اونٹ کا پیشاب بطور علاج پینے کی حدیث اعتراضات کا علمی جواب

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔

حدیث 33: اونٹ کا پیشاب پینے کا حکم

❀انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
عکل یا عرینہ قبیلے کے کچھ لوگ مدینہ آئے تو انہیں مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی تو وہ بیمار ہو گئے، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقات کے اونٹوں کے پاس بھیج دیا اور فرمایا: ”اونٹیوں کا دودھ اور پیشاب پیا کرو۔“ انہوں نے ایسے کیا تو وہ تندرست ہو گئے، پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہوں کو قتل کر دیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ دن کے اول وقت ان کی خبر آپ کے پاس پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے تعاقب میں آدمی روانہ کیے، جو دن چڑھے انہیں گرفتار کر لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ان کے دائیں ہاتھ اور بائیں پاؤں کاٹ ڈالے گئے، ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں اور انہیں گرم سنگلاخ زمین پر ڈالا گیا۔ وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں پلایا جاتا تھا اور وہ ایسی ہی حالت میں مر گئے۔
صحيح البخاري ، الوضوء، باب أبوال الإبل والدواب، حديث : 233
منکرین حدیث کے اس حدیث پر چند اعتراضات ہیں:
➊ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب پینے کا حکم کیوں دیا؟
➋ انہوں نے چرواہوں کو قتل کیا تھا، چاہیے تو یہ تھا کہ انہیں بھی صرف قتل کر دیا جاتا، رحمتہ للعالمین نے انہیں چار سزائیں کیوں دیں؟
➌ چاہیے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحمتہ للعالمین کی صفت کی وجہ سے ان کے ساتھ کچھ تخفیف کرتے۔

اعتراض اول کا جواب:

منکرین حدیث قرآن کریم سے ثابت کریں کہ پیشاب پینا حرام ہے۔تحقیقی جواب یہ ہے کہ جب جان کو خطرہ ہو تو مردار، خون اور خنزیر کھانا جائز ہے۔ اونٹوں کا پیشاب تو حرام بھی نہیں، لہذا طبی طور پر پیشاب ان کے لیے بطور علاج تجویز کیا گیا۔

اعتراض دوم کا جواب:

انہوں نے متعدد جرم کیے تھے۔ چرواہے کو قتل کیا تھا، مسلمانوں کا مال لوٹ کر لے گئے تھے، مرتد ہو گئے تھے، چرواہے کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیریں، اسے گرم ریت پر پھینک دیا اور اسے پینے کو پانی نہیں دیا۔ قرآن کریم میں قصاص کا حکم ہے اور ایسا کرنا قصاص کا تقاضا تھا۔

اعتراض سوم کا جواب:

رحمتہ للعالمین کی صفت کے ساتھ ساتھ وہ قاضی بھی تھے اور جب کسی مجرم کا جرم قاضی کے سامنے ثابت ہو جائے تو پھر سزا دینا واجب ہو جاتا ہے، قاضی کو تخفیف کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