مضمون کے اہم نکات
نمازِ جنازہ میں ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین
نمازِ جنازہ کی ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرنا نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔ دلائل ملاحظہ ہوں:
① سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
[أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا صلىٰ علىٰ جنازة رفع يديه في كل تكبيرة وإذا انصرف سلم]
رسول اللہ ﷺ جب جنازہ پڑھتے، تو ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرتے اور جب نماز ختم کرتے، تو سلام پھیرتے۔
[العلل للدارقطني: 22/3، ح: 2908، وسنده صحيح]
② نافع رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں بیان کرتے ہیں:
[كان يرفع يديه في كل تكبيرة علىٰ جنازة]
آپ جنازے میں ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرتے تھے۔
[مصنف ابن أبي شيبة:11380، وسنده صحيح]
③ خالد بن ابی بکر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
[رأيت سالما كبر علىٰ جنازة أربعا، يرفع يديه عند كل تكبيرة]
میں نے سالم بن عبداللہ بن عمر رحمہ اللہ کو دیکھا کہ انہوں نے جنازے پر چار تکبیریں کہیں، ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کیا۔
[مصنف ابن أبي شيبة:11384، وسنده صحيح]
④ عبداللہ بن عون رحمہ اللہ کہتے ہیں:
[كان محمد يرفع يديه في الصلاة، وإذا ركع، وإذا رفع رأسه من الركوع، وكان يفعل ذٰلك مع كل تكبيرة علىٰ الجنازة]
امام محمد بن سیرین تابعی رحمہ اللہ نماز (کے شروع) میں اور رکوع کرتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے تھے، نیز نمازِ جنازہ میں ہر تکبیر کے ساتھ اس طرح (رفع الیدین) کرتے تھے۔
[مصنف ابن أبي شيبة: 11389، وسنده صحيح]
⑤ عمر بن ابی زائدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
[صليت خلف قيس بن أبي حازم علىٰ جنازة فكبر أربعا يرفع يديه في كل تكبيرة]
میں نے قیس بن ابی حازم تابعی رحمہ اللہ کی اقتدا میں نمازِ جنازہ ادا کی، انہوں نے چار تکبیریں کہیں اور ہر تکبیر میں رفع الیدین کیا۔
[مصنف ابن أبي شيبة:11385، وسنده حسن]
⑥ ابن جریج رحمہ اللہ، امام عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کے بارے میں فرماتے ہیں:
[يرفع يديه في كل تكبيرة، ومن خلفه يرفعون أيديهم]
آپ ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرتے اور مقتدی بھی رفع الیدین کرتے تھے۔
[مصنف ابن أبي شيبة:11382، وسنده صحيح]
⑦ معمر بن راشد رحمہ اللہ، امام زہری رحمہ اللہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں:
[إنه كان يرفع يديه مع كل تكبيرة علىٰ الجنازة]
آپ جنازے میں ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرتے تھے۔
[جزء رفع اليدين للبخاري: 118، وسنده صحيح]
❀ امام عبدالرزاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[به نأخذ]
ہم (محدثین) اسی پر عمل کرتے ہیں۔
[مصنف عبدالرزاق: 469/3]
⑧ عبداللہ بن علاء رحمہ اللہ کہتے ہیں:
[رأيت مكحولا صلىٰ علىٰ جنازة، فكبر عليها أربعا ويرفع يديه مع كل تكبيرة]
میں نے امام مکحول تابعی رحمہ اللہ کو ایک جنازے پر چار تکبیریں کہتے اور ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرتے دیکھا۔
[جزء رفع اليدين للبخاري: 116، وسنده حسن]
⑨ اشعث بن عبدالملک حمرانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
[كان الحسن يرفع يديه في كل تكبيرة علىٰ الجنازة]
امام حسن بصری رحمہ اللہ نمازِ جنازہ کی ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین فرماتے تھے۔
