مضمون کے اہم نکات
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان
یہ مسئلہ اگر چہ ایمان بالقرآن میں داخل ہے اور ایمانیات قرآنیہ کا خاص رکن ہے لیکن دو وجوہ کی بنا پر ہم اسے مستقل باب میں بیان کرنا چاہتے ہیں۔
➊ ہمارے موضوع اثبات حجیت حدیث (جو اس کتاب کا اصل مقصد ہے) کی اساس ایمان بالرسول ہے۔
➋ ایمانیات کا اصل منبع ایمان بالرسول ہے کیونکہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول نہیں مانتا وہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور قرآن کریم میں مذکورہ اعتقادات کیسے اور کہاں سے حاصل کر سکتا ہے۔
ایمان بالرسول کا مطلب یہ ہے کہ اس کی تمام صفات (جو اثباتاً یا نفیاً مذکور ہیں) کو ماننا فرض ہے۔ ان میں سے کسی ایک صفت کا انکار یا غلط تاویل کرنا کفر ہے۔ پرویز صاحب کے نزدیک رسالت محمدیہ پر ایمان سے مقصود اس کتاب پر ایمان لانا ہے جو رسول اللہ کی وساطت سے امت کو ملی۔
(فردوس گم گشتہ، ص: 383)
پرویز صاحب کی نظر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ سے زیادہ ایک مبلغ کی حیثیت سے تشریف لائے، قرآن پاک امت کے حوالے کیا اور دنیا سے تشریف لے گئے تو پھر آپ کی عملی زندگی جو اسوۂ حسنہ ہے، وہ کہاں گئی؟ اب ہم قرآن کریم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت، شان اور صفات بیان کرتے ہیں تاکہ پرویز کے مقلدین کو معلوم ہو جائے کہ ایمان بالرسول کے متعلق ان کا دعوی زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں۔
پہلی صفت رسالت اور نبوت
تمام انبیاء علیہم السلام اور رسولوں پر ایمان لانا فرض ہے۔ ان پر ایمان کے متعلق قرآن کریم میں امر کا صیغہ استعمال ہوا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ۚ وَإِن تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ ﴿١٧٩﴾
”پس اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور اگر ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو گے تو تمہیں بڑا اجر ملے گا۔“
(3-آل عمران: 179)
نیز فرمایا:
فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ
”تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔“
(4-النساء: 171)
ان آیات مبارکہ میں تمام رسولوں پر ایمان لانے کا حکم ہے لیکن اس وقت مقصد صرف آخری رسول پر ایمان لانے کی فرضیت بیان کرنا ہے۔ قرآن کریم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے لیے سات مرتبہ امر کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ
”اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔“
(4-النساء: 136)
نیز فرمایا:
قَدْ جَاءَكُمُ الرَّسُولُ بِالْحَقِّ مِنْ رَبِّكُمْ فَآمِنُوا خَيْرًا لَكُمْ
”رسول تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق لے کر آ چکے، پس تم ایمان لے آؤ، یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا۔“
(4-النساء: 170)
نیز فرمایا:
فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ
”پس اللہ اور اس کے رسول، نبی امی پر ایمان لاؤ۔“
(7- الأعراف : 158)
نیز فرمایا:
يَقَوْمَنَا أَجِيبُوا دَاعِيَ اللَّهِ وَآمِنُوا بِهِ
”اے ہماری قوم! اللہ کی طرف دعوت دینے والے (نبی) کی دعوت قبول کرو اور اس پر ایمان لاؤ۔“
(46- الأحقاف: 31)
نیز فرمایا:
آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَنْفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُسْتَخْلَفِينَ فِيهِ
”اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس مال میں سے جس کا اس نے تمہیں جانشین بنایا ہے، خرچ کرو۔“
(57 – الحديد: 7)
نیز فرمایا:
اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِهِ
”اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ وہ اپنی رحمت سے تمہیں دگنا اجر دے گا۔“
(57 – الحديد: 28)
نیز فرمایا:
فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالنُّورِ الَّذِي أَنْزَلْنَا
”پس اللہ، اس کے رسول اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا ہے۔ ایمان لاؤ۔“
(64-التغابن: 8)
ان سات آیات میں سے پہلی آیت میں منافقین کو خالص ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے، دوسری، تیسری اور چھٹی آیت میں اہل کتاب (یہود و نصاری) کو دعوت ہے۔ چوتھی آیت میں جنات کی زبان سے اپنے ہم جنسوں کو ایمان لانے کی دعوت ہے جبکہ پانچویں اور ساتویں آیت میں ایمان بالرسول کی طرف عام دعوت ہے۔ اور ان ساتوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت رسالت اور صفت نبوت کا ذکر فرمایا ہے۔
رسول اور نبی کا معنی
رسول اور نبی میں لغت کے لحاظ سے یہ فرق ہے کہ رسالت کا معنی پیغام پہنچانا اور نبوت ”نبأ“ سے ماخوذ ہے خبر دینا یا نبوت ”نبوة“ سے ماخوذ ہے۔ اس کا معنی ہے: رفعت شان رسول اور نبی میں بعض نے اس لحاظ سے فرق بیان کیا ہے کہ جس کو مستقل کتاب اور شریعت دی گئی ہو وہ رسول ہے جبکہ نبی عام ہے، خواہ اس کو مستقل کتاب یا شریعت ملی ہو یا نہ ملی ہو لیکن اس کی طرف وحی الہی آتی ہو، لہذا ہر رسول نبی ہے، جبکہ ہر نبی رسول نہیں۔
❀ راجح قول: لیکن صحیح یہ ہے کہ شرعی طور پر ہر رسول نبی ہوتا ہے اور ہر نبی رسول ہوتا ہے، صرف اعتباری فرق ہے کہ اللہ کی طرف نسبت ہو تو رسول، یعنی اللہ تعالیٰ کا پیغام لانے والا اور بندوں کی طرف نسبت ہو تو نبی، یعنی بندوں کو خبر دینے والا۔ اس لیے سورۃ مریم میں موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کے لیے رسول اور نبی دونوں صفات بیان کی گئی ہیں اور ہمارے نبی، خاتم النبیین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت میں بھی رسول اور نبی دونوں صفات جمع کی گئی ہیں۔
رسول کے شرعی معنی میں خصوصیت یہ ہے کہ رسالت کی دو قسمیں ہیں:
➊ قولی رسالت : یعنی اقوال، کلمات اور الفاظ کا پیغام دینا اور پہنچانا۔
➋ فعلی اور عملی رسالت : یعنی افعال اور کیفیات اعمال کا عملی پیغام دینا۔ ایمان بالرسالت میں یہ دونوں (قولی اور فعلی و عملی رسالت کے) معانی شامل ہیں۔
قولی رسالت
قولی رسالت کے لیے قرآنی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں 329 مرتبہ لفظ ”قل“ سے آپ کو مخاطب فرمایا ہے، جس کا معنی ہے: فرما دیجیے، یعنی یہ پیغام قولی طریقے سے پہنچا دیں۔ اس پیغام میں رسول کی امانت داری اصل صفت ہے، لہذا وہ اس بات کی نسبت اپنی طرف نہیں کر سکتے، یعنی ایسے نہیں کہہ سکتے کہ میں یہ بات اپنی طرف سے کرتا ہوں، لہذا رسول کا سارا کلام وحی پر مبنی ہوتا ہے اور رسول اور وکیل میں یہی فرق ہے۔ رسول صرف مرسل (بھیجنے والے) کا پیغام پہنچاتا ہے، اس پیغام کو اپنی طرف منسوب نہیں کرتا جبکہ وکیل بات کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے، لہذا عقود (معاہدوں) وغیرہ میں جو وکیل ہوتا ہے حقوق کی ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے، جبکہ رسول پر حقوق کی ذمہ داری نہیں عائد ہوتی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا:
وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ
”اور آپ ان کے ذمے دار نہیں۔“
(6-الأنعام: 107)
نیز فرمایا:
وَلَا تَسْأَلْ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ
”اور آپ سے جہنمیوں کے بارے میں کوئی باز پرس نہیں ہوگی۔“
(2 – البقرة :119 )
اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی احادیث اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی پر مبنی ہیں جس کا نام وحی خفی یا وحی غیر متلو ہے۔ اگر احادیث رسول کو وحی سے مستقل کیا جائے جیسا کہ پرویزی نظریہ ہے تو اس سے رسول کو خیانت کی طرف منسوب کرنا لازم آئے گا، (العیاذ باللہ) یا یہ لازم آئے گا کہ جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم احادیث بیان کر رہے تھے اس وقت ان سے صفت رسالت منقطع ہو گئی تھی، العیاذ باللہ۔
فعلی اور عملی رسالت
اس کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو اور خصوصاً آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سے اعمال کے متعلق بھی وحی کی کہ فلاں فلاں عمل کرتے رہو، لہذا انہوں نے اس کی لازمی پابندی کی۔ ان اعمال کا تذکرہ اور ان کے کرنے کا طریقہ قرآن کریم میں بالتفصیل موجود نہیں، اس کی تفصیل احادیث سے ملتی ہے۔ اگر اسے وحی نہ کہا جائے تو پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر عمل کر رہے تھے تو کیا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صفت رسالت ختم ہو گئی تھی؟
اس کے متعلق چند آیات ملاحظہ فرمائیں، فرمان الہی ہے:
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ
”ہم نے ہر قوم میں ایک رسول بھیجا کہ وہ دعوت دیں کہ (اے لوگو!) اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو۔“
(16-النحل: 36)
نیز فرمایا:
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ ﴿٢٥﴾
”اور ہم نے آپ سے قبل کوئی رسول نہیں بھیجا مگر یہ کہ ہم اس کی طرف وحی بھیجتے تھے کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، لہذا تم میری ہی عبادت کرو۔“
(21-الأنبياء:25)
نیز فرمایا:
يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا
”اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔“
(23-المؤمنون: 51)
نیز فرمایا:
إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَٰذِهِ الْبَلْدَةِ
”مجھے تو صرف یہی حکم ہوا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں۔“
(27-النمل: 91)
نیز فرمایا:
وَأَنْ أَتْلُوَ الْقُرْآنَ
”اور یہ کہ میں قرآن کی تلاوت کروں۔“
(27-النمل: 92)
نیز فرمایا:
يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ
”اے رسول! آپ کے رب کی طرف سے آپ کی طرف جو کچھ نازل کیا گیا ہے، اسے پہنچا دیجیے۔“
(5-المائدة: 67)
نیز فرمایا:
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَالْمُنَافِقِينَ
”اے نبی! اللہ سے ڈرتے رہیے، نیز کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانیں۔“
(33-الأحزاب: 1)
نیز فرمایا:
وَاتَّبِعْ مَا يُوحَىٰ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ
”اور آپ کے رب کی طرف سے آپ کی طرف جو وحی کیا جاتا ہے اس کی اتباع کریں۔“
(33-الأحزاب: 2)
نیز فرمایا:
اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ
”جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھا کریں اور نماز کی پابندی کریں۔“
(29-العنكبوت: 45)
نیز فرمایا:
يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ﴿١﴾ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا ﴿٢﴾ نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا ﴿٣﴾ أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا ﴿٤﴾ إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا ﴿٥﴾ إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا ﴿٦﴾ إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًا ﴿٧﴾ وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا ﴿٨﴾
”اے چادر میں لپٹنے والے! رات کو بجز تھوڑے سے وقت کے نماز میں کھڑے رہیں۔ آدھی رات تک یا اس سے کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کریں… اور اپنے رب کے نام کا ذکر کریں اور سب سے تعلق توڑ کر اسی کے ہو جائیں۔“
(73-المزمل: 1-8)
نیز فرمایا:
يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ﴿١﴾ قُمْ فَأَنذِرْ ﴿٢﴾ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ ﴿٣﴾ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ ﴿٤﴾ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ ﴿٥﴾ وَلَا تَمْنُن تَسْتَكْثِرُ ﴿٦﴾ وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ ﴿٧﴾
”اے لحاف میں لپٹنے والے! اٹھو اور (لوگوں کو اللہ کے عذاب سے) ڈراؤ اور اپنے رب کی عظمت بیان کرو، اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو، اور نجاست سے دور رہو اور اس نیت سے نہ دو کہ زیادہ کے طالب رہو اور اپنے رب کے لیے صبر کرو۔“
(74-المدثر: 1-7)
ان کے علاوہ اور بھی بہت سی آیات ہیں جن میں اعمال کا ذکر ہے۔ ان ہی آیات کریمہ میں رسولوں کو اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنے کا حکم بھی ہے اور اس (بندگی ہی) میں قلبی، لسانی، بدنی اور مالی، ہر قسم کی عبادت شامل ہے۔ ان آیات میں پاکیزہ چیزیں کھانے، تلاوت کرنے، تبلیغ اور دعوت کا کام کرنے، توکل و تقویٰ اختیار کرنے، اقامت صلاة، قیام اللیل، ٹھہر ٹھہر کر قرآن پڑھنے، اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے، سب سے تعلق توڑ کر اسی کا ہو جانے، اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرنے، کپڑے پاک رکھنے، ہر قسم کی نجاست سے اجتناب کرنے اور صبر کرنے کا حکم ہے۔ یہ سارے اعمال ہیں (ان کے علاوہ اور بھی اعمال ہیں جن کا تذکرہ ہم صفات رسول میں بیان کریں گے۔) اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعمال بجا لائے ہیں اور یقیناً بجا لائے ہیں تو ان کی کیفیت، ہیئت، اوقات اور مقدار وغیرہ ضرور آپ سے منقول ہیں لیکن وہ قرآن کریم میں مذکور نہیں بلکہ ان کا ذکر احادیث میں ہے۔ ان احادیث اعمال کو ماننا ان کی رسالت کو ماننا ہے اور ان سے انکار ان کی رسالت سے انکار ہے۔ پرویزی مکتب فکر کی اندھا دھند تقلید کرنے والے تو رسول کو صرف ایک ڈاکیے کی حیثیت سے دیکھتے ہیں کہ ڈاک پہنچائی اور پھر اپنے کام میں لگ گئے۔ ڈاک پہنچانے کے سوا دوسرے اوقات میں اسے ڈاکیا نہیں کہا جا سکتا۔ معلوم ہوا ان کی عقل و دانش پر جہل اور تعصب کے پردے پڑے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اہل قرآن کہتے ہیں جبکہ وہ سرے سے قرآن کو سمجھتے ہی نہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت تبلیغ، تعلیم اور تزکیہ
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا نقل کرتے ہوئے فرمایا:
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿١٢٩﴾
”اے ہمارے رب! ان میں سے انہی میں ایک رسول مبعوث فرما جو ان کو تیری آیات سنائے، انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے۔“
(2-البقرة: 129)
یہ آیت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہے اور اس دعا کی قبولیت کا تین آیتوں میں ذکر کیا گیا ہے۔ البقرة 151:2، آل عمران 164:3، الجمعة 2:62۔
ان چار آیات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تین صفات کا ذکر کیا گیا ہے:
➊ مبلغ اعظم: آپ کا تبلیغی نصاب قرآن کریم کی آیات ہیں۔ اس کی تائید متعدد آیات کرتی ہیں۔ فرمایا:
وَاتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ
”اور اپنے رب کی کتاب سے جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے پڑھتے رہا کریں۔“
(18-الكهف: 27)
دوسری جگہ فرمایا:
لِتَتْلُو عَلَيْهِمُ الَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ
”تا کہ آپ انہیں پڑھ کر سنائیں جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا ہے۔“
(13-الرعد: 30)
قاعدہ: جب حرف جر علی، فعل تلاوت کا متعلق ہو تو پھر اس کا مطلب ہوتا ہے: دوسروں کو سنانا اور اس کا مقصد دعوت الی القرآن ہوتا ہے۔
➋ معلم اعظم : اس کے لیے آپ کا تعلیمی نصاب قرآن کریم اور احادیث ہیں۔
❀ لفظ حکمت کی تحقیق: یہ لفظ لغت عربی میں مصدر ہے حکم یا احکام سے ماخوذ ہے۔ یہ لفظ قول اور علم و عمل میں استحکام کے لیے بولا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں یہ لفظ کئی مرتبہ استعمال کیا گیا ہے۔ اکثر جگہ پر لفظ ”کتاب“ کے بعد لفظ ”حکمت“ آیا ہے۔ سورۃ احزاب 34:33 میں آيت الله کے بعد لفظ والحكمة آیا ہے اور مابعد کے تحت ذکر ہے۔ سورۃ بقرہ میں فرمایا:
وَمَا أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنَ الْكِتَابِ وَالْحِكْمَةِ
”اور جو اس نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی۔“
(2-البقرة: 231)
اسی طرح فرمایا:
آتَيْتُكُمْ مِنَ الْكِتَابِ وَالْحِكْمَةِ
”میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کروں۔“
(3-آل عمران: 81)
نیز فرمایا:
وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ
”اور اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل کی۔“
(4-النساء: 113)
ان آیات سے دو باتیں واضح ہوئیں:
➊ حکمت بھی کتاب کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔
➋ حکمت کتاب اللہ سے ما سوا ہے کیونکہ حکمت کا کتاب اللہ پر عطف آیا ہے اور عطف اصل میں معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان مغایرت، یعنی فرق کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اگرچہ مغایرت جزوی ہو۔
ابو حیان نے حکمت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے 29 اقوال نقل کیے ہیں اور ان سب اقوال کا مرجع ایک ہی ہے اور وہ ہے اسرار قرآن کا فہم، جس کی لفظ سنت کے ساتھ تعبیر کی جاتی ہے کیونکہ قرآن کریم میں عام طور پر ظاہری احکام اور اصولی امور کا ذکر ہوتا ہے اور احادیث میں جزئیات، فروع، کیفیات اور اسرار و دقائق کا ذکر ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الرسالہ میں نقل فرمایا ہے کہ اس بات پر اتفاق ہے کہ حکمت سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
غلام احمد پرویز نے حکمت سے عین قرآن مراد لیا ہے اور کبھی عقل، حالانکہ حکمت سے یہ دونوں معانی مراد لینا غلط ہے کیونکہ عقل اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہے نہ وہ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ مخصوص ہے، جب ثابت ہوا کہ ”حکمت سے مراد سنت ہے تو اس سے واضح ہوا کہ احادیث بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہیں۔ اس کا تفصیلی ذکر بعد میں کیا جائے گا۔
➌ مرشد اعظم : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری صفت مرشد ہے، یعنی آپ تزکیہ کرنے والے ہیں۔ آیات کی تلاوت اور کتاب و سنت کی تعلیم کے بعد تزکیہ کا مقام ہے اور تزکیہ کتاب و سنت پر عمل کرنے، اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق استوار کرنے اور دل کو غیر اللہ کے افکار سے خالی کرنے سے ہوتا ہے، یہ ساری راہ نمائی احادیث سے ملتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو عبادات، معاملات، اخلاقیات، ذکر و اذکار اور حکمرانی کے طریقے عملی طور پر سکھائے۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف یہی ذمہ داری تھی کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی کتاب امت کے حوالے کرنی تھی، جیسا کہ ”جناب غلام احمد پرویز“ کا زعم باطل ہے تو پھر تعلیم و تربیت اور تزکیے کا فریضہ ادا کرنا کس کی ذمہ داری تھی؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبین یعنی بیان کرنے والے ہیں
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ﴿٤٤﴾
”اور ہم نے تیری طرف یہ ذکر اتارا، تا کہ آپ لوگوں کے لیے خوب واضح کریں جو کچھ ان کی طرف نازل کیا گیا اور تا کہ وہ غور و فکر کریں۔“
(16-النحل: 44)
اور فرمایا:
وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ
”اور ہم نے آپ پر کتاب صرف اس لیے نازل کی ہے تا کہ آپ ان لوگوں کے لیے وہ چیزیں واضح کر دیں جن میں انہوں نے اختلاف کیا۔“
(16-النحل: 64)
تبیان : کسی چیز کی زیادہ وضاحت اور تشریح کے لیے لفظ ”تبیان“ جبکہ وضاحت کے لیے لفظ ”بیان“ استعمال ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ
”جب اللہ نے ان لوگوں سے، جو اہل کتاب ہیں، یہ عہد لیا تھا کہ تم اسے لوگوں کے سامنے ضرور بیان کرو گے اور اسے ہر گز نہیں چھپاؤ گے۔“
(3-آل عمران: 187)
اس سے واضح ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کام صرف کتاب کی تلاوت کرنا ہی نہیں تھا بلکہ اس کی تلاوت و تبلیغ کے ساتھ ساتھ اس کی وضاحت کرنا بھی آپ کی ذمہ داری تھی۔ اور اس کتاب کی وضاحت و تشریح احادیث کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔ اس کی تفصیل اور مثالیں ان شاء اللہ اس کتاب کے چوتھے باب میں آئیں گی۔
اس بحث سے یہ واضح ہوا کہ صحیح و حسن احادیث قرآن کی شرح ہیں، موضوع و ضعیف نہیں۔ اس سلسلے میں خبر واحد کی بھی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی خبر مشہور کی ہے۔ مفردات قرآن یا اس کے جملوں کی تفسیر، توجیہ، تخصیص یا تقیید احادیث کے ذریعے سے کرنے پر امت کا اتفاق ہے۔ ائمہ اربعہ اور دوسرے ائمہ محدثین نے تصریح کی ہے کہ صحیح خبر واحد سے کتاب اللہ کی تخصیص، تقیید اور تفسیر کرنا صحیح اور برحق ہے۔ ائمہ کا اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ اگر کسی نے اختلاف ذکر کیا ہے تو وہ صحیح نہیں۔ اس کی عقلی دلیل بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی اور نبی اپنے اللہ تعالیٰ کی تکذیب نہیں کر سکتا۔ اقامت صلاة، نصاب زکاۃ، روزے کے احکام، مناسک حج و عمرہ، آداب جہاد، نکاح و طلاق اور تجارت وغیرہ کے تمام احکام و مسائل کی تشریح اور وضاحت صحیح احادیث میں موجود ہے۔ اس کی نقلی دلیل یہ ہے کہ قرآن وحی الہی ہے تو احادیث بھی وحی الہی ہیں۔ اس کتاب کے چھٹے باب میں ان شاء اللہ مزید وضاحت کی جائے گی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حاکم و قاضی ہیں
