بنی اسرائیل کے گوشت ذخیرہ کرنے اور حوا ؑکی خیانت والی حدیث کی وضاحت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔

حدیث 28: بنی اسرائیل کا گوشت ذخیرہ کرنا

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت کبھی خراب نہ ہوتا اور اگر حوا علیہا السلام نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی۔
صحيح البخاري ، احاديث الأنبياء، باب خلق آدم وذريته، حديث: 3330
منکرین حدیث کی طرف سے اس حدیث پر اعتراض ہے کہ
➊ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل سے پہلے گوشت خراب ہونے کے سلسلے میں مادے کے خواص اور تھے، یعنی گوشت اگر سٹاک بھی کیا جاتا تو گلتا سڑتا نہیں تھا لیکن بنی اسرائیل کے بعد اس مادے کے خواص بدل گئے جو آج تک چلے آ رہے ہیں۔

جواب :

جو مفہوم بیان کر کے اعتراض کیا گیا ہے، حدیث کا وہ مفہوم ہی نہیں ہے، حدیث کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ بنی اسرائیل سے پہلے بنی نوع انسان میں سے کسی نے بھی کبھی گوشت ذخیرہ نہیں کیا تھا نتیجتاً نہ کبھی گوشت سڑا تھا، نہ گلا تھا، یعنی اس دور سے پہلے گوشت سٹور کرنے کا رواج ہی نہیں تھا جو گوشت ملتا اسے سب اہل خاندان مل کر کھا لیتے، سب سے پہلے گوشت ذخیرہ کرنے کا سلسلہ بنی اسرائیل نے شروع کیا، ان پر جو من و سلوی آسمان سے اترتا اسے سٹاک کرنا شروع کیا تو گوشت بھی خراب ہونا شروع ہو گیا، بعد میں آنے والے لوگوں نے بنی اسرائیل کی پیروی کر کے گوشت کو ذخیرہ کرنا شروع کیا تو جو ذخیرہ کرنے کا طریقہ جانتے نہیں ان کا گوشت جلدی خراب ہو جاتا ہے اور جو ماہر ہوتے ہیں اور آلات استعمال کرتے ہیں کچھ وقت ان کا گوشت گلنے سڑنے سے محفوظ رہتا ہے، حدیث میں یہی بات بتائی گئی ہے کہ ذخیرہ کرنے کا ناقابل ستائش فعل بنی اسرائیل نے شروع کیا۔ اور اگر حدیث کا یہ مفہوم ہو کہ گوشت سڑنے اور خراب ہونے کا سلسلہ بنی اسرائیل سے شروع ہوا ہے اور ان سے پہلے گوشت خراب نہیں ہوتا تھا۔ تو پھر ہم ان منکرین حدیث سے کہتے ہیں کہ اس حدیث کو رد کرنے کے لیے قرآن مجید کی وہ آیت پیش کریں جس میں یہ لکھا ہو کہ بنی اسرائیل کے وجود سے پہلے بھی دنیا میں گوشت ذخیرہ کیے جانے پر گل سڑ جاتا تھا۔ اگر قرآن سے دلیل نہ پیش کر سکیں تو پھر ایسی مشین ایجاد کریں جس کے ذریعے سے وہ لوگوں کو زمانہ بنی اسرائیل سے پہلے والے دور میں لے جا کر دکھا دیں کہ دیکھو یہ گوشت گل سڑ رہا ہے اور اگر ایسا نہ کر سکیں تو پھر سوچ لیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان رد کرنے والوں کا کیا انجام ہوگا؟
حدیث کے دوسرے جملے کا مطلب یہ ہے کہ عورتوں کی طبیعت و مزاج ایک ہے اور استعداد خلقت و قابلیت بھی ایک ہے، حوا علیہا السلام ہیں جو کہ عورتوں کی اصل ہے اس میں خطا و غلطی کی استعداد تھی تو اس کی بیٹیاں بھی اس استعداد میں اسی کے مثل ہیں۔ اور اگر ان میں یہ استعداد نہ ہوتی تو ان کی بیٹیوں میں بھی یہ استعداد نہ ہوتی۔ اس بات کو ہم اس انداز سے بھی بیان کر سکتے ہیں کہ حوا علیہا السلام سے پہلے نہ کوئی عورت تھی نہ اس کا شوہر، حوا علیہا السلام ہی پہلی عورت تھی جس سے شوہر کے ساتھ خیانت کا عمل سرزد ہو گیا تو اس کے بعد اس کی بیٹیوں نے بھی یہ سلسلہ شروع کیا۔
➋ منکرین حدیث یہاں یہ اعتراض کرتے ہیں کہ درخت کے قریب جانے سے آدم علیہ السلام اور حوا علیہا السلام دونوں کو منع کیا گیا تھا تو پھر اس حدیث میں صرف حوا علیہا السلام ہی کا جرم کیوں قرار دیا گیا ہے؟ حالانکہ قرآن مجید میں کہا گیا ہے:فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ”یعنی دونوں کو شیطان نے ڈگمگایا۔“
اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم قصص کے بیان کرنے میں اکثر اختصار کرتا ہے حقیقت میں ایسے ہوا کہ پہلے حوا علیہا السلام نے درخت سے کھایا تھا، پھر آدم علیہ السلام کو اس سے کھانے کی ترغیب دلائی۔ اس ترغیب کو حدیث میں خیانت کہا گیا ہے اور فرمایا: اگر حوا علیہا السلام آدم علیہ السلام کے ساتھ خیانت نہ کرتیں تو کوئی عورت شوہر کے ساتھ خیانت نہ کرتی، یعنی یہ عادت وہاں سے عورتوں (حوا علیہا السلام کی بیٹیوں) میں سرایت کر گئی۔ قرآن کریم نے نتیجے کے طور پر بیان کر دیا:
فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ
”پس شیطان نے ان دونوں کو ڈگمگا دیا۔“
(2-البقرة:36)
نیز فرمایا:
فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ
”پھر شیطان نے ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈال دیا۔“
(7-الأعراف:20)
نیز فرمایا:
فَدَلَّاهُمَا بِغُرُورٍ
”پس دونوں کو فریب کے ذریعے سے پھسلا لیا۔“
(7-الأعراف:22)
اور کہیں صرف آدم علیہ السلام کی طرف نسبت کی تو فرمایا:
وَعَصَىٰ آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَىٰ
”اور آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی نافرمانی کی تو وہ سیدھی راہ سے بھٹک گئے۔“
(20-طه:121)
کیونکہ شوہر مقتدا ہوتا ہے اس لیے یہاں صرف آدم علیہ السلام ہی کا نام لینے پر اکتفا کیا گیا ہے۔ اور ان آیات سے یہ کہیں بھی ثابت نہیں ہوتا کہ اس کی ابتدا حوا علیہا السلام سے نہیں ہوئی تھی۔