جوا، لاٹری اور میسر کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

جوا شراب کا ساتھی ہے

اسلام نے جہاں مختلف قسم کے کھیل جائز ٹھہرائے ہیں وہاں ہر ایسے کھیل کو حرام قرار دیا ہے جس میں جوا شامل ہو یعنی کھیل نفع یا نقصان سے خالی نہ ہو۔
جوئے کو جس طرح کسب مال کا ذریعہ بنانا جائز نہیں اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ اس کو کھیل اور تفریح اور وقت گزاری کا ذریعہ بنایا جائے۔
اس حرمت کی پشت پر حکمت بالغہ اور عظیم مقاصد کار فرما ہیں :
➊ اسلام چاہتا ہے کہ مسلمان اکتساب مال کے سلسلہ میں سننِ الہی کا متبع ہو اور نتائج کو اسباب کے ذریعہ حاصل کرے۔
جوا جس کی ایک قسم لاٹری ہے انسان کو بخت و اتفاق اور خالی آرزوؤں پر بھروسہ کرنا سکھاتا ہے۔ عمل جد و جہد اور ان اسباب پر بھروسہ کرنا نہیں سکھاتا جنہیں اللہ نے پیدا فرمایا ہے اور انہیں اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔
➋ اسلام انسان کے مال کو محترم ٹھہراتا ہے اور اس کو لینے کی جائز صورت یہ ہے کہ یا تو جائز طریقہ پر لین دین ہو یا کوئی شخص اپنی رضا مندی سے ہبہ یا صدقہ کرے۔ رہا قمار کے ذریعہ مال حاصل کرنا تو وہ باطل طریقہ پر مال کھانے کے مترادف ہے۔
➌ اس سے جوا کھیلنے والوں کے درمیان بغض و عداوت پیدا ہوتی ہے اگر چہ وہ زبانی طور سے رضا مندی کا اظہار کرتے ہوں کیونکہ ان کا معاملہ ہمیشہ غالب اور مغلوب کے درمیان رہتا ہے۔ اور جب مغلوب خاموشی اختیار کرتا ہے تو اس کی خاموشی اپنے اندر غیظ و غضب لیے ہوئے ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ نقصان اٹھا چکا ہوتا ہے۔
➍ جواری ہار جانے کی صورت میں مغلوب ہو کر پھر دوبارہ جوا کھیلنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ اس امید پر کہ شاید اب کی بار نقصان کی تلافی ہوگی۔ اسی طرح غالب کو غلبہ کی لذت دوبارہ بازی لگانے اور مزید نفع بٹورنے پر آمادہ کرتی ہے۔
یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا ہے اور دونوں جوا کھیلنے والے ایک دوسرے سے الگ نہیں ہو پاتے۔ جوئے بازوں کی دوامی مصیبت کا راز یہی ہے۔
➎ بنابریں یہ شوق ، جس طرح فرد کے لیے خطرہ کا باعث ہے، اسی طرح سماج کے لیے بھی شدید خطرہ کا باعث ہے۔ یہ ایسا شوق ہے جس میں وقت اور محنت کی بربادی لازمی ہے۔ غرض یہ کھیل جوئے بازوں کو بالکل معطل کر کے رکھ دیتا ہے۔ وہ زندگی کی نعمت سے فائدہ تو اٹھاتے ہیں لیکن اس کی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کرتے ۔ قمار باز ہمیشہ اپنے رب کی عائد کردہ ذمہ داریوں فرائض و واجبات سے غفلت برتتے ہیں نیز اپنے نفس اپنے خاندان اور اپنی ملی ذمہ داریوں سے بھی بے پرواہ ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے کچھ بعید نہیں کہ وہ اپنے دین اپنی عزت اور اپنے وطن کو بھی اپنے مفاد کی خاطر بیچ ڈالیں۔
قرآن نے شراب اور جوئے کو ایک حکم میں جمع کر کے کس قدر حقیقت پسندی کو آشکار کیا ہے کیونکہ یہ دونوں چیزیں فرد خاندان وطن اور اخلاق سب کے لیے یکساں طور سے مضر ہیں۔ قمار باز کا معاملہ شرابی سے بہت مشابہ ہوتا ہے بلکہ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ ایک کا وجود دوسرے کے بغیر پایا جاتا ہو دونوں ایک دوسرے کو لازم و ملزوم ہیں۔ قرآن کا یہ بیان کتنا حقیقت افروز ہے کہ یہ شیطان کا عمل ہے۔ قرآن نے اس کا ذکر تھانوں اور پانسوں کے ساتھ ملا کر کیا ہے اور اسے گندگی قرار دے کر اس سے اجتناب کرنے کا حکم دیا ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ‎90 إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ
”اے ایمان والو ! شراب جوا تھان اور پانسے یہ سب گندے شیطانی کام ہیں۔ ان سے بچو تا کہ تم فلاح پاؤ۔ شیطان تو بس یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے میں تمہیں مبتلا کر کے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈالے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے۔ پھر کیا تم ان چیزوں سے باز رہو گے؟“
(سورۃ المائدۃ : 90-91)