قرآن کریم میں واضح طور پر موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کے نزول کے ساتھ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فیصل اور حکم (فیصلہ کرنے والے) کی شان بھی عطا فرمائی ہے۔ جبکہ مبلغ کو یہ اختیار نہیں ہوتا، لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصف رسالت میں آپ کا حاکم و فیصل ہونا بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ ۚ وَلَا تَكُن لِّلْخَائِنِينَ خَصِيمًا ﴿١٠٥﴾
”ہم نے حق و صداقت کے ساتھ آپ کی طرف کتاب نازل فرمائی، تا کہ اللہ نے آپ کو جو سیدھی راہ دکھائی ہے آپ اس کے مطابق لوگوں میں فیصلہ کریں۔“
(4-النساء: 105)
نیز فرمایا:
فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ
”(اے نبی!) آپ ان لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے (آپ پر) نازل کیا ہے۔“
(5-المائدة: 48)
نیز فرمایا:
وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ
”اور یہ کہ آپ اس کے مطابق ان میں فیصلہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے۔“
(5-المائدة: 49)
اور فرمایا:
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ﴿٦٥﴾
”پس قسم ہے تمہارے رب کی! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے، جب تک اپنے تمام جھگڑوں میں آپ کو حاکم نہ بنائیں، پھر اپنے دلوں میں آپ کے فیصلے کے بارے میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور (آپ کے فیصلے کو) پوری طرح تسلیم کر لیں۔“
(4-النساء: 65)
ان آیات کریمہ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رسالت کے ساتھ فیصلے کرنے پر بھی مامور تھے۔ جسے حاکم اور قاضی کہا جاتا ہے، البتہ فیصلہ کرنے کے لیے ”بما أنزل الله“ (جو اللہ نے نازل کیا ہے) کی شرط عائد کی ہے جو قرآن و حدیث کو محیط ہے بلکہ پہلی آیت میں ”بما أراك الله“ (اور اس کے مطابق فیصلہ کریں) جسے اللہ نے آپ کو دکھایا ہے کا ذکر کیا تو کتاب اللہ کے علاوہ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ سے مراد حدیث ہے، جبکہ آخری آیت میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاکم تسلیم کرنا ایمان کے لیے شرط قرار دیا ہے۔ اس میں ان احادیث کی طرف اشارہ ہے جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف عدالتی اور تعزیری فیصلے ذکر ہیں، مثلاً: چور کا ہاتھ کاٹنا، شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنا، قاتل پر قصاص کے بدلے دیت کا حکم جاری کرنا، قصاص فی الأطراف (اعضائے جسمانی کے قصاص) کا حکم صادر کرنا، آزاد ہونے والے اور آزاد کرنے والے میں ولاء کے حق کا فیصلہ کرنا، تجارت کی بعض اقسام کو جائز اور بعض کو ناجائز قرار دینا، نکاح اور طلاق میں فیصلے کرنا، کاشت کاری میں پانی کی تقسیم وغیرہ کا فیصلہ کرنا، یہ سارے واقعات احادیث میں مذکور ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاکم تسلیم کر کے ان احادیث کو ماننا ایمان بالرسول میں داخل ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت داعی و مبلغ
قرآن کریم کی بہت سی آیات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت دعوت و تبلیغ، اس کے آداب اور نصاب دعوت کا مفصل ذکر موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۖ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ
”اے رسول! آپ کے رب کی جانب سے آپ پر جو کچھ نازل ہوا ہے اسے لوگوں تک پہنچا دیجیے۔ اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اس (اللہ) کی رسالت کو نہ پہنچایا۔“
(5-المائدة: 67)
نیز فرمایا:
فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ
”پس جس بات کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اسے صاف صاف کہہ دیجیے۔ اور مشرکین سے اعراض کیجیے۔“
(15-الحجر: 94)
نیز فرمایا:
ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ
”(اے نبی!) آپ اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور اچھے وعظ کے ذریعے سے دعوت دیجیے اور احسن طریقے سے ان سے بحث کیجیے۔“
(16-النحل: 125)
نیز فرمایا:
قُلْ هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ ۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي
”کہہ دیجیے: یہی میرا راستہ ہے۔ میں (تمہیں) اللہ کی طرف بلاتا ہوں، میں اور وہ لوگ بھی جو میری اتباع کرتے ہیں۔ ہم سب بصیرت پر ہیں۔“
(12-یوسف: 108)
نیز فرمایا:
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا ﴿٤٥﴾ وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُّنِيرًا ﴿٤٦﴾
”اے نبی! ہم نے آپ کو شاہد، خوشخبری سنانے والا، ڈرانے والا، اللہ کی طرف اس کے حکم سے دعوت دینے والا اور ایک روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے۔“
(33-الأحزاب: 45-46)
ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے دعوت و تبلیغ کا فریضہ عائد کیا ہے اور ”ما أنزل الله“ (جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا) ”ما تؤمر“ (جس کا آپ کو حکم دیا گیا) اور ”سبيل ربك“ (رب کا راستہ) نصاب دعوت مقرر فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور شاہد، بشیر و نذیر، داعی الی اللہ اور سراجاً منیراً بنا کر مبعوث فرمایا۔ پس ”ما أنزل الله“ (جو کچھ اللہ نے نازل فرمایا) اس میں سنت بطور جزو لازم شامل ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فریضہ دعوت و تبلیغ کے پیش نظر جو احکامات اور مواعظ وغیرہ بیان فرماتے تھے وہ صرف قرآن مجید ہی پر مشتمل نہیں ہوتے تھے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم احادیث بھی بیان کیا کرتے تھے، پس وہ بھی ”ما أنزل الله“ میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے علاوہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صفات بیان کی ہیں، مثلاً: سورۃ اعراف 7:157، سورۃ مائدہ 15-16:5 اور سورۃ توبہ 9:128 میں بھی آپ کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ اگر ان ساری صفات کو دیکھ لیا جائے تو رسول اور نبی ہونے کے لحاظ سے اس کا مصداق قرآن اور حدیث دونوں میں مذکور ہے۔ یہاں تک تو ایمان بالرسول میں دوسری صفات کا تذکرہ تھا کہ وہ بھی ایمان بالرسول میں داخل ہیں۔ ان میں سے ایک کا بھی انکار کرنا یا غلط تاویل کرنا موجب کفر ہوگا۔
ایمان بالرسول سے مشروط و متعلق تقاضے
اب ہم ایمان بالرسالت کے دوسرے تقاضوں کا ذکر کرتے ہیں جن کو مانے بغیر ایمان بالرسول درست نہیں ہو سکتا۔
