سیدنا ابوطلحہ ؓ کا نبی ﷺ کا دفاع کرنا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

 سیدنا ابوطلحہ ؓ اور نبی کریم ﷺ کا دفاع

بعض ایسے غزوات تھے کہ ایک موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ اُحد میں صحابہ کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھاگ گئے، اس وقت ابوطلحہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈھال کی آڑ کیے ہوئے تھے اور سیدنا ابوطلحہ زبر دست تیرانداز اور تیر کمان چلانے کے ماہر تھے۔ اُحد میں انہوں نے دو یا تین کمانیں (چلانے کی وجہ سے) توڑ دی تھیں، جب کوئی شخص تیروں کی ترکش لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: أنشرها لأبي طلحة یہ تیر ابوطلحہ کے سامنے بکھیر دو۔“
اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر کفار کی طرف دیکھتے۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے:
بأبي أنت وأمي لا تشرف يصبك سهم من سهام القوم ، نحري دون نحرك
”میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ ان کی طرف مت دیکھیں، کہیں آپ کو قوم (کفار) کا کوئی تیر نہ لگ جائے، میرا سینہ آپ کے سینہ کے آگے حاضر ہے (آنے والا تیر مجھے لگے آپ کو نہیں)“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام سلیم رضی اللہ عنہا کو دیکھا وہ پنڈلیوں سے کپڑا ہٹائے ہوئے تھیں ۔ مجھے ان کی پنڈلیوں کے زیور نظر آ رہے تھے اور اپنی پیٹھوں پر پانی کی مشکیں اُٹھا کر دوڑ رہی تھیں، وہ زخمیوں کے پانی ڈال دیتیں، پھر واپس جاتیں اور دوبارہ بھر کر لاتیں اور زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں، ابوطلحہ کے ہاتھوں سے دو یا تین بار تلوار گر پڑی تھی۔
صحيح البخاري، كتاب المغازی، باب غزوة أحد، رقم : 4064 .

◈ اپنے بہترین مال کا انفاق:

سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:
﴿لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾
”جب تک تم لوگ اپنا بہترین مال خیرات نہ کرو گے نیکی کو نہ پاؤ گے۔“
(3-آل عمران:92)
اور میرا محبوب ترین مال بیر حا ہے جس کو میں اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں اور اللہ سے اس کے ثواب کی امید کرتا ہوں۔
صحیح بخارى، كتاب الزكاة، باب الزكواة على الأقارب، رقم: 1461 .

◈ مشتبہات سے اجتناب:

ایک بار سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ ان کے نیچے سے ایک چادر نکال لے۔ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ پاس بیٹھے ہوئے تھے بولے کیوں؟ فرمایا: اس میں تصویر بنی ہوئی ہے اور تصویروں کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا ہے وہ تم کو معلوم ہے۔ بولے! لیکن آپ نے کپڑے میں بنی ہوئی تصویر کی ممانعت تو نہیں فرمائی۔ بولے، ہاں! لیکن میرے دل کا اطمینان اس طرح ہوگا۔“
سنن ترمذی، کتاب اللباس، رقم: 1750 – البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