بقیہ بن ولید کی تدلیس تسویہ: علامہ البانیؒ کی تحقیق کا جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مرزا محمد علی انجینئر کے اعتراضات و اشکالات کا تحقیقی جائزہ سے ماخوذ ہے جسے ہارون بن شبیر احمد حفظہ اللہ نے تالیف کیا ہے اور نظرِ ثانی فضیلۃ الشیخ مولانا محمد رفیق طاہر حفظہ اللہ نے کی ہے۔

بقیہ کی تدلیس تسویہ کے حوالے سے علامہ البانی کی تحقیق کا جائزہ:

مرزا صاحب نے بقیہ بن ولید کو تدلیس تسویہ سے بری قرار دیتے ہوئے کوئی دلیل تو پیش نہیں کی، لیکن اس حوالے سے علامہ البانی رحمہ اللہ اور ان کی کتاب (سلسلۃ الضعیفۃ:107/12) کو دیکھنے کی فرمائش کی ہے۔ یہاں ٹھہر کر پہلے اس بات کا فیصلہ کریں کہ علی مرزا صاحب علمی کتابی ہیں یا بابی اور مقلد؟ کیا ان کی ہر بات دلائل کے ساتھ ہوتی ہے یا یہ سب محض ڈھونگ ہے؟
بہرحال ان کی فرمائش پر اختصار کے ساتھ جناب البانی رحمہ اللہ کا تبصرہ اور ہماری گزارشات ملاحظہ فرمائیں:
پہلا اور سب سے بنیادی مدعا جو کہ رکھا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جس سند کو سامنے رکھ کر بقیہ پر تدلیس تسویہ کا الزام لگایا جاتا ہے اس میں تو سماع بالمسلسل موجود ہے یعنی ”بقیہ حدثنی ابو وہب قال حدثنا نافع“ ہے، تو تدلیس کیسے ہوئی؟
حالانکہ اس اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں، کیوں کہ ہماری تحقیق صرف اسانید کے ظاہر تک محدود ہے، لیکن امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ علل کے امام ہیں، اور اہل علم اچھی طرح جانتے ہیں کہ علت تو کہتے ہی سند میں واقع ہونے والی ایسی مخفی خرابی کو ہیں جو کہ ہر کسی کو نظر نہیں آتی جبکہ وہ ماہرین علل الحدیث پر بالکل واضح ہوتی ہے، اور یہاں علامہ البانی رحمہ اللہ سند کے ظاہر کو لے کر فرما رہے ہیں کہ سند میں بقیہ حدثنی ابو وہب قال حدثنا نافع ہے لہٰذا جب سماع بالمسلسل ہے تو تدلیس کہاں ہے؟ لیکن امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ اس بات کی وضاحت فرما چکے ہیں کہ یہاں ابو وہب ”حدثنا“ نافع وہم کا نتیجہ ہے، اور انہوں نے یہ بھی صراحت فرمائی ہے کہ ان دونوں (ابو وہب اور نافع) کے درمیان سے اسحاق بن ابی فروہ کو بقیہ نے گرایا ہے اور بقیہ سب سے زیادہ اس کام کا ماہر تھا (علل الحدیث:251/5)۔ لہٰذا یہ کہنا بھی صحیح نہیں کہ ممکن ہے کہ بقیہ نے قصداً اسحاق کو نہ گرایا ہو بلکہ غلطی سے اسحاق کا واسطہ چھوٹ گیا۔ اور پھر امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ اکیلے نہیں ہیں بلکہ امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے ان کی زبردست تائید کی ہے چنانچہ آپ جناب ابو حاتم رحمہ اللہ کا مکمل کلام نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ”وقول أبي حاتم كله في هذا الحديث صحيح“ اس حدیث کے متعلق امام ابو حاتم رحمہ اللہ کا سارا کلام درست ہے۔ (الکفایۃ فی علم الروایۃ:364) اور پھر امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ کی تردید بھی کسی نے نہیں کی بلکہ محدثین آپ کے کلام کو بقیہ کی تدلیس تسویہ کے بیان میں بطور دلیل نقل کرتے آئے ہیں اور انہوں نے امام ابو حاتم کی موافقت اور تائید کی ہے جیسا کہ ہم نقل کر چکے ہیں۔ لہٰذا ابو وہب ”حدثنا“ نافع سے حجت پکڑنا اور اس بنا پر بقیہ کو تدلیس تسویہ سے بری قرار دینا درست نہیں۔
پھر امام ابن حبان رحمہ اللہ کا کلام نقل کیا گیا ہے کہ بقیہ کے شاگرد اس کا امتحان لینے کے لیے اس کی حدیث سے ضعیف راویوں کو گرا دیتے اور تدلیس تسویہ کرتے تھے۔ (المجروحین:201/1)