ایمان بالرسول کا پہلا تقاضا
ایمان بالرسول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مطلق اطاعت بطور رکن فرض ہے اور اس کی فرضیت کے لیے قرآن کریم میں چار طریقے وارد ہوئے ہیں۔
➊ امر (حکم) کا صیغہ: اطاعت رسول کے متعلق چودہ مرتبہ امر کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔
➋ ترغیب: یعنی چودہ طریقوں سے آپ کی اطاعت کی طرف ترغیب دی گئی ہے۔ ان میں سے بعض کی تفصیل درج ذیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ
”جس نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی تو اس نے اللہ کی اطاعت کی۔“
(4-النساء: 80)
ایسے نہیں فرمایا کہ جس نے اللہ کی اطاعت کی تو اس نے رسول کی اطاعت کی کیونکہ اطاعت رسول احادیث (وحی خفی) اور قرآن (وحی جلی) دونوں کو محیط ہے، لہذا ان دونوں قسم کی وحی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا بظاہر مصداق صرف قرآن ہے جس کی وجہ سے صرف اللہ کی اطاعت، اطاعت رسول کو مستلزم نہیں ہوگی۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا
”اور اگر تم اس (نبی) کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے۔“
(24-النور: 54)
نیز فرمایا:
وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
”اور نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو اور رسول کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔“
(24-النور: 56)
یہاں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا ذکر کیا گیا ہے، یعنی نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں جس طرح تعلیم دی ہے اس کی پابندی کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔
نیز فرمایا:
وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ
”ہم نے صرف اسی واسطے رسول بھیجے کہ اللہ کے حکم سے ان کی اطاعت کی جائے۔“
(4-النساء: 64)
یعنی رسالت کا مقصد اطاعت رسول ہے اور اسی میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت ہے۔
اس کے علاوہ (سورۃ نساء 4:69، آل عمران 132:3، سورۃ توبہ 71:9، سورۃ نور 52:24، سورۃ احزاب 71:33، سورۃ فتح 16:48، اور سورۃ حجرات 14:49) کی ان آیات کا بغور مطالعہ کریں، ان میں اطاعت رسول کے بہت سے فائدے بیان کیے گئے ہیں۔
غلام احمد پرويز كہتے یيں:
أطيعوا الله وأطيعوا الرسول
”اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور رسول اللہ کی اطاعت کرو۔“
اس آیت سے صرف ایک اطاعت مراد ہے، یعنی اطاعت قرآن۔
لیکن یہ استدلال غلط ہے کیونکہ اگر اطاعت رسول سے مراد مستقل اطاعت نہ تھی تو اللہ تعالیٰ کسی بھی آیت میں أطيعوا الرسول کا حکم نہ فرماتا، جیسا کہ أولو الأمر کی اطاعت مستقل نہیں ہے، لہذا وہاں مستقل حیثیت میں وأطيعوا کا لفظ دوبارہ استعمال نہیں کیا گیا۔
مزید برآں أَطِيعُوا میں واؤ عطف کے لیے ہے جو مغایرت پر دلالت کرتی ہے اگرچہ یہ مغایرت من وجہ ہو، لہذا اطاعت رسول مستقل ہے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت بھی مستقل ہے۔ اگرچہ دونوں میں مشترک چیز یا حکم ایک ہے۔
علاوہ ازیں اگر اطاعت رسول مستقل مقصود نہ تھی تو من يطع الرسول فقد أطاع الله میں اس فرمان کے برعکس کیوں نہیں فرمایا جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے، نیز بعض آیات میں صرف اطاعت رسول کا حکم ہے، جیسا کہ تیسری آیت میں ہے، پس یہ آیت مستقل اطاعت رسول پر دلالت کرتی ہے۔
➌ اللہ تعالیٰ نے ایمان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور آپ کا فیصلہ قبول کرنے پر موقوف کیا ہے، جیسا کہ فرمایا:
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ
”پس تمہارے رب کی قسم! یہ لوگ کبھی مومن نہیں ہو سکتے حتیٰ کہ اپنے تمام جھگڑوں میں آپ کو حاکم و فیصل نہ بنالیں۔“
(4-النساء: 65)
➍ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو، جو اطاعت اور اتباع رسول ترک کرتے ہیں، سخت انداز میں دنیوی و اخروی عذاب کا خوف دلایا ہے، خواہ اطاعت ترک کرنا بطور تکذیب ہو یا بطور نافرمانی یا بطور اعراض و مخالفت ہو۔ چند آیات ملاحظہ فرمائیں:
وَلَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِنْهُمْ فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَهُمْ ظَالِمُونَ
”اور یقیناً انہی میں سے ایک رسول ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے جھٹلایا، تو عذاب نے انہیں پکڑا اور وہ ظالم تھے۔“
(16-النحل: 113)
نیز فرمایا:
فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ
”پس اگر وہ لوگ آپ کی نافرمانی کریں تو آپ فرما دیں: بلاشبہ تم جو کچھ کر رہے ہو، میں اس سے بری ہوں۔“
(26-الشعراء: 216)
اور فرمایا:
وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا
”اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو بے شک اس کے لیے جہنم کی آگ ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔“
(72-الجن: 23)
اور فرمایا:
وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا
”اور جو شخص اس بات کے بعد کہ اللہ نے اس پر راہ ہدایت کھول دی ہو، رسول کی مخالفت کرے اور مومنوں کی راہ چھوڑ کر دوسری راہ چلنے لگے تو ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ پھر گیا ہے اور اسے جہنم میں پہنچائیں گے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔“
(4-النساء: 115)
نیز فرمایا:
أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّهُ مَنْ يُحَادِدِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَأَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيهَا ۚ ذَٰلِكَ الْخِزْيُ الْعَظِيمُ
”کیا انہوں نے نہیں جانا کہ بے شک حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہ بہت بڑی رسوائی ہے۔“
(9-التوبة: 63)
نیز ارشاد الہی ہے:
فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنْذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ
”پس اگر وہ منہ پھیر لیں تو ان سے فرما دیجیے: میں نے تمہیں ایک ایسی کڑک سے آگاہ کیا ہے جو عاد اور ثمود کی کڑک کی طرح ہوگی۔“
(41-حم السجدة: 13)
اور فرمان باری تعالیٰ ہے:
فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿٦٣﴾
”پس وہ لوگ جو اس کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں، انہیں اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ ان پر کوئی مصیبت آ پڑے یا ان پر درد ناک عذاب آ جائے۔“
(24-النور:63)
اور یہ امور عام ہیں، خواہ قرآن کے بارے میں ہوں یا احادیث کے بارے میں، سب دنیا و آخرت میں اسباب عذاب ہیں اور یہ امراض خصوصاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت، بے رغبتی اور دشمنی منکرین حدیث میں صراحت کے ساتھ موجود ہیں۔
