محدثین کے نزدیک بقیہ بن ولید تدلیس تسویہ کا مرتکب: ائمہ حدیث کی تصریحات

Read in English
فونٹ سائز:
یہ اقتباس مرزا محمد علی انجینئر کے اعتراضات و اشکالات کا تحقیقی جائزہ سے ماخوذ ہے جسے ہارون بن شبیر احمد حفظہ اللہ نے تالیف کیا ہے اور نظرِ ثانی فضیلۃ الشیخ مولانا محمد رفیق طاہر حفظہ اللہ نے کی ہے۔
مضمون کے اہم نکات

محدثین کے نزدیک بقیہ بن ولید تدلیس تسویہ کا مرتکب ہے

امام ابوحاتم الرازی رحمہ اللہ:

آپ رحمہ اللہ ایک حدیث جو: ”إِسْحَاقُ بْنُ رَاهُوَيْهِ، عَنْ بَقِيَّةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو وَهْبٍ الْأَسَدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ“ کے طریق سے مروی ہے، اس کے متعلق فرماتے ہیں:
هَذَا الحديثُ لَهُ عِلَّةٌ قَلَّ مَنْ يَفْهَمُهَا، رَوَى هذا الحديثَ عُبَيْدُ اللّٰه بنُ عَمْرٍو عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابن عمر، عن النبيِّ، وعُبَيْدُ اللّٰه بنُ عمرو كنيتُهُ أَبُو وَهْبٍ، وَهُوَ أَسَدِيٌّ فكأَنَّ بَقِيَّةَ بن الوليد كَنَّى عُبَيْدَ اللّٰه بْنَ عَمْرٍو، ونَسَبه إِلَى بَنِي أَسَد، لِكَيْلا يُفْطَنَ بِهِ، حَتَّى إِذَا تَرَكَ إِسحاقَ بنَ أَبِي فَرْوَة مِنَ الوَسَطِ لا يُهتَدَى لَهُ، وَكَانَ بَقِيَّةُ مِنْ أَفعلِ الناسِ لِهَذَا، وأما ما قَالَ إِسحاقُ فِي روايته عَنْ بَقِيَّة، عَنْ أَبِي وَهْب: حَدَّثنا نَافِع، فهو وَهَمٌ، غير أَنَّ وجهه عندي: أن إِسْحَاق لعلَّه حفظَ عَنْ بَقِيَّةَ هَذَا الحديثَ، ولمَّا يَفْطَنْ لِمَا عَمِلَ بَقِيَّةُ من تركِهِ إِسحاقَ من الوسطِ، وتكنيتِهِ عُبَيْدَ اللّٰهِ بنَ عمرو، فلم يفتقدْ لفظَ بَقِيَّةَ فِي قوله: حَدَّثنا نَافِع، أو عَنْ نَافِعٍ۔
”اس حدیث میں ایک ایسی علت ہے کہ کم ہی لوگ اسے سمجھ سکتے ہیں، یہ حدیث عبید اللہ بن عمرو نے عن اسحاق بن ابی فروہ عن نافع عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق سے بیان کی ہے اور عبید اللہ بن عمرو کی کنیت ابو وہب ہے اور وہ اسدی ہے (اسدی قبیلے کا نام ہے)، پس بقیہ بن ولید نے (نام کی بجائے) اس کی کنیت ذکر کی اور اس کی نسبت بنی اسد کی طرف کی، تاکہ وہ پہچانا نہ جا سکے، حتیٰ کہ سند سے اسحاق بن ابی فروہ کو (عبید اللہ اور نافع کے) درمیان سے حذف کر دیا کہ اس کا پتہ نہ چل سکے، اور بقیہ سب سے زیادہ یہ کام کرنے والا تھا اور اسحاق بن راہویہ نے جو اپنی روایت میں عن بقیہ عن ابی وہب ”حدثنا“ نافع کہا ہے یہ غلطی ہے، شاید کہ جب اسحاق بن راہویہ نے یہ حدیث بقیہ سے یاد کی تو جب وہ سمجھ نہ سکے کہ جو بقیہ نے اسحاق بن ابی فروہ کو درمیان سے گرایا اور عبید اللہ بن عمرو کو کنیت دی تو اسحاق بن راہویہ یہ جان نہ سکے کہ بقیہ نے (عن ابی وہب) ”حدثنا“ نافع کہا تھا یا (عن ابی وہب) ”عن“ نافع۔“ (علل الحدیث لابن ابی حاتم:251/5)
اسی کا نام تدلیس تسویہ ہے، کہ راوی سند کے کسی بھی حصے سے کوئی راوی گرا دیتا ہے۔ اس مثال سے بالکل واضح ہوتا ہے کہ بقیہ تدلیس تسویہ کیا کرتا تھا بلکہ امام ابوحاتم الرازی رحمہ اللہ تو بقیہ کو اس کام کا سب سے زیادہ ماہر قرار دے رہے ہیں۔ اور اس نے سند سے جو راوی (اسحاق بن ابی فروہ) گرایا ہے یہ سخت ضعیف راوی ہے، محدثین نے اسے ضعیف الحدیث، متروک الحدیث، منکر الحدیث قرار دیا ہے اور بعض سے تو کذاب تک کا قول بھی منقول ہے، امام ذہبی رحمہ اللہ اس کے متعلق لکھتے ہیں: ”مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ“ یعنی اس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اجماع ہے۔ (تاریخ الاسلام:65/9)
تو سوچئے ان روایات کا کیا حال ہو گا جو بقیہ تدلیس کر کے بیان کرتا ہو گا، بعض اوقات تو محدثین اس کی معنعن روایت کو موضوع تک کہہ دیا کرتے ہیں۔

امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ:

نے بقیہ کو تدلیس تسویہ کرنے والا قرار دیا، اور آپ نے فرمایا کہ ”امام ابو حاتم رحمہ اللہ کی ساری باتیں درست ہیں جو انہوں نے اس حدیث کے متعلق فرمائیں“ (یعنی جس میں بقیہ کی تدلیس تسویہ کا ذکر ہے)۔ (الکفایۃ فی علم الروایۃ:364)

امام صلاح الدین علائی رحمہ اللہ:

نے بقیہ بن ولید کو بہت زیادہ تدلیس تسویہ کرنے والا قرار دیا۔ (جامع التحصیل:ص105)
اور آپ رحمہ اللہ نے اس کی مثال میں امام ابوحاتم الرازی رحمہ اللہ کا کلام نقل فرما کر اس کی تائید فرمائی۔ (جامع التحصیل:ص102)
یہ امام ذہبی رحمہ اللہ کے استاد ہیں اور ذہبی ان کے متعلق فرماتے ہیں ”الامام المفتي المحدث“ (التذکرۃ للذہبی:201/4)

امام ابن فرح رحمہ اللہ:

آپ نے تدلیس تسویہ کے لیے بقیہ کی مثال اور اس پر امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ کا تبصرہ ذکر فرمایا۔ (الغرامیۃ فی مصطلح الحدیث:58)
یہ بھی امام ذہبی رحمہ اللہ کے استاد ہیں، ذہبی ان کے متعلق لکھتے ہیں ”ابن فرح شيخنا الإمام العالم الحافظ الزاهد شيخ المحدثين“ (التذکرۃ للذہبی:185/4)

امام ابن قطان الفاسی رحمہ اللہ:

آپ بقیہ بن ولید کی بیان کردہ ایک روایت جو کہ اس سند کے ساتھ ہے: حَدَّثَنَا ابن قتيبة، حَدَّثَنَا هشام بن خالد حَدَّثَنَا بَقِيَّة حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، پر جرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: فَمَا بَقِيَ فِيهِ إِلَّا التَّسْوِيَةُ، یعنی اس میں تدلیس تسویہ باقی ہے۔ (التلخیص الحبیر:316/3)
مراد یہ ہے کہ اگرچہ بقیہ نے اپنے استاد سے سماع کی تصریح کر رکھی ہے لیکن اس سے اوپر سند میں ”عن“ موجود ہے کہ جس سے تدلیس تسویہ کا احتمال باقی ہے، لہٰذا سند ضعیف ہے۔ اور اس سند میں کس راوی پر تدلیس تسویہ کا الزام ہے؟ ظاہری بات ہے ”بقیہ بن ولید“ پر، اور اسی کی طرف اشارہ ہے۔