علامہ البانی رحمہ اللہ اس کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ بقیہ کے تدلیس تسویہ سے بری ہونے پر صریح دلیل ہے۔ حالانکہ اس میں کوئی ایسی صریح دلیل ہے ہی نہیں کہ جس سے بقیہ کو تدلیس تسویہ سے بری قرار دیا جا سکے کیوں کہ دیگر محدثین نے یہ صراحت کر رکھی ہے کہ بقیہ سب سے زیادہ تدلیس تسویہ کرنے والا تھا، اور وہ اپنے مدعے پر دلیل بھی پیش کرتے ہیں۔ امام ابن حبان کا قول شاذ ہے ائمہ محدثین کا اعتماد امام ابو حاتم کے قول پر ہے، جیسا کہ ہم نے دلائل میں ذکر کیا کہ محدثین تدلیس تسویہ کی بحث میں امام ابو حاتم کا قول نقل کرتے آئے ہیں، اور امام خطیب بغدادی نے بھی آپ رحمہ اللہ ہی کے متعلق کہا کہ آپ کی بات بالکل درست ہے۔
شیخ البانی رحمہ اللہ کے مشہور اور انتہائی قابل شاگرد علامہ ابو اسحاق الحوینی رحمہ اللہ نے بھی بقیہ کو تدلیس تسویہ کا مرتکب قرار دیتے ہوئے جناب البانی کی اس دلیل کا رد کیا ہے، اور ابو حاتم رحمہ اللہ کے حق میں فیصلہ دیا ہے، آپ فرماتے ہیں کہ بقیہ کے شاگرد کرتے تھے تو اس سے بقیہ کے متعلق نفی کہاں سے لازم آتی ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتا تھا۔ (نثل النبال بمعجم الرجال:302/1)
ایک بات یہ بھی کہی گئی کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے ”الکاشف“ میں جہاں بقیہ پر گفتگو کی تو اسے صرف تدلیس شیوخ سے متصف قرار دیا اور تدلیس تسویہ کا ذکر نہیں کیا۔ اور امام ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی بقیہ کو طبقات المدلسین میں ذکر کیا ہے لیکن انہوں نے بھی تدلیس تسویہ کا الزام نہیں لگایا۔
تو جہاں تک بات ہے کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے بقیہ بن ولید کو تدلیس تسویہ سے متصف قرار نہیں دیا تو یہ بات کسی طرح بھی اس بات کی دلیل نہیں بن سکتی کہ بقیہ تدلیس تسویہ سے بری ہے، کیوں کہ یہ ضروری تو نہیں کہ ہر راوی کے متعلق ہر امام تمام کی تمام باتیں ذکر کرے، اور نہ ہی یہ کوئی اصول ہے کہ جب ایک راوی کے متعلق تمام محدثین کسی عیب کو نقل کریں گے پھر ہی اس پر عمل ہو گا ورنہ بعض کے ذکر نہ کرنے سے وہ جرح ہی مردود ہے۔ اور جب دیگر محدثین (جن میں امام ذہبی رحمہ اللہ کے اساتذہ بھی شامل ہیں) یہ صراحت کرتے آئے ہیں کہ بقیہ تدلیس تسویہ کرتا تھا پھر علامہ ذہبی رحمہ اللہ کے ذکر نہ کرنے سے وہ تدلیس تسویہ سے بری تو نہیں ہو جاتا۔ ورنہ اس طرح تو کسی بھی راوی کے متعلق کسی بھی جرح کو کمزور ثابت کیا جا سکتا ہے، یہ کہہ کر کے اس کے متعلق یہ بات فلاں امام نے ذکر نہیں کی! اور اگر کوئی اس سلسلے میں ذہبی رحمہ اللہ کا حوالہ دے کہ انہوں نے بقیہ کی فلاں عن والی روایت کو صحیح کہا ہے تو عرض ہے کہ صرف بقیہ ہی نہیں انہوں نے تو بہت سے مدلسین کی معنعن روایات کو صحیح کہہ دیا ہے تو کیا ان سب کے متعلق بھی یہ کہا جائے گا کہ وہ مدلس ہی نہیں؟
اور اس جگہ امام ابن حجر رحمہ اللہ کا نام لینا تو بالکل نہیں بنتا ہے، کیوں کہ انہوں نے جگہ جگہ بقیہ کو تدلیس تسویہ سے متصف قرار دیا ہے، جیسا کہ پیچھے بحوالہ ذکر کیا جا چکا ہے۔ اور رہی بات طبقات المدلسین کی تو اس کتاب میں علامہ ابن حجر رحمہ اللہ نے ولید بن مسلم کے ذکر میں بھی یہ نہیں کہا کہ یہ تدلیس تسویہ کرتا ہے، حالانکہ آپ ولید بن مسلم کے متعلق مانتے ہیں کہ وہ تدلیس تسویہ کرتا تھا۔