ایمان بالرسول کا دوسرا تقاضا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام معجزات کو ماننا فرض ہے، خواہ وہ قرآن میں مذکور ہوں یا صحیح احادیث میں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے معجزہ قرآن تو پرویز صاحب بھی مانتے ہیں کہ اس کی فصاحت، بلاغت، طریقہ دعوت و ہدایت اور طریقہ استدلال کے مقابلے سے آج تک ساری دنیا عاجز ہے اور عاجز رہے گی، لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے میں ایمان بالقرآن پہلا رکن ہے۔ اور یہ باب اول میں باتفصیل بیان ہو چکا ہے۔ لیکن قرآن کریم کے علاوہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے معجزات بھی گزشتہ انبیاء علیہم السلام سے زیادہ ہیں۔ ان میں سے بعض اشارۃ قرآن کریم میں موجود ہیں۔ فرمایا:
قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا
”تمہارے لیے دو جماعتوں میں، جب وہ باہم لڑیں، ایک نشانی (معجزہ) ہے۔“
(3-آل عمران: 13)
یعنی غزوہ بدر میں ایمان والوں کا غلبہ اور فتح ایک معجزہ ہے کہ تعداد بہت تھوڑی اور جنگ کے اسباب و وسائل بھی نسبتاً کم تھے، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے غلبہ عطا فرمایا۔
دوسری جگہ فرمان الہی ہے:
وَمَا تَأْتِيهِم مِّنْ آيَةٍ مِّنْ آيَاتِ رَبِّهِمْ إِلَّا كَانُوا عَنْهَا مُعْرِضِينَ ﴿٤﴾
”اور ان کے پاس ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں آئی جس سے انہوں نے منہ نہ موڑا ہو۔“
(6-الأنعام:4)
یہاں بھی آیت (نشانی) سے مراد معجزہ ہے کیونکہ آیات قرآنیہ کے ساتھ اکثر لفظ تلاوت بیان کیا جاتا ہے۔ اور یہاں مادہ (اتیان) استعمال ہوا ہے۔ پرویز صاحب کا دعویٰ ہے کہ (اتیان) محسوسات کے ساتھ خاص ہے جیسا کہ اپنے موقع پر بحث آئے گی تو اس مفروضے کے مطابق یہاں معجزات محسوسہ مراد لینا پڑے گا، اگرچہ پہلے باب میں گزر چکا ہے کہ غلام احمد پرویز ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قرآن کے علاوہ کوئی محسوس معجزہ نہیں مانتے، لہذا اس آیت وما تأتيهم من آية کا مصداق پرویز صاحب اور اس کے مقلدین ہیں کہ یہ لوگ نشانیوں کے آنے کے باوجود مانتے نہیں بلکہ اعراض کرنے والے ہیں۔ جبکہ اس آیت قرآنیہ میں تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو محسوس معجزات بھی عطا کیے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَإِذَا جَاءَتْهُمْ آيَةٌ قَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّهِ
”اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم کبھی یقین نہیں کریں گے، جب تک ہمیں بھی وہ چیز نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی۔“
(6-الأنعام: 124)
یعنی یہ لوگ (کفار مکہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے محسوس معجزات کی اس وجہ سے تکذیب کرتے تھے کہ آپ بھی سابقہ رسولوں کی طرح معجزات کیوں نہیں لائے، جیسا کہ فرمایا:
فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ ﴿٥﴾
”پس اسے چاہیے کہ جس طرح پہلے نبیوں کو بھیجا گیا تھا وہ بھی اسی طرح ہمارے پاس کوئی نشانی لائے۔“
(21-الأنبياء:5)
اس آیت میں وہی تفصیل ہے جو اس موضوع کی آیت نمبر 2 (سابقہ آیت) میں مذکور ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ ﴿١﴾ وَإِن يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ ﴿٢﴾
”قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا۔ اور اگر یہ لوگ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو روگردانی کرتے ہیں اور کہتے ہیں (یہ) ایک جادو ہے جو ہمیشہ سے چلا آتا ہے۔“
(54-القمر: 1-2)
چاند کے پھٹنے کا واقعہ ایک محسوس معجزہ تھا، جس کے متعلق متواتر احادیث وارد ہیں۔ اس لیے دوسری آیت میں اسے آیت (نشانی) کہا جس کے متعلق تاریخ بھی گواہی دیتی ہے، جیسا کہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے البدایہ والنہایہ میں بھوپال کے حکمران کا واقعہ تاریخ فرشتہ سے نقل کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ رَمَىٰ
”اور جب آپ نے کنکریاں پھینکی تھیں وہ آپ نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ وہ اللہ نے پھینکی تھیں۔“
(8-الأنفال: 17)
یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن صرف ہاتھ سے کفار کی طرف کنکریاں پھینکی تھیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں کفار کی آنکھوں تک پہنچایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت تھی۔ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ بدر میں کفار کی شکست کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی تھا۔
صحیح احادیث میں بہت سے محسوس معجزات کا ذکر موجود ہے۔ جنہیں بعض اہل علم نے احادیث کی کتابوں میں علامات النبوۃ کے عنوان سے بیان کیا ہے، جیسے تھوڑے سے کھانے کا زیادہ لوگوں کے لیے کافی ہو جانا، تھوڑے سے پانی کا زیادہ لوگوں کے لیے اور ان کے جانوروں کے لیے کافی ہو جانا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے پانی کا نکلنا، کنکریوں اور کھانے کا تسبیح پڑھنا وغیرہ، یہ سارے محسوس معجزات ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے میں صحیح احادیث سے ثابت معجزات پر ایمان لانا جزو ایمان ہے۔
پرویز صاحب کا یہ نظریہ ہے کہ ہم ان احادیث کو نہیں مانتے جو قرآن کے خلاف ہوں (اس نظریے کی تفصیل پرویز صاحب کے معتقدات کے بیان میں آئے گی)، تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ معجزات والی احادیث قرآن کی کس آیت کے خلاف قرار دے کر مسترد کی جا سکتی ہیں؟
ایمان بالرسول کا تیسرا تقاضا
اتباع رسول اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ
”آپ فرما دیں: اگر تمہیں اللہ سے محبت ہے تو پھر میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔“
(3-آل عمران: 31)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کو معیار قرار دیا ہے اور اپنی محبت اسی میں منحصر کر دی ہے کیونکہ شرط اور جزا جملہ شرطیہ میں اکثر حصر کے لیے آتے ہیں۔ محبت اپنے مشہور معنی میں ہے، یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ کرتے ہیں یا اس کی محبت کو حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ اللہ کی محبت اس کی قربت ہے اور یہ محبت ثواب کو مستلزم ہے، پس جو شخص اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنا چاہتا ہے یا ثواب کا متلاشی ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کی محبت، اطاعت رسول کو مستلزم ہے، لہذا اس متلاشی پر لازم ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرے۔ اسی طرح محبت الہی، احکام الہی کی پابندی کو مستلزم ہے جو کہ قرآن کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہیں، لہذا جو شخص قرآن مجید پر عمل کرنا چاہتا ہے، اس کے لیے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پر عمل کرنا لازم ہے، لہذا یہ آیت کریمہ حجیت حدیث کے لیے قطعی دلیل ہے۔