لاٹری ایک قسم کا جوا ہے

جسے عرف عام میں لاٹری کہا جاتا ہے وہ بھی جوئے ہی کی ایک قسم ہے اس کو معمولی خیال کرنا اور رفاہی انجمنوں اور انسانی اغراض کے نام پر اسے جائز قرار دینا بالکل صحیح نہیں۔ جو لوگ لاٹری کو اس قسم کے مقاصد کے لیے جائز قرار دیتے ہیں، ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص حرام رقص اور حرام آرٹ کے ذریعہ مذکورہ مقاصد کے لیے عطیات صدقات جمع کرے۔ ہم تو ان لوگوں سے یہی کہیں گے کہ :
إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا
”اللہ پاک ہے اور پاک چیز ہی کو قبول کرتا ہے۔“
مسلم کتاب الزکوۃ باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیب ح : 1015
جو لوگ اس قسم کے طریقے اختیار کرتے ہیں، شاید وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ معاشرہ میں خیر اور ہمدردی کے محرکات کا خاتمہ ہو گیا ہے اور نیکی کی حقیقت باقی نہیں رہی، لہذا انسانی فلاح کے لیے مال جمع کرنے کی اس کے سوا کوئی صورت باقی نہیں رہ گئی ہے کہ جوئے اور ممنوع قسم کے کھیل تماشہ کو ذریعہ بنایا جائے۔ لیکن اسلام معاشرہ کے لیے ایسے طریقے تجویز نہیں کرتا بلکہ انسان کے معاملہ میں وہ خیر کا پہلو اختیار کرتا ہے اور پاکیزہ مقصد کے لیے وہ ذریعہ بھی پاکیزہ ہی اختیار کرتا ہے۔ وہ ذریعہ نیکی کی دعوت انسانیت کی ترغیب اور اللہ اور آخرت پر ایمان کے اسباب کا ذریعہ ہے۔

