آثار و مشاہد کی بجائے مساجد سے دل لگانا سنت ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ افعال و اعمال جو وجوب، استحباب یا اباحت پر مبنی ہیں ان پر اسی طرح عمل کرنے کے مکلف ہیں۔ ہاں! جو اعمال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ خاص ہیں، وہ الگ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس جگہ کو عبادت کے لیے مسنون قرار دیا ہے ہم پر لازم ہے کہ ہم بھی اسی جگہ کا قصد کریں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ مکرمہ کے سفر کا ارادہ فرمایا تو نیت یہ تھی کہ مسجد الحرام میں دوسری عبادات کے ساتھ ساتھ اس میں نماز ادا کریں گے۔
● بیت اللہ کا طواف کریں گے
● صفا مروہ کی سعی کریں گے
● میدانِ عرفات اور مشعر الحرام میں وقوف کریں گے
● تینوں جمرات کو کنکریاں ماریں گے
● پہلے دو جمروں کے پاس کھڑے ہو کر دعا مانگیں گے۔
لہذا یہ سب کام ہمارے لیے مشروع ہیں؛ بعض واجب اور بعض مستحب۔
رسول مکرم مکہ مکرمہ میں مقیم رہے، مسجد الحرام کے علاوہ کہیں نہیں گئے۔ دورانِ سفرِ ہجرت جس غار (غارِ ثور) میں قیام کیا تھا وہاں بھی نہیں گئے اور نہ غارِ حرا میں تشریف لے گئے جہاں آپ نبوت سے پہلے عبادت کیا کرتے تھے۔ نیز اہل مکہ بھی اسی طرح عبادت کیا کرتے تھے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ طریقہ عبدالمطلب نے ایجاد کیا تھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کے بعد دو رکعت نماز ادا کی، لیکن سعي بين الصفا والمروه کے بعد نماز پڑھنا ثابت نہیں اور نہ ہی آپ نے نماز پڑھی۔ آپ جب مسجد الحرام میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے طواف کیا اور یہی طواف تحیۃ المسجد کے قائم مقام ٹھہرا۔ آپ عام مساجد میں داخل ہو کر دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کیا کرتے تھے۔ مسجد الحرام میں داخل ہو کر یہ دو رکعت ادا نہیں کیں۔
●نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب منیٰ پہنچے تو سب سے پہلے جمرہ عقبہ کو رمی کی۔ اس کے بعد قربانی کی
● پھر سر مبارک منڈوایا۔
● اس کے بعد طوافِ بیت اللہ کے لیے تشریف لے گئے۔
● اب سنت طریقہ یہی ہے کہ اہل منیٰ پہلے رمی کریں، پھر قربانی کریں۔
●اہل منیٰ کا جمرات کو رمی کرنا (دوسروں کے حق میں) نمازِ عید کے برابر ہے۔
عرفات میں اور منیٰ میں نمازِ عید ہے نہ جمعہ۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مقامات پر نمازِ عید پڑھی اور نہ جمعہ۔ آپ دورانِ سفر عید کی نماز پڑھتے نہ جمعہ۔ اسی بنا پر علماء کا خیال ہے کہ سفر میں نمازِ جمعہ نہ پڑھی جائے۔ اس میں علماء کا معمولی اختلاف ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں نمازِ عید ادا نہیں کی اسی بناء پر جمہور علماء کا کہنا ہے کہ جہاں جمعہ وہاں نمازِ عید بھی نہیں۔
مدینہ طیبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور میں صرف ایک ہی عید پڑھی جاتی تھی اور کوئی شخص انفرادی طور پر نمازِ عید نہیں پڑھتا تھا۔ یہ جمہور علماء کا قول ہے لیکن اس میں اختلاف ہے۔
اسی بناء پر منیٰ میں مسلمان پہلے رمی اور پھر قربانی کرتے ہیں تاکہ سنت کی اتباع ہو جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عمل قربِ الٰہی کی خاطر انجام دیا وہ عبادت ہے اور اسے اسی طرح تقربِ الٰہی کے لیے انجام دیا جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کام سے اعراض کیا یا کسی وجہ سے اسے انجام نہیں دیا وہ نہ تو عبادت ہے نہ مستحب۔ اور جس کام کو اباحت کی بنا پر کیا لیکن اس میں نیت عبادت کی نہ تھی وہ مباح ہوگا۔ بعض علماء نے ہیئت تک میں مشابہت کو مستحب قرار دیا ہے جیسے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا معمول تھا۔
اکثر علماء یہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت اس وقت ہوگی جب ہم وہی نیت کریں جو آپ نے کی تھی، صرف صورت میں مشابہت فائدہ مند نہ ہوگی اور جو کام آپ نے عبادت کی نیت سے نہیں کیا ایسا کام عبادت کی نیت سے کرنا مستحب نہیں کیونکہ یہ آپ کی متابعت نہ ہوگی بلکہ مخالفت ہوگی۔ ایک روایت میں ہے کہ:
إنه كان يصلي حيث أدركته الصلوة
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں نماز کا وقت ہو جاتا وہیں ادا کر لیتے تھے۔“
(صحيح بخاري كتاب مناقب الانصار : باب مقدم النبي صلى الله عليه وسلم و اصحابه المدينة حديث : 3932)
صحیح بخاری میں روایت بھی ہے جس میں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے سوال کیا تھا کہ زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد تعمیر ہوئی؟ آپ نے فرمایا تھا کہ:
المسجد الحرام ثم المسجد الأقصى ثم حيث ما أدركتك الصلوة فصل فإنه مسجد
”پہلے مسجد الحرام پھر مسجد اقصیٰ، اس کے بعد جہاں نماز کا وقت ہو جائے وہیں نماز ادا کر لے وہی مسجد ہے۔“
صحیح کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں:
فإن فيه الفضل
”وہیں نماز ادا کرنا افضل ہے۔“
(صحيح بخاري كتاب الانبياء : باب 10 حديث : 3366 ، 3425 ، صحيح مسلم كتاب المساجد : باب المساجد و مواضع الصلاة حديث : 520)
پس وہ لوگ جنہیں کسی جگہ نماز کا وقت ہو جائے اور وہ نماز پڑھے بغیر ہی وہاں سے آگے نکل جائیں تاکہ ایسی جگہ جا کر نماز ادا کریں جہاں کسی نبی کی کوئی نشانی ہو تو وہ لوگ سنتِ نبوی کے تارک اور مخالف ہوں گے۔