہو کر اسے بھی چرنا شروع کر دیں گے ۔ سنو ! ہر بادشاہ کی چراگاہ ہوتی ہے سنو! اللہ کی چراگاہ، اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں، سنو ! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہوتا ہے تو سارا جسم صحیح ہوتا ہے، اور جب وہ خراب ہو جاتا ہے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے اور وہ مضغہ (گوشت) دل ہے۔
صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب فضل من استبرأ لدينه، رقم: 52 ـ صحیح مسلم، کتاب البیوع، باب أخذ الاحلال وترك الشبهات، رقم: 1499 .
یعنی کہ اللہ رب العزت نے حلال و حرام ہر چیز کی وضاحت فرمادی ہے ۔ اور بعض باتوں سے سکوت اختیار کیا ہے تو ایک مؤمن و مسلم کا یہ فریضہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرائض کو بجالائے ، حلال استعمال کرے، اور اللہ کی منہیات ، حرام کردہ چیزوں سے اجتناب کرے ۔ اور یہی مطلوب ہے۔ لیکن اس دوران کسی قسم کے شکوک وشبہات کو اپنے پاس نہ پھٹکنے دے ۔ کیونکہ شکوک دیمک کی مانند ہیں جو کہ آہستہ آہستہ یقین کی پختہ عمارت کو بھی چاٹ جاتے ہیں۔ لہذا اس کے قرب و جوار میں بھی جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عملی زندگی اس سلسلے میں اسوۂ حسنہ ہے کہ آپ نے کس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تربیت کی ، اور ان کے ایمان وعقیدہ کی پختگی کے عوامل ان کے سامنے واضح بیان کیے اور انھیں شکوک وشبہات سے بچانے کے عملی اقدامات کیے:
”اُمّ المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں تھے تو ان سے ملاقات کرنے تشریف لائیں ۔ بعد ازاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں چھوڑنے کے لیے مسجد کے دروازے تک تشریف لائے ، تو اسی اثناء دو انصاری صحابی وہاں سے گزرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کر کے گزر گئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اپنی جگہ پر ٹھہرو! ( اور میری بات سنو ) یہ صفیہ بنت حی ہیں۔“ (جو کہ میری بیوی ہے، کچھ اور نہ سمجھنا ) تو ان صحابہ نے تعجب سے کہا: سبحان اللہ ! یا رسول اللہ ( کیا ہم پر شک کریں گے؟) اور یہ بات ان پر شاق وگراں گزری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”إن الشيطان يبلغ من ابن آدم مبلغ الدم ، وإني خشيت أن يقذف فى قلوبكما شيئا“.
” شیطان خون کی طرح انسانی بدن میں دوڑتا ہے، مجھے خطرہ ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں وہ کوئی بدگمانی نہ ڈال دے۔“
صحيح البخاري، كتاب الاعتكاف، باب هل يخرج المعتكف لحوائجه الى باب المسجد ، رقم: 2035
قبل اس کے کوئی شکوک و شبہات میں مبتلا ہو، اس کے شکوک کا ازالہ کر دیا جائے ۔ کیونکہ اگر کوئی شکوک کا شکار ہو گیا تو دوسروں کو بھی اس میں مبتلا کرے گا ۔ اسی طرح رائی کا پہاڑ بن جائے گا۔ لہذا فائدہ اس میں ہے کہ بات کو پہلے ہی وضاحت سے بیان کر دیا جائے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : چند صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : ہمارے دلوں میں ایسے خیالات ،شکوک ( بسا اوقات ) جنم لیتے کہ جسے بیان کرنا ہمارے لیے مشکل ہے۔ (یعنی اس کا کیا حل ہے؟) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ” کیا واقعی تمہاری یہی حالت ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ! آپ نے جواب دیا: ” یہ تو صریح ایمان ہے ۔“
صحیح مسلم، کتاب الايمان، باب بيان الوسوسة في الايمان ، رقم: 132
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شکوک و وساوس تو دل میں آئیں گے لیکن انہیں درخو اعتناء نہ سمجھا جائے۔ اور انہیں رد کرنے کی کوشش کی جائے۔ اگر ان وساوس کے متعلق ناپسندیدگی کا اظہار ایمان ہے، تو ان شکوک وشبہات میں پڑنا ایمان کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