سینما بینی

بہت سے مسلمان سوال کرتے اور پوچھتے ہیں کہ سینما اور تھیٹر وغیرہ کے بارے میں اسلام کا کیا موقف ہے؟ اور سینما جانا مسلمان کے لیے جائز ہے یا حرام؟ اس میں شک نہیں کہ سینما اور اس قسم کی دوسری جگہیں تفریح کا نہایت اہم ذریعہ ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ دوسرے ذرائع کی طرح ان کو بھی خیر اور شر دونوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ سینما فی نفسہ کوئی حرج کی چیز نہیں ہے۔ بلکہ اس کا حکم اس بات پر موقوف ہے کہ اس کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہماری رائے میں سینما حلال اور جائز ہے بلکہ درج ذیل شرائط کی تکمیل کی صورت میں پسندیدہ اور مطلوب بھی ہو سکتا ہے۔
اولا : جو مقاصد جن کی نمائش کی جاتی ہے، وہ بے حیائی اور فسق سے پاک ہوں۔ نیز یہ مقاصد اسلام کے عقائد شریعت اور اس کے آداب کے منافی نہ ہوں۔ اگر پیش کی جانے والی کہانیاں سفلی جذبات کو ابھارنے والی یا گناہ کی ترغیب دینے والی یا جرم پر آمادہ کرنے والی یا غلط افکار کی اشاعت کرنے والی یا باطل عقائد کی ترویج کرنے والی ہوں تو ایسی فلمیں حرام ہوں گی اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہ ہوگا کہ ان کو دیکھے یا ان کی ترغیب دے۔
همارے ملك ميں سينما گهروں ميں جو فلميں دكهائي جاتي هيں ان ميں شاذ هي كوئي فلم ايسي هوگي، جو ان غلط اور باطل مقاصد سے پاك هو. عام طور سے فلموں ميں عورتوں كي بهر پور نمائش كي جاتي هے اور وه رقص و سرود كے ساته اهم پارٹ ادا كرتي هيں. سينما كے عشقيه حياء سوز اور مخرب اخلاق گانوں نے تو پوري فضا كو متعفن كر كے ركه ديا هے. حقيقت يه هے كه آج معاشره كے اخلاقي بگاڑ كا بهت بڑا ذريعه يه انسانيت سوز فلميں اور پكچرز هيں اس ليے ان كے جواز كا سوال پيدا هي نهيں هوتا البته كوئي فلم اگر واقعي ان قباحتوں سے پاك هو اور كوئي مفيد مقصد ركهتي هو تو اس كو نا جائز قرار دينے كي بهي كوئي وجه نهيں. مؤلف كي يه رائے ايك حد تك درست هے كه سينما فى نفسه ايك جائز چيز هے بشر طيكه اس كو خير كے مقصد كے ليے استعمال كيا جائے. (مترجم)
سينما گهر كا مقصد اور قيام هي غلط اور باطل كي اشاعت هے، يه جس قدر بهي فلميں نشر كرتے هيں وه شرعي لحاظ سے درست نهيں، اختلاط مرد و زن، عشقيه گانے اور قصے حيا سوز مناظر وغيره كے هوتے هوئے درستگي كي كوئي صورت موجود نهيں هے. (ابو الحسن مبشر احمد رباني)
ثانیا : کسی دینی یا دنیوی ذمہ داری سے غفلت نہ برتی جائے۔ خاص طور سے پنج گانہ نماز کا خیال رکھا جائے جو ہر مسلمان پر فرض ہے۔ پکچر تصویر دیکھنے کی غرض سے کسی فریضہ کو مثلاً مغرب کی نماز کو ضائع کرنا ہرگز جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ ‎4‏ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ
”تباہی ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔“
(سورۃ الماعون : 4-5)
اس کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ نماز سے غافل ہونا اس کی ادائیگی میں تاخیر کرنے کے ہم معنی ہے یہاں تک کہ نماز کا وقت نکل جائے۔ قرآن نے شراب اور جوئے کی حرمت کا ایک سبب یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ دونوں چیزیں ذکر اللہ اور نماز سے روکتی ہیں۔
ثالثاً : سینما جانے والے کو چاہیے کہ اجنبی عورتوں کے ساتھ اختلاط سے اجتناب کرے تا کہ فتنہ اور شبہات سے اپنا دامن بچا سکے خاص طور سے ایسی صورت میں جبکہ وہ تاریکی کے پردہ میں پکچر دیکھ رہا ہو۔ اس سے پہلے یہ حدیث گزر چکی ہے :
لأن يطعن فى رأس أحدكم بمخيط من حديد خير له من أن يمس امرأة لا تحل له
”تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی سوئی کا چبھویا جانا اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسی عورت کو چھوئے جو اس کے لیے حلال نہیں ہے۔“
بیہقی فی شعب الایمان : 374/4 ، 5455 ، طبرانی فی الکبیر : 20/ 211 – 212