باجماعت نماز کے احکامات، فضیلت اور ترک کرنے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

باجماعت نماز کے متعلق احکامات

① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صلاة الجماعة أفضل من صلاة الفذ بسبع وعشرين درجة
”باجماعت نماز اکیلے شخص کی نماز سے ستائیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے“۔
بخاری، کتاب الاذان 645۔ مسلم، كتاب المساجد و مواضع الصلوة 650۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صلاة الرجل فى جماعة تضعف على صلاته فى بيته وفي سوقه خمسا وعشرين ضعفا، وذلك أنه إذا توضأ فأحسن الوضوء ثم خرج إلى المسجد لا يخرجه إلا الصلاة، لم يخط خطوة إلا رفعت له بها درجة وحط عنه بها خطيئة، فإذا صلى لم تزل الملائكة تصلي عليه ما دام فى مصلاه ما لم يحدث: اللهم صل عليه اللهم ارحمه، ولا يزال فى صلاة ما انتظر الصلاة
”آدمی کی باجماعت نماز اس کی اس کے گھر اور اس کے بازار میں پڑھی جانے والی نماز سے پچیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ اور یہ اس لیے کہ جب وہ وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر محض نماز کی خاطر مسجد کی طرف آتا ہے تو وہ جو بھی قدم اٹھاتا ہے اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔ پس جب وہ نماز پڑھتا ہے اور اپنی جائے نماز پر باوضو بیٹھا رہتا ہے تو فرشتے اس کے لیے رحمت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں: ”اے اللہ! اس پر رحمتیں نازل فرما، اے اللہ! اس پر رحم فرما“۔ وہ جب تک نماز کے انتظار میں رہتا ہے تو وہ ثواب کے لحاظ سے حالتِ نماز ہی میں رہتا ہے“۔
بخاری، كتاب الاذان 647۔ مسلم، كتاب المساجد و مواضع الصلوة 649۔ ابوداؤد، کتاب الصلوة 559۔
③ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من صلى صلاة العشاء فى جماعة فكأنما قام نصف الليل، ومن صلى الصبح فى جماعة فكأنما صلى الليل كله
”جس شخص نے نمازِ عشاء باجماعت ادا کی تو گویا اس نے آدھی رات قیام کیا، اور جس نے اس کے بعد نمازِ فجر بھی باجماعت ادا کی تو اس نے گویا پوری رات قیام کیا“۔
مسلم، كتاب المساجد و مواضع الصلوة 656۔ ابوداؤد، كتاب الصلوة 555۔
④ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ليس صلاة أثقل على المنافقين من صلاة الفجر والعشاء، ولو يعلمون ما فيهما لأتوهما ولو حبوا
”منافقوں پر نمازِ فجر اور نمازِ عشاء سے زیادہ ثقیل کوئی اور نماز نہیں۔ اور اگر انہیں پتہ چل جائے کہ ان کا ثواب کتنا ہے تو وہ ان دونوں میں ضرور حاضر ہوتے خواہ انہیں ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے“۔
بخاری کتاب الاذان 657۔ مسلم، كتاب المساجد و مواضع الصلوة 651۔
⑤ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صلاة مع الإمام أفضل من خمس وعشرين صلاة يصليها وحده
”امام کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز اکیلے پڑھی گئی نماز سے پچیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے“۔
مسلم، كتاب المساجد و مواضع الصلوة 249۔ مسند احمد 273/2، 529۔
⑥ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صلى فى مسجد جماعة أربعين ليلة لا تفوته الركعة الأولى من صلاة العشاء كتبت له بها عتاقة من النار
”جس شخص نے چالیس روز باجماعت نماز ادا کی اور اس کی نمازِ عشاء کی پہلی رکعت فوت نہ ہوئی تو اس وجہ سے اسے جہنم سے خلاصی کا پروانہ مل جاتا ہے“۔
ترمذی، كتاب الصلوة 241۔ ابن ماجه، كتاب المساجد والجماعات 798۔
⑦ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
ما من ثلاثة فى قرية ولا بدو لا تقام فيهم الصلاة إلا قد استحوذ عليهم الشيطان، فعليك بالجماعة فإنما يأكل الذئب من الغنم القاصية
”جس بستی یا دیہات میں تین افراد موجود ہوں اور وہاں نماز باجماعت قائم نہ کی جاتی ہو تو ان پر شیطان غلبہ پا لیتا ہے، پس تم جماعت کو لازم پکڑو کیونکہ بھیڑیا صرف اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے دور چلی جاتی ہے“۔
ابوداؤد، كتاب الصلوة 547۔ مسند احمد، مسند الانصار 196/5، یہ روایت حسن ہے۔