لہٰذا جناب البانی رحمہ اللہ نے ایسی کوئی دلیل پیش نہیں کی کہ جس سے ثابت ہو سکے کہ بقیہ بن ولید تدلیس تسویہ سے بری ہے اور جن محدثین نے اس پر تدلیس تسویہ کا الزام لگایا ہے وہ غلط ہے۔ اور پھر علامہ البانی رحمہ اللہ نے ائمہ میں سے کسی ایک کا قول بھی نقل نہیں کیا کہ جس نے صراحت کے ساتھ بقیہ بن ولید کو تدلیس تسویہ سے بری قرار دیا ہو۔ لہٰذا مرزا صاحب ہم پر علامہ البانی رحمہ اللہ کا نام لے کر رعب نہ جھاڑیں کیوں کہ بقیہ پر تدلیس تسویہ کا الزام ہم نہیں لگا رہے بلکہ ہم تو اقوال محدثین پیش کر رہے ہیں، کہ بڑے بڑے محدثین نے اسے تدلیس تسویہ کا مرتکب قرار دیا ہے۔
ہماری کیا حیثیت ہے آپ جن کا حوالہ ہمیں پیش کر رہے ہیں خود انہی کے شاگرد اس مسئلے میں اپنے استاد جناب علامہ البانی رحمہ اللہ کی بات سے متفق نہیں اور ان سے اختلاف رائے رکھتے ہیں، ہم یہاں دو نام ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ الشیخ مقبل بن ھادی اور محدث ابو اسحاق الحوینی رحمہما اللہ علامہ البانی رحمہ اللہ کے دو خاص تلامذہ ہیں۔ چنانچہ علامہ ابو اسحاق علامہ البانی کے اس مؤقف کو ذکر کر کے فرماتے ہیں کہ بقیہ بن ولید سے تدلیس تسویہ ثابت ہے، اور پھر آپ نے اپنا مؤقف دلیل سے ثابت کیا۔ (نثل النبال بمعجم الرجال:302/1)۔ اور اسی طرح علامہ مقبل بن ھادی نے بھی بقیہ کو تدلیس تسویہ سے متصف قرار دیا۔ (المقترح:ص 35)۔ لہٰذا ہمیں علامہ البانی رحمہ اللہ کا حوالہ نہ دیں ان کا دعویٰ بھی بے دلیل ہے۔ اور ذرا یاد کریں کہ آپ تو علمی کتابی ہیں بابی نہیں۔
اور پھر جناب زبیر علی زئی رحمہ اللہ کہ جن کی تقلید میں آپ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ بقیہ کی بحیر سے روایت بغیر سماع کی تصریح کے بھی صحیح ہے اور یہ کہ بقیہ سے تدلیس تسویہ ثابت نہیں، تو خود شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ ہی نے بقیہ بن ولید پر تدلیس تسویہ کا الزام بھی لگایا ہے اور اس کی بحیر سے روایت کو بھی عنعنہ کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے، تو الحمد للہ ہم شیخ کے اسی مؤقف پر ہیں جو محدثین کی تصریحات اور دلائل کے موافق ہے۔ لہٰذا کسی کی خطا کو ہم پر بطور دلیل مت پیش کریں۔ اس حوالے سے مرزا صاحب کا اصول بھی ملاحظہ فرما لیں، چنانچہ اسی روایت کے ضمن میں ایک جگہ پر کہتے ہیں:

”علم کے میدان میں جذبات کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، پھر نشتر ہاتھ میں ہوتا ہے پھر سرجن کا کام تو یہ ہے کہ چاہے کوئی شیخ الحدیث لیٹا ہوا ہے چاہے کوئی ڈاکٹر لیٹا ہوا ہے وہ چیرا لگائے گا، اس کو یہ نہیں کہہ سکتے یار تو چیرا کیوں لا دتا شیخ الحدیث نو؟ اپنڈکس کڈن واسطے چیرا تے لانا پینے، تو چاہے کوئی بھی بڑے سے بڑی بزرگ ہستی ہے جہاں پہ علمی دلائل ہیں وہاں ہم کہیں گے کہ ان سے غلطی ہوئی ہے، اس غلطی کے اوپر ان کی علمی گرفت کی جا سکتی ہے۔“

Masalah 157 a -1:30:10
نیز دیکھیے انجینئر صاحب کی ویڈیو:
Sheikh Albani vs Hafiz Zubair Ali Zai vs Imam Tirmizi by Engineer Ali Mirza
تو ہم نے علمی دلائل ہی سے ثابت کیا ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے، اور اس معاملے میں علامہ البانی و زبیر سے علمی خطا ہوئی ہے۔
خلاصہ کلام یہی ہے کہ مرزا صاحب کی پیش کردہ روایت بقیہ بن ولید کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے، جن اہل علم نے اسے ضعیف قرار دیا ان کا قول حق پر ہے۔ اور اسے صحیح ثابت کرنے کے لیے انجینئر صاحب نے جو دعوے کیے وہ سب بلا دلیل ہیں۔ لہٰذا اس روایت کی وجہ سے جناب معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرنا اور غلط تاثر دینا درست نہیں ہے۔ آپ کے نزدیک مدلسین کی روایات جعلی اور فارغ روایات قرار پاتی ہیں۔