[جزء رفع اليدين للبخاري: 122، وسنده صحيح]
⑩ ابو الغصن رحمہ اللہ کہتے ہیں:
[رأيت نافع بن جبير يرفع يديه مع كل تكبيرة علىٰ الجنازة]
میں نے نافع بن جبیر رحمہ اللہ کو جنازے میں ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرتے دیکھا۔
[جزء رفع اليدين للبخاري: 114، وسنده حسن]
امام عبداللہ بن مبارک (جامع ترمذی، تحت حدیث: 1077)، امام شافعی (الام: 271/1)، امام احمد بن حنبل (سیرۃ الامام احمد بن حنبل لابی الفضل صالح بن احمد، ص 40) اور امام اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ (سنن ترمذی، تحت حدیث: 1077) بھی نمازِ جنازہ میں ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرنے کے قائل ہیں۔
فائدہ:
امام مالک رحمہ اللہ سے صرف پہلی تکبیر میں رفع الیدین کرنا ثابت نہیں ہے، کیونکہ مدونہ کبرٰی بے سند کتاب ہے، اس میں مذکور باتیں امام مالک رحمہ اللہ سے ثابت نہیں ہیں۔
مانعین کے دلائل:
اب ہم انتہائی اختصار کے ساتھ ان حضرات کے دلائل کا جائزہ پیش کرتے ہیں، جو صرف پہلی تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کے قائل ہیں:
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
[إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كبر علىٰ جنازة، فرفع يديه في أول تكبيرة، ووضع اليمنىٰ على اليسرىٰ]
رسول اللہ ﷺ نے نمازِ جنازہ میں تکبیرات کہیں، صرف پہلی تکبیر میں رفع الیدین کیا اور دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا۔
[سنن الترمذي: 1077، سنن الدارقطني: 74/2، ح: 1813]
تبصرہ:
❀ سند ’’ضعیف‘‘ ہے، امام دارقطنی رحمہ اللہ خود فرماتے ہیں:
[الحديث غير ثابت]
یہ حدیث ثابت نہیں۔
[العلل: 151/8]
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ نے بھی اس کی سند کو ’’ضعیف‘‘ قرار دیا ہے۔
[خلاصة الأحكام: 984/2]
① یحییٰ بن یعلیٰ اسلمی کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
[ضعيف شيعي]
ضعیف اور شیعہ راوی ہے۔
[تقريب التهذيب: 7677]
② ابو فروہ یزید بن سنان رہاوی بھی جمہور کے نزدیک ’’ضعیف‘‘ ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ’’متروک‘‘ کہا ہے۔
[سؤالات البرقاني: 560]
❀ نیز ’’ضعیف‘‘ بھی کہا ہے۔
[سنن الدارقطني: 172/1، تحت الحديث: 637]
❀ امام علی بن المدینی رحمہ اللہ نے ’’ضعیف الحدیث‘‘ کہا ہے۔
[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 266/9]
❀ امام ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ نے ”ليس بقوي الحديث“ کہا ہے۔
[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 267/9]
❀ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
[محله الصدق والغالب عليه الغفلة، يكتب حديثه، ولا يحتج به]
اس کا محل صدق والا ہے، لیکن اس پر غفلت غالب تھی، اس کی حدیث لکھی جائے گی، لیکن اس سے حجت نہیں پکڑی جائے گی۔
[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 267/9]
❀ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[ليس حديثه بشيء]
اس کی حدیث کچھ نہیں۔
[التاريخ الكبير لابن أبي خيثمة: 9241، وسنده صحيح]
❀ امام نسائی رحمہ اللہ نے ”ضعیف و متروک الحدیث“ کہا ہے اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے ”ضعیف“ کہا ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بھی ”ضعیف“ لکھتے ہیں۔
[تقريب التهذيب: 7727]
❀ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[الأكثر علىٰ تضعيفه]
❀ اکثر محدثین نے اسے ضعیف کہا ہے۔
[مجمع الزوائد: 218/4]