اتباع اور اطاعت دو الفاظ ہیں اور یہ دونوں الفاظ قرآن کریم میں مختلف مواقع پر استعمال ہوئے ہیں۔ جب یہ الفاظ الگ الگ استعمال ہوں، تو اطاعت اتباع کو اور اتباع اطاعت کو محیط ہوتا ہے اور جب یہ دونوں الفاظ اکٹھے استعمال ہوں، تو اطاعت کا اطلاق اقوال کی پیروی پر اور اتباع کا اطلاق اعمال میں کسی کی پیروی پر ہوتا ہے۔ اہل لغت نے بھی اتباع کا معنی کسی کے نقش قدم پر چلنا اور عمل کرنا کیا ہے۔ یہ دونوں الفاظ اکٹھے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَاتَّبِعُونِي وَأَطِيعُوا أَمْرِي
”پس میرا اتباع کرو اور میرا حکم مانو۔“
(20-طه: 90)
اس آیت میں اتباع اور اطاعت دونوں لفظ اکٹھے استعمال کیے گئے ہیں۔ اتباع کے معنی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی پیروی کرنا اور اطاعت کا مطلب ہے آپ کے اقوال کو ماننا۔ عمل میں چونکہ اللہ تعالیٰ کی اتباع اللہ تعالیٰ جیسا عمل کرنا ممکن نہیں، اس لیے لفظ اتباع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کیا گیا، لہذا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے گی اس کے اقوال میں اور اللہ تعالیٰ کا قول قرآن ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول حدیث ہے اور ان دونوں کے بارے میں اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔
اس تمہید کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال کا اتباع ہم پر لازم ہے، تو وہ سارے اعمال قرآن کریم میں مذکور نہیں بلکہ وہ احادیث میں مذکور ہیں، لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پر عمل کرنا ضروری ہے لیکن جس شخص کے نزدیک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث حجت نہیں وہ قرآن کریم کی آیت فاتبعوني پر ایمان نہیں رکھتا جبکہ قرآن کریم کی ایک آیت کا منکر پورے قرآن کا منکر تصور ہوتا ہے اور جو شخص قرآن کریم پر ایمان رکھتا ہے اس کا اس آیت پر بھی ایمان ہونا لازم ہے۔ اور آیت فاتبعوني پر ایمان تب ہو گا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال احادیث میں تلاش کیے جائیں اور ان کی روشنی میں آپ کا اتباع کیا جائے، مثلاً: ایک شخص قرآن کریم میں وأقيموا الصلاة نماز قائم کرو پر ایمان رکھ کر نماز قائم کرتا ہے۔ نماز قائم کرنا ایک ایسا عمل ہے جس کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تادم حیات پابندی کی، لہذا احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی جو کیفیت، اوقات، ارکان اور شرائط وغیرہ کا ذکر ہے ان پر لازماً عمل کرنا ہوگا۔ احادیث میں پانچ اوقات کا تفصیلی ذکر ہے۔ ہر نماز کی رکعتوں کی تعداد، ترتیب، قیام، رکوع و سجود اور قعدہ و سلام کا بیان ہے۔ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھنا، دوسری سورتیں اور آیات پڑھنے کا ذکر احادیث میں موجود ہے۔
لہذا نماز پڑھنے میں فرمان نبوی ہے:
صلوا كما رأيتموني أصلي
”اس طریقے کے مطابق نماز پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔“
(صحیح البخاری، الأذان، باب الأذان للمسافرین إذا حديث: 631 )
کو مد نظر رکھتے ہوئے سنت نبوی کی پیروی فرض ہے لیکن نماز قائم کرنے کے متعلق پرویز صاحب اور ان کے مقلدین کے مختلف افکار ملاحظہ فرمائیں۔
➊ تقریباً تیس سال قبل ایک پرویزی سے ملاقات ہوئی۔ بات چیت کے دوران میں اس نے کہا: ”ہر نماز صرف دو رکعت ہے۔“ اس نے دلیل کے طور پر سورۂ نساء کی آیت نمبر 102 میں مذکور نماز خوف کا حوالہ دیا اور کہا: اس آیت میں خوف کا ذکر نہیں، میں نے کہا: اس آیت میں امام کے ساتھ صرف ایک رکعت پڑھنے کا ذکر ہے جبکہ امام کے بغیر نماز کا کوئی ذکر نہیں تو پھر عمومی طور پر دو رکعت پڑھنے کا تمہارے نزدیک کیا جواز ہے؟“ پھر میں نے کہا: اس آیت میں اپنے پاس اسلحہ رکھنے کا ذکر ہے اگر تمہارے بقول یہ نماز خوف نہیں بلکہ اس سے عام نماز مراد ہے، پھر ہر نماز کے وقت اپنے پاس اسلحہ ضرور ہونا چاہیے۔“
➋ کچھ عرصہ بعد پرویزی نظریے کے حامل ایک میجر سے ملاقات ہوئی انہوں نے کہا: نماز پڑھنے کے لیے شریعت میں کوئی مقرر وقت ہے نہ کوئی متعین طریقہ، جس وقت اور جس طریقے سے نماز پڑھ لی جائے جائز ہے۔ اس نے دلیل کے طور پر یہ آیت پیش کی:
كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهُ وَتَسْبِيحَهُ
”یقیناً (اللہ نے) ہر ایک کی نماز اور اس کی تسبیح جان لی ہے۔“
(24-النور: 41)
میجر صاحب نے اس آیت کا یہ ترجمہ کیا: ”ہر شخص اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ خود سمجھتا ہے۔“
میں نے کہا یہ معنی غلط ہے، آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کے علم کی بات ہو رہی ہے اور علم کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے، یعنی ہر ایک کی نماز اور تسبیح اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔“
➌ پرویز صاحب کا نماز کے متعلق نظریہ بھی اختلافات کا شکار ہے۔ ایک جگہ سورۂ نور کی آیت 58 لکھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اجتماعات نماز کے لیے کم از کم دو اوقات (نماز فجر، نماز عشاء) متعین تھے۔
(لغات القرآن: 43/3)
➍ ایک موقع پر لکھتے ہیں: جس اصول کا میں نے اپنے مضمون میں ذکر کیا ہے وہ قانون اور عبادت دونوں پر منطبق ہے، یعنی اگر جانشین رسول اللہ (قرآنی حکومت) نماز کی کسی جزوی شکل میں جس کا قرآن نے تعین نہیں کیا (مثلاً: اوقات، تعداد رکعات) اپنے زمانے کے تقاضے کے تحت کچھ رد و بدل ناگزیر سمجھے تو وہ ایسا کرنے کا اصولاً مجاز ہوگا۔
(قرآنی فیصلے ، ص : 15، 14)
➎ پرویز اپنی کتاب معارف القرآن میں ایک جگہ لکھتے ہیں: قرآن کریم نے نماز پڑھنے کا نہیں کہا، قیام صلاۃ، یعنی نماز کے نظام کے قیام کا حکم دیا ہے۔ مسلمان نماز پڑھتے ضرور ہیں لیکن انہوں نے نظام صلاۃ کو قائم نہیں کیا۔ ان کی نماز ایک وقت معینہ کے لیے ایک عمارت (مسجد) کی چار دیواری کے اندر ایک عارضی عمل بن کر رہ جاتی ہے۔
( معارف القرآن: 328/4 )
➏ ایک جگہ لکھتے ہیں: عجم میں مجوسیوں (پارسیوں) کے ہاں پرستش کی رسم کو نماز کہا جاتا تھا۔ یہ لفظ ان کے ہاں کا ہے اور ان کی کتابوں میں موجود ہے، لہذا صلاۃ کی جگہ نماز نے لے لی اور قرآن کی اصطلاح وأقيموا الصلاة کا ترجمہ ہو گیا ”نماز پڑھو۔“ جب گاڑی نے اس طرف پڑی بدلی تو اس کے پیسے کا ہر چکر اسے منزل سے دور لے جاتا گیا، چنانچہ اب حالت یہ ہو چکی ہے کہ وأقيموا الصلاة سے ذہن نماز پڑھنے کے علاوہ کسی اور طرف منتقل نہیں ہوتا اور نماز پڑھنے سے مراد ہے خدا کی پرستش کرنا۔
(قرآنی فیصلے ، ص : 27، 26)
اس کے علاوہ غلام احمد پرویز صاحب کی کتابوں میں صلاۃ کے متعلق متفرق معانی مذکور ہیں۔
( دیکھیے مکتوبات، سلیم کے نام تیرھواں خط ،ص: 409)
نماز ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ
”اور نماز قائم کرو، اور مشرکوں میں سے نہ ہو جاؤ۔“
(30-الروم: 31)
