حدیث 34: بندر کو زنا کے جرم میں سنگسار کیا جانا
عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بندر دیکھا کہ بہت سے بندر اس کے گرد جمع ہو گئے تھے اس نے زنا کیا تھا سب نے اسے سنگسار کیا، تو میں نے بھی ان کے ساتھ اسے سنگسار کیا۔
صحيح البخاري، مناقب الأنصار، باب القسامة في الجاهلية، حديث: 3849، و مقام حدیث، ص: 1025
اس حدیث پر تین اعتراضات ہیں:
➊ کیا بندر مکلف مخلوق ہیں کہ وہ شرعی احکام کے پابند ہوں؟
➋ جس بندر یا بندریا کو رجم کیا گیا تو کیا یہ ثابت ہوا تھا کہ وہ منکوحہ تھی؟
➌ اس میں صرف ایک کا ذکر ہے یعنی بندریا کو رجم کیا تو بندر کو کیوں چھوڑا یا برعکس؟
جواب دینے سے قبل شارحین نے اس واقعے کی جو تفصیل لکھی ہے وہ پیش خدمت ہے۔ عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں یمن میں اپنے لوگوں کی بکریوں میں تھا۔ ایک اونچی جگہ پر میں نے دیکھا کہ ایک بندر، بندریا کو لے کر آیا اور اس کا ہاتھ اپنے سر کے نیچے رکھ کر سو گیا اتنے میں ایک چھوٹا بندر آیا اور بندریا کو اشارہ کیا۔ اس نے آہستہ سے اپنا ہاتھ پہلے بندر کے سر کے نیچے سے کھینچ لیا اور چھوٹے بندر کے ساتھ چلی گئی۔ اس نے اس کے ساتھ صحبت کی جبکہ میں دیکھ رہا تھا۔ صحبت کے بعد بندریا لوٹ آئی اور آہستگی سے پھر اپنا ہاتھ پہلے بندر کے سر کے نیچے رکھنے لگی تو وہ بندر جاگ گیا اور وہ گھبرایا ہوا تھا۔ اس نے بندریا کو سونگھا اور ایک چیخ ماری تو سب بندر جمع ہو گئے۔ وہ اسی بندریا کی طرف اشارہ کرتا تھا اور چیختا جاتا تھا، یعنی وہ بتاتا تھا کہ اس نے زنا کیا ہے۔ آخر دوسرے بندر، دائیں اور بائیں طرف گئے اور وہ اس چھوٹے بندر کو لے کر آئے جسے میں پہچانتا تھا۔ انہوں نے اس بندر اور بندریا کے لیے گڑھا کھودا اور دونوں کو سنگسار کر ڈالا، چنانچہ میں نے بنی آدم کے سوا جانوروں میں بھی رجم دیکھا۔
جواب :
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کسی صحابی کی حدیث نہیں کیونکہ عمرو بن میمون ایک تابعی ہیں اور انہوں نے اپنا ایک چشم دید واقعہ بیان کیا ہے۔ راوی اور دیگر راویان سند ثقہ لوگ ہیں تو اسے ایک واقعے کے طور پر ماننے میں کوئی حرج نہیں۔ اس کے ماننے سے کسی کے ایمان میں فرق نہیں آتا، ہاں زنا کی قباحت ظاہر کرنے کے لیے ایک تائید ہے۔ تو اس واقعے کی وجہ سے تمام ذخیرہ حدیث کو سلسلہ حجیت سے نکالنا اور احادیث کے خلاف پروپیگنڈا کرنا عقل مندوں کے شایان شان نہیں۔
حیوانات میں سے بندر ایک ایسی مخلوق ہے جو حس و شعور اور نقالی میں انسان کے قریب تر ہے۔ مداری لوگ میلوں میں بندر سے عجیب عجیب کھیل تماشائیوں کو دکھاتے ہیں۔ میں نے خود طائف کے پہاڑ میں ان کے ایسے کرتب دیکھے کہ گویا وہ انسان نظر آتے ہیں اور انہی وجوہ سے ڈارون نے بندر کو انسان کا جد اعلیٰ شمار کیا ہے اگرچہ اس کا یہ نظریہ سراسر باطل ہے۔