③ امام زہری رحمہ اللہ ”مدلس“ ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
بطورِ فائدہ عرض ہے کہ اس روایت میں دوسری تکبیرات کے ساتھ رفع الیدین کرنے کی نفی ثابت نہیں۔
② سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:
[إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يرفع يديه على الجنازة في أول تكبيرة ثم لا يعود]
رسول اللہ ﷺ جنازے پر پہلی تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرتے تھے، پھر دوبارہ نہ کرتے تھے۔
[سنن الدارقطني: 74/2، ح: 1814]
تبصرہ:
❀ سند سخت ترین ’’ضعیف‘‘ ہے، حافظ نووی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ’’ضعیف‘‘ کہا ہے۔
[خلاصة الأحكام: 984/2]
① حجاج بن نصیر بصری جمہور محدثین کے نزدیک ’’ضعیف‘‘ ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[أجمعوا علىٰ تركه]
اس کو ترک کرنے پر محدثین کا اجماع ہو گیا ہے۔
[الضعفاء والمتروكون: 174]
❀ نیز ’’ضعیف‘‘ بھی کہا ہے۔
[سنن الدارقطني: 157/1]
❀ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
[منكر الحديث، ضعيف الحديث، ترك حديثه، كان الناس لا يحدثون عنه]
یہ منکر الحدیث، ضعیف الحدیث ہے، اس کی حدیث کو ترک کر دیا گیا تھا، لوگ اس سے حدیث بیان ہی نہیں کرتے تھے۔
[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 167/3]
❀ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[سكتوا عنه]
محدثین نے اسے ’متروک‘ قرار دیا ہے۔
[الكامل لابن عدي: 231/2، وسنده صحيح]
❀ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے ’’ضعیف‘‘ کہا ہے۔
[الكامل لابن عدي: 231/2، وسنده صحيح]
❀ امام نسائی رحمہ اللہ بھی ’’ضعیف‘‘ قرار دیتے ہیں۔
❀ امام علی بن المدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[ذهب حديثه]
یہ سخت ضعیف الحدیث راوی ہے۔
[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 167/3، وسنده صحيح]
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
[ضعيف، كان يقبل التلقين]
ضعیف ہے، تلقین قبول کرتا تھا۔
[تقریب التہذیب: 1359]
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
[ضعيف، وبعضهم تركه]
ضعیف ہے، بعض نے اسے ’متروک‘ قرار دیا ہے۔
[المغني في الضعفاء: 237/1]
❀ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
[قد ضعفه الجمهور]
اسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے۔
[مجمع الزوائد: 121/8]
❀ لہٰذا محدث البانی رحمہ اللہ (احکام الجنائز، ص 147) کا اسے ’’ثقہ‘‘ قرار دینا خطا ہے۔
② فضل بن سکن ’’مجہول‘‘ ہے، امام عقیلی رحمہ اللہ نے اسے ’’مجہول‘‘ کہا ہے۔
[الضعفاء الكبير: 449/3]
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
[لا يدرىٰ من ذا؟]
معلوم نہیں یہ کون ہے؟
[المغني: 191/2]
❀ نیز فرماتے ہیں:
[لا يعرف]
غیر معروف ہے۔
[ميزان الاعتدال: 352/3]
③ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:
[ترفع الأيدي في سبعة مواطن: إذا قام إلى الصلاة، وإذا رأى البيت، وعلى الصفا والمروة، وفي عرفات، وفي جمع وعند الجمار]
سات مقامات پر رفع الیدین کیا جائے: نماز کے لیے کھڑا ہو، جب بیت اللہ کو دیکھے، کوہِ صفا اور کوہِ مروہ پر، عرفات میں، مزدلفہ میں اور جمرات کے پاس۔
[مصنف ابن أبي شيبة: 2450]
تبصرہ:
① سند ’’ضعیف‘‘ ہے، عطاء بن السائب (حسن الحدیث) ’’مختلط‘‘ ہیں اور ابن فضیل نے ان سے اختلاط کے بعد روایت لی ہے۔
❀ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عطاء بن سائب راوی ’’مختلط‘‘ ہیں۔