علامہ زین الدین عراقی رحمہ اللہ:

آپ نے بھی بقیہ کو تدلیس تسویہ کرنے والا قرار دیا۔ اور اس کے لیے امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ کی گفتگو بھی نقل کی۔ (شرح التبصرۃ والتذکرۃ:243/1)
اپنی کتاب ”التقیید والایضاح“ (ص:96) میں بھی آپ رحمہ اللہ نے ایسا ہی کیا۔

علامہ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وبقية صدوق لكنه يدلس ويسوي وقد عنعنه عن شيخه وعن شيخ شيخه۔
”بقیہ صدوق ہے، لیکن تدلیس تسویہ کرتا ہے اور اس نے یہ روایت اپنے استاد اور استاد کے استاد سے معنعن بیان کی ہے۔“ (موافقۃ الخبر:276/1)
ایک جگہ بقیہ کی ایک روایت کو ضعیف قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
ففيه تدليسه التسوية لأنه عنعن لشيخه۔
”اس میں بقیہ کی تدلیس تسویہ ہے کیوں کہ اس نے اپنے استاد سے آگے عن سے روایت بیان کی ہے۔“ (التلخیص الحبیر:107/2)
ایک مقام پر لکھتے ہیں:
وإنما عابوا عليه التدليس والتسوية وقد صرح بتحديث شيخه له وبسماع شيخه فانتفت الريبة۔
”محدثین نے بقیہ پر تدلیس تسویہ کا الزام لگایا ہے (لیکن یہاں) اس نے اپنے استاد اور استاد کے استاد سے سماع کی صراحت کی ہے، لہٰذا (تدلیس تسویہ کا) شک دور ہوا۔“ (نتائج الأفکار:376/2)
اور فرمایا:
وقد أمن تدليسه لتصريحه في هذا بالتحديث، لكن ينظر في حديث بحير عن خالد لأن بقية كان يُسَوِّي۔
”بقیہ نے یہاں سماع کی صراحت کر کے اپنی تدلیس سے بے خوف کر دیا ہے، لیکن بحیر ”عن“ خالد کو دیکھا جائے گا، کیوں کہ بقیہ تدلیس تسویہ کرتا تھا۔“ (اتحاف المہرۃ:233/13)
غور کیجیے بقیہ نے اپنے سماع کی صراحت کر رکھی ہے لیکن اس کے باوجود حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرما رہے ہیں کہ تدلیس کا معاملہ ابھی حل نہیں ہوا بلکہ بحیر ”عن“ خالد باقی ہے، کیوں کہ بقیہ تدلیس تسویہ کا مرتکب ہے۔ اب مرزا صاحب کی پیش کردہ روایت کی سند دیکھیں وہاں بھی بحیر ”عن“ خالد موجود ہے، اب اُس کے متعلق فیصلہ کرنا زیادہ مشکل نہیں۔

امام ابن ملقن رحمہ اللہ:

نے ایک مقام پر لکھا:
قد صرح بقية بالتحديث فقال: نا شعبة، لكن لا ينفعه ذلك فإنه معروف بتدليس التسوية۔
”بقیہ نے ”نا“ شعبہ کہہ کر سماع کی صراحت کی ہے، لیکن یہ بات اسے فائدہ نہیں دے گی کیونکہ وہ تدلیس تسویہ کی وجہ سے معروف ہے۔“ (البدر المنیر:102/5)
ایک اور جگہ اسی جیسی بات کہی کہ بقیہ تدلیس تسویہ کرتا تھا لہٰذا صرف اپنے استاد سے سماع کی تصریح اسے فائدہ نہیں دے گی (یعنی اس کی روایت صحیح نہیں ہو گی جب تک کہ سماع بالمسلسل ثابت نہ ہو)۔ (البدر المنیر:509/4)
ہم بھی تو یہی عرض کر رہے ہیں کہ مسند احمد کی جو روایت آپ بقیہ کے سماع کی صراحت کے لیے پیش کر رہے ہیں وہ روایت کے صحیح ہونے کے لیے کافی نہیں ہے، بلکہ سند میں اب بھی ”عن“ موجود ہے، جبکہ بقیہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے استاد کے سماع کی بھی صراحت کرے کیوں کہ بقیہ تدلیس تسویہ کا مرتکب ہے اور سند کے کسی حصے سے بھی کوئی ضعیف راوی گرا دیتا ہے۔

امام شمس الدین السخاوی رحمہ اللہ:

آپ تدلیس تسویہ کے متعلق لکھتے ہیں: وَكَانَ بَقِيَّةُ من أفعل النَّاس لَهُ ”اور بقیہ بن ولید لوگوں میں سب سے زیادہ یہ (تدلیس) کرنے والا تھا۔“ (الغایۃ فی شرح الہدایۃ:179)

علامہ شمس الدین البرماوی رحمہ اللہ:

آپ نے بقیہ بن ولید کو تدلیس تسویہ کا مرتکب قرار دیا۔ (الفوائد السنية في شرح الألفية:633/2)

امام زرکشی رحمہ اللہ:

تدلیس تسویہ کی تفصیلات کے تحت فرماتے ہیں:
وَمِمَّنْ اشْتُهِرَ بِفِعلِ هَذَا بَقِيَّة بن الْوَلِيد۔
”اور اس کام کے لیے سب سے زیادہ مشہور لوگوں میں بقیہ بن ولید بھی شامل ہے۔“
اور آپ رحمہ اللہ نے بھی اس کی مثال میں ”العلل لابن ابی حاتم“ کی وہی عبارت ذکر کی کہ جس میں صراحت موجود ہے کہ بقیہ نے اپنے استاد کو سند سے حذف کیا، جو کہ سخت ضعیف راوی ہے۔ (النکت علی مقدمۃ ابن الصلاح:106/2)

امام ابن عراقی رحمہ اللہ:

بقية بن الوليد مشهور بالتدليس مكثر له عن الضعفاء يعاني تدليس التسوية وهو أفحش أنواع التدليس۔
”بقیہ بن ولید بہت زیادہ تدلیس تسویہ کرنے سے مشہور ہے اور ضعیف راویوں کو سند سے گرا دیتا جو کہ تدلیس کی سب سے بری ترین قسم ہے۔“ (المدلسین:ص 37)

علامہ برھان الدین سبط العجمی رحمہ اللہ:

بقية بن الوليد مشهور بالتدليس مكثر له عن الضعفاء وتعاني تدليس التسوية وقد تقدمت صورته۔
”بقیہ بن ولید ضعیف راویوں سے بہت زیادہ تدلیس تسویہ کرنے کے ساتھ مشہور ہے، اور تدلیس تسویہ کی صورت پہلے گزر چکی ہے۔“ (التبیین لاسماء المدلسین ص:16)
اور جہاں اس کی صورت بیان کی تو ساتھ فرمایا: یہ تدلیس کی بدترین قسم ہے۔ اتنے واضح بیانات کے بعد بھی کہنا کہ بقیہ تدلیس تسویہ سے بری ہے بہت ہی عجیب و غریب ہے! محدثین تو اسے اس کام میں مشہور قرار دے رہے ہیں، اور اس کا بہت زیادہ مرتکب بتاتے ہیں۔

امام شہاب الدین البوصیری رحمہ اللہ:

آپ ایک روایت کو ضعیف قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَبَقِيَّةُ هُوَ ابْنُ الْوَلِيدِ يُدَلِّس بتدليس التَّسْوِيَة۔
”اور بقیہ بن ولید تدلیس تسویہ کیا کرتا تھا۔“ (مصباح الزجاجۃ:136/1)