باجماعت نماز ادا کرنے کی فضیلت

① سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ وہ کل روزِ قیامت حالتِ اسلام میں اللہ سے ملاقات کرے تو وہ ان پانچوں نمازوں کی حفاظت کرے جہاں سے بھی ان کے لیے بلایا جائے (یعنی مسجد میں باجماعت)۔ کیونکہ اللہ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کے طریقے مشروع کیے ہیں، اور یہ ہدایت کے طریقوں میں سے ہیں۔ اگر تم اپنے گھروں میں نمازیں پڑھنا شروع کر دو گے جیسے نماز سے پیچھے رہنے والا شخص اپنے گھر میں نماز پڑھتا ہے تو پھر تم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت چھوڑ بیٹھو گے۔ اور اگر تم نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ترک کر دی تو تم گمراہ ہو جاؤ گے۔ اور جو شخص بھی اچھی طرح وضو اور طہارت کر کے اللہ کی مساجد میں سے کسی مسجد کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ اس کے اٹھنے والے ہر قدم کے بدلے میں ایک نیکی لکھ دیتا ہے، ایک درجہ بلند کر دیتا ہے اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔ اور ہم نے دیکھا کہ نماز سے صرف وہی شخص پیچھے رہتا تھا جس کا نفاق مشہور و معلوم ہوتا تھا۔ اور ایسے بھی ہوتا تھا کہ آدمی کو دو آدمیوں کے سہارے لایا جاتا اور اسے صف میں کھڑا کر دیا جاتا۔
مسلم، کتاب المساجد و مواضع الصلوة 654/257۔ ابوداؤد، كتاب الصلوة 550۔ مسند احمد، مسند المکثرین من الصحابہ 414/1، 415۔

باجماعت نماز ترک کرنے کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أثقل الصلاة على المنافقين صلاة العشاء وصلاة الفجر، ولو يعلمون ما فيهما لأتوهما ولو حبوا، ولقد هممت أن آمر بالصلاة فتقام، ثم آمر رجلا فيصلي بالناس، ثم أنطلق معي برجال معهم حزم من حطب إلى قوم لا يشهدون الصلاة، فأحرق عليهم بيوتهم بالنار
”منافقوں پر سب سے بھاری نماز نمازِ عشاء اور نمازِ فجر ہے، اگر انہیں معلوم ہو جائے کہ ان دونوں میں کتنا اجر ہے تو وہ ان میں ضرور حاضر ہوں خواہ انہیں سرین کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔ میں نے ارادہ کیا کہ نماز کا حکم دوں، وہ کھڑی کی جائے، پھر میں کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر میں اپنے ساتھ کچھ آدمی لے کر جن کے پاس لکڑیوں کے گٹھے ہوں، ایسے لوگوں کے پاس جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے تو پھر انہیں ان کے گھروں سمیت جلا دوں“۔
بخاری، کتاب الاذان 657۔ مسلم، المساجد و مواضع الصلوة 651/251۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض نمازوں میں کچھ لوگوں کو نہ دیکھا تو ارشاد فرمایا:
”یقیناً میں نے ارادہ کیا کہ میں کسی شخص کو نماز پڑھانے کا حکم دوں، پھر ان لوگوں کے پیچھے جاؤں جو نماز سے پیچھے رہتے ہیں اور ان کے گھروں میں لکڑیوں کے ساتھ انہیں جلانے کا حکم دوں۔ اگر ان میں سے ہر کوئی جان لے کہ اسے موٹی ہڈی (یعنی گوشت والی) ملے گی تو وہ ضرور نماز کے لیے آئے“۔
بخاری، كتاب الاذان 644۔ مسلم، المساجد 651/251۔
③ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من سمع المنادي فلم يمنعه من اتباعه عذر
”جو شخص منادی (اذان دینے والے) کو سنے اور اس کی اتباع (باجماعت نماز پڑھنے) میں کوئی عذر مانع نہ ہو“
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: عذر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خوف أو مرض، لم تقبل منه الصلاة التى صلى
”خوف یا مرض، تو اس نے جو اکیلے نماز پڑھی ہے وہ قبول نہیں ہوتی“۔
ابوداؤد، كتاب الصلوة 551۔ دارقطنی، كتاب الصلوة 421/1، حديث 6۔