رمضان کے قیام کی فضیلت
عن أبى هريرة، رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من قام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رمضان کا قیام کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب تطوع قیام رمضان من الایمان، رقم: 27۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يصلي فيما بين أن يفرغ من صلاة العشاء وهى التى يدعو الناس العتمة إلى الفجر، إحدى عشرة ركعة، يسلم بين كل ركعتين، ويوتر بواحدة .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد فجر تک گیارہ رکعات پڑھتے تھے، اور ہر دو رکعت میں سلام پھیرتے اور ایک وتر پڑھتے تھے۔ عشاء کی نماز کو لوگ عتمہ بھی کہتے ہیں۔“
صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین، باب صلاۃ اللیل وعدد رکعات النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی اللیل، رقم: 736۔
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام اللیل یعنی نماز تراویح کی تعداد گیارہ رکعات تھی۔
ابو ہاشم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان المبارک کے مہینے میں نماز کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا:
كانت صلاته ثلاث عشرة ركعة منها ركعتا الفجر .
”آپ کی نماز تیرہ (13) رکعات تھی اور ان میں سے دو فجر کی رکعتیں تھیں۔“
صحیح ابنِ خزیمہ، رقم: 2213 – ابنِ خزیمہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
یعنی آپ گیارہ رکعات پڑھا کرتے ہیں۔
ابو سلمہ نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں نماز (تراویح) کیسے پڑھتے تھے؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
ما كان يزيد فى رمضان ولا فى غيره على إحدى عشرة ركعة .
”رمضان ہو یا غیر رمضان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔“
صحیح بخاری، کتاب صلاۃ التراویح رقم: 2013۔ صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین، باب صلاۃ اللیل وعدد رکعات النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی اللیل، رقم: 738۔ موطا امام محمد، ص: 142۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہا: یا رسول اللہ! میرے گھر کی عورتوں نے رمضان کی رات مجھ سے کہا۔ ہم قرآن نہیں جانتی ہم آپ کے ساتھ نماز پڑھیں گی:
فصليت بهن ثمان ركعات وأوترت فكانت سنة الرضا ولم يقل شيئا .
”میں نے انہیں آٹھ رکعات اور وتر پڑھائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کچھ نہیں کہا۔ یہ آپ کی رضامندی والی سنت بن گئی۔“
مجمع الزوائد: 77/2۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: اس کی سند ”حسن“ ہے۔ مسند ابی یعلی: 236/3، رقم: 1801۔