[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 334/6]
❀ امام احمد بن حنبل، امام ابو حاتم الرازی (الجرح والتعديل: 334/6) اور امام دارقطنی (العلل: 186/5، 288/8) رحمہم اللہ نے انہیں ’’مختلط‘‘ قرار دیا ہے۔
❀ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:[ما روى عنه ابن فضيل، ففيه غلط واضطراب]
عطاء بن سائب سے جو کچھ ابن فضیل نے روایت کیا ہے، اس میں غلطیاں اور اضطراب ہے۔ [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 334/6]
یہ جرح مفسر ہے، لہذا سند ”ضعیف“ ہے، اس قول میں قنوتِ وتر اور عیدین کے رفع الیدین کا بھی ذکر نہیں ہے، وہ کیوں کیا جاتا ہے؟
② ابو حمزہ (عمران بن ابی عطاء القصاب ثقہ عند الجمهور) رحمہ اللہ کہتے ہیں:
[رأيت ابن عباس يرفع يديه إذا افتتح الصلاة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع]
میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو نماز شروع کرتے، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے دیکھا۔
[مصنف ابن أبي شيبة:2431، وسنده حسن]
اس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں:
① سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نماز میں رفع الیدین کے قائل تھے۔
② نبی اکرم ﷺ کی وفات کے بعد آپ کا رفع الیدین کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ منسوخ نہیں ہے۔
فائدہ:
① یہ روایت مرفوعاً بھی مروی ہے، لیکن اس کی سند بھی ”ضعیف“ ہے، اس میں ابن ابی لیلیٰ راوی جمہور محدثین کے نزدیک ”ضعیف، سیئ الحفظ“ ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: [ضعيف، سيء الحفظ]
ضعیف اور خراب حافظے والا ہے۔ [التلخيص الحبير: 22/3]
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
[محمد بن عبد الرحمٰن بن أبي ليلى سيء الحفظ، لا يحتج به عند أكثرهم]
ابن ابی لیلیٰ خراب حافظے والا ہے، اکثر محدثین کے نزدیک قابلِ حجت نہیں۔ [تحفة الطالب: 345]
❀ علامہ طحاوی حنفی رحمہ اللہ نے اسے ’’مضطرب الحدیث جداً‘‘ کہا ہے۔
[شرح مشكل الآثار: 226/3]
❀ مولانا انور شاہ کشمیری کہتے ہیں:
[هو ضعيف عندي كما ذهب إليه الجمهور]
میرے نزدیک بھی ضعیف ہے، جیسا کہ جمہور کا مذہب ہے۔ [فيض الباري: 168/3]
❀ امام بیہقی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
[تفرد ابن أبي ليلىٰ بروايته، وقد اتفق أئمة الحديث علىٰ ترك الاحتجاج بروايته]
اسے روایت کرنے میں ابن ابی لیلیٰ منفرد ہے، ائمہ حدیث کا اتفاق ہے کہ اس کی روایت سے حجت نہیں پکڑی جائے گی۔
[الخلافيات، تحت الحديث: 1732]
② حکم بن عتیبہ ’’مدلس‘‘ ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی، علامہ عینی حنفی نے بھی انہیں ’’مدلس‘‘ کہا ہے۔
(عمدة القاري: 248/21) نیز دیکھیں (أسماء المدلسين للسيوطي: 96)
❀ امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[هٰذا حديث واه من أوجوه كثيرة]
یہ حدیث کئی وجوہ سے ضعیف ہے۔
[الخلافيات للبيهقي، تحت الحديث: 1732]
④ امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ ہر تکبیر کے ساتھ ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔
[مصنف ابن أبي شيبة:11386]
تبصرہ:
یہ امام صاحب کی اجتہادی خطا ہے، جو نبی کریم ﷺ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور سلف صالحین کے عمل کے خلاف ہونے کی وجہ سے نا قابلِ عمل ہے۔
الحاصل:
نمازِ جنازہ میں ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرنا سنت ہے، لہٰذا سلف صالحین کی طرح ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اس سنت پر عمل کرے۔