اس اہم رکن کے متعلق آپ نے پرویز صاحب کے خیالات و نظریات ملاحظہ فرمائے، کبھی کہتے ہیں کہ صرف دو نمازیں فرض ہیں، حالانکہ سورۂ نور آیت: 58 میں اوقات نماز بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ وہ تین اوقات بیان کیے گئے ہیں جن میں انسان عموماً پردے کا اہتمام نہیں کرتا، لہذا انھی تین اوقات میں غلام اور بلوغت کے قریب عمر کے بچوں کو بھی اندر جانے کے لیے اجازت طلب کرنی چاہیے۔
کبھی کہتے ہیں: جانشین رسول نماز کے اوقات و کیفیات وغیرہ میں تبدیلی کر سکتا ہے تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع (جو مسلمانوں پر فرض ہے) کہاں گئی؟ کبھی کہتے ہیں: نماز مجوسیوں کا لفظ ہے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ لفظ خدا بھی تو انھی کا ہے، آپ یہ لفظ کیوں استعمال کرتے ہیں؟ پرویز صاحب کی کتابوں میں لفظ خدا بہت زیادہ استعمال کیا گیا ہے۔ میں نے اتباع کی تشریح میں بطور مثال نماز کا ذکر کیا، زکاۃ اور حج وغیرہ کے متعلق ان کے خیالات کا تذکرہ ان شاء اللہ باب نمبر 9 میں کیا جائے گا۔
ایمان بالرسول کا چوتھا تقاضا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو اسوہ بنانا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا
”دیکھو! تمھارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں بہترین نمونہ ہے، (اور یہ نمونہ) اس شخص کے لیے ہے جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہو اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہو۔“
(33-الأحزاب:21)
اس آیت کے اندر بہت سی تاکیدیں اور شرائط ہیں۔ لام، قد، لكم في رسول الله أسوة حسنة، لمن كان يرجوا الله واليوم الآخر وذكر الله كثيرا اور پھر لفظ لمن جو (لكم سے بدل ہے) میں تعمیم اور ابدیت کی طرف اشارہ ہے، یعنی یہ حکم صحابہ کے ساتھ مختص نہیں بلکہ جو شخص بھی اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت کی امید اور عقیدہ رکھتا ہے اور وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کے ذکر میں مشغول ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو پیش نظر رکھے۔ آپ کے اقوال، اعمال، اخلاق، سیرت و کردار، عبادات و معاملات اور جہاد کرنے میں آپ کی اتباع اپنے اوپر فرض سمجھے۔ اس تعمیم سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی نمونہ صرف صحابہ کرام کے لیے خاص نہیں تھا جیسا کہ پرویزیت میں یہ عقیدہ ہے بلکہ صحابہ کرام کے بعد قیامت تک آنے والے تمام جن و انس کے لیے بھی آپ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ اس کی تائید دوسری آیت سے بھی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿٢﴾ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ
”وہی ذات ہے جس نے ان پڑھوں میں انھی میں سے ایک رسول بنا کر بھیجا جو ان کو اس (اللہ) کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہے، انھیں پاک کرتا ہے، اور انھیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے، اگر چہ اس سے پہلے وہ صریح گمراہی میں تھے۔ اور اس رسول کی بعثت ان دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے جو ابھی تک ان سے نہیں ملے۔“
(62-الجمعة:2-3)
پس آخرين منهم سے وہ تمام لوگ مراد ہیں جو صحابہ کرام کے دور کے بعد پیدا ہوئے، خواہ وہ عرب ہوں یا عجم۔ ان آیات کی رو سے واضح ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اتباع ابد تک جاری رہے گی۔ کوئی مرکز ملت یا مدعی نبوت اس کی اطاعت کو ختم، منسوخ یا تبدیل نہیں کر سکتا۔ اب جناب غلام احمد پرویز کے کچھ کفریہ نظریات ملاحظہ فرمائیں:
ان کا کہنا ہے قرآن کریم میں جہاں جہاں اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے، اس سے مراد امام وقت، یعنی مرکز ملت کی اطاعت ہے۔ جب تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم امت میں موجود تھے تو ان کی اطاعت اللہ و رسول کی اطاعت تھی اور آپ کے بعد آپ کے جانشینوں کی اطاعت اللہ و رسول کی اطاعت ہوگی اور عربی میں اطاعت، زندہ کی فرماں برداری کو کہتے ہیں۔
(مقام حدیث: 155/1 )
امام وقت سے مرکز ملت مراد لینے کے لیے کیا دلیل ہے؟ اسی طرح اطاعت سے زندہ کی فرماں برداری مراد لینا کس لغت میں ہے؟ پرویزی فرقے سے استدعا ہے کہ یہ اندھی تقلید چھوڑ دیں۔ پرویز صاحب کی بلا دلیل باتیں صریح گمراہی اور کفر ہیں۔
پس آیت میں اسوہ کے بیان سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی تمام لوگوں کے لیے تا قیامت لائحہ عمل ہے۔ اس پر عمل درآمد تب ہی ممکن ہے جب ہم قرآن کریم کا مقصد صحیح احادیث کی روشنی میں سمجھیں اور اپنے اعمال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے مطابق بجالائیں۔
احادیث صحیحہ کا قرآن کریم کے ساتھ تین قسم کا تعلق ہے۔
❀ پہلی قسم: اس میں وہ احادیث شامل ہیں جو قرآنی احکام کی مؤید اور اجمال و تفصیل میں اس کے مطابق ہیں، یعنی قرآن حکیم میں پہلے سے کوئی حکم موجود ہوتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی مزید تائید و حمایت فرمادیتے ہیں، مثلاً: اسلام کے پانچ ارکان
تو حید و رسالت کی گواہی، نماز، روزہ، زکاۃ اور حج، یہ امور اور احکام قرآن کریم میں موجود ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں ان کی مزید تائید و توثیق فرمادی ہے۔
پرویز صاحب اس قسم کے تعلق کو بظاہر ماننے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن آپ نے پہلے بھی جان لیا اور آئندہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ انھوں نے قرآنی نماز، روزہ، زکاۃ اور حج وغیرہ کے لیے اپنی طرف سے من گھڑت معانی ایجاد کر کے اس پر عمل کیا ہے۔
❀ دوسری قسم: اس میں وہ احادیث شامل ہیں جو قرآنی احکام کی تشریح اور وضاحت کرتی ہیں، یعنی مطلق کی تقیید، مجمل کی تفصیل، عام کی تخصیص اور مہمات کی توضیح۔ اس قسم کی احادیث بے شمار ہیں اور ہم نے باب اول میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت شارح میں ان میں سے کچھ مفصل بیان کی ہیں۔ اس قسم کی احادیث کے متعلق بھی پرویز صاحب کا رویہ منافقانہ ہے۔
❀ تیسری قسم: اس قسم کی احادیث ایسے احکام پر دلالت کرتی ہیں جن کے متعلق قرآن نے کچھ بیان نہیں کیا، مثلاً: وہ احادیث جن میں پھوپھی اور بھتیجی اور اسی طرح خالہ اور بھانجی کا بیک وقت ایک نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔ یا احادیث شفعہ یا شادی شدہ زانی کو رجم کرنے کے متعلق احادیث۔ بعض علماء نے اس قسم کو قرآن کے مفہوم کی طرف راجع کر کے حجت بنایا ہے لیکن صحیح یہ ہے اس قسم کی احادیث مستقل حجت ہیں اور آیت اتباع رسول اور آیت اسوہ حسنہ میں صراحتا داخل ہیں، لہذا یہ تینوں قسم کی احادیث دین میں حجت ہیں۔
اس باب میں ایمان بالرسول کے ضمن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض صفات اور احوال پر ایمان اور ایمان بالرسول کے چار تقاضے بیان کیے گئے ہیں جو واضح طور پر اتباع احادیث صحیحہ اور حجیت حدیث پر دلالت کرتے ہیں۔