امام احمد بن محمد القسطلانی رحمہ اللہ:

تدليس التسوية بأن يسقط ضعيفًا بين شيخيهما الثقتين، فيستوي الإسناد كله ثقات، وهو شر التدليس، وكان بقية بن الوليد أفعل الناس له۔
”تدلیس تسویہ یہ ہے کہ راوی اپنے سے اوپر کے دو راویوں کے درمیان میں سے ضعیف راوی گرا کر سند ثقہ راویوں سے برابر کر دے، اور یہ بری ترین تدلیس ہے، اور بقیہ بن ولید سب سے زیادہ یہ کام کرنے والا تھا۔“ (شرح القسطلانی:10/1)

علامہ ابن امیر الحاج رحمہ اللہ:

نے بھی بقیہ کو تدلیس تسویہ کرنے والا قرار دیا ہے۔ (التقریر والتحبیر:289/2)

امام جلال الدین السیوطی رحمہ اللہ:

نے بھی بقیہ بن ولید کا مدلس اور صاحب التسویہ ہونا ہی نقل کیا ہے۔ (تدریب الراوی:257/1)

علامہ محمد بن اسماعیل الصنعانی رحمہ اللہ (صاحب سبل السلام):

آپ بھی بقیہ کو صاحب التسویہ سمجھتے ہیں۔ (توضیح الأفکار لمعانی تنقیح الأنظار:338/1)
لہٰذا ان تمام محدثین کی تصریحات سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ بقیہ بن ولید تدلیس تسویہ کرتا تھا بلکہ اس کام کے لیے محدثین کے نزدیک یہ سب سے زیادہ مشہور تھا اور یہ عام تدلیس سے بھی زیادہ خطرناک اور بری تدلیس ہے۔ اور تدلیس تسویہ کرنے والے کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ سند کے تمام طبقات میں سماع کی صراحت کرے، اور کہیں پر ”عن“ یا قال جیسے الفاظ استعمال نہ کرے، لیکن مرزا صاحب کی بیان کردہ ابوداؤد اور مسند احمد والی روایت میں بحیر ”عن“ خالد موجود ہے لہٰذا روایت ضعیف ہے۔
امام عبدالعظیم المنذری رحمہ اللہ سنن ابوداؤد کی اس روایت کے تحت لکھتے ہیں:
وفي إسناده بقية بن الوليد، وفيه مقال۔
”اس کی سند میں بقیہ بن ولید ہے اور اس پر کلام (جرح) موجود ہے۔“ (مختصر سنن ابی داؤد للمنذری:54/3)
اور بقیہ پر زیادہ تر جرح اس کی تدلیس ہی کے حوالے سے ہے۔ علامہ المنذری ہی ایک جگہ بقیہ کے متعلق فرماتے ہیں: أحد الأعلام ثقة عند الجمهور لكنه مدلس۔
”وہ بڑے علماء سے تھا اور جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ، لیکن مدلس تھا۔“ (الترغیب والترہیب:568/4)
مولانا غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ اس روایت کے متعلق لکھتے ہیں: ”سند ضعیف ہے۔ بقیہ بن ولید تدلیس تسویہ کا مرتکب ہے، سماع بالمسلسل درکار ہے!“ (دفاع صحابہ:586)
علامہ شعیب الارنووط فرماتے ہیں:
اسناده ضعيف، بقية وهو ابن الوليد مدلس ويسوي، وقد عنعن۔
”اس کی سند ضعیف ہے، بقیہ بن ولید مدلس ہے اور تدلیس تسویہ کرتا تھا، اور یہاں صیغہ عن سے روایت کر رہا ہے۔“ (مسند احمد۔ الرسالۃ:426/28)
لہٰذا جن اہل علم نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا تو وہ دلائل کے اعتبار سے سو فیصد درست ہیں۔ اور جنہوں نے اسے صحیح کہا ان کا قول مردود ہے۔